عمران خان کی خارجہ پالیسی۔۔۔۔ثاقب اکبر/قسط2

جیسا کہ ہم گذشتہ سطور میں لکھ چکے ہیں کہ 25 جولائی 2018ء کو پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے، جن میں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری اور یہ امکان پہلے روز ہی پیدا ہوگیا کہ اس پارٹی کے چیئرمین عمران خان پاکستان کے مستقبل کے وزیراعظم ہوں گے۔ اگلے روز 26 جولائی کی شام کو عمران خان نے ایک مختصر خطاب کیا، جسے عالمی سطح پر ان کی ”وکٹری سپیچ“ (Victory Speech) قرار دیا گیا۔ اسے انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کا پہلا اور غیر سرکاری خطاب بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطاب ہمارے نقطہ نظر سے آئندہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اس خطاب میں انہوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہت بنیادی باتیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں چند پہلوﺅں پر ہم گذشتہ نشست میں اظہار خیال کرچکے ہیں۔ سطور ذیل میں امریکہ کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر اور دوسری طرف امریکی ردعمل کا ذکر کریں گے۔
امریکہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ کے ساتھ تعلقات یکطرفہ ہیں، جس سے بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ہوگی کہ وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مفادات پر مبنی سنجیدہ اور باوقار تعلقات قائم کریں۔ امریکہ کی یہ سوچ ہے کہ پاکستان اس سے امداد حاصل کرتا ہے، اس لئے وہ اس پر ایسے کاموں کے لئے دباﺅ ڈالتا ہے، جو کہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کی ایک بڑی کامیابی اور عمران خان کی وکٹری سپیچ کے بعد امریکہ نے پاکستان کی نئی حکومت سے مکمل تعاون کے ساتھ خطے میں امن و خوشحالی کے لئے مشترکہ کاوشیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں امریکہ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مباکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ خطے میں امن و خوشحالی کے لئے دونوں ممالک مشترکہ کردار ادا کریں گے۔
دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ نے آئی ایم ایف کو انتباہ کیا ہے کہ پاکستان کے لئے بیل آﺅٹ پیکیج کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے سی این بی سی ٹیلی ویژن کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ آئی ایم ایف کو چینی قرض ادا کرنے کے لئے پاکستان کی نئی حکومت کو فنڈ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے متوقع نئے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بات چیت کرنے کا خواہشمند ہے، لیکن چینی قرض ادا کرنے کے لئے پاکستان کو بیل آﺅٹ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیﺅ نے کہا کہ کوئی غلطی نہ کریں۔ ہم لوگ آئی ایم ایف پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وہ کیا کرتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے متوقع نئے وزیر خزانہ اسد عمر اس امر کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نئی آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئے گی۔
بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان اپنے کرنسی کے بحران سے نکلنے کی جدوجہد میں ہے، جو کہ نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور تاجروں کا خیال ہے کہ پانچ سال کے اندر پاکستان کو دوسری بار بیل آﺅٹ کی ضرورت ہوگی، تاکہ بیرونی مالی خلیج پر پلگ لگایا جاسکے۔ پاکستان پہلے سے ہی اپنے اہم بنیادی ڈھانچوں کے سبب چین سے پانچ ارب ڈالر کا قرض لے چکا ہے اور اس نے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو اعتدال پر لانے کے لئے مزید ایک ارب ڈالر قرض کی خواہش کی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 57 ارب ڈالر کے پاک چین راہ داری منصوبے کے لئے بڑے پیمانے پر چینی مشینیں اور سامان برآمد کئے گئے ہیں، جس سے پاکستان کے مالی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے دھمکی آمیز بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے معروف اور سینیئر صحافی نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ عمران خان صاحب نے ابھی وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا ہے، مگر امریکہ پاکستان کو اپنے کھانے کے دانت دکھانا شروع ہوگیا ہے۔ اپنے تجزیے میں وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ آئی ایم ایف اگرچہ فقط رجوع کرنے سے ہی کسی ملک کی مدد کرے کو تیار نہیں ہوتا، چند شرائط عائد کرتا ہے۔ بسا اوقات یہ شرائط معاشی میدان تک ہی محدود نہیں ہوتیں۔ کچھ ایسے اقدامات بھی اٹھانا ہوتے ہیں، جو عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے والے امریکہ جیسے ممالک کی اسٹرٹیجک ترجیحات کے حصول کو آسان بنائیں۔ پاکستان کے بارے میں ان ممالک کی ترجیحات بیان کرنے کی شاید ضرورت نہیں۔ بس اتنا یاد رکھنا کافی ہے کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے اور وہاں امریکہ اور اس کے حلیف سترہ برسوں سے طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نصرت جاوید کے نزدیک امریکہ کی ناراضگی کی ایک وجہ سی پیک بھی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ پاکستانیوں پر ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ ان کی معیشت پر اصل بوجھ چین کے ساتھ چلائے سی پیک کی وجہ سے ناقابل برداشت ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمارے مسائل خالصتاً ان درآمدات کی وجہ سے بڑھے ہیں، جو سی پیک کے تحت بنائے منصوبوں کو چالو کرنے کے لئے بھاری مشینری کی صورت پاکستان میں لائی اور لگائی گئی ہیں۔ ایک اور سینیئر صحافی عظیم ایم میاں نے لکھا ہے کہ ابھی عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا اور نہ ہی وزیر خزانہ مقرر کیا ہے کہ بیرونی دنیا کی جانب سے پاکستان کو درپیش چیلنجوں اور خطرات نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بھی یہ بات امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے پس منظر میں لکھی ہے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس وقت جبکہ پاکستان میں نئی حکومت ابھی تشکیل نہیں پائی، امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کا آغاز اس پیمانے پر ہوگیا ہے۔ پاکستان میں تجارتی خسارہ جس سطح پر آپہنچا ہے، کسی ہنگامی امداد کے بغیر پاکستان کی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اسی پس منظر میں پی ٹی آئی کے راہنما اسد عمر نے آئی ایم ایف سے بیل آﺅٹ لینے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ کے آئی ایم ایف میں سترہ فیصد حصص ہیں۔ امریکی تائید کے بغیر آئی ایم ایف کسی صورت پاکستان کو یہ پیکیج نہیں دے گا، اس سلسلے میں امریکہ سے مذاکرات کرنا پڑیں گے تو معاملہ فقط معاشی حدود پر نہیں رکے گا۔ عمران خان نے امریکہ کی نظر میں اپنی وکٹری سپیچ میں برابری کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرکے پہلی گستاخی کی ہے۔ امریکہ کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے کہ پاکستان جیسا بظاہر معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ملک امریکہ کے ساتھ برابری کی بات کرے۔
امریکا کی تلخی عمران خان سے پہلے کی ہے، جب ابھی شاید انتخابات میں اس کی کامیابی کو یقینی نہ سمجھا جا رہا ہو۔ چنانچہ جنوری 2018ء کے آغاز میں پاکستان کے مختلف اخبارات میں عمران خان کا ایک بیان شائع ہوا۔ روزنامہ جنگ نے اس کی سرخی یوں لگائی”امریکہ نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا۔“ خبر کی تفصیل میں روزنامہ جنگ میں لکھا گیا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ شروع سے ہی نام نہاد امریکی وار آن ٹیرر کا حصہ بننے کی مخالفت کر رہے تھے، افغانستان پر ناکامیوں پر امریکہ نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا۔ ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی نام نہاد وار آن ٹیرر سے ستر ہزار افراد مارے گئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معیشت کا 100 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا 9/11 سے کوئی تعلق نہ تھا، پھر بھی نقصان اٹھایا۔ ٹرمپ امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار اب پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ افغانستان میں ناکامیوں پر امریکہ نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا۔ افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجی دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ امریکہ نے اپنی شکست کا الزام پاکستان پر لگا کر ہمیں بدنام کیا۔
اس طرح کے بیانات ماضی میں پی ٹی آئی کے دیگر قائدین کی طرف سے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اب جبکہ ماضی کے حکمران پاکستانی قوم کا بال بال گروی رکھ کر چلے گئے ہیں اور پاکستان کی معیشت تاریخ کے ہولناک گرداب میں ہے، امریکہ نے مناسب سمجھا ہے کہ وہ پاکستان پر دباﺅ ڈال کر اپنے استعماری مقاصد حاصل کرے۔ وہ ماضی میں بھی اسی طرح دباﺅ ڈال کر مختلف حکمرانوں سے اپنی مرضی کے کام کرواتا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان خطے میں ایک بدلی ہوئی صورتحال سے دوچار ہے۔ امریکہ کی دھمکیوں، کہہ مکرنیوں اور ڈو مور کی گردان نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ متبادل راستے تلاش کرے۔ چنانچہ اس نے چین، روس، ایران اور افغانستان وغیرہ کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو توسیع دینے کے لئے متعدد نئے اقدامات کئے ہیں۔ امریکہ کی ان اقدامات پر گہری نظر ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان پر دباﺅ ڈال کر آج بھی وہ اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ نئی آنے والی حکومت جسے تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن کا بھی سامنا ہے، وہ ملک کو اس گرداب سے کس طرح سے نکالے گی۔ وہ قوتیں جو آج تک امریکی مفادات کی آلہ کار رہی ہیں، کسی طرح سے بھی اس حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گی۔ انہوں نے پہلے ہی سر جوڑ لئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ بھی واضح ہو جائے کہ پاکستان کے حقیقی دوست کون ہیں اور دشمن کون۔ شاید اب ضروری ہوگیا ہے کہ سارے حقائق پاکستانی عوام کے سامنے رکھ دیئے جائیں اور عوام سے پوچھا جائے کہ آپ کو غلامی قبول ہے یا آزادی چاہیے۔ اگر وہ آزادی کی طلب اور تڑپ رکھتے ہوں تو انہیں بتانا پڑے گا کہ انہیں اس کی کیا قیمت ادا کرنا ہے۔ انتخاب کے بعد شاید پاکستان کو اب انقلاب سے گزرنا ہے۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ ان کے اس لاجواب شعر میں حسب حال کچھ تبدیلی کے ساتھ ملاحظہ کیجیے:
منیر مجھ کو تو اک سمندر کا سامنا تھا
میں ایک ندی کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بشکریہ اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *