عبدالعزیز کی مو نچھ کہانی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط دوم

عبدالعزیز کی مونچھ کہانی۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان /قسط اوّل

اقبال دیوان کی کتاب ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ سے لی گئی ایک کہانی!
کراچی کے جرائم سے جڑی دنیا سے وابستہ کچھ میمن کردارجواردو فکشن میں اتنی چمت کار کے ساتھ پہلے جلوہ گر نہیں ہوئے،ان کی ہمدردی ،رواداری اور علاقے و زبان کے تعصب سے پرے انسانی اقدار کا پاس قابل رشک و تکریم ہے۔
قارئین کی دل چسپی کے لیے یہ طویل کہانی تین اقساط میں شائع کی جائے گی۔کراچی سے باہر کے قارئین کے لیے ماحول آشنائی کے طور پر تصاویر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا

ہم بات اپنے عزیز تانبا کی کررہے تھے۔عزیز تانبا، دین کے معاملے میں حلیے،نماز روزے کا پابندتھا، پر کاروبار میں منافع،جوئے میں شرطیں لگانے کا، حاجی جگاری کے ہاں منعقد ہونے والی محافل ِرقص و سرود میں باقاعدگی سے شرکت کی رعایت اس نے خود کو دے رکھی تھی۔ ۔ یہ سب اس کے معمولات زندگی کا حصہ تھے۔مزارات پر حاضری بھی اس کی زندگی کا لازمی جز و تھا۔
داڑھی اور مونچھ اس نے شادی سے پہلے ہی والدین کے ساتھ حج سے واپسی پر رکھ لی تھی۔ بڑی بہن نے اس کی شادی والے دن بہت ضد کی کہ وہ دلہن کی خوشنودی کی خاطر چند دنوں کے لئے یہ داڑھی مونچھ منڈوالے۔دلہن نے یہ فرمائش خصوصی طور پر اس سے اپنی بھابی یعنی عزیز کی بہن کے ذریعے پہنچائی تھی ۔ عزیز کی ہونے والی دلہن،اس کی بڑی بہن کی سب سے چھوٹی نند تھی۔ ویسے بھی عزیز اس سے عمر میں پورے نو سال بڑا تھا۔وہ چاہتی تھی کہ کم از کم شادی والے دن، وہ عمر کے اس فرق کی یوں واضح اور بے دریغ نمائش نہ کرے۔ اس کی سہیلیاں ورنہ اس کا مذاق بنائیں گی۔
عزیز نے دلہن کے اس مطالبے کو بڑی بہن کی زبانی تحمل سے سنا اور جذباتی ہوکراپنی بہن کو کہا کہ اس کو سمجھا دے کہ” اگر اس نے یہ مطالبہ آئندہ کیا تو وہ شادی ہال کے باہر سے ہی بارات واپس لے جائے گا”۔بہن اس کی اس دھمکی کو سن کر لرز کے رہ گئی۔ اسے پتہ تھا کہ میمن مرد، کبھی کبھی دھمکی دیتے ہیں اور اس کو نبھانے کی خاطر اگر جان بھی چلی جائے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ نند کو اس نے سمجھایا۔ ناچار اس نے،عزیز کے تانبا کہلانے اور اس کی چھبتی  داڑھی مونچھ سے ساری عمر کے لئے سمجھوتا کرلیا۔سہیلیاں اب بھی اس کی بیوی سے داڑھی مونچھ کے لمحاتِ رفاقت میں مرتب ہونے والے اثرات کا پوچھتی تھیں تو وہ شرما کے کہتی تھی کہ” گلاب کے فول (پھول)کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں۔ میرا تانبا، میرا گلاب کا فول ہے.”

ساری عمر،عزیز کی بیوی زبیدہ بائی، جسے محبتِ مشترکہ کے ایک غیر تحریری معاہدے کے تحت سب ہی جُبّی بائی کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ اپنے خاندان کی پہلی گریجویٹ خاتون تھی۔ان کی طرف لڑکیاں بمشکل آٹھویں نویں جماعت میں ہوتیں کہ میاں کو بالکل اسی طرح پیاری ہوجاتی تھیں جس طرح نیک لوگ اوائل عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔
اس نے عزیز پر اپنی تعلیمی قابلیت اور عزیز کی داڑھی مونچھ پر اعتراض کی صورت میں بارات واپس لے جانے والی ضد کا یہ بدلہ لیا کہ وہ اسے اپنی ساس اور عزیز کی ماں اور دیگر افراد خاندان کے سامنے بھی تانبا ہی بلاتی تھی۔ جس کا وہ سب بُرا تو مانتے مگر رسماً چپ رہتے تھے۔ جب دبے الفاظ میں جبی بائی کی بھابی اور عزیز کی بہن نے اُسے ان کا، اور اپنا یہ اعتراض بتایا تو وہ کہنے لگی کہ” آئی ایم گریجویٹ! آئی نو ہاؤ ٹو ایڈریس مائی ہبّی”(میں گریجویٹ ہوں مجھے معلوم ہے کہ میں اپنے میاں کو کیا کہہ کر پکاروں) جب بہن نے عزیز سے اس کے گستاخانہ جواب کی شکایت کی تو اس نے اپنی بہن کو کہا کہ” وہ نواز   شریف فیملی کی طرح، نان ایشوز کا کیوں بتنگڑ بنا لیتے ہیں “؟۔۔۔۔ عزیز تانبا کی اس شٹ اپ کال پر وہ سب یہ کہہ کر چپ ہو گئے کہ” جب اپنی مرغی ہی پرائی چھت پر انڈا دے تو پڑوسیوں سے کیا لڑنا”۔

اس کے برعکس جبی بائی کی اپنی سب سے گہری دوست زینب، جسے پیار سے سب جَینا کہتے تھے اپنے میاں کو، جسکا نام بھی عزیز ٹینڈولکر تھا(وہ بھارت کے نامور بیٹسمن کی بیٹنگ کا دیوانہ تھا اسی وجہ سے سب اسے عزیز ٹینڈولکر پکارتے تھے)

کرکٹر ٹنڈولکر

اپنے اوقاتِ وصال میں،اپنا دور کی نظر کا مائنس فور کا چشمہ بستر کے سرھانے پڑی میز پر رکھ کر اور جدہ سے عمرے کے اختتام پر خریدی گئی وکٹوریہ سیکریٹس کی جامنی بے بی ڈول نائیٹی کے تسمے، ادھر اُدھر کر کے ایک مدھم سی سسکی سے “ہاوٗ از دیٹ مائی سرتاج عزیز” پکارتی تھی۔

سرتاج عزیز

ان لمحات میں وہ بھی الفت و شہوت کا مارا، بستر کے کسی کونے سے مچل کر برآمد ہوتا اور اسے یعنی زینب عرف جینا کو بانہوں میں سمیٹ کر کہتا “میری جے نا۔۔۔کیا لینا، کیا دینا۔ دیتی ہے دل دے، بدلے میں دل کے،پیار میں سودا نہیں “۔۔۔یہ زندگی کے وہ چند نایاب لمحات ہوتے۔جب وہ اسٹاک بروکر،حدود سود و زیاں سے بالاتر ہوکر، نفع نقصان کا سوچے بغیر، کیا لینا،کیا دینا پر پیار کا سودا ڈن Doneکرتا تھا۔

شوکت عزیز کے دنوں میں سٹاک ایکسچینج کا منظر

جینا کا عزیز ٹینڈولکر سودوں کے   بھاؤ تاؤ کے وقت مارکیٹ میں بہت چیختا چلاتا تھا۔اس کے برعکس جب وہ اپنی جے نا بائی کے ساتھ، جو اسکی رفاقت کی آگ میں کارزارِ استراحت میں، بوتل سے نکلا ہوا ایک بپھرا ہوا مختلف انداز اور لہجوں میں چیختا، سسکیاں اورگھٹی گھٹی سی آہیں بھرتا ایک مادہ جن بنی، نت نئے سانچوں میں ڈھل رہی ہوتی، اس کے بستر میں گینگز آف واسے پور کے بہاری بدمعاشوں کی طرح بہت چپ چپ رہتا تھا۔پیار کے اختتام پر وہ دونوں لگ لپٹ کر سوجاتے اور جب کھڑکی سے جھانکتا چندا ہنستا ان دونوں کا مکھ چوم چوم کر، عین ان   لمحات میں،پروین شاکر کے یہ ا شعارکہیں ٖفضا میں خود ہی گنگنارہے ہوتے کہ۔۔۔۔ع
کسی شب اے میرے آشنا،مجھے یوں بھی تو نصیب ہو
نہ خیال ہو لباس کا، میرے اتنا تو قریب ہو
تیرے جسم کی گرم آنچ، میری آرزو کو وہ آگ دے
میرا جوش بھی بہک اٹھے، میرا حال بھی عجیب ہو
تیری چاشنی وجود کی، میرا سارا رس نچوڑ لے
پھر تو ہی میرا مرض ہو اور تو ہی میرا طبیب ہو

جینا بائی کا مائنس فور کا قریب رکھا چشمہ، بے چارگی سے خالی آنکھوں سے رات بھر اپنی مالکن کی بے حیائی کو تکتا رہتا اور شمع کی مانند اہلِ انجمن سے بے نیاز اپنی ہی آگ میں دھیمے دھیمے سلگتارہتا۔ باقی رہ گئی وہ مصلحتوں کی ماری جامنی نائٹی، وہ کم بخت، مہندی کی طرح دونوں کے چار پیروں تلے رات بھر پِستی رہتی۔جینا اگلے دن جب وہ یہ چشمہ لگاتی تو اسے کافی دیر تک سب کچھ دھندلا دکھائی دیتا۔

بے بی ڈول نائٹی

اس کی شکایت وہ اپنی کام والی ماسی شریفہ بائی سے کرتی تو وہ کہتی کہ “میری نانی کہتی تھی کہ رات کو سپنے ادھورے رہ جائیں تو صبح سب کچھ دھندلا دھندلا دکھائی دیتا ہے”۔ ان دونوں خواتین کو عام طور پر اور جینا کو خاص طورپر یہ پتہ نہ چلتا کہ یہ اس کے اپنے چشمے کاحسد ہے کہ جس نے رات بھر ع
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا،
کہیں ظاہر،کہیں چھپا دیکھا۔(حضرت شاہ نیازؔ)

اس عبدالعزیز دوم کی جینا بائی کے ان لمحات میں اپنے میاں کو میرے سرتاج عزیز کہنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ پاکستان کی مقتدر شخصیات سے ہٹ کر اپنے میاں کی ایک علیحدہ شناخت چاہتی  تھی۔اردو کے اخبار باقاعدگی سے پڑھنے اور اپنے میاں کے پہلو میں بیٹھ کر خبرنامہ دیکھنے کی وجہ سے وہ جانتی تھی کہ شوکت عزیز ،سرتاج عزیز نام کے لوگوں نے پاکستان کی سیاست میں بہت اودھم مچارکھا ہے۔

شوکت عزیز

اس کے ان لمحات وارفتگی میں ایک سسکی بھری آہ سے سپردگی کا ایک سبزہ پامال بنتے ہوئے اپنے میاں کو میرے سرتاج عزیز کہنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ اب تک الفاظ و القاب کے معاملے میں مینا کماری کی فلموں میں بولے جانے والے ڈائیلاگ کے طلسم میں گرفتار تھی۔

مینا کماری

اکثر جب وہ مینا کماری کی فلمیں ڈی وی ڈی پر لگا کر بیٹھی ہوتی تو   اپنے پاس  اس کے  مکالمے  نوٹ کرنے کے لئے ایک کاپی پینسل  ضرور پاس رکھتی۔جب وہ فلموں کے سین آگے پیچھے کررہی ہوتی اس کا بیٹابرھان چڑ کر کہا کرتا تھا Ma she looks manhoos. Almost like a zombie.She takes ages in moving from one door to another door in the room.۔(ماں یہ منحوس لگتی ہے۔بالکل کسی ہیولے کی طرح۔ یہ ایک عمر لگادیتی ہے ایک دروازے سے دوسرے دروازے میں جانے تک)۔اس پر جے نا بائی اسے سمجھاتی کہ فلم میں اس کا کردار منحوس عورت کا ضرور ہے مگر وہ بہت باصلاحیت فن کارہ ہے۔
برھان جدید دور کا تیز رفتہ بچہ تھا جسے اپنے باپ، عبدالعزیز دوم کی طرح ششمیتا سین کا وہ گانا ع دلبر،دلبر،ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے، بہت پسند تھا۔ جسمیں کبھی تو وہ دہلی کی ایک پرانی عمارت کی چھت پر ستون پکڑ کر ناچ رہی ہوتی ہے تو اگلے ہی سین میں سن سٹی ساؤتھ افریقہ، تو پھر اگلے ہی سین بمبئی کے علاقے گورے گاؤں ایسٹ نزد آر۔ اے کالونی کے بمبئی فلم سٹی کے اسٹوڈیو میں بنے تالاب میں نیم برہنہ غوطے لگا رہی ہوتی۔ اس کے نزدیک اگر ششمیتا سین ایک فارمولا ون میں دوڑنے والی اسپورٹس کار تھی تو مینا کماری یقینا ً اسے ایک ایسی بیل گاڑی لگتی ہوگی جس پر کوئی کسان چارہ لادے،شام کو تھکا ہارا، کھیتوں سے گھر جارہا ہو۔

ششمیتا سین
انڈین فلم،صرف تم

وہ اس کے اعتراضات کا منہ بند کرنے کے لئے اٹھ کر اپنے پرس سے باؤنٹی نکال کر دیتی اور وہ اپنا گیند بلا لے کر نیچے کمپاؤنڈ میں کھیلنے چلا جاتا۔ جینا، جب اپنی مہاجر دوستوں سے ملتی تو اپنی اردو میں یہ الفاظ و القاب شامل کرتے ہوئے بالکل ویسی ہی احتیاط کرتی تھی جیسی صدر ضیا الحق کے زمانے میں ٹی وی کی اناونسرز اپنے دوپٹے سنبھالنے میں برتا کرتی تھیں۔
عزیز تانبا اور باقی تین دوست مل کر بیٹھے ہوتے تو ایک دوسرے کے ساتھ خوب مذاق بھی کرتے تھے۔
ان کا بچپن کراچی کے علاقے،کھارادر نو آباد اور چاکیواڑہ کی گلیوں میں ساتھ گزرا تھا۔ پہلی عورت بھی انہوں نے مل جل کر کریم مسوٹے کے پہلے سودے کے پہلے منافع سے اٹھائی تھی۔ اسے وہ برقع پہنا کر لائے تھے۔

کھارا در

اتفاقاً کریم مسوٹے کی ماں سکھر کسی عزیزہ کی وفات پر گئی تھی اور باپ،لاہور اُگرائی(میمنی زبان میں ادھار کی وصولی) پر گیا ہوا تھا۔وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔اس فاحشہ کو نپئیر روڈ پر سے دو تین گلیاں دور کریم مسوٹے کے فلیٹ پر لانا ان نوگرفتگانِ ہوس کے لئے بالکل ایسا ہی تھا، جیسے ہالینڈ سے ایٹمی ہتھیاروں کے نقشے چرا کرپاکستان لانا۔
اس کے لئے ابو مٹکے نے اپنی بیمار، صاحبِ فراش ماں کا ایک برقعہ چرایا۔وہ خود یہ برقعہ پہن کر طوائف کے ساتھ کریم مسوٹے کے فلیٹ پر پہنچا۔

برقع پوش خاتون

اکیلی عورت کا اس بلڈنگ میں آنا کچھ مناسب نہ تھا،لہذا یہ دونوں ‘خواتین’ اپنے اپنے برقعوں میں چھپتی چھپاتی پہلے سے طے شدہ مقام آہ و فغاں  پر پہنچیں۔ابو مٹکے کی دبلی پتلی کمزور ماں کا برقعہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔یہ برقعہ تنگی ء داماں کی بدولت ابو مٹکے کے موٹے سے پیٹ پر لپٹ کر یوں لگ رہا تھا کہ گویا کسی عمر رسیدہ خاتون کو پیار کی سزا ایک حملِ تاخیر کی صورت میں ملی ہے۔ اس کے برعکس طوائف کے برقعہ میں اس کے بھاری بھرکم کولہوں پر جمع شدہ چربی پھنس کریوں پریشان لگ رہی تھی کہ لگتا تھا کہ نیٹو افواج طالبان کے کسی حملے کی زد میں اپنی ہیوی آرٹلری سمیت نرغے میں آگئی ہوں اور وہاں سے بچ کر بھاگ نکلنے کا کوئی امکان نہ ہو۔

کھارا در کی گلیاں

کریم مسوٹا اور حاجی جگاری پہلے ہی سے فلیٹ پر موجود تھے۔ فلیٹ کے دروازے پر یہ جتانے کے لئے کہ گھر پر کوئی نہیں ایک بڑا سا تالا باہر کنڈی میں ڈال دیا گیا تھا۔یہ تالا حاجی اپنے گھر سے لایا تھا۔پہرہ داری کا فریضہ ان کے بلیک واٹر، یعنی عزیز تانبا کو سونپا گیا یوں بقول میر تقی میرؔ ع
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میرؔ
سرِ منصور ہی کا بار آیا
عزیز تانبا بھی،کریم مسوٹے کی گلی ہی میں رہتا تھا۔بلڈنگ کے دروازے پر کھڑے تانبے کے پاس پہنچ کر برقعے میں سے ایک ہاتھ نکلا اور کریم مسوٹے کے فلیٹ پر حاجی جگاری کے توسط سے ڈالے گئے تالے کی چابی، عزیز تانبے کے محفوظ ہاتھوں سے خاموشی سے نکل کر ابو مٹکے کے پاس پہنچ گئی۔ قفل کشائی کا یہ اہتمام سب کی نظروں سے اوجھل رہا۔جب تک یہ تینوں دوست حسن کی بہار لوٹتے رہے۔عزیز تانبا۔ملکہ برطانیہ کی سرکاری رہائش گاہ، بکھنگم پیلیس کے باہر کھڑے لمبی مضحکہ خیز ٹوپی والے کوئینز گارڈQueen’s Guard کی مانند، ایستادہ،بے حرکت اور چوکنا بلڈنگ کے دروازے پر کھڑا رہا۔

بکنگھم پیلس کے باہر کھڑا گارڈ

اس دوران تین عدد خواتین آئیں جن میں سے ایک کو وہ پہچانتا تھا کہ وہ کریم مسوٹے کی رشتہ دار پھوپھی تھی۔ عزیز نے اسے بلڈنگ کے گیٹ پر ہی روک کر کہا کہ “تیسری منزل پر کریم کے گھر پر تو تالا لگے لا (لگا ہوا)ہے۔کریم میرے کو اسٹاک ایکسچینج میں ملا تھا۔ بولا تھا تو پانچ بجے تک پہنچ جا،ہم فلم میں جائیں گے۔ ابھی پونے چھ بجے سالا حرامی آیا نہیں میرا ٹائم ہروبھرو(فضول) میں خراب ہورہا ہے”۔ میمن بنیادی طور پر انتہائی چالاک اور ذہین مردوں اور سادہ لوح اور خدا سے ڈرنے والی عورتوں کی قوم ہیں۔عدنان کہا کرتا تھا کہ جنت کے دروازے کھلیں گے تو سب سے پہلے میمن اور امریکی عورتین اپنی معصومیت کی بنیاد پر داخل ہوں گی۔
اس نے عزیز تانبے کی بات کو من و عن تسلیم کیا اور بلڈنگ کے مین گیٹ سے ہی واپس لوٹ گئی۔

سن ستر کی دھائی میں جب بنکاک، ویتنام میں برسر پیکار امریکی افواج کے لئے مقامِ دل بہلاوا بنا تو اوکاڑہ کا ناہنجار مہاجر زمیندار راحیل بخاری، اکثر لوگوں سے یہ بحث کرتا پایا گیا کہ امریکن افغانستان میں کیوں آئے ہیں؟۔۔یہاں نہ تو سمندر ہے، نہ ڈالر ہیں،نہ ہر طرٖف باآسانی دستیاب  عورت ہے۔ یہاں تو صرف سرفروش ملّا ہیں، ہتھیار بندنوجوان ہیں،کسی نے ان کے لئے کہا تھا کہ افغان کو امن اس وقت اچھا لگتا ہے جب وہ جنگ کررہا ہو۔ مغل بادشاہ بابر کہا کرتا تھا کہ” کابل میں داخل ہونا آسان ہے باہر نکلنا مشکل ہے”۔اس پر عزیز تانبا جس کے ماموں جو خود بھی ایک مشہور جوہری تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اودھر جدھر پنج شیر وادی میں بدخشاں ہے۔وہاں لعل (Rubies)بہت ہے سوات میں زمرد(Emerald) بہت تھا۔ بلوچستان میں سونا، تانبا اور گیس اور  پیٹرول بہت ہے۔ بلوچستان اور افغانستان دنیا بھر  میں قیمتی معدنیات کے مرکز ہیں۔ یہ لوگ مغربی افریقہ میں روانڈا،انگولا، کانگو میں ہیروں کے لئے گئے تھے۔ادھر بھی تیل اور دوسرے منرلز(Minerals) بہت ہیں۔

ہم بات ان چار دوستوں کی کررہے تھے۔اب جب سے بنکاک میں ایڈز کے بارے انہوں نے سنا تھا، اپنے کاروبار کی ترقی کی وجہ سے کراچی میں ہی اپنا چھوٹا سا بنکاک بنا لیا تھا۔البتہ بسنت پر یہ لاہور ضرور جاتے اور رمضان میں سوائے ابو مٹکے کے، یہ سب عمرہ بھی ساتھ ہی کرتے تھے۔

گینگ آف واسع پور

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جب سنیما واحد تفریح ہوتا تھا ایک کامیڈین  گروپ تھری اسٹوجز Three Stooges بہت مشہور ہوئے تھے یہ دراصل پہلے تو تین بھائی  تھے مگر بعد میں ان میں کچھ نئے لوگ بھی شامل ہوگئے۔یہ کامیڈین گروپ بچوں بڑوں میں یکساں مقبول تھا۔اسی رعایت سے یہ چار دوست، اپنے آپ کو فور اسٹوجز کہتے تھے۔

کامیڈین گروپ، تھری اسٹوجز

عزیز تانبا کا مفتی عبد القوی جیسا متشرع حلیہ دیکھ کر  ناچ کے لئے بنگلے پر آنے والی طوائفیں شروع شروع میں بالکل مقتولہ و مرحومہ قندیل بلوچ کی طرح بہت جز بز ہوتی تھیں  پر جب وہ اسے خاموشی سے رقص کا لطف اٹھاتے اور پیسے دیتا دیکھتیں تو وہ اسے دید و شنید کا رسیا،جان کر گھل مل جاتی تھیں۔

آج حاجی جگاری نے جوئے میں بڑا کمیشن جیتا تھا۔ آج کا میچ سو فیصد بنا ہوا تھا۔لوگوں کا خیال تھا کہ جس ملک سے مقابلہ ہے وہ کمزور ٹیم ہے اور میزبان ٹیم یہ میچ ضرور جیتے گی۔سب نے اسی میزبان ٹیم پر بھاؤ لگایا تھا، مگر میزبان ٹیم ہار گئی۔جس سے جگاری اینڈ کمپنی کی چاندی ہوگئی۔پنجاب اور کراچی کے کچھ دل شکستہ اور ہارے ہوئے مہمانوں کی دل جوئی کے لئے ایک شاندار محفل مجرہ منعقد کی گئی۔مہمانوں میں سے کسی نے فرمائش کی وہ کمسن رقاصہ جو ان دنوں ماڈل بننے کی تیاریاں کر رہی تھی وہ فلم کھل نائیک کے اس مشہور زمانہ گیت ع چولی کے پیچھے کیا ہے چنری کے نیچے کیا ہے پر حاجی جگاری کے ساتھ ناچے۔میر ِمحفل کریم مسوٹے نے حکم صادر کیا کہ حاجی جگاری یہ مجرہ اسی کی طرح کا لہنگا پہن کر ناچے گا جیسا فلم میں اداکارہ نینا گپتا نے پہنا ہے۔

نینا گپتا

حاجی جگاری جس کے نقوش میں ایک مدھم سی نسوانی معصومیت،اللہ نے کسی مصلحت کے تحت اب تک برقرار رکھی تھی اس طوائف کو لے کر دونوں میک اپ کرنے اور رقص کی مناسبت سے تیار ہونے کے لئے اوپر کمرے میں چلے گئے۔

جب تک وہ تیار ہوکر رقص کے لئے نیچے آئیں۔آپ کو ایک قصہ اس گیت کے بارے میں سناتے ہیں۔ اس گیت کے لکھنے والے آنند بخشی،ہندوستانی فوج میں کپتان تھے مگر شاعری کے شوق میں فلموں میں آگئے۔ موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال جی سے ان کا گیتوں میں خوب جوڑ بنا۔ایک سے ایک ہٹ گیت ان کی جگل بندی میں لوگوں نے سنا۔

لکشمی کانت

ان کا آپس میں معاہدہ تھا کہ گیت لکھنے کے بعد آنند بخشی جی پہلے انہیں، یعنی بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے ان میوزک ڈائریکٹر صاحبان کو سنائیں گے۔تینوں میں اگر اتفاق رائے ہوگا تو اس گیت اور دھن کا ذکر ڈائریکٹر سے ہوگا۔ کھل نائیک کا یہ گیت لکھا تو آنند جی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے یہ گیت فلم کے ڈائریکٹر سو بھاش گائے کو سنا دیا۔

آنند بخشی

چولی کے پیچھے کیا ہے،چنری کے نیچے کیا ہے، دراصل ایک راجھستانی لوک گیت ہے۔جسے وہاں شادی بیاہ کے موقعے پرڈومنیاں اپنی مخصوص محفلوں میں گاتی ہیں۔ ڈائیریکٹر سو بھاش گائے جی مچل گئے اور ضد لے بیٹھے کہ کچھ بھی ہو، فلم میں یہ گیت ضرور شامل ہوگا۔

سبھاش گھئی

گجرات کے پیارے لال جی کو اس گیت پر یہ اعتراض تھا کہ اس کا مکھڑا عامیانہ ہے۔اسے اہل خانہ کے سامنے نہیں سنا جاسکتا۔جب سبھاش گائے نہ مانے تو گیت فلم میں شامل ضرور ہوا۔ اس گیت کی موسیقی بھی بہت لاجواب ہے اور اسے فلمایا بھی خوب گیا ہے۔ گلوکارہ الکا یاگنک اور ایلا ارون کو اس پر فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔گیت کے بولوں کے خلاف فحاشی کا ایک مقدمہ بھی چلا جس سے فلم کو بہت شہرت ملی، گیت کی وجہ سے فلم نے بزنس بھی بہت کیا لیکن موسیقار پیارے لال جی،آنند بخشی کی پنتیس سال پرانی دوستی سے لاتعلق ہوگئے۔
تیار ہوکر رقاصہ نازلی اور حاجی جگاری جب ہال میں آئے تو اپنے میک اپ اور گھاگھرا چولی میں حاجی جگاری بالکل اداکارہ نینا گپتا لگ رہا تھا۔ اس گیت پر ناچنے کے دوران ایک جگہ جب یہ بول آئے کہ ع
ریشم کا لہنگا میرا
لہنگا ہے، مہنگا میرا
لہنگا اٹھا کے چلوں
گھونگٹ گرا کے چلوں
کیا کیا بچا کے چلوں۔۔۔رام جی
رقاصہ نازلی نے جب لہنگا اٹھایا تو اس نے تو نیچے تنگ سی پاجامہ نما سائیکلنگ شارٹس پہنی تھیں پر اس کی تقلید میں حاجی نے جب لہنگا بلند کیا تو نیچے کچھ نہ تھا۔

سائیکلنگ شارٹس

جس پر ملا جلا شور ہوا۔ اس کی اس حرکت پر   مسوٹے نے اس پر جرمانہ نمبر دو یعنی دھپ جرمانہ کا Suo Moto فیصلہ سنا دیا۔

مادھوری ڈکشٹ،

اگلی دوپہر جب دوستوں کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش ہوا تو حاجی نے اپنی صفائی میں صرف اتنا کہا کہ ایک تو شام سے پاجامہ کرتا پہنے ہوئے تھا اور اب میں مانگ کر اس سے نیچے پہننے کے لئے کیا لیتا۔ جب دھپ مارنے کے لئے دوستوں کے ہاتھ فضا میں بلند ہوئے تو جگاری کہنے لگا کہ “می کے کرو خبرکہ ناچ میں ہیِں تھینو” (مجھے کیا معلوم تھا کہ ناچ میں یہ بھی ہوگا) جس پر کریم مسوٹہ نے کہا کہ” قانون سے ناواقفیت جرم کا جواز نہیں بن سکتی۔ عدالت اپنا فیصلہ برقرار رکھتی ہے مارو اس بدتمیز کو “۔ جگاری کو باقی تینوں دوستوں نے ایک ایک ہاتھ کمر پر زور سے رسید کیا۔سب نے بچپن اور جوانی کی ریت اور رسم کے مطابق اسے عریانگی کے اس بے ساختہ مظاہرے کی پاداش میں، ایک ایک دھپ رسید کیا۔

یہ چاروں دوست یعنی حاجی جگاری۔ کریم مسوٹا، عزیز تانبا اور ابو مٹکا اپنی پرانی روایتوں کو بدستور نبھاتے تھے۔بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کے جنرل ضیا الحق جن کے بارے میں ایک عام تاثر یہ تھا کہ وہ عاجزی، عیاری اور دکھاوے کے اسلام کا ایک خوفناک ملغوبہ ہیں۔یوں تو یہ امیر مقام پاکیزگی اور رکھ رکھاؤ کا ایک ملمع ہر وقت اپنے پر طاری کئے رکھتے تھے مگر جب وہ جاپان والے شیفتہ صاحب جیسے اپنے دیرینہ دوستوں میں بیٹھے ہوتے تو گندے لطیفے اور گالیاں ان کی گفتگو کا خاصہ ہوتی تھیں۔

ایک دفعہ،ہوا یوں کہ صوبہء سندھ میں چلنے والی مخالف تحریک کی ہوا کے جھونکوں میں اڑنے لگے۔جس کی بنا پر جنرل ضیا الحق اپنے اس فوجی گورنر سے شدید ناراض ہوگئے اور انہیں ان کے گورنر کے عہدے سے،ایم آر ڈی تحریک کو سختی سے کچلنے کے بعد علیحدہ کردیا گیا۔
ان کی نوکری کے بعد دی جانے والی مراعات کی فائل منظوری کے لئے کئی ہفتوں سے اس پاکباز ہستی کی میز پر گرد چاٹ رہی تھی۔ انہوں نے اپنی مشکل کشائی کے لئے اس طاقت کے منبع کو سمجھانے کے لئے ان ہی کے ایک دیرینہ دوست شیفتہ کو جاپان سے بلوایا۔ یہ دوست ان کے سینٹ اسٹیٖن کالج۔ دہلی کے جگری یار تھے۔ رات جب یہ دونوں بیٹھے تو دوست نے سفارش کی کہ وہ اس کی فائل کو منظور کرکے فارغ کردیں۔ وہ طاقتور شخصیت کہنے لگی “اوئے یار تینوں نئین پتہ اے کنّا ڈنگا بندہ ہے”(یار تجھے نہیں معلو م کہ یہ کتنا فتنہ پرور آدمی ہے)۔دوست نے سمجھایا کہ” اگر وہ اسے ایک حسب حال جوک سنائے تو کیا وہ یہ فائل نکال دے گا”۔ارشاد ہوا “جے جوک پسند آیا تے”۔دوست کہنے لگا کہ” ایک گاؤں میں کسان کی منجھ بول گئی(مادہ جانوروں کاطلب وصال میں ڈکرانا)۔گاؤں میں ایک ہی بھینسا تھا جو سارے دن کی کاروائی سے بہت تھک چکا تھا۔ کیوں کہ یہ بھینسوں کا حاملہ ہونے کا سیزن تھا۔بھینس کا مالک کسان جب بھینسے کے مالک کے پاس اپنی فرمائش لے کر پہنچا تو مالک نے بھینسے کی بپتا اسے سنائی۔ اس نے ضد کی کہ بھینسے کے پاس وہ اسے لے جائے وہ

خود درخواست کرلے گا۔ بھینس کے مالک نے بھینسے کے پاس پہنچ کر آہستہ سے کہا سرکار آپ کی ذرا سی محنت سے ہمارے لئے سال بھر کی دودھ لسی کا بندوبست ہوجائے گا”۔اس امیر مملکت نے اس لطیفے کو سن کر زور دار قہقہ لگایا اور بڑی خاموشی سے فائل کو منظور کرکے نیچے بھیج دیا۔

جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *