سیاہ۔سیات

جہانگیر ترین کا شمار ق لیگ کے ان چوٹی کے رہنماؤں میں ہوتا تھا جو وزارت عظمی کے مضبوط دعویدار رہے ہیں.مگر پہلی بار قرعہ فال جمالی کے نام نکلا تو دوسری بار شوکت عزیز۔۔۔یہی صورتحال اپنے شاہ محمود قریشی صاحب کی بھی پیپلز پارٹی میں تھی.شاہ محمود قریشی پر یوسف رضا گیلانی کو ترجیح اس لیے دی گئی کہ گیلانی سر تسلیم خم کرنے والا بندہ تھا.شاہ محمود قریشی بھی باوجود قربانیوں کے وزیر اعظم نہ بن سکا۔
.
یہ دونوں سیاستدان تحریک انصاف کا رخ کرتے ہیں.یار دوستوں کے بقول منزل ان کی اب بھی وزارت عظمی ہی ہے اور یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان کی شکل میں موجود ہے.اب اس کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے بلکہ کسی حد تک نکل بھی گیا ہے.جس طرح نواز شریف کی نا اہلی ہوتی دکھائی دے رہی ہے ایسے ہی عمران خان بیرونی فنڈنگ کیس وغیرہ میں گٹے گوڈوں تک پھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آفشور کیس کی طرح منی ٹریل دی جاتی اور خان کیسز سے نکل جاتا مگر اسٹیز کے پیچھے چھپنے سے صاف نظر آ رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور دوسرا اگر نواز جاتا ہے تو لیگیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عمران خان کو بھی نا اہل کرا کے دم لینا ہے۔

اس کی ایک اور وجہ بھی ہے.عمران خان نے اپنی ازلی اڑنے والی عادت کی وجہ سے پی پی پی اور باقی کسی جماعت سے اتحاد کرنا نہیں ہے.اکثر تجزیہ کار اگلی حکومت کے مخلوط ہونے کا تجزیہ کر رہے ہیں.ن لیگ اور پی پی کو آپ جتنا دبا لو ان سے پنجاب اور سندھ تو چھینا نہیں جا سکتا.اور ان کو نیشنل اسمبلی کی کافی سیٹیں بھی مل جانی ہیں.ایسے میں فرشتوں کا مائنس ن لیگ والا فارمولا ایک عمران خان کی وجہ سے ناکام ہو یہ فرشتے ہونے نہیں دیں گے۔لٰہذا یہ نہ ہو اینڈ میں مائنس عمران خان ہو جائے اور انصافیوں کی دھمالیں دھری کی دھری رہ جائیں اور ان دی اینڈ وہی پرانے ،وزارت عظمی کی پرانی خواہش رکھنے والے ہی بچیں ۔کیوں کہ ۔۔دھندہ ہے پر بڑا گندہ ہے یہ!

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *