دو واقعات۔۔دو مختلف عمومی رویے

گزشتہ دنوں فیسبک پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جو میری نظر سے بهی گزری. غالباً برطانیہ میں ایک باریش مسلمان کو چند پولیس آفیسرز روک کر اس کی جامہ تلاشی لے رہے تهے. مکمل ویڈیو دیکهنے کے بعد معلوم ہوا، ایک خاتون، جو ساتھ ہی کهڑی تهی، نے پولیس کو فون کرکے اطلاع دی تهی کہ ایک مسلمان معمول سے زیادہ لباس پہن کر تیز رفتاری سے ایک سمت میں جا رہا ہے. پولیس موقع پر پہنچی، اس شخص کو ہتهکڑی لگائی اور پوری تسلی کرنے کے بعد اسے جانے دیا. اور جانے سے پہلے معذرت خواہانہ انداز میں متاثرہ شخص کو سارے معاملےسے آگاہ کردیا. یہ سارا منظر وہاں کهڑا ایک شخص اپنے موبائل کیمرے سے محفوظ کر رہاتها.

ویڈیو دیکهنے کے بعد نیچے کمنٹس پڑهنے کی غرض سے سکرول کیا، تاکہ معلوم ہوسکے اکثریت کا کیا تاثر ہے. کمنٹس پڑھ کر چنداں حیرت نہیں ہوئی کہ عمومی طور پر انگریزوں نے اپنے ملک میں اس قسم کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تها اور مذکورہ خاتون کو نسل پرستی اور تعصب کی بنیاد پر آڑے ہاتهوں لے رکها تها. خاتون کے تعصبانہ طرزِ عمل پرنسل پرستی کے طعنے دینے والے اکثریتی غیر مسلم عیسائی تهے. ان کے کمنٹس پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تها کہ مسلمہ انسانی حقوق پر یہ لوگ کسی قسم کے سمجهوتے کے لیے تیار نہیں. ان کے سامنے اس ویڈیو میں ایک طرف ان کی ہم مذہب خاتون تهی اور دوسری طرف ایک بے گناہ مظلوم مسلمان. تقریباً سب نے مسلمان شخص کے دفاع میں ہم وطن و مذہب خاتون کو انسانیت کے دامن پر بدنما دهبہ کہا. جہاں ویڈیو دیکھ کر طبیعت پر آزردگی طاری ہوئی وہیں یہ سارے کمنٹس پڑھ دل انسانی خلق پر کچھ مطمئن بھی ہوا .

دو دن بعد دیکها کہ فیسبک پر جناب فیض اللہ خان بهائی نے کسی شیعہ خاتون کی طرف سے موصول درخواست کو سوشل کیا اور احباب سے د رخواست کی تهی کہ بینک لون کی تحصیل میں ممکن ہو تو مد د کے لیے آگے بڑهیے. ہر قسم کی پوسٹ پر لوگوں کے کمنٹس پڑهنا میرا معمول ہے ، جس سے معاملے کی بابت عمومی رجحان کا تعین ہو جاتا ہے. حسبِ معمول تقریباً سار ے کمنٹس پڑھ ڈالے. پڑھ کر حیرت تو نہ ہوئی البتہ دکھ ضرور ہوا کہ ایک محتاج خاتون کے احتیاج سے صرفِ نظر کرکے ہمارے مجاہدین اس کے ایمان اور عقیدہ پر نکتہ زن ہوئے. ایمانیات اور عقائد کی ساری کتابیں اور سارے نظریات جھنجھوڑ کر موصوفہ کے منہ پر مار دئیے گئے. کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اہل تشیع کے اکثریتی علاقوں میں اہل سنت کے ساتھ جو ہوتا ہے اس پر توجہ دی جانی چاہیے. مذہبی تعصب اور عناد کی بحث اتنی طویل ہوئی کہ اصل مدعا ہی فراموش ہوگیا کہ فقط ایک محتاج خاتون کی داد رسی مطلوب تهی.

لیکن ہمیں ہر جگہ اپنا ایمان خطرے میں نظر آنے لگتا ہے، اس لیے محض انسانی بنیادوں پر کسی کی مد د کر نے کو تیار نہیں ہوتے . واویلا مچانے والے ان حضرات میں اکثریت ا ن کی ہوتی ہے جو مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکهے جانے والی بد سلوکی پر نا صرف کڑھتے ہیں بلکہ اسلامی اتحاد و یکجہتی کا بھاشن بهی دیتے ہیں. لیکن جب انہی کے اردگرد ایسا کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو یہود و نصاری سے بهی دو قدم آگے نظر آتے ہیں،یہ محض دو مشاہدات ہی کافی ہیں یہ سمجهنے کے لیے کہ ہم خود بحیثیتِ انسان کس اخلاقی سطح پر کهڑے ہیں. ہم انسانیت کے مسلمہ احتیاجات کو بهی عقیدے کی عینک سے دیکهتے ہیں. ہم جو انسانی رویے اپنے لیے پسند کرتے ہیں، دوسروں کے حق میں اس قسم کے رویوں کو غداری اور بے ایمانی حتی کہ گمراہی سمجهتے ہیں.

ہم اپنے حق میں مذہبی رواداری کے طالب ہیں، لیکن دوسروں کے لیے متشد د رویہ اپناتے ہیں. ہم جسے اپنا حق سمجھ کر مانگتے ہیں، دوسروں کے متعلق ان کے حق کے لیے آواز اٹهانے والوں کو بهی نہیں بخشتے. ہم نفرت کا کاروبار کرکے اس کے عوض اپنے لیے محبت خریدنا چاہتے ہیں.مغربی اقدار ہماری نظر میں کتنی ہی گلی سڑی کیوں نہ ہوں، ان کے ہاں آج بهی نسل پرستی اور عصبیت گالی ہے. اور ہم اخلاقی آسمان پر براجمان مخلوق! ہمارے ہاں آج تک مذہبی عصبیت ایک کموڈٹی ہے، جس کو ہر کوئی بیچ اور ہر دوسرا خرید رہاہے.

Avatar
شہزاد خان
میں ایگ جیتا جاگتا انسان ہوں، ایک گنہگار مسلمان اور اس عظیم ہستی کا ادنا سا بندہ ہوں، بحیثیتِ شہری پاکستانی ہوں: اسکے علاوہ میری کوئی نسلی، گروہی، لسانی شناخت قابلِ ذکر و بیان و افتخار نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *