The Contractor

The Contractor…
جی پڑھ لیا ڈیڑھ سو صفحہ۔ آئیے کچھ تاثرات اور نواحیات کا ذکر ہو جائے۔
ریمنڈ ڈیوس کے نام سے مشہور ہونے والے کردار کی اصل کے بارے میں کوئی کبھی نہیں جان پائے گا۔ جو حقیقت ہے وہ یہ کہ 27 جنوری 2011 کو موٹر سائیکل سوار دو لڑکے مزنگ لاہور کے اشارے پر ایک گورے سے ڈالر چھین کر بھاگ رہے تھے کہ گورے نے، جو ایک ماہر نشانچی اور کسی بیرونی ادارے کے لیے کنٹریکٹ پر کام کرنے والا تربیت یافتہ سفارتی ایجنٹ تھا، ان میں سے ایک کو گولی ماری جو اس کے ماتھے پر لگی۔ اور یوں وطنِ عزیز کے اندر کام کرتے ایک بیرونی جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں کچھ خبریں میڈیا پر آگئیں۔
حسبِ توقع ریمنڈ ڈیوس نے وہی لکھا ہے جس کے لیے اس پر انویسٹمنٹ کی گئی ہے۔ اس نے ریاست کے تینوں اداروں پارلیمان، فوج اور عدلیہ کو ایک ہی کھرل میں رکھ کر پیس دیا ہے۔ اس کے لکھے پر اگر ایمان لے آیا جائے، اور کیوں نہ لایا جائے کہ جب یہ ایک امریکی اور پھر سفارت کار کے فرمودات ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کتاب بھی انگریزی میں لکھی ہوئی ہے، تو ہمیں اپنی پارلیمان، فوج اور عدلیہ سبھی بکاؤ مال نظر آتے ہیں۔
اس ظالم نے نہ کوئی ادارہ چھوڑا ہے نہ شخصیت۔ ہمارے حساس ادارے کا سربراہ ایک سہولت کار کے طور پر اسے عدالت کے اندر میسجنگ کرتا دکھایا گیا ہے تو ریاست کا سربراہ شاطرانہ ڈپلومیٹک حرکتیں کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ جس جج نے اسے رہا کیا وہ بھی ملک چھوڑ چکا ہے۔ صرف حکومتی اداروں کے مدار المہام نہیں بلکہ حکومت باہر کی اہم شخصیات بھی ذکر کر دی گئی ہیں۔ کتاب پڑھ کر پہلا تاثر یہی بنتا ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ اور اہم شخص پیسے کے عوض ہر کام کرنے کو تیار ہے۔ یہ ملک ہے کہ بھاڑے کے ٹٹوؤں کا بھانہ؟
کتاب The Contractor میں پورے پاکستان میں صرف ایک ادارہ دیانت داری سے اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرتا نظر آیا ہے اور وہ ہے ہمارا ایک بدنام ادارہ یعنی پنجاب پولیس۔ پنجاب پولیس ہی نے ریمنڈ ڈیوس کو گرفتار کیا اور اس کا پاسپورٹ قبضے میں لیا۔ پورے پاکستان میں صرف ایک حکومت نے دیانت داری سے اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کیا یعنی پنجاب حکومت۔ بالآخر اسی ادارے اور اسی حکومت کو دیانت داری اور پیشہ ورانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں دھول چٹائی گئی۔ بے شک محسن کشی ہمارا قومی کردار ہے اور The Contractor پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اس کردار کی لفظی تصویر ہے۔
وطنِ عزیز میں تین ریاستی ادارے ہیں اور دو مضبوط سیاسی خاندان۔ ان پانچوں کو ملزم ہی نہیں بنایا گیا بلکہ ان پر فردِ جرم ثابت کی گئی ہے۔ ہمارے سب بڑوں اور حیثیت داروں کو ساقط الاعتبار کر دیا گیا ہے۔ پورے ملک میں انتشار لانے کی اس سے بڑی کیا صورت ہو سکتی ہے جو امریکہ سے درآمد ہوئی ہے۔ ہے کوئی پاکستان کے لیے رونے والا؟
اسلام کا قانونِ دیت ریمنڈ ڈیوس کے لیے معرضِ عمل میں لایا گیا۔ The Contractor کے ٹائٹل کی تصویر سمیت اسلام اور جماعت ہائے اسلامی کی جو خدمت ریمنڈ ڈیوس نے پوری کتاب میں کی ہے، افسوس آج وطنِ عزیز کی کوئی مذہبی جماعت اس پر ایک علامتی جلوس تک نہیں نکال سکتی۔
وہ شخص جس کا حقیقی نام بھی کوئی نہیں جانتا، The Contractor کے سامنے آنے پر وہ آج ایک معتبر حوالہ ہے۔ عدلیہ کی ملی بھگت سے پانامہ لیکس کے اثرات سے کم سے کم فوج کو بچا لیا گیا تھا کہ کسی ادارے کی تو عزت رہ جائے، ریمنڈ ڈیوس نے فوج ہی نہیں بلکہ ہماری عالمی شہرت یافتہ سیکورٹی ایجنسی کو بھی مجرم بناکر فرنٹ پہ لا کھڑا کیا ہے۔
سب سے اہم چیز The Contractor کے لانچ کرنے کا وقت ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ صدر اوبامہ کے دور کا ہے۔ اس کتاب کو اوبامہ دور کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودیہ کے بعد امریکہ-انڈیا دفاعی معاہدہ طے پانے کے موقع پر سامنے لانے کا فیصلہ کانگریس کی طرف سے پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی میں برف جما دینے والا پیغام ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مسلم دنیا کی تیزی سے بدلتی جغرافیائی صورتِ حال بھی اس کے اثر سے آزاد نہیں ہے۔
کتاب The Contractor کا انتساب اپنے بیٹے کے نام کرکے ریمنڈ ڈیوس نے جو پیغام اپنی یعنی مغربی نوجوان نسل کو دیا ہے وہ یہ ہے کہ آئندہ خود پاکستان آکر جاسوسی اور متعلقہ کام کرنے کے بجائے یہیں کے لوگوں میں اپنے کام کے لائق لوگ پیدا کیے جائیں اور انہی سے کام لیا جائے۔ کاش ہم لوگ اس نصیحت کو اپنے تعلیمی اداروں کا ماٹو بنا لیں۔ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟ پہلے بھی تو ہمارے پرائیویٹ سکول کالجوں کے ماٹو اوکسفرڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے لے کر لکھے ہوئے ہیں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *