عبدالعزیز کی مونچھ کہانی۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/آخری قسط

عبدالعزیز کی مونچھ کہانی۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان /قسط اوّل

عبدالعزیز کی مو نچھ کہانی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط دوم

اقبال دیوان کی کتاب ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ سے لی گئی ایک کہانی!
کراچی کے جرائم سے جڑی دنیا سے وابستہ کچھ میمن کردارجواردو فکشن میں اتنی چمت کار کے ساتھ پہلے جلوہ گر نہیں ہوئے،ان کی ہمدردی ،رواداری اور علاقے و زبان کے تعصب سے پرے انسانی اقدار کا پاس قابل رشک و تکریم ہے۔
قارئین کی دل چسپی کے لیے یہ طویل کہانی تین اقساط میں شائع کی جائے گی۔کراچی سے باہر کے قارئین کے لیے ماحول آشنائی کے طور پر تصاویر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا

اب کے بسنت پر بھی یہ چاروں دوست، لاہور میں وہ میاں احسان کے مہمان تھے۔
رات بھر باقی تینوں لوگ یعنی حاجی جگاری، کریم مسوٹا اور ایوب مٹکا تو مجرا دیکھتے رہے مگر عزیز تانبا جلدی سوگیا۔صبح نوچندی جمعرات تھی اور وہ وہاں واقع ایک مشہور مزار پر جانا چاہتا تھا۔ اسے صاحبِ مزار سے خصوصی عقیدت تھی۔
میاں احسان کے ڈرائیور کے ساتھ جب وہ مزار کے قریب پہنچا تو پہلے ہی ایک لمبی لائین زائرین کی وہاں موجود تھی۔اس لائن کو دیکھ کر عزیز تانبا کچھ پریشان ہوا۔جانے اس کا حاضری کا نمبر کب آئے۔ اپنی اس آمد کا ایک اہم رکن پورا کرنے کے لئے وہ ایک دیگ والے کے پاس پہنچا اور بہترین باسمتی چاولوں اور زردے کی ایک دیگ کا اس نے آرڈر دیا تاکہ وہ بطور لنگر اسے بانٹ سکے۔جب تک یہ دیگ تیار ہوتی وہ وقت گزارنے کے لئے ایک ایسے حجام کے پاس جا کھڑا ہوا جو مزار کے سامنے ہی،فٹ پاتھ پر،اپنا ٹھیّا جمائے،گاہک کا بالکل ویسے ہی منتظر تھا.جیسے ہمارے عوام، امریکی ڈرون حملوں کے رک جانے کے منتظر رہتے ہیں۔

لاہور کا مزار

حجام کے پاس،اس کاکوئی دوست آیا ہوا تھا جو اس سے چائے پلانے کا مطالبہ کر رہا تھا اور حجام کہہ رہا تھا کہ کل رات سے اس نے خود بھی کچھ نہیں کھایا۔کل پورا دن کوئی گاہک نہیں آیا۔جب دوست نے تجویز پیش کی کہ وہ کسی سے ادھار لے لے، تو حجام نے ایک ایسی بات کہی جو ہماری سپریم کورٹ کے لئے بھی ان دنوں باعثِ تفکر تھی۔ وہ کہنے لگا”اوئے غریباں نوں کوئی ادھار وی نئیں دیندا۔ سارا ادھار مالدار لوکاں دے لئی ہوندا ہے۔ پھر او مڑ کے واپس وی  نئیں  کردے ،تے   اوہناں کولوں کسی نو منگن دی جرات وی نئیں ہوندی”(ابے غریبوں کو کوئی ادھار نہیں دیتا۔سارا ادھار مالدار لوگوں کو ملتا ہے۔ وہ پھر اسے لوٹاتے بھی نہیں اور ان سے کوئی مانگنے کی جرات بھی نہیں کرتا)۔آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ ہماری محب وطن اور فرض شناس عدلیہ ان دنوں 1971؁ء سے معاف کرائے قرضوں کی وصولیابیء پر اپنا چراغ نیم شب خونِ دل سے روشن کرکے بیٹھی ہے کہ کسی طرح یہ لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں آجائے۔اب عدلیہ کے سامنے تصفیہ طلب مسائل کا ایک انبار ہے۔ وہ مصروف جہاد ہے کیوں کہ بھئی ہیبت ناک اندھیروں کا پامردی سے مقابلہ کرنے کے لئے روشنی کی ایک معمولی کرن بھی انعام الہی ہے۔ پھر بھی عالم وہی ہے،جو شکیب جلالی نے بیان کیا ہے کہ ع
یہ اک ابر کا ٹکڑا،کہاں کہاں، برسے
تمام، دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

عزیزتانبا، حجام کی بھوک اور ادھار والی بات سن کر لرز گیا۔سر کے بال وہ پہلے ہی بہت چھوٹے رکھتا تھا۔ سوچنے لگا کہ وہ کیا کرے کہ اس حجام کی عزتِ نفس مجروح کئے بغیر ہی اسے  کچھ رقم دے دے۔کراچی میں جب وہ اپنی داڑھی ترشواتا اور مونچھوں کو کترواتا تو وہ کئی کئی دفعہ قینچی اور استرا ڈیٹول سے دھلواتا تھا۔ دھوبی کی دھلی ہوئی صاف چادر اس کا مخصوص نائی ایک سلیقے سے اس کے گلے کے گرد لپیٹتا تھا۔بالو کے، حاجی جگاری کے بنگلے پر آجانے کے باوجود بھی اس نے کبھی اسے یہ شرف حجامت نہیں بخشا۔

اس کے ذہن میں اس حجام کی بھوک کا سن کر ایک خیال آیا مگر اس کی گندی کرسی، میلے جراثیم آلود اوزار اور دھندلے آئینے کو دیکھ کر وہ آئندہ ممکنہ طور پر لاحق ہونے والی بیماریوں کے ہولناک خیال سے اس پر کچھ دیر کے لئے اپنے ارادے کی روشنی میں ایک کپکپی سی طاری ہوئی اس نے ایک بے چارگی سے مزار کے سبز گنبد پر نظر ڈالی اور جی کڑا کرکے حجام سے کہنے لگا “شفیع بھائی اپن کو ٹنڈ کرانی ہے”۔
شفیع حجام نے “بسم اللہ جی آیاں نو “کہا اور کرسی سیدھی کرکے اس کے سر پر پلاسٹک کی میلی بوتل سے پانی کا چھڑکاؤ کیا اور اپنے ساتھی سے کہنے لگا “اوئے طیفے جا تو چائے دا آڈر دے کر آ.۔چمڑے کی پٹی پر اس نے اپنا استرا تیز کیا اور ایک میلے سے ڈونگے میں اپنا ٹوٹا ہوا برش ڈبو کر پلاسٹک کی گندی پیالی میں رکھے صابن سے جھاگ بنا کر اس کے سر کو گنجا کرنے میں لگ گیا۔ اتنے میں چائے آگئی تو اس نے کہیں سے سنبھال کر رکھا ہوا کاغذ کا گلاس نکالا اور دو گلاسوں کی چائے انڈیل کر تین گلاس بنانے کی کوشش کرنے لگا۔عام حالات میں عزیز ایسی بدذائقہ گندی چائے اس طرح کے ماحول میں اور ایسے گندے برتنوں میں ہرگز نہ پیتا مگر آج عزیز کسی اور ہی کیفیت میں تھا۔

چائے کی پہلی سڑکی اس نے بھی ان کی طرح ہی باآواز بلند   لی۔۔۔اسے لگا کہ یہ چائے اس نے ان دو میلے لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ اس نے سری لنکا کے ٹی بورڈ کی تصدیق شدہ اکبر کی پریمیم برانڈ والی چائے روزنتھال کے فائن بون چائنا کے کپ میں کولمبو کے ماؤنٹ لیونا ہوٹل کے ٹریس پر بیٹھ کر مشہور بھارتی اداکارہ جو اسے بہت پسند تھی یعنی پریانکا چوپڑہ کے ساتھ پی ہے۔ جب باہر والا برتن لینے آیا تو عزیز نے ضد کرکے پیسے دینے کی کوشش کی مگر شفیع حجام ایک نہ مانا اس کی ضد تھی کہ وہ مہمان ہے، لہذا پیسے اس کے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب چائے والے کو اجرت دینے کی بات آئی تو شفیع نے کہا وہ ابھی اسے پیسے بھجواتا ہے۔ زمانہ سستے کا تھا۔بال کٹائی کی اجرت اس نے دس روپے طلب کی جو تانبے نے اس فوراً ادا کردی۔ تانبے کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھے۔جب شفیع حجام نے آئینہ دکھانے کی تجویز دی تو عزیز تانبا کہنے لگا” اڑے میں کونسا سلمان خان ہوں کہ گنجا ہونے سے کوئی میرے حسن پر پھرک(فرق) پڑے گا”۔

 

روزنتھال کے فائن بون چائنا کے کپ
کولمبو کا ماؤنٹ لیونا ہوٹل

گنجا ہوکر تانبا مزار کے احاطے میں لوٹ آیا۔ اپنے سر پر اس نے بے اعتباری سے کئی دفعہ ہاتھ پھرا۔حج کے  بعد اس کی زندگی میں یہ شاید تیسرا موقع تھا کہ وہ بالکل گنجا ہوگیا۔ ایک دفعہ اس کے من میں آئی کہ وہ وضو خانے کے نلکے کے نیچے سر رکھ کر باہر سے صاف صابن خرید کر سر دھولے مگر پھر اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اس کا یہ گنجا سر دیکھ کر،اس کی جُبّی ڈارلنگ کیا بولے گی۔باقی تین دوست کیا سوچیں گے؟  انہیں خیالات میں غلطاں اس نے جب مزار کے پاس آہستہ آہستہ سرکتی لائن کا جائزہ لیا تو اس کے اپنے لئے،مزار کی جالی پکڑکر دعا مانگنے کا کوئی امکان دکھائی نہ دیا۔وہ کچھ دیر وہاں کھڑا گنبد کو دیکھتا رہا اورپھر سے باہر نکل کر انہی دو دوستوں کا جائزہ لیتا رہا۔
اس نے دیکھا کہ جس صابن سے شفیع حجام نے اس کے سر پر ٹنڈ کرنے کے لئے جھاگ بنایا تھا وہ  برش ویسے کا  ویسا ہی اس کی میز پر، آئینے کے پاس رکھا تھا۔اس کی خالی کی ہوئی کرسی پر شاید کوئی اور گاہک آن کر نہیں بیٹھا تھا۔ کیوں کہ وہ چادر جیسے وہ چھوڑ کر کھڑا ہوا تھا وہ کرسی پر یوں ہی پڑی تھی۔
شفیع اور اس کا دوست اپنی غربت کے دکھڑے رو رہے تھے۔وہ دوست کہہ رہا تھا کہ  کہیں سے ہزار روپے مل جائیں تو وہ اپنی بیوی کو گاؤں بجھوادے اس کو بچہ ہونے والا ہے۔وہ دوست غالباً مالیشیا تھا اور گلہ کررہا تھا کہ آجکل لوگ مالش نہیں کراتے۔شفیع کہنے لگا کہ اب شہر میں کئی بیوٹی پارلر کھل گئے ہیں وہاں میں نے سنا ہے کہ عورتیں مالش کرتی ہیں۔جس پر دوست کہنے لگا کہ یہ کنجریاں بھی رات کو جب کسی کے پاس جاتی ہیں مالش بھی کرتی ہیں۔ہمارا گزارا تو شرابی کبابی لوگوں کی مالش سے تھا۔اب ہمارے ہی کسی بھائی بند نے ان کو مالش کرنا سکھا دیا ہے تو وہ مزے گاہک کو مفت میں مل جاتے ہیں۔

عزیز تانبے کے دل میں اس کی مجبوری سن کر خیال آیا کہ وہ اسے ہزار روپے کے ساتھ اپنا پتہ لکھ کر دے دے اور کہے کہ وہ کراچی حاجی جگاری کے پتایا ہاؤس(یہ حاجی جگاری کے بنگلے کو تھائی لینڈ کے مشہور ساحلی تفریحی مقام کی رعایت سے پتایا ہاؤس کے نام سے پکارتے تھے)پہنچ جائے تو شاید پانچ سو روپے تک اسے روز وہیں سے مل جائیں گے وہاں بہت سے بدن دریدہ لوگ آیا کرتے ہیں۔
شفیع کہنے لگا کہ وہ بھی سوچ رہا ہے کہ نائی کا کام چھوڑ کر کوئی اور کام پکڑلے۔مگر ایک تو اس سے محنت نہیں ہوتی دوسرا یہ کام اس کا دادا بھی کرتا تھا اور باپ بھی۔ اس نے زندگی میں کوئی اور کام نہیں کیا۔پھر وہ کہنے لگا کہ” اس کی سترہ سال کی بچی تہمینہ کو اس نے ایک کالج کے پروفیسر کے گھر پر ملازمہ رکھوادیا”۔ جب مالیشیئے نے پوچھا “کیوں “؟ تو وہ کہنے لگا کہ” ماں کے مرنے کے بعد نانی اسے گاؤں میں سنبھالتی تھی وہ بھی مرگئی تو وہ اسے لے آیا۔وہاں اسے ہزار روپے اور کھانا،پینا،کپڑے وغیرہ مل جاتے ہیں۔پروفیسر کی بیوی اس سے بہت کام لیتی ہے،بے عزتی بھی بہت کرتی ہے۔بیٹی کہتی ہے ابا تو نے مجھے کہاں پھنسا دیا؟؟؟۔ میں بھاگ جاؤں گی۔مگر میں سمجھاتا ہوں تو بے چاری رو دھو کر چپ ہوجاتی ہے۔اپنے ہزار روپے مجھے چپ چاپ دے دیتی ہے۔میں اس کی سامنے والے میاں صاحب کے ہاں کمیٹی ڈالتا ہوں۔کچھ پیسے جمع ہوں تو اس کا ویاہ(شادی) کردوں۔تو کوئی اچھا لڑکا ہو تو مجھے بتانا”۔

ان دونوں کی اس قدر غم انگیز باتیں سن کر عزیز تانبے نے دو تین فیصلے جلدی سے کئے۔ اور پھر سے شفیع کے پاس پہنچا کہنے لگا” یار شفیع میری بیوی کہتی ہے خالی گنجا ہونے سے چہرے پر بہت بال دکھائی دیتے ہیں تو ایسا کر میری مونچھیں مونڈ دے، شاید اس کو چین  آجائے۔یہ عورتیں سالی کسی کو چین نہیں لینے دیتی ہیں “۔شفیع اس کی بات سن کر ہنس دیا تو وہ کہنے لگا کہ ” تیر ی بیوی بھی تجھے تنگ کرتی ہے” تو شفیع کہنے لگا کہ” وہ تو دس سال ہوئے اللہ کو پیاری ہوگئی ہے”۔جس پر عزیز تانبا کہنے لگا “اڑے تو بہت سکھی انسان ہے تیرے کو کسی سے متھا کوٹ ’(جھک جھک) تو نہیں کرنی پڑتی”۔عزیز تانبا نے اس سے جھوٹ بولا کہ اس کی بیوی بھی اس کے ہمراہ فاتحہ کے لئے آئی ہے اور وہاں زنانے میں موجود ہے۔۔شفیع حجام کا دوست طیفا کہیں اِدھر ُادھر ہوگیا تھا۔

جب شفیع نے اس کے لبوں کے اوپر اسی پرانے برش سے صابن کا جھاگ بنانے کی کوشش کی تو عزیز کہنے لگا” یار ایک منٹ رک میرے کو بھوک لگ رہی ہے وہ تیرا طیفا بدمعاش کہاں ہے؟! اس کو بول چائے وغیرہ لے کر آئے”۔ عزیز کو خیال آیا کہ وہ دونوں چائے اور رات سے کھانا نہ ملنے کا ذکر کر رہے تھے اس کی ٹنڈ کرنے کی اجرت سے شاید انہوں نے چائے کی قیمت ادا کی ہو۔شفیع نے پیشکش کی وہ بتائے کہ وہ کیا ناشتہ کرے گا وہ بھاگ کر خود ہی لے آئے گا۔تانبے کی مرضی تھی کہ وہ شفیع کے دوست طیفے کو، جسکا اصل نام اسے کچھ دیر بعد اسی کی زبانی محمد طفیل معلوم ہوا،اسے بھی ناشتے میں ضرور شریک کرے۔

طیفے کو وہ جلد ہی ڈھونڈ لایا وہ کسی کے پاس بیٹھا چرس کا سو ٹا  لگا رہا تھا۔طیفے نے آن کر پوچھا کہ” باؤ جی تسی یاد کیتا دسو کی خدمت کراں؟”۔(بابو جی آپ نے یاد کیا بتائیے آپ کی میں کیا خدمت کروں)۔عزیز نے کہا کہ” یہاں قریب میں کیا ناشتہ ملتا ہے؟”۔۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگا کہ “سب کچھ ملتا ہے چائے، پاپے، حلوہ پوری، پراٹھا اور آملیٹ اور پائے اور قلچے،نان اور نہاری”۔جس پر عزیز نے انہیں آزمانے کی خاطر پوچھا کہ” وہ کیا ناشتہ کرنا چاہیں گے”۔۔۔وہ کچھ لجا کر کہنے لگے “چائے اور رس(پاپے)”اب عزیز کی باری  تھی۔وہ کہنے لگا کہ وہ جائے تین آملیٹ، پراٹھے،پائے کے تین پیالے،قلچے اور چائے لے کر آئے۔اس نے قدرے بے یقینی سے  عزیز تانبے کو دیکھا۔ کچھ موڈ ہو تو حلوہ پوری بھی لے آئے۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے پاجامے کی جیب سے ہزار روپے کا نوٹ نکال کر طیفے کو دے دیا۔

طیفا ناشتہ لے کر آیا تو شفیع نے کہا کہ” وہ بیگم صاحب کو لے جاکر کچھ ناشتہ دے کر آجائے”۔جس پر عزیز نے کہا کہ” میری بیگم کا آج نفلی روزہ ہے”۔ ان سب لوگوں نے مل جل کر رج کر ناشتہ کیا۔چپکے چپکے عزیز ان دونوں کا کن انکھیوں سے جائزہ لیتا رہا۔اسے لگا کہ ایسا ناشتہ شاید انہوں نے زندگی میں اس قدر بے فکری سے نہیں کیا۔ عزیز کو ناشتے کے دوران یہ یاد ہی نہ رہا کہ وہ جوانی سے پالی ہوئی مونچھوں سے فی الحال محروم ہوچکا ہے۔جب اس نے مونچھ منڈائی کی اجرت دینا چاہی تو شفیع انکاری ہوا مگر ناشتے میں سے طیفا کچھ روپے بچا لایا تھا۔ عزیز نے جب اسے  وہ تیس پینتیس روپے دینا چاہے تو وہ بمشکل اپنی اصلی اجرت یعنی پانچ روپے لینے پر رضامند ہوا۔

گنجے سر اور بے مونچھ عزیز، آیئنے سے نظریں چراتا ہوا،چپ چاپ کھڑا ہوگیا اور اشارے سے طیفے کو اس نے اپنے ساتھ آنے کو کہا۔مزار کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے،اس نے طیفے کو کہا کہ” اب وہ جو کچھ اس سے کہہ رہا ہے اگر وہ اس نے شفیع حجام کو بتایا تو اس سے برا کوئی نہیں ہوگا”۔طیفا کچھ پریشان ہوکر کہنے لگا” صاب جی میں مالیشیا تے ضرور آں پر کڑیاں لاکے دین دا کم نئیں  کردا “(میں مالیشیا ضرور ہوں مگر لڑکیاں سپلائی کرنے کا کام نہیں کرتا)۔

مزار کی سیڑھیوں پر عزیز کو،طیفے کی یہ بات سن کر غصہ بھی آیا اور ہنسی بھی۔اسے خیال آیا کہ اس کے اہتمام راز داری اور دریا دلی، دونوں کا طیفے مالیشیے  نے بالکل غلط مطلب نکالا ہے۔ غریب لوگوں کے پاس ایک عزت نفس ہی تو ہوتی ہے۔اس نے کہا کہ” ایسی کوئی بات نہیں یہ میرا پتہ لکھ کر دے رہا ہوں جا کسی سے پین مانگ کر لا۔ تیری بیوی کہاں رہتی ہے”۔۔۔۔طیفا مالیشیا کہنے لگا” چھتیس۔چک گلاں والا پاک پتن کے نزدیک”۔ جس پر عزیز کہنے لگا کہ” وہاں پر بھی تو کوئی بڑے پیر کا مزار ہے”تو وہ منمناتی ہوئی عقیدت مندی سے کہنے لگا “ہاں جی بابا فرید صاحب کا”۔عزیز نے پوچھا” تو نے کبھی وہاں دعا مانگی ہے تو طیفے نے کہا ہاں بیٹے کی دعا مانگی تھی، روزی کی بھی”۔یہ سن کر عزیز نے کہا “تو جا! لگتا ہے تیری دعا قبول ہوگئی ہے”۔
طیفے کے جانے کے بعد عزیز نے تشکر کی ایک نگاہ مزار کے گنبد پر ڈالی اور دھیمے سروں میں گنگنانے لگا اے مالک تیر ے بندے ہم۔ایسے ہوں ہمارے کرم، نیکی پر چلیں اور بدی سے ٹلیں۔تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم۔۔۔۔۔

اس کا سارا سسرال نعت گوئی کا بہت اچھا ذوق رکھتا تھا، اس کا سالا ایک مشہور نعت گو تھا۔خود اس کی آواز بھی جگجیت سنگھ کی طرح گرج دار تھی۔دراصل اس نے جبی بائی کو پہلی دفعہ کسی محفلِ میلاد میں لہک لہک کر نعت پڑھتے دیکھا تھا۔تب جبی بائی میٹرک میں تھی۔اگلے دن اس نے اپنی ماں کو اس کا رشتہ دے کر بھیج دیا۔مسئلہ یہ تھا کہ جبی سے بڑی دو بہنوں کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ لہذا وہاں سے اُسے انتظار کرنے کو کہا گیا۔ اس نے بہن کے ذریعے دباؤ ڈالا تو اس کے بدمزاج سسر نے منگنی کے مطالبے کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ “بریانی رات کو کھانی ہو تو صبح سے پلیٹ میں نکال کر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں “۔

فلم ‘دو آنکھیں بارہ ہاتھ’ کا یہ گیت اس گروپ کا ترانہ تھا یعنی ان کی Signature Tone۔حاجی جگاری کے ہاں جب بھی مجرا ہوتا اور ایسا وہاں ہر دوسری، تیسری رات ضرور ہوتا تھا۔ حاجی اسکے آغاز میں ایک اہتمام سے بخور جلاتا۔ اندھیرا کردیا جاتا.طوائفوں کو سمجھا دیا جاتا کہ اس دوران بالکل خاموش بیٹھنا ہے۔ جب بخور کی لپیٹیں بلند ہوتیں تو ایک اہتمام سے عزیز تانبا،بالکل اسی انداز میں جیسے لڑکیاں شادی کی تقریبات میں مہندی لایا کرتی ہیں کسی نا کسی طوائف کے جلو میں، جس کے ہاتھ میں چاندی کی ایک طشتری میں ایک شمع روشن ہوتی اس کے پیچھے چلتا ہوا ان کے ہال میں دروازے سے یہ گاتا ہوا داخل ہوتا ع
یہ اندھیرا گھنا چھارہا
تیرا انسان گھبرا رہا
ہو رہا بے خبر،کچھ نہ آتا نظر
سکھ کا سورج چھپا جارہا
ہے تیری روشنی میں جو دم
تو اماوس(اندھیری رات) کو کردے پونم(چاندنی)
جب بھی ظلموں کا ہو سامنا
تب تو ہی ہمیں تھامنا
وہ برائی کریں، ہم بھلائی بھریں
نہیں بدلے کی ہو کامنا(تمنا)
بڑھ اٹھے پیار کا ہر قدم
اور مٹے غیر کا یہ بھرم
نیکی پر چلیں اور بدی سے ٹلیں
تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم
بڑا کمزور ہے آدمی
اب بھی لاکھوں ہیں اس میں کمی
پر تو جو کھڑا ہے دیّالو بڑا
تیری کرپا سے دھرتی تھمی
دیا تو نے ہمیں جب جنم
تو ہی جھیلے گا ہم سب کے غم
نیکی پر چلیں اور بدی سے ٹلیں
تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم!

حاجی جگاری کو عزیز تانبا کا یہ آئٹم، اتنی اچھی طرح یاد تھا کہ آخری الفاظ کے ساتھ ہی  کہ ساتھ ہی وہ ہال میں لگا،فانوس روشن کردیتا تھا۔اس کے بعد وہ ہزار روپے کا نوٹ اپنے دونوں ہاتھوں کی کھلی ہتھیلیوں پر رکھتا تھا اور عزیز تانبا کو پیش کرتے ہوئے کہتا تھا “کنیز مجرے کا اجرا چاہتی ہے”۔جس پر کریم مسوٹہ وہسکی کا ہاتھ میں تھاما ہوا گلاس لہرا کر اور سگریٹ کا ایک لمبا کش لے کر زور سے کہتا تھا “ناچو اتنے زور سے ناچو کہ تمہاری ہڈیاں بھی آج رات گھنگروں کی طرح بجنے لگیں “۔

کریم مسوٹے کو اس رات بہت مشکل پیش آئی جب ملک کے ایک مشہور اسمگلر کی داشتہ کنول، جو اب اس اسمگلر سے بے گانگی اختیار کررہی تھی اور اس رات سے وہ کریم مسوٹے کی ملازمت میں داخل ہورہی تھی۔ اس نے پوچھ لیا کہ ” آپ کا دوست حاجی وہ نوٹ پیش کرتے ہوئے   کیا کہہ رہا تھا؟”۔ جس پر کریم نے کہا کہ “کنیج(کنیز)اجرا کا مجرا چاہتی ہے”۔وہ حرافہ اور اس کی برہنگی، اس کی اردو اور تلفظ، ساری رات اس جہالت پر ہنستے رہے۔

کریم نے جب حاجی کو یہ بات سنائی تو وہ بھی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگیا اور کہنے لگا “مسوٹہ کسی نے تیرا نام بالکل صحیح رکھا ہے۔ گدھیڑے(گدھے) اجرا کا مجرا نہیں، مجرے کا اجرا چاہتی ہے۔تیرے کو پتہ ہے یہ کون بولتا تھا۔ لکھنؤ کی طوائفیں جب اچھی محفلوں میں آتی تھیں تو ناچنے کے لئے اودھر میں جو چیف گیسٹ ہوتا تو اس کو بولتی تھیں اور اسکے بعد وہ اپنا آئٹم پیش کرتی تھیں “۔
کریم مسوٹا جس کی تعلیم ان سب میں کم تھی اس نے تہیہ کیا کہ اگلی دفعہ اس کی نو خیز داشتہ کنول، یہ پوچھے گی تو وہ اسے بالکل ٹھیک ٹھیک سنادے گا۔ کنول جس کے انگ انگ سے ایک لطافت بھری جنسی حیوانیت یوں ٹپکتی تھی کہ چاہے وہ کوئی لباس پہنے ہوئے ہوتی یا کوئی رنگ،بدن چیخ چیخ کر ایک ہی ترانہ گارہا ہوتا کہ
ع جلتا ہے بدن،پیاس بھڑکی ہے سرِشام سے جلتا ہے بدن۔۔۔

اس نے جب اپنا رقص شروع کرنے سے پہلے اگلی رات کریم مسوٹے سے بھری محفل  میں اس کی جانب سے مجرے کے اجرا کی درخواست کرنے کو کہا،تو مسوٹا، کنیز کا لفظ بھول گیا۔یوں بھی اس نے وہسکی کے ساتھ ایک چرس کا سگریٹ لگا لیا تھا اور اس کے ہو ش ربا لباس کو دیکھ کر اس کے اوسان کچھ خطا ہوچکے تھے۔اس کی جانب سے کہنے لگا “ماسی!(گجراتی زبان میں احتراماً کام والی ملازمہ کو ماسی یعنی خالہ کہا جاتا ہے) اجرا کا مجرا چاہتی ہے”۔ ساری محفل اس کے اس بیان پر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئی۔

طیفا چلا گیا تو مزار کے احاطے میں ایک کونے میں کھڑے ہو کر عزیز تانبے نے اپنی واسکٹ سے جو وہ بنیان کے اوپر اور کرتے کے نیچے پہنتا تھا اور جس میں خودکش بمبار کی جیکٹ کی طرح کئی جیبیں تھیں،ہاتھ ڈال کرتین ہزار روپے کے نوٹ نکالے۔اس واسکٹ کو وہ بنڈی کہتے ہیں۔اس طرح کی بنڈی، یہ سب دوست اپنے کرتے کے نیچے پہنتے تھے۔ یہ ان کا اپنی رقم محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔ انہیں اپنے ساتھ بہت نقدی رکھنے کی عادت تھی۔
کچھ لوگ چاہے کہیں بھی پہنچ جائیں زندگی کی مسابقت میں کتنی بھی کامیابی حاصل کرلیں اپنی کچھ عادتیں اور رسمیں ہرگز ترک نہیں کرتے۔ پرانے میمنوں میں بھی یہ بات تھی۔ان میں سے اکثر کو دیکھ کر آپ کے لئے یہ اندازہ کرنا ممکن نہ ہوتا کہ وہ کتنے مالدار اور کامیاب ہیں۔ کراچی کا ایک مشہور میمن سیٹھ عبدالشکور کلوڑی کروڑپتی ہونے کے باوجود ایک کرائے کے رکشہ میں گھومتا تھا۔بنک کے صدور سے وہ ملاقات کرنے جاتا تو وہی پاجامہ کرتا پہنا ہوتا۔ حتیٰ کہ سنگاپور جہاں اس کی اپنی بڑی انڈٹینگ فرم تھی وہاں بھی وہ پاجامے کرتے میں ہی جاتا۔صبح ہوتے ہی وہ رکشہ اس کے گھر پر آجاتا وہ فجر کی نماز پڑھ کر کراچی کے تمام اہم مزارات کی زیارت پر نکل جاتا۔

ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم کو جن کا نام لال بہادر شاستری(بمعنی،عالم) تھا اور جن کا انتقال 1965؁ء میں معاہدہ تاشقند کے موقع پر ہوا تھا۔ جب وہ اکیلے ہوتے تو اپنا کھانا خود بنایا کرتے تھے۔ سرکاری دورے پر برطانیہ تشریف لے گئے تو ان کے لئے خاص طور پر ایک ایسا چولہا جن میں لکڑیاں جلائی جاسکیں، وہاں ان کے مقامِ رہائش پر بنایاگیا جس پر بھارتی حکومت کے کافی پیسے خرچ ہوئے۔اسی طرح جب ایک اور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، جب کالج میں داخل ہوئے تو ان کے والد کو خدشہ ہوا کہ شہر کی ہوا کھا کر اور ہاسٹل میں رہ کر،ان کا بہاری ببوا خراب ہوجائے گا۔ لہذا والد صاحب بھی کالج میں ساتھ ہی داخل ہوئے اور ہاسٹل کے کمرے میں ان کے ساتھی بن گئے۔ دونوں نے بی۔اے کا امتحان ساتھ دیا اور پاس بھی ہوئے۔

اٹل بہاری واجپائی، لال بہادر شاستری

طیفا،کہیں سے کاغذ اور ایک بال پوائنٹ پکڑ لایا تو عزیز نے اسے حاجی جگاری کے بنگلے کا پتہ لکھ دیا اور تین ہزار روپے دے کر کہنے لگا “گھر جا۔۔بیوی کے جاپے(زچگی) کا بندوبست کر،ایک ہزار روپے سے اسے پنجیری اور طاقت کی دوائیں وغیرہ کھلانا۔ عورت جاپے میں بہت کمزور ہوجاتی ہے”۔ وہ خود اپنی جبی بائی کے لئے ایسے موقعوں پر گوند کے لڈّو،گڑ کی ربڑی اور دیگر دیسی چیزیں اپنی ماں سے پکواتا تھا۔جبی بائی ذرا موٹی ہوگئی تو اس نے ایک دن اسے ڈی وی ڈی پر اداکارہ بپاشا باسو کا فلم اومکارہ کا وہ مشہور گیت جس پر وہ بدن پھینک کر ناچی ہے کہ ع

رات بھر ڈالا نمک عشق کا۔جباں پے لاگا نمک عشق کا۔۔۔

کئی دفعہ دکھایا ۔جبی بائی نے پوچھا کہ اتنا خوبصورت بدن کیسے بنتا ہے۔تو وہ بیڈ روم میں ناچتے ہوئے گانے لگا کہ۔۔”تھوڑا ریشم لگتا ہے تھوڑا شیشہ لگتا ہے۔ ہیرے موتی جڑتے ہیں،تھوڑا سونا لگتا ہے، کلیوں کا چمن تب بنتا ہے، ایساگورا بدن تب بنتا ہے۔ او یے “O yeahجبی بائی نے جب کہا کہ وہ مجاق(مذاق) مت نہ کرے تو عزیز نے اسے بانہوں میں سمیٹتے ہوئے کہا کہ “کل سے تو بھی بپاشا باسو لگے گی”۔اگلے دن وہ ٹریڈ مل، اسٹیپر اور ایکسرسائز بائیک  لے آیا۔کچھ دنوں بعد جبی بائی،بپاشا باسو تو نہ بن سکی پر اسے کئی لوگوں نے اس کا سڈول بدن دیکھ کر کہا کہ وہ تو بالکل جوہی چاولہ لگتی ہے۔ورزش کے یہ آلات وہ خود بھی ہفتے میں دو تین دفعہ استعمال ضرور کرتا تھا۔

طیفے کو اس نے کہا کہ ” باقی ایک ہزار روپے سے وہ ریل میں یا بس میں بیٹھ کر کراچی آجائے اور اپنی جورو کو بھی لے آئے وہاں سرونٹس کوارٹرز میں اس کو رہنے اور کھانے پینے کا موقع  ملے گا اور بیوی بنگلے کی صفائی کرے گی”۔طیفا بہت دیر تک اسے اور تین ہزار کے نوٹوں کو کپکپاتے ہاتھوں میں تھام کر دیکھتا رہا،اسے یقین نہ آیا کہ ایسے بھی لوگ اس دنیا میں ہوتے ہیں۔اس نے عزیز کو ڈھیر ساری دعائیں دیں اور چپ چاپ سر جھکا کر دوسرے دروازے سے باہر نکل گیا۔

اسکے جانے کے بعد عزیز نے پھر اپنی خودکش بمبار جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پانچ ہزار روپے کا ایک کرارا نوٹ نکالا اور دوبارہ شفیع حجام کے ٹھیلے پر پہنچ گیا۔اب اس نے مصنوعی غصہ اپنے چہرے پرطاری کرکے کہا “سالے! تو نے یہ کیا میرا حلیہ  کردیا، میری بیوی غصے سے آگ اگل رہی ہے۔کہتی ہے کہ جا اس حجام کو بول یہ ڈاڑھی کیوں باقی چھوڑی اس کو بھی صاف کردے”۔
شفیع اس کے غصے سے ڈر گیا اور کہنے لگا کہ “میری بھی مرضی نہیں تھی کہ  آپ کی مونچھ مونڈتا مگر گاہک سے لڑنا ٹھیک نہیں، گاہک تو بادشاہ ہوتا ہے۔” جس پر عزیز کہنے لگا “اب یہ بھی صاف کردے۔میرا منہ کیا دیکھتا ہے۔بیوی خوش اور تو بھی خوش۔یہ میرا پتہ رکھ”۔ اس نے وہ کاغذ جس پر اس نے مزار کے احاطے میں اپنا پتہ لکھ لیا تھا۔یہ اس کے گودام کا ایڈریس تھا۔جہاں وہ صبح سے شام تک لاکھوں روپے کے سودے پلک جھپکنے میں کرتا تھا۔اب شفیع اس کے حکم پر کچھ بددلی سے اس کی ڈاڑھی مونڈھنے لگا۔ اس سے فراغت ہوئی تو عزیز کہنے لگا “تیری بیٹی کو لے کر کراچی آجا۔ میں اس کی شادی خود کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر کرادوں گا۔ شادی کا سارا خرچہ بھی میں ہی کروں گا۔میرے پاس کام کرنا۔ میرا گودام ہے تو  بس چوکیداری کرنا، مزدوری کی فکر مت کر”۔
شفیع اس کی یہ پیشکش سن کر ہکا بکا رہ گیا۔

اس دوران عزیز تانبا نے پانچ ہزار روپے کا نوٹ اسے دیا کہ وہ اپنی ڈاڑھی مونڈھنے  کی اجرت اس میں سے کاٹ لے تو وہ اور بھی پریشان ہوا۔اس نے بہت کہا “باؤ جی رہنے دیں.۔ اتنا کچھ تو ہوگیا ہے آج مگر عزیز نہ مانا”۔اس کا خدشہ دور کرنے کے لئے کہنے لگا” تو کھلا کرا۔میں بیوی کو ٹیکسی میں گھر چھوڑ کر آتا ہوں۔ ظہر کی نماز کے بعد تجھ سے میں بقایا رقم لے لوں گا۔ بھاگ مت جانا میرے پیسے لے کر۔سمجھا”شفیع نے لاکھ کہا کہ وہ واپس آن کر پیسے دے دے۔یہاں   پانچ ہزار کی ریز گاری اسے کوئی نہیں دے گا۔مگر تانبا اس کی بات سنے بغیر آگے بڑھ گیا اور مزار میں داخل ہوگیا۔

آئینہ نہ تو اس نے سر کی منڈائی پر دیکھا نہ مونچھ اور ڈاڑھی کے صفایا ہوجانے پر۔ اندر جا کر، وہ ایک طرف سب سے ہٹ کر  مزار کے سامنے کھڑا ہوگیا۔چہرے پر وہی مسکین سی کیفیت طاری کئے۔لائن اب بھی چیونٹی کی طرح رینگ رہی تھی۔اتنے میں جانے کیوں وہاں انتظام پر موجود ایک خادم،اس کی طرف لپک کر آیا اور اسے تقریباً کھینچ کر بالکل مزار کی جالی سے لگا دیا.جانے وہ کتنے دیر مزار کی جالی پکڑ کر کھڑا رہا۔سب سے بے نیاز، سب کچھ بھول بھال کر،اپنی مونچھ اور ڈاڑھی کے مونڈ جانے پر معافی کا طلب گار، گناہ گار، اشک بار۔

جب وہ شفیع حجام سے بچتا بچاتا، دوسرے دروازے سے نکلنے کی کوشش کررہا تھا ایک جٹا دھاری، داڑھی اور بالوں والا، سرخ انگارہ آنکھوں سے گھورتا ہوا بابا ملا اور چیخ کر کہنے لگا”ابے گنجے ادھر آ” ۔۔عزیز کو یقین نہ آیا کہ کوئی اس کو یوں پکارے گا۔اس نے ادھر اُدھر دیکھ کر  اپنی جانب انگلی سے اشارہ کیا تو وہ بابا غصے سے کہنے لگا “ابے گنجے تو سنتا نہیں کیا؟۔۔

اس کے منہ سے اپنا یہ نیا لقب گنجا سن کر، اس کے دل کو کچھ صدمہ ہوا۔وہ خاموشی سے اس بابے کی طرف سرک آیا۔بابے نے اسے جھنجوڑتے ہوئے اپنے کھردرے بھاری ہاتھ اس کے بے ریش چہرے پر پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔”گنجے آج تیری حاضری نہ ہوتی تو کسی کی حاضری قبول نہ ہوتی۔جا گھر جا اور خوش رہ”۔

کچھ ایسا ہی معاملہ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے ساتھ پیش آیا تھا۔حضرت فرید الدین عطّار کی کتاب “تذکرۃالاولیا” میں منقول ہے کہ آپ یعنی حضرت عبداللہ بن مبارکؒ ایک مرتبہ حج سے فارغ ہوکر حرم پاک ہی میں سوگئے۔خواب میں دیکھتے ہیں کہ دو فرشتے آئے اورایک  نے دوسرے سے پوچھا کہ ” اس سال کتنے لوگ حج پر آئے”؟
دوسرے نے جواب دیا “چھ لاکھ لوگ”۔
پہلے نے پوچھا” کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا”؟
دوسرا فرشتہ کہنے لگا” ایک کا بھی نہیں ”
یہ سن کر آپ گھبرا ئے کہ اتنے لوگوں کی تمام سفر کی تکالیف اور اخراجات،سب اکارت گئے۔ اس کے بعد دوسرا فرشتہ کہنے لگا “دمشق میں ایک موچی، علی بن موفق رہتا ہے۔وہ حج پر نہیں آیا مگر اس کا حج قبول ہوا اور باقی لوگوں کا حج، اس کی دعا کی وجہ سے قبول ہوا”۔۔۔۔یہ سن کر آپ جاگ گئے اور تقریباً ساڑھے آٹھ سو میل کا فاصلہ طے کرکے دمشق میں اس موچی کی زیارت کے لئے چل پڑے۔۔بہ ہزار دِقّت اس موچی کو تلاش کرکے ملے اور اپنا خواب اُسے سنایا اور فرشتوں نے جو کچھ اس کے بارے میں کہا تھا۔ وہ سنایا۔وہ آپ کا نام سن کر اور یہ انکشاف سُن کر غش کھا کر گرپڑا۔کچھ دیر بعد جب ہوش آیا تو آپ اس سے یہ راز جاننے پر مصر ہوئے۔وہ کہنے لگا کہ میں نے بڑی مشکل سے حج کے لئے تین  ہزار درہم جمع کئے تھے۔ حج کے لئے روانہ ہونے سے ایک دن پہلے پڑوس سے گوشت آگ پر بھوننے کی خوشبو آئی۔بیوی حاملہ تھی،خوشبو سونگھ کر اس کی بھوک مچل گئی اور بے تاب ہوگئی کہنے لگی “جا اس  سے کچھ کھانا مانگ کر لے آ۔میں گیا تو وہ پڑوسن کہنے لگی کہ “یہ گوشت آپ کے لئے حلال نہیں، بچوں کی بھوک سے مجبور ہوکر مردار پکایا ہے”۔اس کا یہ جواب سن کر میں لرز گیا۔دوڑ کر گھر گیا اور حج کے لئے جمع شدہ تین ہزار درہم کی رقم لاکر اس پڑوسن کو دے دی۔
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے اس کے ہاتھ چومے اور کہا واقعی فرشتے ٹھیک کہہ رہے  تھے۔

بہت عرصہ پہلے بابا بلھّے شاہ نے کہا تھا۔۔۔۔
جے رّب ملدا نہاتیاں،دھوتیاں   (اگر اللہ نہانے دھونے سے مل جاتا)

تے ملدا ڈڈّواں مچھیاں نوں (تو مل جاتا مینڈکوں اور مچھلیوں کو)
جے رّب ملدا، جنگل،بیلے وچ (جو رب ملتا جنگلوں بیابانوں میں)
تے ملدا،گاواں وچھیاں نوں (تو مل جاتا،گائے، بچھڑوں کو)
جے رب ملدا مندراں مسیتاں وچ (جو رب ملتا،مندروں،مسجدوں میں)

تے ملدا چم چڑکیاں نوں (تو مل جاتا چمگادڑوں اور چڑیوں کو)
بلّھے شاہ رّب اونانوں نو ملدا( بلھے شاہ رب ان کو ملتا ہے)
تے نیتاں جنہاں دیاں سچیاں نے( جن کی نیتیں سچ ہوتی ہیں)

اس بابے کی بات سن کر کچھ دیر تانبا وہیں کھڑا رہا اور کسی دوسرے دروازے سے چپ چاپ نکل گیا۔میاں احسان کے ہاں سب لوگ بدستور سو رہے تھے اس نے اپنے کمرے سے اپنا سامان کا بیگ اٹھایا اور اپنے دوستوں کو بتائے بغیر ہی سیدھا کراچی آگیا۔
بیوی اور دیگر اہل خانہ سبھی اس کا یہ نیا روپ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ حتی کہ  اس  کی تین سال کی بیٹی شمائلہ تو بار بار اس کا منہ اور گنجاسر چومتی تھی۔ اپنے پھول سے گال ہنس ہنس کر اس کی کھردری ٹنڈ پر رگڑتی تھی اوراپنی ہنسی کی کلکاریوں کے درمیان کہتی “ابّو ٹکلا(گنجا)۔۔ابو بڑا ٹکلا، بھائی چھوٹا ٹکلا”۔۔اس کا چھ ماہ کا بھائی فیصل بھی تازہ تازہ گنجا کرایا گیا تھا۔بیوی نے کہا “بالوں کا کیا ہے پھر آجائیں گے مگر اب دوبارہ،ڈاڑھی رکھی تو میں ایکسرسائز چھوڑ کر ٹُن ٹُن بن جاؤں گی”۔( ٹن ٹن ایک انتہائی فربہ اندام خاتون،اوما دیوی کھتری، کا فلمی نام تھا، جسے ہندوستان کی پہلی خاتون کامیڈین اداکارہ کہا جاتا تھا۔ جو سن پچاس کی دہائی میں فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے،اس کے ہم پلہ مرد کامیڈین گوپ، مُکری،یعقوب اور جانی واکر سمجھے جاتے تھے۔کہتے ہیں کہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں وہ فلمیں دیکھنے کی شوقین لڑکی پنجاب سے بھاگ کر مشہور موسیقار نوشاد کے گھر پہنچ گئی تھی۔ اور دھمکی دینے لگی کہ اگر اسے انہوں نے فلموں میں گانے کا موقع نہ دیا تو وہ سمندر میں چھلانگ لگا دے گی۔

ٹن ٹن،نوشاد گوپ

نوشاد صاحب کو اس طرح کے جذبات کی دیوانگی کا علم تھا۔ وہ خود بھی لکھنؤ سے اپنے شوقِ موسیقی کی وجہ سے، اپنے والد کی مخالفت سے بھاگ کر بمبئی آگئے تھے اور استاد جھنڈے خان کا اسسٹنٹ بننے سے پہلے بمبئی کے علاقے دادر کی فٹ پاتھوں پر رین بسیرا کرتے تھے۔ نوشاد صاحب نے اس سے وہ لاجواب گیت ‘ افسانہ لکھ رہی ہوں دلِ بے قرار کا، آنکھوں میں رنگ بھر کے تیرے انتظار کا’ فلم درد کے لئے گوایا۔اس کے اس گیت کو سن کر کراچی کا ایک نوجوان موہن اس کے عشق میں اس قدر بے قرار ہوا کہ بمبئی اس کے دروازے پر جابیٹھا اور اسی سے شادی کی۔

عزیز تانبا پر اپنی شیام سندری،جُبی بائی کی یہ دھمکی سن کر بالکل ویسی ہی کپکپی طاری ہوئی جیسی طیفے اور شفیع کی بھوک کا سن کر ہوئی اور اس نے وچن دے دیا کہ اگلے حج تک وہ ڈاڑھی نہیں رکھے گا۔
طیفے نے کراچی نہ آنا تھا نہ وہ آیا۔عزیز کو لگا کہ وہ شاید سمجھوتہ ایکسپریس میں غلطی سے سوار ہوکر بھارت پہنچ گیا ہے۔ شفیع حجام اور اس کی تہمینہ بیٹی البتہ دس دن بعد اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے شیر شاہ کے کباڑی بازار پہنچ گئے۔

ایک ہفتے بعد شفیع حجام کی بیٹی،تہمینہ کی شادی دھوم دھام سے رینبو میرج ہال میں عزیزتانبا کے منشی کے،ڈاکٹر بیٹے ہلال سے ہوئی۔اس بچے کو بچپن سے عزیز نے ہی تعلیم دلوائی تھی اور وہ اس کی عزت، اپنے باپ کے برابر کرتا تھا۔

وہ تہمینہ اب دو بچوں کی ماں ہے اور محمد علی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک تین کمرے کے کرائے کے فلیٹ میں رہتی ہے۔آسان چینی کھانے اور سگھڑ بہنوں کا مغلئی دسترخوان جیسی کتابوں کی مدد سے وہ کھانے بھی بہت اچھے بنانے لگی ہے۔ پڑوس کی ایک لڑکی سے اس نے ٹیوشن لے کر میٹرک کا امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کرلیا ہے اور انگریزی گو وہ روانی سے نہیں بول سکتی مگر انگریزی کے بوڑدز پڑھ اور ٹی وی پر دیکھ کر خبریں سمجھ لیتی ہے۔

اپنے بچوں کو   جب وہ اپنی نئی کلٹس کار میں چھوڑنے اور لینے اسکول جاتی ہے تو پھولوں والے اسکارف اور کوکو شینل کے بڑے سے نقلی دھوپ کے چشمے میں اداکارہ مڈونا کی جوانی لگتی ہے۔ اسے دیکھ کر یہ یقین کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے کہ وہ محض چند سال پہلے تک ایک پروفیسر کے گھر کی ہزار روپے کی ملازمہ تھی۔ جس پر اس کی بیوی اکثر و بیشتر ہاتھ بھی اٹھا لتی تھی۔کار ریورس کرنے میں اسے انہی  خواتین کی طرح مشکل پیش آتی ہے،جنہوں نے کار چلانا شادی کے بعد سیکھا۔
عزیز تانبا کی یہ مونچھ کہانی یہاں ختم ہوگئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *