• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا دہشت گرد، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ سمجھ دار ہیں؟!

کیا دہشت گرد، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ سمجھ دار ہیں؟!

شہاب عمر۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران امن و امان کی مجموعی صورت حال گمبھیر رہی ہے۔ دو ہزار پانچ سے سترہ کے دوران بم دھماکوں، خود کش حملوں، ٹارگٹ کلنگ سمیت جرائم اور دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، ایف سی، لیویز سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل بنی۔ ان میں چند ایسے بھی خوف ناک دھماکے شامل ہیں، جو ایک ساتھ کئی زندگیوں کے چراغ گل کر چکے ہیں۔ یہ تمام واقعات لواحقین کو نہ ختم ہونے والا درد دے چکے ہیں۔

یقیناً پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے دیگر مختلف اداروں نے صوبے میں کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ کئی بار صوبوں کو بڑی تباہی سے بچایا ہے، الحمدللہ۔ اس میں کوئی شک نہیں، لیکن زمینی حقائق اور صوبے میں بد امنی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اب بھی ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اتنے بڑے بڑے واقعات پیش آنے کے باوجود ہم اب بھی اس قابل نہیں کہ حالات خراب کرنے والوں سے ایک قدم آگے کا سوچ سکیں اور روک سکیں، کیوں کہ حالات خراب کرنے والے ہمیشہ ایک قدم آگے کا سوچ رہے ہیں اور ہم پیچھے پیچھے۔

اس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
سانحہ پولیس ٹریننگ سنٹر کوئٹہ کا واقعہ پیش آیا جس میں پچاس سے زائد پولیس کے جوان شہید ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد پی ٹی سی میں باؤنڈری وال تعمیر کی جاتی ہے۔ سول اسپتال کے احاطے میں خود کش حملہ ہوا، جس میں پچپن وکلا سمیت ستر سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد اسپتال کی سکیورٹی سخت کر دی جاتی ہے۔ ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد میں خود کش حملوں اور دھماکوں کے بعد شہر کے دونوں علاقوں میں خارجی اور داخلی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کر دی جاتی ہیں اور ہر آنے جانے والے کی تلاشی لی جاتی ہے۔ خضدار کے نواحی علاقے شاہ نورانی درگاہ پر خود کش حملے اور بچاس سے زائد زائرین کی موت کے بعد سکیورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔

اسی طرح کوئٹہ شہر میں پولیس کی گشتی موبائل ٹیموں پر کئی بار حملوں اور کئی اہلکاروں کی شہادت کے بعد کہیں جا کر پولیس کو ہوش آتا ہے اور پولیس موبائل کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل پر سوار اہلکار کور اپ کے لیے لگا دیا جاتا ہے۔باچا خان چوک پر اور سٹی تھانہ کے سامنے دھماکوں کے بعد سے مذکورہ مقامات سے غیر ضروری پارکنگ ختم کر دی جاتی ہے۔ ایران جانے اور واپس آنے والے زائرین پر متعدد بار بم دھماکوں اور حملوں کے بعد ان کا سکیورٹی پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔ ادھر پشاور میں سکول اور یونیورسٹی پر حملوں کے بعد بلوچستان حکومت کو سکولوں کی سکیورٹی کا خیال آتا ہے اور صوبے خاص طور پر کوئٹہ شہر کے تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں میں مؤثر سکیورٹی کے احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، کوئٹہ میں سکیورٹی حکام کے گھروں پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے بعد حساس مقامات، گھروں اور دفاتر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کا خیال آتا ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ کوئٹہ شہر سے چینی باشندں کے اغوا کے بعد چینی اور دیگر غیر ملکیوں کا ڈیٹا مرتب کرنے کا خیال آتا ہے۔ بد امنی کے واقعات کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جاتی ہے۔ ادھر کوئٹہ ڈویژن میں ٹرینوں پر حملوں اور ریلوے ٹریک پر نصب بارودی مواد کے پھٹنے اور نقصانات کے بعد پائلٹ انجن چلایا جاتا ہے۔

ایسےاور بھی متعدد واقعات گزرے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے واقعات پیش آتے ہیں، لوگ مرتے ہیں، گھر اجڑتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، عورتیں بیوہ اور بوڑھے والدین کا واحد سہارا چھین لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سکیورٹی اقدامات یا مزید مؤثر سکیورٹی انتظامات کرنے کا خیال آتا ہے۔جب یہ تمام صورت حال سامنے آ جائے تو ذہنوں میں یہ سوال آ جاتا ہے کہ کیا دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ سمجھ دار زیادہ ہوشیار ہیں؟ جو ان سے ایک قدم آگے سوچتے ہیں، ایک قدم آگے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کرواتے ہیں۔
سو فیصد امن کے لیے ان سے آگے کا سوچنا ضروری ہے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *