• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

کراچی میں تعینات تین مجسٹریٹ افسران کا احوال۔۔۔ایک   مہاجر تھے،دوسرے سندھی اور تیسرے شد ھ پنجابی.
اللہ کو کون پیارا ہوتا ہے کو ن نہیں یہ تو فیصلہ وہی کرسکتا ہے مگر جان رکھیں کہ یہ  تینوں ہی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
مہاجر افسر نے آخری عمر میں  داڑھی رکھ کر حج بھی کرلیا تھا۔مسجد میں باقاعدگی سے دکھائی بھی دینے لگے تھے،چندہ بھی باقاعدگی سے دیتے تھے اور مذہبی تہواروں پر شیرینی کے اہتمام میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مال حرام البتہ لے کر دین میں دوبارہ ایسے ہی داخل ہوئے کہ اپنی دوسری بیوی جو کہ ایک سابقہ کال گرل تھی نہ وہ بدلی نہ اپنا چہرہ بدلا۔چہرہ البتہ  داڑھی پر رکھ لیا اور عبایا اور نقاب بیوی کے بدن پر یوں سجالیا جیسے پاکستان کے  سیاسی مولوی صاحبان نے دین کو اوڑھ لیا ہے۔یہ سب دنیا کو یہ جتانے کے لیے کیا کہ  دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخن ور،سہرا۔۔۔۔۔

برطانوی راج سے ترکہ میں ملی بیوروکریسی اپنی بناوٹ  اور لالن پالن(ہندی میں پرورش اور نشو  نما)کے حساب سے صلاحیت پسند Merit -based غیر جانبدارImpartial اور لازماً انصاف پسند Fair ہوا کرتی تھی۔قیام پاکستان کے پچیس تیس برس تک تو اس کا بھی یہی عالم رہا جیسا کہ اُن کے پیش رو انگریز دور کے افسروں کا ہوتا تھا۔لیکن 1973 کی انتظامی اصلاحات سے بات بگڑ گئی اور اب آپ کو اس میں سیاسی جاگیرداروں کے کم دار(زمینوں کے منشی) زیادہ اور افسر کم کم دکھائی دیتے ہیں۔صلاحیت پسندی،غیر جانبداری اور انصاف پسندی یہی وہ تین اوصاف حمیدہ ہیں جن کی وجہ سے  بیوروکریسی کو بڑی حد تک ایک Formal Organization بن کر اپنے فرائض منصبی نبھانے کا موقع ملتا ہے۔

کہنے کو تو کیا ہوا نہیں ہے۔آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ قواعد و ضوابط کے اس تنگ پوشی کے عالم بے لطف میں گھٹ کے رہ جاتی ہوگی جوئے تند و تیز۔ایسا ہرگز نہیں طاقت کے اس ٹیولپ جام(جس میں سفید شراب پی جاتی ہے ۔اس لیے کہ بلبلے آہستہ آہستہ ریلیز ہوں) میں بھی اختر حمید خان جیسے عوام دوست (اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے خالق) مسعود کھدر پوش جیسے کسان دوست اور ایماندار، قدرت اللہ شہاب جیسے اہل سلوک،ڈاکٹر ظفر الطاف جیسے باصلاحیت، دلیر اور غریب پرور مصطفے زیدی جیسے رنگ رنگیلے اور اوریا مقبول جان جیسے خاک بر سر،آتش بہ دہن،لہو در نگاہ افسران اپنے ضمیر، مزاج کے حساب سے من مانیاں کرتے رہے اور مناصب کی مناسبت سے ڈٹ کر بہار جاں فزا دکھاتے رہے۔

 

ٹیولپ گلاس

 

 

اوریا مقبول جان
اختر حمید خان

 

ڈاکٹر ظفر الطاف

 

قدرت اللہ شہاب

 

مسعود کھدر پوش
مصطفی زیدی

سن 1973 کی اصلاحات کے اس بیوروکریسی میں فوجی ڈکٹٹیروں کے داماد اور اے ڈی سی  اس میں گھس گئے، جنرل مجید ملک کے بیٹے، جنرل ضیا الحق کی  بیگم کی آنکھ کے تارے اے ڈی سی نیب کے دہشت گرد قمر الذماں چوہدری،مخدوموں کے بیٹے کس کس کا نام لیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیوروکریسی نے بھی اپنے بتدریج کم ہوتے معیار افسری پر عصبیت، سیاسی وابستگیوں اور لالچ کی لال چنریا پہنادی۔ہم میمن گجراتی تو پاکستان کی بیوروکریسی میں ہندو اور عیسائیوں سے بھی کم تھے لہذا تماشا اہل کرم دیکھنے کا خوب موقع ملا۔
ہمیں گمان ہے کہ عبید اللہ علیم کا شعر ہے مگر غلطی کا احتمال ہوسکتا ہے ع

کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دنیا
اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اک شخص

سو اس آئینہ خانے میں ہم نے دیکھا کہ مہاجر افسر کسی کا کام نہیں کرتے تھے۔ننانوے قوانین آپ کے حق میں اور ایک مخالفت میں ہو تو وہ آپ کا کام نہ کرنے کے لیے اس ایک قانون کا سہارا لیں گے۔ اس کے برعکس اگر ان کا کام کہیں پڑ جائے توننانوے قوانین اس کام کی مخالفت میں ہوں اور ایک حق میں تو وہ آپ کو سجھاؤنی دیں گے کہ ا ن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اس کا سہارا لیا جائے۔پنجابی افسران عددی اکثریت کے  باوجود جہاں تک ممکن ہوتا ہے سرکاری کاموں میں ضابطے کا اہتمام کرتے ہیں۔معاشقہ کتنا ہی طویل اور بے تکلفانہ کیوں نہ ہو آخر میں نکاح کا اہتمام ضروری ہوگا۔پٹھان افسر ہر کام بہت تکلف اور لحاظ سے کرتے ہیں۔ سرکاری کام سرانجام دیتے وقت بڑی سے بڑی قانون شکنی کرتے ہوئے بھی انہیں رازادری کا بہت خیال رہتا ہے۔ بلوچستان کے افسران کا ہم کیا کہیں۔۔آتے آتے آئے گا تم کو خیال، جاتے جاتے بے خیالی جائے گی۔دورافتادہ ہونے کا مطلب قانون کی پاسداری سے بھی مناسب فاصلہ ہے۔وہاں کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی صاحب کے ہاں سے کوئین آف شیبا کے محلات کے خزانے نکلے۔

سندھ کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں دو طرح کے افسر ہیں سرکاری اور رواجی۔رواجی افسر وہ ہوتے ہیں جو راجونی (عزیز و اقربا کے درمیان غیر رسمی فیصلے جو جرگے کی نسبت کم Formal ہوتے ہیں) انداز میں علاقے، شخصیت،ماحول کو قواعد و ضوابط پر ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر ہاؤس میں ایک طویل عرصے تک پنجابی یا مہاجر افسر کو اس لیے نہیں تعینات کیا جاتا تھا کہ یہ اے ٹی ایم سے نکالی ہوئی رقم بھی گننے کے عادی ہوتے ہیں۔منرل واٹر بھی ابال کر پیتے ہیں۔۔

پنجابی اور مہاجر افسر تو حرام کی وہیل مچھلی کھاکر بھی ڈکار نہیں لیتے۔لباس اور حلیہ ایسا رکھیں گے کہ آپ کا دل چاہے گا ان کو ایدھی یا سیلانی ٹرسٹ پر کھانا کھلاتے وقت جوس یا مشروب کی بوتل اپنے پاس سے خرید کر دے دیں۔ بے چارے برسوں کے پیاسے ہوں گے۔ محافل شبینہ اور مجروں کی دعوت میں بھی ایسے چھپتے چھپاتے آئیں گے جیسے شہباز شریف آج کل اے پی سی یا اڈیالہ جیل جاتے ہیں۔طوائف کو پیسے دینا تو کجا کن انکھیوں سے دیکھیں گے بھی ایسے جیسے مولانا فضل الرحمان الیکشن کمیشن کے دفتر کو نگاۂ اجتناب و حقارت سے دیکھتے ہیں محفل جوان ہو گی،شراب دل کھول کر بہہ چکی ہوگی تو گنتی پر سب سے پہلے پتہ چلے گا کہ پنجابی اور مہاجر افسر اور وہ قتالہ طوائف کسی کمرے میں مقامات آہ و فغان طے کرتے ہوئے اور ایران امریکہ تعلقات کے جدید تقاضوں پر بحث کرتے ہوں گے۔

تین قومیتوں سے متعلق افسران کا فرق آپ کو ان تین واقعات سے سمجھ میں آجائے گا۔
پہلا واقعہ سندھی افسر کا ہے۔

ایک ہائی فائی سپر سانک میڈیا ملازم خاتون ڈیفنس فیز فائیو میں  کراچی میں اپنے بنگلے سے کار ریورس کرتی ہوئی نکال رہی تھیں کہ محلے کا کوئی مالی اس کی زد میں آگیا۔پچھلا پہیہ پیر کی انگلیوں پر اس طرح گھوما کہ ایک آدھ انگلی بھی ٹوٹ گئی۔انہوں نے فوری طور پر پیسے دے کر دفتر کے کسی فرد کے ساتھ بہترین علاج کرایا۔ اس کی روپے پیسے سے مدد بھی کی۔
یہ سارا منظر کسی سپاہی اللہ دتا نے دیکھا۔وہ اپنے عزیز سے ملنے قرب و جوار میں کہیں موجود تھا۔ تھانے جا کر اسی کم بخت نے سناؤنی دی ہوگی اسی لیے چوری چھپے مقدمہ قائم بھی ہوگیا ۔مالی سے شکایت پر چپ چاپ دستخط کرالیے گئے۔وہ مجبور و لاچار کارندہ شرمندگی، احسان فراموشی اور ڈر کے مارے علاقہ ہی چھوڑ گیا۔ ضرب خفیف چالان میں ملزمہ کو بیرون ملک مفرور دکھایا گیا۔عدالت سے سمن جاری ہوئے جو ان پر Serve نہ کیے گئے۔قابل ضمانت وارنٹ عدالت سے آئے تو عین تاریخ والے دن سپاہی بنگلے پر آیا۔ دو سو روپے اس بھلے زمانے میں اس لیے لے کر ٹلا کہ تاریخ پر وہ آج ہی تھانے اور عدالت آئیں۔خاتون سنیتا چند دن پہلے تک ایک ماڈل تھیں۔ ہمارے دوست کی عزیزہ بھی۔تھانے کو تو جیسے تیسے رشوت دے دلا کر سنبھالا۔دو دن بعد تاریخ پر سٹی کورٹ آئیں۔
انہی  کے ساتھ شفون کی نیلی ساڑھی میں عدالت آئیں تو سٹی کورٹ میں کیا وکیل کیا پیش کار کیا ملزمان ۔ ۔سب کے دلوں میں ایماں لرزہ بر اندام ہوگیا اور ایک پیر کے ہاتھ سے تو تسبیح ہی گر پڑی۔بار کے اجلاسوں میں ایم کیو ایم جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کے وکیل دے مار ساڑھے چار کرتے رہتے تھے سب نے باہمی سیر و شکر رہنے کا حلف اٹھایا۔ان کی مفت ضمانت کے لیے پہنچ گئے
وہ دونوں سیدھے ہمارے پاس آئے۔بار کے صدر صاحب سینٹر رضا ربانی کی طرح پیچھے کھینچ کر چوٹی باندھتے تھے۔ہم سے ملتے تو ہم انہیں چھیڑتے تھے۔ ع
میری نچدی دے کھل گئے وال
بھابو میری گُت کردے

مینوں چڑھیا سولہواں سال،
بھابو میری گُت کردے

نیلی ساڑھی

ان کا دفتر سٹی کورٹ سے متصل تھا وہ عجلت میں ضمانت کرانے کی خاطر کالی پتلون پر سفید کوٹ پہن کر آگئے۔کسی نے توجہ دلائی کہ این چہ ا بو ل عجبی است تو کہنے لگے”ابے دادو کے پروموٹی مختار کار مجسٹریٹ کو کالے سفید کوٹ کے  فرق کا کیا پتہ“۔ایک فون ہمیں عالمی ادارہء انصاف کے رجسٹرار صاحب کا ہیگ۔ ہالینڈ سے اور دو فون کمشنر کے بھی آئے۔ جن کا عدالتی نظام میں ہم پر کوئی ادھیکار یا سپر وژن نہیں تھا۔وہ سٹی کورٹ میں فتنہء و فساد کے بچاؤ کے لیے کرفیو لگانے کا پوچھ رہے تھے۔

سٹی کورٹس کراچی
بین الاقوامی ادارہ انصاف ہیگ ہالیینڈ

ان دنوں ہم بھی سٹی کورٹ میں اپنی عدالت لگاتے تھے ہمارے علاقے کے لوگ نوشیرواں بادشاہ کو ہماری عدالت سے انصاف کی بروقت فراہمی کے اعلی معیار کی وجہ سے بھول گئے تھے۔ایران اور وکی پیڈیا بھی سوچ رہے تھے کہ اب نوشیروان کا قصہ بے معنی اور ہلکا لگتا ہے۔ اس کو نصاب اور اپنی سائٹ سے نکال پھینکیں۔
انہیں عبدالغفور صاحب کی عدالت میں پیش ہونا تھا۔وہ علاقہ مجسٹریٹ تھے۔ ان کی نوکری تپے دار (پٹواری)سے شروع ہوئی تھی ملازمت کا آخری برس تھا۔ دو سال پہلے ہی اسٹنٹ کمشنر بنے تھے۔ مجسٹریٹ ہونے کے ناطے ضابطہء فوجداری کے فرسٹ کلاس اختیارات ہوم ڈپارٹمنٹ سے ہم نے ہی اجراء کرائے تھے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسر یوسف ہمارے مداح تھے۔۔ عبدالغفور کو ہمارے اس احسان عظیم کا احساس تھا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جن کے فرائض میں لاء اینڈ آرڈر کی ڈیوٹیاں لگانا ہوتا تھا۔وہ ہمارے ڈپٹی کمشنر صاحب ہمایوں فرشوری اور کامران لاشاری صاحب سے خصوصی تعلقات کے حوالے سے باخبر تھے۔ان کی لاء اینڈ آرڈر کی وقت بے وقت ڈیوٹیاں ہمارے کہنے پر، ان کے بڑھاپے اور سادگی اور ان کی مالی خدمت کے عوض بہت نرم لگاتے تھے۔

عبدالغفور صاحب کو اپنے تین سو روپے اتنے گراں نہیں گزرتے تھے ۔
اس جان بخشی کے عوض بدین کے رواجی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دیا گیا یہ نذرانہ اتنا برا نہیں لگتا تھا ۔وہ ہماری محکمانہ سرپرستی کے معترف تھے کہا کرتے تھے کہ اگر ہم دادو میں ہوتے تو وہ سائیں شہباز کے بعد سب سے بڑا مزار ہمارا ہی بناتے۔۔ ہمیں محسنین کا درجہ دیتے تھے۔
تھرپارکر کے علاقے ڈپلو سے تعلق تھا۔ہم تینوں پہنچے تو عبدالغفور صاحب عدالت لگائے بیٹھے تھے۔چوں کہ ہم سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھے۔انتظامی طور پر ان سے ذرا بلند سطح پر تھے لہذا ان کا  نائیک (عدالت کا نائب قاصد جو آواز لگا تا ہے) کیا سپاہی سبھی ہی ہمیں اس کوچہء بے لطف میں دیکھ کر Freeze ہوگئے۔عبدالغفور صاحب کے ایما پر ان کا پیش کار کود کر عدالتی چبوترے سے نیچے آیا۔ ہمیں چیمبر میں بٹھایا اور منٹوں میں عدالت کے اطراف میں برف کی بالٹی لے کر منڈلاتے ہوئے پھیری والے سے تین بوتلیں پکڑ کرہمیں ملزمہ اور اس کے ساتھی کو پیش کردیں۔عبدالغفور نے فی الفور عدالت برخواست کی۔ سیدھے چمبر میں آگئے اور کہنے لگے ہم نے بڑا ظلم کیا کہ ایس ڈی ایم ہونے کے باوجود اس طرف آئے بہتر ہوتا ہم انہیں کسی کو بھیج کر اپنے ہاں بلوالیتے۔ماجرا سنا تو فائل منگوائی ایک نظر ڈالی اور کہنے لگے فائل آپ پھاڑیں گے یا ہم۔ہم نے کہا ارے ارے سائیں یہ کورٹ فائل ہے۔تو کہنے لگے”سائیں کار ایکسیڈنٹ کا معمولی کیس ہے کونسا بڑا کیس ہے ادھر مجیب الرحمن حرامی کو ملک توڑنے پر معاف کردیا تو بے چاری ادّھی کو کیوں تکلیف دیں۔ہماری عورتیں گھر چلالیتی ہیں یہ بھی کیا کم ہے کہ ابھی کار بھی ٹھیک سے چلائیں۔ فائل پیش کار کی طرف اچھال دی سندھی میں چیخ کر کہنے لگے ونج چھورا فائل کے پھٹی کر (جا لڑکے فائل کو کہیں دفع کر) ۔۔فائل کا توجانے کیا انجام ہوا۔ مگر خاتون باعزت بری ہوکر، دوسری دفعہ بیاہ کر انگلستان منتقل ہوگئیں۔

عبدالغفور جنرل ضیا الحق کے ریفرنڈم میں آخری دفعہ ایک پولنگ اسٹیشن پر ملے تھے۔رات کا وقت تک علاقے میں بجلی نہ ہونے پر پولنگ کے عملے سمیت تھانے جانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ عملہ تھانے جانے پر احتجاج کررہا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ ان سب کو تھانے کیوں لے جاتے ہیں؟ کہنے لگے فوجی صدر کا انتخاب ہے سائیں اس کا نتیجہ بھی تھانے میں ہی ٹھیک ہوگا۔

دوسرا قصہ ایک پنجابی افسر کا ہے!
دو بھائی تھے شہزاد اور عابد۔شہزاد نرم خو اور معاملہ ساز اور علاقہ مجسٹریٹ تھے،عابد خرانٹ اور بے رحم۔وہ پولیس کے تھانے دار تھے۔دونوں بھائی چن کر ایسے علاقے کواپنا رجواڑہ بناتے تھے جہاں آبادی زیادہ اور مکس ہو،جرائم کی بہتات ہو، غیر آباد سرکاری زمین کی تا حد نظر پھیلی ہو۔مال، عصبیت اور فرقہ واریت کی وجہ سے تعیناتی کی یہ Combination بناناکچھ ایسا مشکل نہ ہوتا کہ انہیں اپنی پسند کا ایسا علاقہ ملنے میں جڑواں تعیناتی میں زیادہ دشواری پیش آتی۔ دونوں بھائیوں کا تھانے اور عدالت پر مکمل قبضہ رہتا تھا۔
ہمیں سٹی کورٹ کے ایک وکیل صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ایس ایچ او عابد صاحب کے تھانے پر ایک مقدمہ درج ہوا ۔عدالتی کاروائی کے لیے معاملہ اپنے ہی بھائی کی عدالت میں پیش ہوا ۔ ملزم جوڑا ایک فیکڑی میں ساتھ کام کرتا تھا۔مرد اور عورت کا کچھ ماتحت نگران والا معاملہ بھی تھا اور شاید اوور ٹائم کی تقسیم بھی راز دروں تھی۔۔اورنگی کے خالی گھر میں پڑوسیوں کی مخبری پرنیم برہنگی کے عالم میں لیکن والہانہ ہم آغوشی کی حالت میں پکڑے گئے تھے۔باعلم ہیڈ محرر صاحب نے بعینہ چالان میں بھی اس کیفیت کا اندراج کیا تھا اور اسی وجہ سے میڈیکل معائنے سے احتراز کیا تھا۔یوں چارج شیٹ میں زنا کا الزام بڑا نیم دلانہ اور گواہی پر رشوت لے کر چھوٹ جانے کے اہتمام سے مزین تھا۔

جنرل ضیا الحق کے تازہ نافذ کردہ حدود آرڈیننس کا چالان عدالت سیشن میں بھیجے جانے کے لیے جب چالان پیش ہوا تو وکیل صاحب نے اعتراض کیا کہ زنا کا اور حدود کے لیے چار گواہ، مقام، وقت اور حالت مواصلت کا جو لازمہ موجود ہے وہ پورا نہیں ہوتا لہذا ایف آئی آر ہی ساقط کردیا جائے۔ اور ملزمان کو عدالت سے ہی رہا کردیا جائے۔وکیل صاحب کا اعتراض سن کر تھانے دار، عابد ِبدکار نے اپنی چارلی چپلن جیسی موچھوں کو اپنے بدنما ہونٹوں پر ادھر ادھر گھمایا اور کہنے لگا وکیل صاحب اسلام کے اور آپ کے حساب سے تو گواہی کے جو سولہ لازمی تقاضے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ زنا کو اولمپک میں شامل کرنا پڑے گا تاکہ گواہی کا بندوبست آپ کی تسلی کے عین مطابق آسانی سے ہو جائے۔یہ بتائیں جب ملزم، ملزمہ کو اپنے خالی گھر میں آغوش میں لیے بیٹھا تھا تو کیا وہ اسے الجبرا کی تعلیم دے رہا تھا۔اس کا ارادہ مزید بگاڑ کا تھا۔وہ تو پولیس موقع  پر پہنچ گئی ورنہ گناہء کبیرہ تو   تقریباً ہوچلاتھا۔

ضیاالحق ریفرنڈم میں ووٹ ڈالتے ہوے

ہم نے شہزاد صاحب کو فون کیا کہ وہ اگر عدالت میں موجود ہوں تو ہم آجائیں۔وہ کبھی ہمارے  ماتحت رہے تھے۔ہمارا باہمی سلوک پیار و اخلاق کا تھا۔ یوں بھی وہ بڑے قالین مزاج افسر تھے۔ ہر وقت بچھے بچھے رہتے تھے۔ہمارا دفتر سٹی کورٹ کے قریب تھا جہاں شہزاد صاحب انصاف کے دریا بہاتے تھے۔ شہزاد صاحب کو اصرار ہوا کہ معاملہ چونکہ ان کی عدالت عالیہ کا ہے لہذا ہمارا آنا ہی بہتر ہوگا۔
ہوا یوں تھا کہ ہمارے ایک کاروباری دوست سلیم کا بیٹا اور اس کے اسکول کا دوست آپس میں اپنی اپنی گرل فرینڈز کو نئی گاڑی دکھاکر متاثر کرنے کے لیے کار بدل کربیٹھے۔ سلیم کے بگڑے بیٹے خرم نے گاڑی لوٹانے میں دیر کی تو دوسرے دوست نے کار چوری کا مقدمہ درج کرادیا گیا۔بعد وہ میں دونوں دوست برطانیہ اور آسٹریلیا چلے گئے۔یہاں پولیس نے کار چوری کا مقدمہ عدالت شہزاد میں داخل کردایا۔خرم کو پیش ہونے کے لیے وارنٹ موصول ہوئے تھے اور وہ ہوبارٹ میں پاکستان کا میچ دیکھ رہا تھا۔شہزاد صاحب ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے سیڑھیوں پر موجود تھے۔بہت تحمل سے معاملہ سنا۔پوچھنے لگے ”دو سال کے اندر خرم واپس تو نہیں آئے گا؟سلیم نے بتایا کہ اس نے چونکہ اب خفیہ طور پر دوسری شادی کرلی ہے اور وہ اپنی پہلی بیوی یعنی خرم کی والدہ کو بھی وہیں بیٹے کے پاس بھجوارہا ہے۔ اس پر شہزاد صاحب نے انکشاف کیا کہ وہ اس مقدمہ کو داخل دفتر کرنے کے لیے ایک ڈرامہ رچائیں گے۔ملزم پیش ہوگا اس پر جرم کی قبولیت اور پہلا جرم ہونے کے ناطے محض ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔یہ جرمانہ وہ پیش کار کے حوالے کردیں تاکہ وہ اسے وکیل صاحب بروقت ادائیگی کرسکیں۔

اس پر شہزاد صاحب چیمبر سے اٹھ کر باہر گئے۔ عدالت سج گئی۔جیل سے آئی کسٹڈی میں ایک ملزم موجود تھا اس پر ایک پڑیا ہیروئین رکھنے کا الزام تھا بھرتی کے اس مقدمے میں ضمانت نہ ہونے پر جیل میں سڑ رہا تھا۔ عدالت میں ملزم خرم کو پیش کرنے کا اعلان ہوا تو ایک وکیل تیموری صاحب باقاعدہ طور پر اس کی پیروی کے لیے موجود تھے۔
جیل کسٹڈی والے ملزم کو خرم بنا کر پیش گیا۔ وکیل صاحب نے کہا کہ ان کے موکل کو جرم قبول ہے۔عدالت ملزم کی کم سنی کا لحاظ کرے اور نرم سزا سنائے جرمانہ کرکے فائل پر ملزم کا انگوٹھا لگوایا گیا جب کہ چالان میں ملزم عمر اٹھری سال اور پیشہ طالب علم درج تھا۔تین سو روپے وکیل صاحب،سو روپے ملزم کو دیے گئے پانچ سو روپے تحفتاً پیش کار اور دیگر عملے بشمول جیل والوں میں تقسیم ہوئے۔ہمارے دوست سلیم کو رحم آگیا تو اس نے اس جیل کسٹڈی والے مجرم سے بھی قبول جرم کرواکے جرمانہ ادا کردیا گیا۔وکیل صاحب نے اس کی فیس یہ کہہ کر انکار کیا کہ صاحب آپ کی عدالت کے طفیل ہی ہمارا دھندہ چل رہا اس کی فیس نہیں لوں گا مگر سلیم نے وہ تین سو روپے واپس لے کر انہیں پانچ سو کے نوٹ میں بدل دیا۔

اس دن قبول جرم کے دو مختلف مقدمات پر ایک ہی ملزم کے انگوٹھے کے نشان تھے مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ مشہور بینکر مہران بینک کے یونس حبیب جنرل مرزا اسلم بیگ کی آنکھوں کے تارے ایک زمانے میں زیر حراست تھے۔اس زمانے میں Pakistan Prisons Rules (PPR) 1978سزا میں جو تخفیف کے ضابطے تھے اس کے حساب سے خون کا عطیہ کرنے والے کی سزا میں کمی ہوجاتی تھی، یہ تخفیف سال میں چار ماہ تک کی ہوسکتی ہے۔ یونس حبیب جو ان دنوں عارضہ سرطان میں مبتلا ہیں

یونس حبیب

ان کا کیس ایسا تھا کہ ان کی سزا میں کمی کی سفارش دو دفعہ ایک پی ایس پی افسر نے کی تھی۔یونس حبیب نے دو مرتبہء خون کا عطیہ کیا تھا۔میڈیکل سائنس کے لیے بڑی حیرت کا مقام تھا کہ اس دیالو افسر یعنی آئی جی جیل خانہ جات نے تخفیف کے لیے دونوں مواقع پر یونس حبیب کے خون کا گروپ مختلف درج کیا تھا۔

ایک دفعہ اے بی۔ مثبت تو دوسری دفعہ او۔منفی۔ ایک تخفیفی معافی اسے قرآن حفظ کرنے کی بھی ملی تھی۔ ہم نے پوچھا تو کہنے لگا کہ مجھے تو سورۃ الاخلاص بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ ہم نے کہا یہ تو وزیروں والی خوبی ہے۔کہنے لگا: سیاست، مارکیٹ اور جیل میں صرف کاوڑیے (میمنی زبان میں پیسہ) کی حکومت ہے ۔
شہزاد صاحب اس واقعے کے پانچ سال بعد جیئے۔ ایک شادی ہمارے دوست کے مشورے سے اور کی۔ ان کی جلد ہلاکت کا سبب پارہ چنار سے لائی گئی کم سن دلہن، سرگودھا کے کسی حکیم کے  کچے پارے اور سنکھیا کا کشتہ ادھیڑ عمر کی قیمتی شراب اور باقاعدہ تمباکو نوشی کو قرار دیا جاسکتا تھا۔

38 برس پرانی شراب

تھانے دار بھائی عابد بدکار نے سمجھایا بھی کہ بھائی جان شراب نوشی سے ذرا پرہیز کریں تو اچھا ہے مگر وہ کہنے لگے کہ پانی پینے والے کون سے ہمیشہ جیتے ہیں۔ آپ نے نوٹ فرمایا نا کہ دونوں برادران بے رحم میں دوسرے کی بات کو ایک گستاخانہ جسارت سے حتمی طور پر ختم کردینے کی خاص عادت تھی جو اختیارات کی قدرت وسائل کی بھرمار اور طاقت ور صوبائی وابستگی کی آسودگی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک زندہ رہے ہمارا دوست انہیں عید پر مٹھائی اور قیمتی تحائف کی ایک ڈالی بجھواتا تھا۔ مگر شہزاد صاحب جب بھی ہم سے ملتے سلیم صاحب کو دعائیں دیتے کہ بہت محبتیلے انسان ہیں ۔ہمارے گھر میں الفت کا دوسر چراغ بھی ان ہی کے توسط سے جلا۔ ہر عید پر بے چارے ناحق تکلف کرتے ہیں۔ایک قیمتی ڈالی بھیج دیتے ہیں۔ وہ خود تو اسے گفٹ ہیمپر کہتا تھا اسے برطانوی افسران کی تقلید میں ڈالی کے تاریخی نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ اسے برنس روڈ سے خرید کر عید کارڈ بھجواتے تھے۔ڈالی سلسلہء تحائف کو کہا جاتا تھا جو غیر منقسم ہندوستان میں ہر بڑے تہوار اور موقعے پر علاقے کے اہل ثروت اور مہاراجے انگریز افسران کو بھجواتے تھے۔ان میں خواتین سے لے کر اناج تک سبھی کچھ شامل ہوتا۔

مہاجر افسر!

افسروں کے طور اطوار اور انداز حکمرانی سمجھنے کے حوالے سے آخری واقعہ مہاجر افسر کا ہے۔تعلق ٹنڈو الہ یار سے تھا مگر حیدرآباد  منتقل  ہوگئے تھے۔ نام مستقیم تھا مگر صراط مستقیم سے فطری طور پر ایسے ہی دور تھے جیسے شیطان اللہ کی فرماں برداری سے۔ باپ کے توسط سے ایک ٹھیکے دار صاحب کی ملازمت میں داخل ہوئے۔چند ہی برسوں میں وہ ان کے معتمد خاص بن گئے۔ ٹھیکے دار صاحب کو شراب نوشی اور مجروں کا بہت شوق تھا۔حیدرآباد اس معاملے میں ذرا رنگ برنگا اور مستعد تھا۔لاہور کے بعد سب سے اچھی ہیرا منڈی حیدرآباد کی ہوتی تھی۔ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے سے پہلے سندھی کراچی کو پردیس کہتے تھے۔دل کے بہلاوے کا اہتمام وہیں ہوتا تھا۔حیدرآباد میں لطیف آباد کے بنگلے سندھی وڈیروں کے شہر کے مکان ہوتے تھے۔انڈس ہوٹل اور اس سے پہلے رٹز ہوٹل کی بھی ایک شان ہوتی تھی۔بعدمیں اورینٹ اور فاران ہوٹل بھی آباد ہوگئے تھے جہاں عیش و عشرت کی محافل گرم کرنا ان کے لیے کراچی کی نسبت آسان ہوتا۔

ٹھیکیدار صاحب کے ہاں مجرے ہوتے تو حضرت مستقیم بھی اپنے باس کی دل جوئی کے لیے  انہیں نچوڑیوں کے ساتھ پگ گھنگرو باندھ میرا بن ناچتے تھے۔بدن لچکیلا تھا۔اہل محفل خوش ہوجاتے تھے۔وہاں کونسی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ اور سروج خان، فرح خان اور احمد خان (ہندوستان کے تین  مشہور فلمی ڈانس ڈائریکٹرز) بیٹھے ہوتے کہ ان کے فن میں عیب نکالے جاتے۔
ٹھیکے دار صاحب صوبائی وزیر بنے تو وزیر خان نے اپنے کوٹے سے مستقیم خان کو بھی براہ راست اسٹنٹ کمشنر بنا دیا گیا۔1973 کی انتظامی اصلاحات کے بعد سول سروس کی یہ بربادی عام ہوگئی۔

سرکار کا ذمہ دار افسر اور علاقے میں لا ء اینڈ آرڈر کا انچارج ہونے کے بعد بھی حضرت کی وزیر صاحب کی تابعداری میں کوئی فرق نہ آیا۔ یوں ہی محافل شبینہ برپا ہوتی رہیں۔ان کا رقص رواں صرف اتنے سے فرق سے جاری رہا کہ اب ان کا آئٹم آتا تو باقاعدہ گھونگھٹ نکالا ہوا ہوتا اور اعلان ہوتا کہ اب سندھ سرکار مجرے کی اجازت چاہتی ہے۔یہ لکھنؤ کا خاص انداز تھا۔طوائف خاندان کے سب سے بڑے فرد سے اجازت مانگ کر رقص ہوتی تھی۔اس لیے لفظ مجرہ استعمال ہوتا ہے اور پاکستان کے اکثر قوانین کے ساتھ مجریہ لکھا ہوتا کہ یہ باقاعدہ طور پر اجرا ہوتے ہیں اور آپ کی زندگی میں ہر سو ناچتے دکھائی دیتے ہیں۔ان میں سے ہر قانون انگریزی کی خوف ناک اصطلاح Not withstanding سے شروع ہوتا ہے جو آپ کی مدد نہ کرنے کا بہترین بہانا بن جاتا ہے۔

یہودی سیدنا موسی علیہ سلام کے حوالے سے کہتے ہیں کہ Let Law bend the mountain قانون پہاڑ کو بھی موڑ سکتا ہے مگر پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں فرد، اداروں پر بھر بھاری ہوگیا ہے اور فرد ہی قانون کو موم کی ناک کی طرح موڑتا رہتا ہے۔ ہمارے مستقیم صاحب کا ذکر تھا۔حضرت اوائل ملازمت میں نپئیر روڈ کے مجسٹریٹ تھے تو کسی طوائف سے معاوضہء شب کی ادائیگی پر ناراضگی ہوگئی۔یہ طیش میں آگئے۔ بے چاری کو رقم بھی ادا نہ کی اور تھپڑ بھی رسید کردیے۔وہ بھی بدلے کی دھمکی دے کر چلی گئی۔ یہ حضرت اپنی نو دریافت شدہ طاقت کے گھمنڈ میں تھے۔اسے ذرہء خاک جتنی بھی  اہمیت نہ دی۔

نیپئیر روڈ

اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ خراب عورتوں کے اچھے مردوں سے بڑے گہرے تعلقات ہوتے ہیں۔بہت کم جگہ پر مذکور ہے کہ امریکہ میں مافیا کا ڈان سیم جنکانا، اداکار فرینک سنٹارا اور صدر کینیڈی تینوں ایک سماجی تتلی (Social Butterfly) روکزان اور اداکارہ مارلن منرو کے دامن پرلطف سے بیک وقت لپٹے ہوئے رہتے تھے۔
ایف بی آئی کے چیف ایڈگر ہووؤر رات کو ان خواتین و حضرات کی Pillow Talks کی خفیہ ٹیپ سن کر ہی خوش ہوتے رہتے تھے کہ بڑے قومی سلامتی کے امور تک رسائی ہوگئی ہے۔اصل میں بہت اوپر جاکر سیاست اور جرم کی خط امتیاز مٹ جاتی ہے: روم کے فلاسفر سیسرو نے سیدنا عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے ساٹھ سال قبل کہا تھا:
غریب: کام کرتا ہے
مالدار: غریب کے کام کا فائدہ اٹھاتا ہے
فوجی: ان دونوں کو حفاظت کرتا ہے
ٹیکس دہندہ: ان تینوں کا خرچہ اٹھاتا ہے
شرابی: ان چاروں کی شراب پی جاتا ہے
بینکر:ان پانچوں کو لوٹتا رہتا ہے
وکیل: ان چھ کو دھوکا دیتا ہے
ڈاکٹر: ان ساتوں کا ہلاک کردیتا ہے
گورکن: ان آٹھوں کو دفنا دیتا ہے
سیاست دان: ان نو طبقات کی وجہ سے مزے لوٹتا ہے۔
یاد رکھیے یہ حالات سیدنا عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے ساٹھ سال پہلے کے تھے اور مملکت کا نام  پاکستان بھی نہ تھا۔

نیپئر روڈ کی اس طوائف کے مہربانوں میں لائٹ ہاؤس پر کپڑے کا ایک بیوپاری ایسا بھی تھا جو بہت روشن ضمیر تھا۔مجسٹریٹ صاحب سے پہنچنے والے مالی نقصان  کا تو اس نے فی الفورازالہ کردیا کہ جہاں دیدہ تھا۔وہ جانتا تھا کہ بیسوا اور پنڈت سے بھاؤ تاؤ میں نہ تن کی سیوا ہوتی ہے نہ من کی۔متعلقہ فوجی حلقوں میں رسائی کے باعث یہ شکایت پہنچائی گئی۔ضیا الحق کا مارشل لاء تھا۔ملتان میں ایک ڈپٹی کمشنر کو کوڑے مارے جاچکے تھے۔خیال تھا ان کا بھی ویسا ہی حال کیا جائے مگر پھر بات یہاں پر ٹھہری کہ معطل کرکے ان کے خلاف انکوائریاں کرادیں۔ بہت بعد میں جب وہ فوجی افسر یہاں سے سدھارے تو مجسٹریٹ صاحب بحال ہوئے اور ان  کی سانس میں سانس آئی۔

ہم سے ان کا واسطہ تب ہی سے ہوا تھا۔چاند رات کو ہمارا دھوبی آگیا کہ اس کے پڑوسی کے نوجوان بیٹے کو محلے میں لڑکی کے عشق کی وجہ سے ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ107/117/151 یعنی نقص امن کے خدشے کی وجہ سے بند کرادیا ہے۔ دھوبی کہنے لگا کا اس نے لڑکی کے والدین کو سمجھادیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر لڑکا باز آجائے تو انہیں اس کی رہائی پر کوئی اعتراض نہیں۔
ہم نے مستقیم صاحب کو فون کیا۔عام طور پر علاقہ ایس ڈی ایم کے فون پر تھانہ روز نامچے میں اندراج کرکے چھوڑ دیتا تھا۔ رہائی شدگان اگلے دن عدالت میں ضمانت کے لیے پیش ہوجاتے تھے۔ عدالت میں مستقل حاضری لگتی تھی۔ چند ماہ بعد مقدمہ ختم ہوجاتا تھا۔
مستقیم صاحب بہت خوش ہوئے جواب میں ایک کام ہمیں بھی بتادیا جو خاصا مشکل تھا۔ کہنے لگے ابھی فون کرتا ہوں۔ ضمانتیوں کو کہیں فوراً تھانے پہنچیں۔کل عید ہے۔ چند دن خاموشی رہی۔ ہم نے جانا کہ کام ہوگیا ہوگا تو کسی نے اطلاع دینے کی زحمت نہ کی ہوگی۔ پندر ہ بیس دن بعد دھوبی صاحب سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ دس ہزار روپے تو ایس ڈی ایم صاحب نے فوراً لے لیے تھے مگر رہائی عید کے تیسرے دن ملی کہ ڈی سی صاحب نے منع کیا کہ کسی کو بھی ضمانت نہیں دینی۔ ہمیں دکھ ہوا مگر یہ سوچ لیا کہ بدلہ پرانا نہیں ہوتا۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔چھوڑنا نہیں ہے

چند ماہ بعد ایک وفد چیف سیکرٹری سے ملنے آیا تو ایک حاجی صاحب ان کے شکایت کنندہ نکلے۔ ان کی درخواست ہمارے پاس آگئی تو انہیں سن گن مل گئی۔آئے تو ہم نے کہا جاکر اس خاندان کو دس ہزار روپیہ واپس کرو ان کو ساتھ لاؤ اور ہمارے سامنے ان  سے معافی مانگو۔سب کچھ ایسا ہوا ۔ایس ڈی ایم صاحب ہوٹل کے ایک باورچی کے گھر معافی مانگنے پہنچے ہوئے تھے بمع رقم کے۔
سب مراحل سے گزر کر ان کی درخواست ہم نے اپنے تبادلے والے دن چارج چھوڑتے وقت نئے افسر کے حوالے کردی۔ اس مشورے کے ساتھ کہ اسے دھیرج سے بار بی کیو کروں۔باربی کیو اور گرلGrill کا فرق یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ باربی کیو,دھیمے سلگتے کوئلوں پر دیر تک پکانے کا عمل ہے جب کہ گرل میں براہ راست سلگتی آگ پر پکایا جاتاہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

  1. ویسے حیرت کا مقام ہے کےاقبال دیوان صاحب جیسے ادیب ابھی تک قدرے گمنام ہیں ،میں ان کی تحاریر کا مداح ہوں اور شدت سے ان کی نیی تحریر کا منتظر رہتا ہوں۔

    1. بالکل بھی گمنام نہیں ۔۔۔ما شااللہ ایک عالم انہیں اور ان کی تحاریر کو جانتا ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *