تماشائی۔۔۔۔سروش حیدر

گلی کوچوں میں کھیلی جانے والی کرکٹ پاکستانی سیاست کی طرح اصول و ضوابط سے عاری ہوتی ہے جس میں بلا آپ کا ہو تو آپ بار بار باری لے سکتے ہیں یا گیند آپکی تو آپ کرکٹ چھوڑ اسی گیند سے سب کو فٹ بال کھیلنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔
اس کرکٹ کا سب سے انوکھا کردار بارہواں کھلاڑی ہوتا ہے جو بیک وقت دونوں ٹیموں کا حصہ ہوتا ہے وہ دونوں ٹیموں کی طرف سے بیٹنگ بھی کر سکتا اور باؤلنگ بھی لیکن اسکی سب سے بڑی خاصیت جو اسے دونوں ٹیموں کے لیے   اہم بناتی  ہے وہ فیلڈنگ ہوتی ہے چلچلاتی دھوپ میں بارہویں کھلاڑی کو وہاں کھڑا کیا جاتا ہے جہاں سب  سے زیادہ گیند جاتی ہے اور وہ بیچارہ اسے اپنی اہمیت سمجھ کر جی جان سے بھاگ دوڑ کرتا ہے۔لیکن گلی محلے کی اس محنت کا نتیجہ تب سامنے آتا جب اصل میدان میں مقابلہ ہونا ہوتا اور اسی بارہویں کھلاڑی کو باہر بٹھا دیا جاتا ہے جب وہ احتجاج کرتا اس ناانصافی پر تو اسی کو میدان سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔

پاکستانی  سیاست کے سینے میں دل ہو نہ نہ سر میں دماغ ضرور ہے ن لیگ کی پیدائش سیاست میں بارہویں کھلاڑی کی طرح ہوئی۔ ن لیگ سے قبل کچھ عرصہ یہ فریضہ جماعت اسلامی نے ادا کیا لیکن 1970 کے الیکشن کے بعد سے وہ ناپسندیدہ کھلاڑیوں میں شامل ہوتے ہوتے 2018 میں آبائی حلقوں سے بھی ہار بیٹھی، 1970کے بعد کے الیکشن میں جماعت اسلامی پریشر گروپ یا صرف احتجاج کے لیے  استعمال تو ہوئی لیکن کبھی وہ بیٹنگ کیلئے نہ آسکی اس ناانصافی پر احتجاج کے بعد سے بارہویں کھلاڑی کے منصب سے انکو اتار پھینکا گیا پھر سید منور حسن کے امیر جماعت بننے اور کرکٹ میدان کے مالکوں پر کھلم کھلا گیند بلا اور تماشائیوں کو اٹھانے کے الزامات کے بعد سے تو مالکوں نے تقریبا” جماعت اسلامی کو منظر عام سے غائب کر دیا۔لیکن جماعت اسلامی کے منظم سیٹ اپ ،تنظیمی ڈھانچہ ،بے لوث خدمت اور جمہوری اقدار نے ابھی تک اسکو منظم اور قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔

ن لیگ ضیاء الحق کی گود میں پھلی پھولی پریشر گروپ سے لیکر بیٹنگ کے ایوانوں تک کندھے کے بنا انکا حال سبھی جانتے ہیں، جب بھی ن لیگ بیٹنگ سے دور ہوئی انہوں نے پاؤں پڑنے سے بھی گریز نہیں کیا لیکن بیٹنگ پر آتے ساتھ ہی انکا رویہ مالکوں اور تماشائیوں سے سوتیلی ماں جیسا رہا ،جسکا خمیازہ انہوں نے بار بار بھگتا لیکن سیانے کہہ گئے تھے کہ ” دُم سو سال میں بھی سیدھی نہیں ہوتی ” 2013 میں بھی بلا گیند سمیت میدان ن لیگ کو دے دیا گیا لیکن وہی” ڈھاک کے تین پات “مالکوں کی نہ بن پائی اور ن لیگ بیٹنگ کے ایوانوں سے طوائف سے حیا کی طرح رخصت ہوئی۔
رخصت ہونے کے پہلے جب نظر آیا کہ اگلی باری گھر سے گیند بلا لانا پڑے گا تو وہ دور کی ہانکتے ہوۓ ایک بیانیہ لیکر آئے کہ ” تماشائیوں کو عزت دو ” لیکن مالکوں کی حس کچھ اور بھانپ چکی تھی
پیپلز پارٹی کی اصل بھی وہی مالک ہیں جو انگلی پکڑ کے میدان میں لاۓ تھے لیکن مالک نوکر کے  چکر میں آدھے تماشائی میدان چھوڑ کہ جا چکے تھے
یقینا” پیپلز پارٹی کے پہلے کپتان کو یہ کریڈٹ جاتا کہ انہوں نے باقی آدھے تماشائیوں کیلئے   محنت بھی کی اور آواز بھی اٹھائی اور مالکوں کی ناک میں دم بھی کیے   رکھا لیکن آخر میں مالک ہیلمٹ کے ساتھ سر بھی لے گئے ۔

بعد میں جی جان سے لڑنے والے جیالوں کے  کپتان نے بھی مالکوں سے جان لڑاتے لڑاتے جان ہی دے دی لہذا نئے آنے والے بھاری زرداری نے تماشائیوں کی درگت تو خوب بنائی لیکن مالکوں کے ساتھ کچھ لو دو والی پالیسی کے تحت بیٹنگ ختم کرنے کے بعد میدان کے اک کونے میں اپنا کھیل جاری رکھے ہوۓ ہیں۔کسی بھی کھیل میں تماشائی اصل طاقت ہوتے ہیں جو کھیل دیکھتے ہیں پیسہ لاتے ہیں لیکن کھیل میں یکسانیت کھیل میں تماشائیوں کی توجہ کھو دیتا ہے،ہمارے ہاں بھی نوجوان تماشائیوں کو کھیل میں رکھنے کیلئے  انکے مزاج کے مطابق پرانے کھلاڑیوں سے مزین نیا کپتان لایا گیا جس نے کھیل میں نوجوانوں کے مزاج کے مطابق نئے رنگ ڈھنگ متعارف کروائے، 1997 سے 2011 تک کپتان میچ کو اپنے بل بوتے پر جیتنے کا قائل رہا لیکن میدان کے مالک آزمانے پر راضی نہ ہوۓ کیونکہ نئے کھلاڑی کو فائنل میچ میں آزمانا کھیل کے اصولوں کے خلاف ہے۔

2011 میں اس کھلاڑی اور انکی ٹیم کو اک پریشر گروپ (جسکو کھیل کی زبان میں آپ ہوٹنگ کرنے والے بھی کہہ سکتے ہیں ) کے طور پر آزمایا گیا۔اس ٹیم نے میچ سے قبل مختلف دھنوں والے ترانے اور نعرے متعارف کرواۓ نئے نعروں ، تقریری فن ، تماشائیوں کے مزاج کے مطابق گفتگواور سب سے بڑھ کر میچ کیلئے جدید طریقوں نے نوجوانوں کی اس کھیل میں دلچسپی بڑھا دی لیکن 2013 میچ میں بڑی پچ پر کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا جس نے کپتان اور کھلاڑیوں کے لہجوں میں بے انتہا تلخی پیدا کر دی جس کی وجہ سے تماشائیوں کی آپسی رنجشوں میں اضافہ ہوا
2013 ٹیسٹ کے بعد 2018 میں میدان کپتان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر تمام ٹیموں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا جسکو ظاہر ہے کسی کھاتے میں آنا تھا نہ آیا کیونکہ ماضی میں تمام ٹیمیں کسی نہ کسی طرح مالکوں کا نمک کھا چکی تھیں۔
تماشائیوں کی بڑی تعداد کپتان کی ‘ عظیم الشان ‘ کامیابی پر خوش بھی ہے اور امیدوں کی اک لمبی فہرست ان سے باندھے بیٹھی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کپتان کب تک میچ فکسر ڈکلئیر نہیں ہوتے کیونکہ ہمارے ہاں کسی بھی کپتان کو داغدار کرنے کیلئے سب سے پہلے میچ فکسر قرار دیا جاتا ہے۔اک تماشائی کی حیثیت سے ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ کپتان جو بھی اپنی ٹیم کا یا مخالف ٹیم کا تماشائیوں کو سہولیات میسر آنی چاہئیں کیونکہ جب تماشائی کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں ہونگے تو وہ تماشہ لگنے بھی نہیں دے گا
کیونکہ میدان نہ کسی مالک کا ہے اور نہ کسی کپتان کا
میدان ہے صرف ان تماشائیوں کا جو جب بھی جاگے راج صرف انہی کا ہوگا!

Avatar
سروش حیدر
اٹک سے لاہور تک کے تعلیمی سفر نے ایجوکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری تھما دی پیشے کے لحاظ سے کنسٹرکشن فیلڈ میں مکینیکل ڈیزائنر کا کام پاکستان سے قطر تک لے آیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *