تینوں رقص کرنے لگے۔۔۔۔۔ محمد اظہارالحق

سب سے پہلے یہ خبر قاضی حسین احمد نے جنرل حمید گل کو دی۔ حمید گل بھاگے بھاگے جنرل ضیاء الحق کے پاس گئے۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ضیاء الحق سے لپٹ گئے۔ ’’سر! مبارک ہو! مبارک ہو! لگتا ہے ہمارے آپ کے خواب کی تعبیر پھلنے پھولنے کو ہے۔‘‘ یہ تینوں مقدس ہستیاں ساری عمر اس متبرک کوشش میں مصروف رہیں کہ ایک تو افغانستان اور پاکستان ایک ہو جائیں‘ دوسرے دنیا بھر کے مسلمان پاکستان آ کر بس جائیں۔ ویسے تو یہ اعزاز مشرق وسطیٰ بالخصوص جزیرہ نمائے عرب کو ملنا چاہیے تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان بلاروک ٹوک وہاں جا کر بس جائیں۔ جس مسلمان کا جی چاہے آئے‘ جس کا جی چاہے جائے‘ کوئی پاسپورٹ ہو نہ ویزا نہ ہی شہریت کی دستاویزات! بلکہ یہ تینوں ابطال جلیل آرزو رکھتے تھے کہ کسی مسلمان کو کسی بھی ملک کی شہریت کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست! خدا کا ہر ملک اپنا ہی ملک ہے۔ تینوں مقدس ہستیاں یہ بھی چاہتی تھیں کہ مسلمان شمشیر بکف ہو کر نکلیں‘ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائیں‘ سمندر‘ صحرا‘ دشت وجبل‘ آن کی آن میں پار کریں اور چار دانگ عالم میں فتوحات کا پھریرا لہراتے ہوئے کرہ ارض پر چھا جائیں۔ بڑے جنرل صاحب ساری روئے زمین کے خلیفہ ہونے کا اعلان فرمائیں۔ خلق خدا ایسٹ تیمور سے لے کر سینی گال تک اور سائبیریا سے لے کر جنوبی افریقہ کے ساحل تک بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ چھوٹے جنرل صاحب نائب خلیفہ مقرر ہوں اور قاضی صاحب نفاذ دین کے چیف ایگزیکٹو تعینات کئے جائیں۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! سب سے پہلے مشرق وسطیٰ نے اور جزیرہ نمائے عرب نے اس تجویز کو رد کیا۔ جزیرہ نمائے عرب نے واشگاف الفاظ میں متنبہ کیا کہ ہمارے ہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکے گی۔ مسلمان یا غیر مسلم۔ بغیر دستاویزات کے جو آیا ہم نے اس کا بھرکس نکال دینا ہے اور یہ جو مقدس مقامات اور حج عمرے کے لیے آتے ہیں‘ ان پر بھی اسی پالیسی کا اطلاق ہو گا بلکہ زیادہ سختی کے ساتھ اطلاق ہوگا۔ دوسرے ملکوں نے بھی اس ہزارہا سالہ پرانی صورت حال کو دوبارہ رائج کرنے سے معذرت کرلی۔ تھک ہار کر تینوں متبرک شخصیات نے فیصلہ کیا کہ دنیا کو چھوڑیں اور دوسرے مسلمان ملکوں کو بھی فی الحال بھول ہی جائیں۔ بس سارا تجربہ اس اپنے ملک پاکستان ہی پر کریں۔ اس کے بعد چل سو چل۔ جنرل ضیاء الحق نے جنرل حمید گل اور قاضی صاحب کے ساتھ مل کر نشاۃ ثانیہ کے پھٹے پرانے بوسیدہ نقشے کو نکالا‘ اسے آٹے اور سریش سے جوڑا۔ پھر کچے رنگ لیے اور رنگ بھرنے شروع کئے۔ بارڈر مٹا دیا گیا۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو لکیر تھی‘ اسے یہ کہہ کر کہ یہ تو سانپ کے رینگنے کے نشانات ہیں‘ حذف کردی گئی۔ راستہ کھل گیا۔ پاسپورٹ کی ضرورت تھی نہ ویزے کی۔ قبائلی علاقوں کو نشاۃ ثانیہ کا پہلا ٹارگٹ بنایا گیا۔ مصر سے اور عرب سے اور کویت سے اور الجزائر اور مراکش سے اور لیبیا اور تیونس سے اور چیچنیا سے مجاہدوں کے لشکروں کے لشکر آئے اور آباد ہوتے چلے گئے۔ ان کے پاس بندوقیں تھیں اور گولے اور بارود اور راکٹ اور کلاشنکوفیں اور گرینڈ۔ انہوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور مختلف حصوں اور مختلف پہاڑوں پر اپنی اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ قاضی صاحب اخبارات میں مضامین لکھ کر اس زمانے کے کارنامے گنوائے کرتے تھے۔ ملک کے اندر رہنے والے پاکستانیوں کے مسائل انہیں حقیر اور بے بضاعت نظر آتے تھے بلکہ نظر آتے ہی نہیں تھے۔ ان کے سامنے تو عالم اسلام کی بڑی تصویر تھی۔ چنانچہ وہ فخر سے بتایا کرتے تھے کہ فلاں شخصیت کو فلاں جگہ چھپایا اور فلاں کو فلاں مکان میں خفیہ رکھا۔ ریاست کی دھجیاں اڑ گئیں۔ پاکستانی ویزا کی وہ بے حرمتی ہوئی کہ الامان والحفیظ۔ غیر ملکی پورے ملک میں پھیل گئے۔ یہ غیر ملکی ایران گئے تو انہیں کیمپوں میں محصور رکھا گیا مگر بڑے جنرل صاحب فیاض تھے۔ اپنے گھر سے نہیں‘ ساری فیاضی ریاست کے بل بوتے پر تھی۔ غیر ملکی جو افغان بارڈر پامال کر کے آتے گئے‘ انہیں پھیلایا جاتا رہا۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار قبضے میں لے لیا۔ ٹرک ان کے‘ دکانیں ان کی‘ مارکیٹوں کی مارکیٹیں اپنے نام کرالیں۔ اکا دکا مقامی ہوتا تو اسے بھگا دیا جاتا۔ مقامی دکاندار لاہور میں قتل ہوا‘ اٹک میں قتل ہوا‘ کراچی پر وہ چھا گئے۔ گلگت سے لے کر گوادر تک پاکستان‘ پاکستان کم اور افغانستان زیادہ ہو گیا۔ تینوں متبرک شخصیات یہ سب دیکھتیں تو پھولے نہ سماتیں۔ پھر اس ملک نے وہ دن بھی دیکھا کہ معلوم ہوا نادرہ جیسے حساس ادارے میں یہ غیر ملکی ملازمت کر رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں شاید پاکستان واحد ملک ہے جہاں حساس ترین اداروں میں غیر ملکی کام کر رہے ہیں۔ عزائم تو ان اصحاب ثلاثہ کے بہت بلند تھے۔ یہ چاہتے تھے کہ پاکستانیوں کو دھکیل کر بحر ہند میں ڈبو دیا جائے۔ یوں غیر ملکی مہمانوں کے لیے خوشگوار ماحول مہیا کیا جا سکے گا۔ پاکستان کا صدر قندھار سے تو وزیراعظم خوست سے ہو۔ نادرہ کا دفتر جلال آباد لے جایا جائے تاکہ ’’فاتح جلال آباد‘‘ اسے وہاں اپنے نام نامی اسم گرامی سے موصول کرسکیں۔ بس چلتا تو کسی ہرائی یا بدخشانی کو افواج کا سپہ سالار مقرر کر دیتے۔ اسمبلی کا اجلاس غور میں منعقد ہوا کرتا۔ سینٹ کا ہیڈ کوارٹر غزنی میں ہوتا۔ لاہور کا نام افغان نگر رکھا جاتا اور کراچی تو افغان پورہ ہو ہی چکا تھا۔ مگر ان تینوں مقدس متبرک صالح شخصیات کے خواب خواب ہی رہے۔ ان کے ساتھ وہی حادثہ پیش آیا جو تیمور کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اس نے چین فتح کرنے کی ٹھانی تھی۔ چل پڑا۔ سیر دریا کے کنارے فاراب کے مقام پر وفات پا گیا۔ یہ تینوں شخصیات بھی افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے میں مکمل ضم کرنے سے پہلے ہی دنیا سے کوچ کرگئیں۔ تاہم میراث جاری رہی۔ افغانی پاکستان ہی میں رہے۔ آئے دن حکومت فیصلہ کرتی کہ انہیں واپس بھیجا جائے گا۔ ادھر عالم برزخ میں یہ خبر پہنچتی تو تینوں دھاڑیں مار مار کر روتے۔ ایک دوسرے کو گلے لگاتے‘ بھینچ بھینچ کر ملتے اور آہ و زاری کرتے۔ کچھ افغان جاتے۔ کچھ نہ جاتے۔ جو جاتے ان میں سے بہت سے پھر لوٹ آتے۔ اور پھر یہ مبارک خبر ملی۔ الحمدللہ! الحمدللہ۔ سبحان اللہ۔ سبحان اللہ۔ غنچہ آرزو کھلنے لگا۔ باد بہاری چلنے گی۔ سب سے پہلے یہ خبر قاضی صاحب نے جنرل حمید گل کو دی۔ حمید گل بھاگے بھاگے جنرل ضیاء الحق کے پاس گئے۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ضیاء الحق سے لپٹ گئے۔ ’’سر مبارک ہو‘ مبارک ہو۔‘‘ پھر منت کی گئی کہ جشن منانے دیا جائے۔ انہیں سمجھایا گیا کہ تمہارے ہم وطن پاکستانی پانی کی کمی کا شکار ہیں اور بہت سے مسائل ہیں۔ تعلیم‘ گرانی‘ بیرونی قرضے‘ زرعی اصلاحات‘ بچوں کی بڑھتی ہوئی شرح اموات‘ دہشت گردی‘ تم کس برتے پر جشن منانا چاہتے ہو۔ تینوں نے سمجھایا کہ پاکستانیوں کے یہ سارے مسائل چھوٹے چھوٹے ہیں۔ اصل مسئلہ نشاۃ ثانیہ ہے اور افغانستان اور پاکستان کی یکجائی ہے۔ باغ میں قالین بچھ گئیں۔ روشنی کے ہنڈولے نصب ہو گئے۔ درختوں پر روشنیوں کے ہار لٹکا دیئے گئے۔ غالیچوں پر گائو تکیے رکھے گئے۔ اگر بتیوں کی اور عطریات کی اور پھولوں کی خوشبو سارے علاقے میں پھیل گئی۔ میوئوں کے انبار لگ گئے۔ مٹھائیاں ٹنوں کے حساب سے آئیں۔ ایک ایک پودے کو پانی کے بجائے عرق گلاب سے سینچا گیا۔ اعلان بڑے جنرل صاحب نے خود کیا ’’افغان شہری علی احمد کہزاد حلقہ پی بی 26 سے کامیاب ہو کر بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب ہو گیا ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ۔ ہمارے خواب کی تعبیر کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔ یہ آغاز ہے۔ ہم مر گئے مگر ہماری میراث زندہ ہے۔ وہ دن دور نہیں جب اسمبلیوں میں افغانوں کی اکثریت ہو گی۔ وہی حکمران ہوں گے۔ نادرہ اور الیکشن کمیشن والوں کے مذموم ارادے ہیں کہ یہ انتخاب منسوخ کیا جائے مگر یہ ناپاک ادارے پورے نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی زندہ باد۔ افغانوں کی پاکستانی شہریت‘ لے کے رہیں گے‘ لے کے رہیں گے۔ تینوں باغ میں رقص کرنے لگے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *