ایدھی صاحب کی پہلی برسی

ایدھی صاحب کی پہلی برسی
ناصر منصور
8جولائی2017آج ایدھی صاحب کی پہلی برسی ہے ۔ ان سے جس محبت اور احترام کا عوام نے اظہار کیا وہ ملک کی شاید ہی کسی اور شخصیت کے حصے میں آیا ہو ۔یہ کون سا کمال اور سحر تھا کہ ہمارے جیسے سماج میں جو نسلی ، علاقائی ، مذہبی ، ثقافتی ، لسانی اور فرقہ وارانہ آگ میں مسلسل جل رہا ہے اور اس کے باسی خود اس نفرت کی آگ میں جھلسنا اور جھلسانے میں راحت محسوس کرتے ہیں وہ ایک عام سے شخص کے احترام میں کس طرح یک رائے اور یک زبان ہو گئے۔ایسے شخص کے لیے احتراماََ جھک گئے جو نہ کسی اعلیٰ نسل کا دعویدار تھا اور نہ ہی کسی منصب کا تمنائی ، وہ کسی مذہب کا کٹر پیرو کاربھی نہیں تھا اور نہ ہی کسی زبان یا گروہ کی عظمت کے گیت گاتا تھا۔
وہ قابل احترام اس لیے ٹھہرا کہ اس نے انسان کی عظمت خصوصاََ مظلوم انسانوں کی عظمت کو اپنی زندگی کا بنیادی مطمع نظر نہ صرف قرار دیا بلکہ اپنی ساری زندگی اسی عظیم مقصدکے لیے وقف کر دی ۔ وہ انسان جنھوں نے اپنے انسان ہونے پر اپنے مذہبی ، لسانی ، نسلی ، فرقہ وارانہ تشخص کو نہ صرف ترجیح دی بلکہ اس کی بنیاد پر انسانوں کی تحقیر کی خلعت عطا کی اور تسلسل کے ساتھ اس کے لیے انسانوں کا خون بہایا اور سماج کو ایک نہ ختم ہونے والی بیماری میں مبتلا کر دیا ۔لیکن اس زہر آلود ماحول میں ایک شخص نے مظلوم انسانوں کی توقیر کے لیے کام کا آغاز کیا اور وقت اور حالات کی ستم ظریفیوں کو خاطر میں لائے بغیر نہ صرف رگیدے اور دھتکارے ہوئے انسانوں بلکہ جان داروں تک کو نیا جنم عطا کیا ۔یوں یہ عام سا شخص عظمت وتوقیر کے بلند تر منصب پر فائز کر دیا گیا یعنی یہ عام انسانوں کے دلوں کا مکین بن گیا اور اس کی وفات پر عام انسانوں نے اس کی عظمت اور بڑا ئی کے گیت گا کر ثابت کر دیا کہ ان کے اپنے مذہبی، لسانی ، علاقائی اور فرقہ وارانہ تضاد اور تعصبات باطل ہی نہیں بلکہ شدید تنقید کے بھی قابل ہیں۔
ایدھی صاحب کے سوچ وعمل میں ایسا کیا خاص جوہر نایاب تھا جو دوسرے کسی شخص ،امدادی ادارے میں موجود نہیں۔اس کو دیکھنے کے لیے ایدھی صاحب کی زندگی اور ان کے خیالات کو سمجھنے اور پرکھنے میں کوئی خاص دقت نہیں ہو گی ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جیسے سماجوں میں پھیلی ناانصافی ، غربت اور سماجی ناانصافی کی بڑی وجہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر قائم بڑی زمینداری اور سرمایہ داری نظام ہے جس سے نجات کے بغیر ملک میں عام انسانوں کو نہ انصاف میسر آ سکتا ہے اور نہ ہی ان کی غربت کا خاتمہ ممکن ہے ۔اور یہ کام عوام کے ذہنوں میں موجود تعصبات کے خاتمے اور ان کے شعوری اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔انھوں نے اپنی سوچ کو اس حد تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ جدوجہد اور تبدیلی کے لیے ایک نیاراستہ منتخب کیا اور یہ دکھایا کہ عوام الناس سے ٹیکس لینے والی ریاست جو کہ آئینی اور قانونی طور پر اپنے شہریوں کو روزگار، تعلیم، صحت اور رہائش فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے ، اپنے بنیادی فرائض سے مجرمانہ حد تک غافل ہے ایسے میں جب عام انسان سڑکوں پر لاوارث تڑپ رہا ہو ، نومولود بچوں کو ناکردہ گناہ کی سز ا کے طور پر کچرے کے ڈھیر پر جانور بھنبھوڑ رہے ہوں ،سماج کے بے رحم ہاتھوں مجبور عورتیں تاریک راہوں کی مسافر بننے پر مجبور ہوں ، ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور انسانوں کو انسانوں سے بھیک مانگنے کے سوا زندہ رہنے کے لیے دوسرا راستہ نہ ہو تو کیا پھر ان جیسے لاکھوں افراد کی زندگی میں واپسی کے لیے کسی بڑی سماجی تبدیلی کے انتظار میں حالات کے بے رحم ہاتھوں بے توقیر اور رسوا ہونے کے لیے چھوڑ دیا جائے یا پھر ایدھی کی طرح ایک بڑی معاشرتی تبدیلی پر ایقان کامل رکھتے ہوئے وقتی اور فوری راحت کاری کا کام کیا جائے ۔تاکہ سماج کے بدترین استحصال زدہ حصے کو مزید بدبختی کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔
ایدھی صاحب نے ایسا ہی کیا اور خوب کیا ۔انھوں نے اپنے عمل اور سوچ سے ثابت کیا کہ بدترین اور خطرناک ماحول میں بھی امید کا دیا روشن کیا جا سکتا ہے ۔ جو انقلابیوں اور تبدیلی کی جدوجہد کرنے والی قوتوں کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ ان کا کام بظاہر غیر سیاسی اور غیر طبقاتی نظر آتا ہے مگر اس میں مسلسل ایک سیاسی اور طبقاتی پیغام موجود ہے کہ مظلوم عوام کی نجات دولت مندوں سے نجات ہی میں پنہاں ہے کیوں کہدولت مندوں کے مفادات کی ترجمان یہ ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔
ایدھی صاحب نہ صرف اپنی فکر میں انقلابی خیالات کے حامل تھے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر وہ ملک کی انقلابی، جمہوری اور ترقی پسند تحریک سے بالواسطہ جڑے بھی رہے ۔ان کا خیال تھا کہ سماج میں بنیادی تبدیلیوں کے کام عوامی قوت سے انقلابی تحریک ہی کر سکتی ہے ۔ انھوں نے ہمیشہ عوام کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی ہر ممکن طریقے سے معاونت بھی کی اور وہ اسے اپنے مجموعی کام کا حصہ تصور کرتے تھے ۔ یہ وہ خوبی ہے جوانھیں دیگر تمام خیراتی اداروں سے ممتاز کرتی ہے ۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ایدھی صاحب نے صابرہ اور شتیلہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف عملاََ آواز بلند کی ۔ جب کہ لبنان میں جاکر جارحیت کا شکار مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور جارح اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئے ۔ وہ مظلوم بوسینیائی عوام کے ساتھ بھی مشکل کی گھڑی میں کھڑے دکھائی دیے اور ہیٹی میں آنے والے زلزلے میں جنوبی امریکا کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور بحالی کے لیے جا پہنچے ۔ قدرتی آفات ایران میں ہوں یا کہ افغانستان میں ان کا دل اس پر ایسے ہی دھڑکتا اور کچھ کر گزرنے پر آمادہ رہتا تھا جیسا کہ کشمیر اور پختونخوا میں آنے والے زلزلے یا سندھ اور پنجاب میں آنے والے سیلاب یا پھر آوران ( بلوچستان) کے دور درازعلاقے میں آنے والے زلزلے پر مظلوموں اور محکوموں کی مدد کے لیے کمر بستہ ہوجانا ۔ نیپال میں آنے والے بدترین زلزلے میں ایدھی صاحب کے ادارے نے نہ صرف بروقت بحالی کے کام میں حصہ لیا بلکہ اس کے رضا کار فیصل ایدھی کی قیادت میں نہایت ہی نامساعد حالات میں ہمہ وقت امدادی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔یہ سارا کام انھوں نے کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کی مزدور تنظیم GEFONTاور دیگر انقلابی تنظیموں کے تعاون سے سر انجام دیا ۔
ایدھی صاحب نے ہمیشہ جبر اور دباؤ کی مزاحمت کی ۔ یہ جبر نسلی ،مذہبی گروہوں کی جانب سے ہو یا پھر ریاستی اداروں کی جانب سے ، انھوں نے ہمیشہ نہ صرف اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ دباؤ ڈالنے اور سازش میں شرکت کی دعوت دینے والوں کو بے نقاب بھی کیا ۔وہ عظیم انقلابی نوجوان شہید نذیر عباسی کی تشدد زدہ لاش وصو ل کرنے اور مٹی کے سپرد کرنے والے سب سے معتبر گواہ تھے ۔انھوں نے برملا کہا تھا کہ جب بھی عدالت انھیں بلائے گی وہ گواہی دیں گے کہ انقلابی شہید کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا اور وہ لاش کس نے ان کے حوالے کی تھی ۔
وہ مزدور اور مظلوموں کی تحریکوں میں بغیر کسی تشہیر کے حصہ لیتے رہے ۔ وہ PTCL،KESCاورPIA کے محنت کشوں کی نجکاری مخالف تحریک ہو یا لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے محنت کشوں کے دھرنے اور مظاہرے ہوں۔سانحہ بلدیہ کراچی ( علی انٹر پرائز )کے المناک سانحے پر اور بعد میں بھی انھوں نے اپنا بھرپورناقابلِ فراموش کر دار ادا کیا ۔فیصل آباد کے 14پاور لومز ورکرز کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت 490سال کی سز سے رہائی دلانے کا گھمبیر معاملہ ہو یا پھرگڈانی شپ بریکنگ کے حادثات میں بروقت مددسے لیکر گھر کئی ایک مزدور تحریکوں میں ایدھی فاؤنڈیشن کی معاونت ناقابلِ فراموش ہے ۔مزدور تحریک اور انقلابی خیالات پر مبنی رسالے یا پھر انقلابی تحریک سے وابستہ کسی فرد کے ملنے پر ان کی آنکھوں میں در آنے والی چمک اور مسرت کا اظہار ان کی ذہنی اور قلبی کیفیت کا مافیہ بیان کرتا تھا۔
ایدھی صاحب نے ادارے کی نظریاتی اساس پر ہونے والے ہر دو طرح کے حملوں کا نہ صرف بھرپور دفاع کیا بلکہ ہر بار پلٹ کر کاری وار بھی کیا اور سماج میں گمراہی پھیلانے والی قوتوں کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ۔اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایدھی صاحب اپنی زندگی میں ہی نہیں بلکہ بعد از مرگ بھی سرخرو رہے اور ان کی عطیہ کردہ آنکھیں آج بھی محنت کش عوام کے دشمنوں کا تعاقب کر رہی ہیں جبکہ ان کے مخالفین چھپنے کی جگہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔
ایدھی صاحب نے ذاتی ایثار ، قربانی اور اجتماعی دکھوں کے مداوے کے لیے جو راستہ چنا وہ انسانی تاریخ میں اپنی مثال ہے ۔ انھوں نے مقامی حالات میں سماج میں ہونے والے والی ناانصافی پر اپنے کام کے ذریعے زبردست اور شدید احتجاج ریکارڈکرایا اور بتایا کہ یہ سماج گل سڑ چکا ہے اور اس کے حکمران اس فرسودہ نظام کو بچانے کے لیے ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔
ہمارے لیے ایدھی صاحب کی زندگی کے چلن کا یہی سبق ہے کہ ایدھی صاحب نے ’’ ون مین بریگیڈ‘‘ کے طور پر اپنا کام کر دکھایا ۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم اصل کام یعنی سماج کی تبدیلی کے لیے عوام کو شعوری طور پرمنظم کریں اور جبر کی قوتوں کو شکست سے دوچار کریں ۔ جس دن اس ملک میں محنت کشوں نے جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور ان کی حواری قوتوں کو شکست دے دی وہ دن ایدھی صاحب کو حقیقی خراج پیش کرنے اور ان کے مشن کی تکمیل کا دن ہو گا ۔ آج اسی عزم کے اعادہ کا دن ہے ۔

Avatar
ناصر منصور
محنت کی نجات کے کوشاں ناصر منصور طالبعلمی کے زمانے سے بائیں بازو کی تحریک میں متحرک ایک آدرش وادی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *