جو غلط کام کانگریس نے کیے وہی بی جے پی کرے گی

یہ بات نہیں ہے کہ امت شاہ کو کچھ معلوم نہیں ہے اور وہ ہر معاملہ میں بول کر اپنا شوق پور اکرتے ہیں ۔ بلکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن جھوٹ بولنے کی ان کو ہدایت ہے اور وہ اپنے حاکم کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ بھیڑ کے مظاہرے بزدلوں کی پہچان ہے۔ بھیڑ کا سہارا وہ لوگ لیتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ایک یا ،دو ہوئے تو مارے جائیں گے۔ اور بھیڑ کا فائدہ یہ ہے کہ پولیس نہ لاٹھی چارج کرسکتی ہے اور نہ ہندوؤ ں پر گولی چلا سکتی ہے۔ امت شاہ نے کہہ دیا کہ 2011 ء سے 2013 ء کے درمیان تین برسوں میں بھیڑ کے ذریعہ قتل کے زیادہ واقعات ہوئے ہیں ۔ بات بھیڑ اور مسلمانوں کی ہے یہ نہیں ہے کہ کانگریس کی حکومت کے زمانہ میں مسلمانوں نے بھیڑ جمع کرکے ہندوؤں پر حملہ کیا اور تین سال میں ان کا زیادہ قتل ہوا۔

امت شاہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کی بھیڑ نے بی جے پی کی بھیڑ کے مقابلہ میں زیادہ مسلمانوں کو مارا اور وہ صفائی دے رہے ہیں کہ ہماری پارٹی کے مقابلہ میں کانگریس نے زیادہ ظلم کیا لیکن یہ تسلیم کررہے ہیں کہ یہ برا کیا اور غلط کیا۔ تو کیا امت شاہ کی پارٹی کی حکومت ہر وہ کام کرے گی جو کانگریس کرتی رہی چاہے وہ گوشت کھانے کا مقابلہ ہو؟ کہ کھائیں گے اور شوق سے کھائیں گے مگر کہیں گے یہ کہ ہم سے زیادہ کانگریس نے کھایا۔ مسلمانوں کو کوئی شوق نہیں ہے کہ وہ کانگریس کی صفائی دیں ہمارے نزدیک دونوں پاپی ہیں اور ہمیں اس سے کیا فرق پڑے گا کہ بڑا پاپی کون ہے اور چھوٹا کون؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ دونوں نے مسلمانو ں کا خون بہایا ہے کانگریس کی حکومت کی عمر زیادہ تھی اس نے زیادہ بہایا اور بی جے پی کی کم تھی اس نے کم۔ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی اب اس پاپ میں اپنے کو برابر کرنا چاہ رہی ہو۔

حیرت ہے کہ اگر امت شاہ بولے تھے تو کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیو والا کو مرچیں کیوں لگیں ؟ اور وہ کیوں گاندھی جی اور ونوبا بھاوے کا نام لینے پر مودی کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ گاندھی جی کی بات بالکل الگ ہے وہ پورے ملک میں اکیلے ایسے ہندو تھے جنہیں مسلمانوں سے واقعی محبت تھی اور وہ مسلمانوں کے ہندوستان چھوڑکر جانے سے دُکھی تھے۔ رہے ونوبا جی تو وہ صرف کانگریسیوں سے جے جے کرانے کے لئے گاندھی جی کے جانشین تھے ورنہ ان کا حال تو یہ تھا کہ ہندوستان کے تین بڑے عالموں نے جو مسلمانوں میں سب سے بڑے مانے جاتے تھے ملک کی فرقہ وارانہ بدترین صورت حال پر گفتگو کرنے کے لئے ملاقات کا وقت مانگا۔ یہ نہیں بتایا کہ کیوں ؟ انہوں نے دن تاریخ اور وقت بتا دیا۔ اس وفد کے جانے سے پہلے کسی اخبار کو بھنک لگ گئی اس نے چھاپ دیا کہ مسلمانوں کے تین بہت بڑے عالم بگڑتی ہوئی حالت پر بات کرنے کے لئے ونوبا جی کے پاس آرہے ہیں ۔ ونوباجی اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ یہ علماء جب ان کے پاس پہنچے تو ان کو احترام سے لے جاکر ان کے سکریٹری نے ونوبا جی کے کمرہ میں بٹھایا اور بتایا کہ ونوباجی کا مون برت ہے وہ بول نہیں سکتے۔ آپ کو جو کہنا ہے وہ لکھ کر دے دیجئے وہ اس کا جواب بھجوا دیں گے۔

بات اگر لکھنے کی ہی ہوتی تو کیا ضرورت تھی ایک ان کے قریبی ساتھی کے ذریعہ وقت لینے کی اور کیا ضرورت تھی سفر کرنے کی؟ وفد کے بڑے عالم نے کہا کہ جب وہ برت ختم کرلیں تو کہہ دینا کہ انہوں نے سلام کہا ہے۔ اور وہ حضرات واپس آگئے۔ ونوباجی نے ایک بار بنگال کے وزیر اعلیٰ جیوتی بسو جنہیں پورا بنگال داداکہتا تھا کو لکھا کہ آپ بنگال میں گائے کاٹنا بند کرادیجئے ورنہ میں کلکتہ آکر مرن برت رکھوں گا۔ بسو دادا نے جواب دیا کہ میرے صوبہ کے مسلمان بہت غریب ہیں وہ مہنگی مچھلی خرید کر نہیں کھاسکتے۔ گائے کا گوشت اس لئے سستا ہے کہ ہندو نہیں کھاتا۔ اگر گائے کاٹنا بند کردوں گا تو غریب مسلمان بھوکے مرجائیں گے۔ میں خود ہندو ہوں اور گائے کاٹنا اچھا نہیں سمجھتا لیکن کروڑوں مسلمانوں کے لئے کاٹنا پڑتی ہے۔ آپ اگر برت کے لئے آرہے ہیں تو تشریف لائیے آپ کی ہر ضرورت کا سامان آپ کی شان کے مطابق تیار کرا دیا جائے گا اور بڑے ڈاکٹروں کی ڈیوٹی لگادی جائے گی۔ اور ونوباجی کی گائے کی محبت سب ختم ہوگئی۔

رہی یہ بات کہ مودی جی نے ان دونوں کا نام کیوں لیا تو کانگریس سے زیادہ سخت الفاظ میں ہم نے کہا ہے کہ آپ کو ان کا نام لینے کا کوئی حق نہیں اور یہ ہم بھی جانتے ہیں کہ مودی یا ان کی پارٹی گاندھی جی اور ونوباجی کی کتنی عزت کرتی ہے؟ عام آدمی پارٹی کے ایک نوجوان لیڈر کمار وشواس ہیں ۔ وہ کوی ہیں اور اروند کجریوال سے پنجہ بھی لیتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے 2014 ء میں امیٹھی میں راہول گاندھی کے خلاف الیکشن بھی لڑا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے گیتوں اور آواز سے کافی رنگ جمایا پھر راہول کی طرف سے ان کی بہن پرینکا اور بی جے پی کی اُمیدوار اسمرتی ایرانی جو خود برسوں چھوٹے پردے کی ہیروئن رہیں اُمیدوار تھیں ان کی حمایت میں مودی جی ذرا زیادہ ہی دلچسپی لینے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمار وشواس کے گیت اور آواز سب پر اوس پڑگئی اور وہ صرف ہارے نہیں ذلیل ہوکر ہارے۔ قدرتی بات ہے کہ وہ ہر مخالف کا زخم لئے بیٹھے ہیں ۔ پرینکا گاندھی نے بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کی بھیانک تصویر اور دردناک انجام پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ مجھے بے حد غصہ آتا ہے اور میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ کسی مسمان صحافی یا کسی اخبار کو تو نہیں کمار بشواس کو اس میں سیاست نظر آگئی۔ جبکہ یہ بات سونیا گاندھی اور صدر پرنب مکھرجی نے بھی کہی تھی کہ بھیڑ کے ذریعہ لوگوں کو جان سے مارنے کے واقعات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بات کو مختلف چینلوں نے اٹھا لیا اور پرینکا سے بھی معلوم کرلیا۔ اختلاف کا کالا چشمہ اتارکر ہر مسئلہ کو دیکھنا چاہئے۔ اس بات میں الیکشن کی سیاست نہیں ہے یہ صرف مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں ذہنی طور پر مر ُدہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر ناگ پور ہی ہے انہوں نے شاید یہ سمجھا ہے کہ جیسے دلت بن گئے ہیں ایسے ہی مسلمان بھی بن جائیں گے ۔ ملک کی آزادی کے بعد چالیس برس تک کانگریس کے ہندوؤں نے پورے ملک میں خون کی ہولی کھیل کر یہ دیکھ لیا کہ وہ مسلمانوں کو خوفزدہ نہیں کرسکے 2002 ء میں مودی اور امت نے جتنا ننگا ناچ دکھا سکتے تھے دکھایا لیکن یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمانوں کے پروردگار نے وزیرداخلہ ہوتے ہوئے امت شاہ کو جیل میں ڈال دیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک بے سہارا بلقیس جیسی کمزور لڑکی نے 11 ہندوؤں کو عمرقید کی سزا دلادی اور مزید کی تلاش ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پاک پروردگار اپنے سامنے سجدہ کرنے والوں اور صرف اسے وحدہٗ لاشریک ماننے والوں کا ایسا بدلہ لے کہ ہندو خودکشی بھی کرنا چاہیں تو نہ کرسکیں یا اس سے بھی بڑی سزا دے کیونکہ شہید ہونے والے صرف اور صرف اس سے فریاد کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں ۔ پرینکا گاندھی نے اپنے باپ کے قاتلوں سے جیل میں ملاقات کی یہ جاننے کے لئے کہ تم نے کیوں مارا؟ ان کا مزاج سب سے الگ ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *