• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گمشدہ افراد، ابو علیحہ اور ولندیزی ماتا ہری ۔۔۔معاذ بن محمود

گمشدہ افراد، ابو علیحہ اور ولندیزی ماتا ہری ۔۔۔معاذ بن محمود

ابو علیحہ واپس آگیا۔ کہرام مچنا برحق تھا، سو مچا ہوا ہے۔ کوڈے کے وہ مقلدین جو علی سجاد شاہ کی غیر موجودگی میں پولی پولی ڈھولکی بجانے میں مصروف تھے، آج سیخ پا ملے۔ پوچھا تو شک یقین میں بدل گیا کہ ابو علیحہ آچکا ہے اور آتے ہی چونترے آموں کو پلپلا کرنے میں جت چکا ہے۔ 

ابو علیحہ کی واپسی پہ جو تصویر دیکھنے کو ملی اسے دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اٹھانے والے محبوب و معتوب کے لیے کیا کیا اٹھا سکتے ہیں۔ اٹھانے سے جو مطلب آپ نکال رہے ہیں وہ میرا مقصد نہیں، لیکن سوچ آپ کی بھی ٹھیک ہے۔ میری توجیہ یہ کہ اٹھانے والوں نے ستر سالہ سیاسی بابے اور اس بابے کی حمد و ثناء میں مصروف ایک فیس بکی بونے کی مشہوری کے واسطے انہیں کاندھے پر اٹھا لیا جبکہ دوسری جانب ایک فرد کو افواج کے غیر فوجی کردار پہ نکتہ چینی کو بنیاد بنا کر نو ماہ حبس بے جا میں رکھا۔ 

ناموس عمرانیت کی توہین پہ ہم پھر کبھی لکھیں گے کہ آج کل ہم وطن عزیز میں وطن عزیز کی خاطر بسلسلہ وطن عزیز کے استحکام کے سیاسی رائے عامہ کی ہمواری میں مصروف ہیں، تاہم روئے زمین سے پورا پورا بندہ اٹھانے پہ بات ضرور ہونی چاہئے کہ ہمارے خیال سے یہ ایک انتہائی اہم ادارے کے چہرے پہ ایک بدنما دھبہ ہے۔ 

بندہ کیوں اٹھایا جائے؟ اس کی ممکنہ وجوہات میں سے پہلی یہ کہ آپ قانونی طریقے سے اسے غلط ثابت کرنے کے قابل نہ ہوں۔ یعنی بولنے والا جو بول رہا ہے اور لکھنے والا جو لکھ رہا ہے آپ اس سے سڑتے تو ضرور ہوں مگر ایک آزاد عدلیہ کے سامنے غلط ثابت کرنے سے قاصر ہوں۔ ایسے میں شور مچانے والا ٹھیک ہو یا غلط ساری توجہ اسے خاموش کرانے پہ مرتکز ہوتی ہوجاتی ہے۔ ویسے تو یہ سیدھی سیدھی ایک ادارے کی نااہلی ہے اور نااہلی بری بلا ہے لیکن چونکہ زندگی خوبصورت ہے اور مجھے گمشدہ ہونا بالکل نہیں پسند لہذا ہم مان لیتے ہیں کہ یہ اداروں کی نااہلی نہیں۔ دراصل شور مچانے والے کو حق رائے دہی ہرگز حاصل نہیں یا وہ اس حق رائے زنی کو دوسروں کے سینے پہ زنجیر زنی کی طرح استعمال کرنے لگا ہوگا۔ مطلب وجہ کچھ بھی ہو، بس میں واضح کرتا چلوں کہ یہاں اداروں کا بابا اوپر ہوتا ہوگا اور کھل کر لکھنے والوں کا نیچے۔ 

بندہ اٹھانے کی ایک اور وجہ اٹھائے جانے والے کا وطن عزیز کی سلامتی کے لیے خطرہ ہونا ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی میری معلومات کے مطابق قوانین موجود ہیں۔ یعنی اگر کسی شخص کو اللہ پاک نے ایٹم بم مارکہ دماغ دے ڈالا جس سے وہ اللہ کے پراسرار بندوں کے بارے میں بک بک کرنا شروع کر دے تو یہ شخص پاکستان بھر کے لئے ایک سیکیورٹی رسک قرار پاتا ہے۔ ایسے بندے کو اچانک غائب کر دیا جانا ہی حل ہے۔ آپ کے ذہن میں کوئی اور حل ہو تو آپ ہی لکھ ڈالیں، بس اتنا خیال رکھئیے کہ سرکار کا بابا اوپر رہے، باقی اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر رہے۔ 

علی سجاد شاہ کے اغواء کے معاملے میں چند بدصورت چہرے بھی سامنے آئے۔ ایک چہرہ ولندیزی ملک کی مشہور زمانہ ڈبل ایجنٹ جسم فروش ماتا ہری کی یاد دلاتا ہے۔ ہالینڈی طوائف تو اپنے جسمانی ننگ پنے اور دوہرے جاسوس کے طور پر جانی جاتی تھی تاہم موجودہ ہالینڈی طوائف نما شخصیت ضمیر برائے رہن اور پراپیگنڈا پھیلانے پہ مزید بدنام ہوئی۔ گورائیہ کے قلم کی سیاہی ابو علیحہ کے معاملے میں اپنی ذات کا دوغلہ پن ثابت کر گئی۔ افسوس کے جو شخص خود محکمہ زراعت کے موٹے اور لمبے گنّوں کا شکار رہا وہ آخر تک ایک مخصوص پراپیگنڈا پھیلاتا رہا اور ابھی تک ڈھٹائی پہ قائم ہے۔

انہی مجاہدین کی ایک شاخ جو عام طور پر گورائے کو چوپائے سے تشبیہ دیتے نہیں تھکتے آج اسی کی بات پہ ایمان لانے کو مرے جارہے ہیں کہ علی سجاد سے بغض ہے۔ ابو علیحہ کے سامنے ان کی دال مشکل سے گلتی ہے لہذا غصہ برحق ہے۔ عوامی سطح پہ سیاسی خواتین کے کردار پہ کیچڑ اچھالنے والے یہ لوگ جب ابو علیحہ جیسے لوگوں کی تلخ زبان کی شکایت کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ہڑ کڑواہٹ کی شکایت میں مصروف ہو۔

عجیب سی بات ہے لیکن پاکستان ہے یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *