میدان میں مقابلہ کی سیاست اور الزام تراشیاں

میدان میں مقابلہ کی سیاست اور الزام تراشیاں
طاہر یاسین طاہر
سیاست کھیل نہیں ہے۔کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے، سیاست میں بھی ہار جیت ہوتی ہے، اس کے باوجود کھیل اور شے ہے سیاست اور شے۔ہمارے ہاں مگر سیاست کو بھی کھیل ہی سمجھا جاتاہے۔اب تو سیاست میں بھی کھیل کی اصطلاحات استعمال ہو نی لگی ہیں۔جس قوم کے لیے سیاست جیسا شعبہ بھی تفریح طبع کا سامان ہو اس قوم کے افراد اور زعما کو جے آئی ٹی،تحقیقاتی کمیشن،کمیٹیوں اور رٹ پیٹیشنز جیسے سانحات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ ہماری سیاست کا دارومدار “شخصی خانوں “کے گرد گھومتا ہے۔شریف خاندان، بھٹو خاندان، اب اس میں شامل زرداری خاندان کا خون،باچا خان کی باقیات،مفتی محمود صاحب کی اولاد،اچکزئی خاندان، ان سب خاندانوں کے چند وفا دار گھرانے اور پھر ،قریہ قریہ گاوں گاوں ان ہی خاندانوں کے پرستار۔
ہماری سیاسی تاریخ لہو لتھڑی ہے۔
قومی سیاست میں در آنے والے سخت رویوں،الزام تراشی اور مخالفین پہ بھینس چوری سے،پانی چوری کے پرچے کرانے تک کا سفر تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کرنا،یہ سارے ہنر طاقت کا اظہار ہیں۔عدم برداشت ہمارے سماج کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔کہا جاتا ہے کہ نوے کے عشرے کی سیاست الزام تراشیوں اور بد کلامی کی سیاست تھی۔آج ہم پھر وہی سب دیکھ رہے ہیں۔نوے کے عشرے میں ابلاغ کے ذرائع محدود تھے،آج سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع نے ہر چیز آشکار کی ہوئی ہے۔کون کیسے جے آئی ٹی میں پیش ہوتا ہے؟کون کیسے پنسل گراتا ہے؟ اور کون ادب سے جھک کے پنسل اٹھاتا ہے، یہ سب براہ راست آرہا ہوتا ہے۔میدان تو لگ چکا ہے جناب۔یہاں مقابلے کی تاب کسے؟
اس امر میں کلام نہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے سوشل میڈیا سیل نے مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ مگر پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین نے بھی تو عمران خان کو سیتا وائٹ کے پنجرے میں قید کرنا چاہا،جس نے پی ٹی آئی کے دکھ کو سوا کیا اور یوں معاملہ سیاسی پنجہ آزمائی کے ساتھ ساتھ الزام تراشیوں اور ذاتی رنجشوں تک آگیا۔قومی سیاست کا یہ افسوس ناک مقام ہے۔
پانامہ سکینڈل ابھی کل کی بات ہے۔حکمرانوں کی کرپشن البتہ ہمارے سماج میں لازم و ملزام ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتیں کرپشن کے الزامات کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ میاں صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔البتہ افسوس ناک امر یہی ہے کہ جن الزامات کے تحت جمہوری حکومتیں ختم کی گئیں ان الزامات کو ثابت کر کے ملزمان کو قابل ذکر سزائیں نہ دی گئیں۔اگر سزائیں دی جاتیں تو آج معاشرتی زندگی کا معاشی رنگ اور ہوتا۔پانامہ سکینڈل سامنے آنے پرفطری ردعمل آیا۔وزیر اعظم صاحب نے یکے بعد دیگرے قوم سے خطاب کیا اور ہر ممکن طور خود کو اور اپنے خاندان کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔حتیٰ کہ انھیں اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے بھی خطاب کرنا پڑا۔شریف خاندان کا مگر مے فیئر فلیٹس اور اپنی دیگر کاروباری سرگرمیوں بارے جو بیانیہ ہے اس میں بہت تضاد ہے۔اپوزیشن نے شور مچایا اور بے شک عمران خان نے اس ایشو کو مرنے نہ دیا۔وہ اس سکینڈل کو سپریم کورٹ لے گئے ارو وہاں سے جے آئی ٹی بننے کا فیصلہ آیا۔یہ مرحلہ بڑا صبر آزما تھا حکمران خاندان کے لیے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکمران خاندان نے مقابلہ کے لیے طلال چوھدری اوردانیال عزیز جیسے سیاسی کردار میدان میں اتارے ہوئے تھے، جوروزانہ بڑی دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے اور میڈیا ٹاک شوز میں جارحانہ دفاع کرتے۔مگر تا بہ کے؟
جے آئی ٹی میں حسین نواز کی پیشی ہوتے ہی نون لیگ نے باقاعدہ سے جے آئی ٹی کو بد نام کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا تھا، جس کا نقطہ کمال یہ ہے کہ اب علی الاعلان یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہ کیا گیا تو رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حالانکہ خط پیش کرنے والوں کی ہی یہ ذمہ ہ داری ہے کہ وہ قطری شہزادے کا بیان بھی ریکارڈ کرائیں۔جے آئی ٹی علیحدہ سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر چکی ہے کہ ادارے ریکارڈ فراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہے،جبکہ ریکارڈ میں ٹمپرنگ بھی کی گئی ہے۔اب اس کا جائزہ تو سپریم کورٹ ہی لے گی کہ کون سے ادارے نے کتنی ٹمپرنگ کی اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ البتہ میدان سیاست میں جو مقابلہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ الزام تراشیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔وزیر اعظم صاحب کی صاحبزادی مریم نواز جب جے آئی ٹی میں پیش ہو کر آئیں تو پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈرو اس وقت سے جب وزیر اعظم قوم کو سازش کا بتا دیں۔وزیر اعظم اور اسحاق ڈار صاحب بھی کہہ چکے ہیں کہ سازش ہو رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ سازش کون کر رہاہے اور کیوں؟یہ نوے کی دھائی نہیں۔نوجوان نسل ٹویٹر اور فیس بک سے منسلک ہے۔یہ لوگ ثبوت مانگتے ہیں۔
اگر سازش ہے تو بے نقاب کریں قبل اس کے،کہ آپ کو بڑا سیاسی نقصان ہو جائے۔وزیر اعظم صاحب کا کہنا کہ مخالفین جے آئی ٹی کے پیچھے نہ چھپیں، میدان میں مقابلہ کریں،معنی خیز بات ہے، یہ جملہ اضطراب اور دباو کو ظاہر کرتا ہے۔ہمارے ہاں یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔کبھی کہا جاتا ہے کہ پانامہ جمہوری حکومت کے خلاف عالمی سازش ہے۔ بھلا وہ کیسے؟ یہ ایک عالمی ایشو تو ہو سکتا ہے مگر وزیر اعظم صاحب کے خلاف عالمی سازش نہیں۔ کیونکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کا عالمی سیاست میں کوئی قابل ذکر کردار نہیں ہے۔بات اصل میں منی ٹریل کی ہے، پیسہ باہر کیسے گیا؟کہاں سے کمایا؟وغیرہ وغیرہ۔جے آئی ٹی 10 جولائی کو اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کر دے گی۔چشم تصور سے ہنگامہ خیزی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میدان لگ چکا ہے اورپی ٹی آئی و نون لیگ کے دریدہ دہن آمنے سامنے ہیں۔کیا بہتر نہیں ہو گا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ملکی و علاقائی سطح پہ آنے والی سیاسی و معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں نوجوان نسل اور ملکی ترقی کے لیے کوئی انقلابی پروگرام ترتیب دے کر ایک دوسرے کا اس میدان میں مقابلہ کریں،بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور الزام لگانے کے۔اے کاش مگر ایسا ہو۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *