اور تماشابن گیا۔۔۔۔ حسین مرزا

ہم لوگ کسی کی پریشانی دیکھ کرخوش ہونے کے عادی ہیں، وہ لوگ معاشرے میں کم ہی پائے جاتے ہیں جو نیک نیتی سے  کسی دوسرے کے مسئلے کو اپنا سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کسی کا درد بانٹتے ہیں۔ اگر کوئی دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ہمیں اپنا راز بتا بھی دے تو اسے راز رکھنے کے بجائے، سب کو بتانا اپنا فرض  سمجھتے ہیں۔ہمیں ہمیشہ اپنی عزت نفس کی تو بہت پرواہ  ہوتی ہے، مگر جب کسی کا تماشہ بن رہا ہوتا ہے تو ہم زیادہ سے زیادہ اس پر ترس  ہی کھائیں گے اور   کچھ نہیں۔

یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ اک دن میں نے اپنی استادمحترم سے سوال کیا تھا کہ، ترس کھانے اور ہمدردی کرنے میں کیا فرق ہے؟ جواب ملا۔

جب کسی کا درد بانٹا جائے اسے ہمدردی کہتے ہیں اور جب اپنے غرور کی تسکین کے لیے کسی پر احسان کیا جائے اسے ترس کھانا کہتے ہیں۔

جب ایک مائی سرعام گلی میں اپنے خاوند کو مار رہی اور بابا جی اپنے آپ کو بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے تو چھوٹے بچے میں بھی ہمت پیدا ہو گی کہ اک عمر رسیدہ شخص پر ہاتھ اٹھائے۔ پاس کھڑا نوجوان بھی اس سارے منظر کو اپنے موبائل میں محفوظ کرنے لگ گیا۔ ساتھ ہی ساتھ زور زور سے قہقہے بھی لگا رہا تھا کہ اب وہ محلے کے تمام دوستوں کو یہ  ویڈیودکھا کر اپنا نام بنائے گا۔ ہوا بھی کچھ اسی طرح سے تھا اس نے ویٹس ایپ کے گروپ میں وہ ویڈیو بھیج دی، تمام لڑکے تو  بہت لطف اندوز ہوئے مگر بابا جی کا تماشہ بن گیا۔

کسی نے یہ نہیں  سوچا  کہ کوئی  ہم پر قہقہے لگائے تو کیسا محسوس ہو گا؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اور تماشابن گیا۔۔۔۔ حسین مرزا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *