حقیقی کہانی۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

دوستوں نے نئی کہانی کی فرمائش کی ـ کہ اُن کے لئے ایک کہانی لکھی جائے. مگر سوچ پریشان تھی اردگرد بہت مسائل پھیلے ہوئے تھے ـ کہ کس موضوع پر کہانی لکھی جائے. سوچ محو پرواز تھی کہ ایک دوست نے مسئلہ ہی حل کردیا کہ موجودہ حالات کے تناظر پر کہانی لکھو, تو مزہ آجائے.. تھوڑا سوچا ـ کاغذ قلم اُٹھایا تو کہانی کے تانے بننے لگے اور لفظ کاغذ پر بیٹھنے لگ گئےـ ،کہانی کاغذ پر نمودار ہوتی گئی

کہانی ایک جاگیر دار کے ہاں گھومتی تھی جس کے بیٹے نے ایک معصوم بچی کو اغوا ء کرکے اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا ـ اس کی ننھی ننھی کلائیاں تک کاٹ ڈالی تھیں ـ ظالم نے معصوم کے نازک اعضا کو مجروح کرتے ہوئے انسانیت کی تذلیل کی ـ اور پھر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا ـ معصوم بچی کی لاش کچھ دن بعد برآمد ہوئی ـ سوشل میڈیا سے بات نکل کر میڈیا تک گئی ـ پولیس پر دباؤ آیا انہوں نے تفتیش کا دائرہ بڑھایا، تو بات جاگیردار کے کانوں تک پہنچ گئی ـ جاگیر دار پریشانی کا شکار ہوگیا کہ اب تو بیٹے تک پولیس پہنچ جائے گی ـ گرفتاری ابھی یقینی ہے ـ ثبوت نہیں تھے ـ ڈی این اے پر بھروسہ کون کرتا ہے ـ جاگیردار نے جاگیرادارنہ سوچ اپناتے ہوئے اپنے بیٹے کو بچاتے ہوئے اپنے ایک ملازم کو پیش کردیا اور ساتھ میں یہ لالچ دیا  کہ تیری گرفتاری سے تیرے خاندان کی زندگی اور تیرا قر ض ختم ہوجائے گا،ـ ملازم نے اپنے بچوں اور خاندان کے لئے گرفتاری دے ڈالی ـاور ایسی کہانی جرم کی بیان کی کہ سب ششدر رہ گئے ـ سب کرائم سین تک پہنچ گئے کہ جیسے وہ سب اُن کے سامنے ہی ہوا ہو ـ جرم قبول ہواـ میڈیا پر بریکنگ ہوئی ـ دکانداری چلی ـ جاگیردار نے مونچھوں کو تاؤ دیے، بیٹے کو شہ مل گئی کہ پھر کسی کلی کو روند دوں گا ـ انصاف کا خون کردیا گیا ـ ۔

یہاں پر کہانی کا خاتمہ ہوگیا ـ مگر جب کہانی پر نظرثانی کی تو کہانی میں جھول تھا ـ کہانی نامکمل تھی، کہانی میں تشنگی تھی ـ کہانی روایتی سی اور عام سی لگنے لگی ـ حقیقت سے قریب نہیں تھی ـ پھر کچھ دیر کے بعد دوبارہ قلم اور ڈائری لی کہانی میں تبدیلی کردی ـ کردار تبدیل کر دئیےـ جاگیرار کی جگہ وزیراعلی ،پولیس کی جگہ ڈی پی او قصور اور ملازم کا نام عمران رکھ لیاـ اور مقتول ننھی کلی کا نام جب زینب رکھ دیا ـ تو کہانی مکمل اور حقیقت کے قریب ہوگئی ـــ۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *