پارا چنار،الاو ٹھنڈا کر لیجیے

اللہ کا شکر ہے کہ پارا چنار کا معاملہ حل ہوا۔ آرمی چیف نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد احتجاج کرنے والوں کے اکثر مطالبات مان لیے یا مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ متاثرین نے چیف کے وہاں جانے کو عزت بخشی اور اپنا دھرنا ختم کر دیا۔ پارا چنار کے پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ ان کا احتجاج شورش یا سازش نہیں، فقط بطور پاکستانی اپنی ریاست سے اپنے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ تھا۔
بھائی محمد حسین درویش انسان ہے۔ جب اس نے سوشل میڈیا پہ پارا چنار کیلیے آواز بلند کی تو سب جانتے تھے کہ یہ ہر قسم کی فرقہ واریت سے پاک آواز ہے۔ دوسرے دوست بھی ساتھ ملے اور پارا چنار کیلیے ایک متحد آواز بلند ہوئی جو بطور پاکستانی اور بطور مسلمان ہمارا فرض تھا۔ ظلم کہیں بھی اور کسی کے بھی ساتھ ہو، ایک متحد آواز کا اٹھانا کبھی فرضِ کفایہ ہے اور کبھی ہر ایک پہ فرض۔
پارا چنار پہ مکالمہ نے بطور ادارہ بھی آواز اٹھائی۔ میری درخواست پہ عارف، جو قبائلی بیک گراونڈ رکھتا ہے، نے پارا چنار پہ سیریز شروع کی۔ عارف کی سیریز پہ ہر دو طرف سے اعتراضات اٹھے جو بطور قاری ہمارے قارئین کا حق ہے۔ لیکن کچھ دوست ذاتی حملے کرتے نظر آئے اور اس تحریر کے پیچھے سازشیں دھونڈتے رہے، ان کے رویے پر فقط افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اتنا ضرور عرض کروں گا کہ پارا چنار پہ اکثر دوست سنی سنائی پہ یقین کیے رہتے تھے۔ کم از کم عارف کی تحریر نے پارا چنار کے حقائق پر آگاہی تو پیدا کی۔ اسکے جواب میں دوست سنجیدہ اور “محلہ دارنی زبان” سے پاک جواب جب لکھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے قارئین “پارا چنار فقط فیس بک پہ ہوتا ہے” نہیں کہیں گے، بلکہ پارا چنار کی تاریخ، وہاں کے لوگوں کی ثقافت اور پاکستانیت سے واقف ہو چکے ہوں گے۔ عارف کے مسلکی تعصب سے پاک ہونے کا مجھے اتنا ہی یقین ہے جتنا اسکے خوبصورت ہونے پر، لہٰذا دوست بھی حسن ظن سے کام لیں۔
دوستو، پارا چنار پہ لکھنے یا مکالمہ پر شائع کرنے سے مخلص دوستوں نے منع کیا۔ کیونکہ یہ ایسا ایشو ہے کہ نا چاہتے بھی آپ متنازعہ ہوتے ہیں۔ لیکن ضروری تھا کہ اس ایشو کو ایک مشترکہ ایشو کے طور پر اٹھایا جاتا مکالمہ جیسے پلیٹ فارم سے۔ کسی بھی مسلکی سائیٹ سے یہ ایشو جتنا بھی اٹھتا اسے دوسرے مسالک سے زیادہ سنجیدہ نا لیا جاتا۔ الحمداللہ آج ہر مسلک کے زیادہ تر لوگ یہ مانتے ہیں کہ پارا چنار کے لوگ شیعہ ہونے کی وجہ سے ظلم کا شکار ہوئے اور ریاست سے کوتاہی ہوئی ،جس کا ازالہ جنرل باجوہ کے اعلانات نے کیا ہے۔ مکالمہ کی مسلسل یہی کوشش ہے کہ ظلم کہیں بھی اور کسی پر بھی ہو، مظلوم کی اولین شناخت پاکستانی بنا کر اسکے خلاف احتجاج کیا جائے ناکہ مظلوم کو مخصوص شناخت دینے پر اصرار کر کے اسے تنہا۔ مجھے خوشی ہے کہ مکالمہ کی یہ کوشش کامیاب رہی۔
اس موقع پر ہمیں ان مفاد پرستوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو شاید کسی اشارے پر چنگاری کو الاو اور الاو کو ایک ایسی آگ بنانا چاہتے ہیں جس میں بہت کچھ جل جائے۔آج بظاہر ایک معتدل دوست کے فرقہ وارانہ اور فوج میں فرقہ واریت پیدا کرنے کی کوشش کرتے فیس بک سٹیٹس دیکھ کر میں دہل گیا۔ فوج، خواہ اس پہ سو تنقید ہو سکتی ہے، مگر ہماری فوج ہے اور ایک ایسا ادارہ جس پہ اعتماد برقرار ہے۔ ایسے ادارے میں فرقہ واریت پیدا کرنے کی کوشش کو سختی سے رد کر دینا چاہیے۔ داعش ہمارے پڑوس میں آ بیٹھی ہے اور لندن میں دستیاب معلومات کے زور پہ کہہ سکتا ہوں کہ آسمان پہ سرخ آندھی کے آثار ہیں۔ ایسے میں ایسی کسی مہم کا حصہ نا بنیے جو ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرے، ورنہ یاد رکھیے کہ پارا چنار ہی نہیں ہر جگہ لاشیں ہوں گی اور ہم احتجاج کے قابل بھی نا ہوں گے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، وگرنہ زندہ تو شامی مہاجرین بھی ہیں۔
ایک مسلکی سائیٹ چلانے والے دوست نے کہا کہ انعام رانا سویر سنی اور شام شیعہ ہوتا ہے۔ بالکل ایسا ہی ہے کیونکہ میرا مذہب اسلام ہے مگر مسلک کے خانے میں پاکستان لکھا ہے۔میرے پاکستان کو جو سوٹ کرے گا، میں وہی بن جاوں گا تاکہ آگ کو پھیلنے سے روکوں۔ ہم سب دوستوں نے مچ جلایا، الاو اٹھایا جس نے پارا چنار کا مسلئہ حل کیا۔ آئیے اب اس الاو کو ٹھنڈا کریں اور ہر اس شخص کو دھتکار دیں جو اس الاو سے چنگاری لے کر آگ بھڑکانے کی کوشش کرے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”پارا چنار،الاو ٹھنڈا کر لیجیے

  1. وہ نادان دوست جنہوں نے کہا کہ انعام رانا کا پتہ نہیں چلتا کہ کب شیعہ بن جائے یا سُنی, تو اُن کے لئے عرض ہے کہ یہ تو اچھی بات ہے, اور اگر کسی بات سے اختلاف ہو تو وہ بھی مکالمہ کو تحقیقی جواب لکھ بھیجتے, مجھے یقین ہے کہ مکالمہ پر شائع بھی کر دیا جاتا.
    یوں پھبتیاں کسنے سے کیا تعمیری کام اُنہوں نے کیا?
    باقی عارف لالہ اگر زبان میں تعصب نہیں رکھتا , تو مسلک کے وقت اُسے کیا پڑی کہ تعصب کرے.
    اُسکی معلومات غلط ہو سکتی ہیں , بمعلومات پر اختلاف کریں, پر لالہ کی مخالفت کی گنجائش نہیں بنتی

  2. انعام رانا جیتے رہوبھائی لیکن مکالمہ میں جوابات دینے میں حرج نہیں ہم تاریخ کی درستگی چاہتے ہیں ۔ آپ کو فرقہ واریت لگی تو اوربات ہے جبکہ لالہ نے بھی سچ کو سچ نہیں کہاجبکہ جھوٹ کوسچ کہاہے

  3. انعام بھائی بہت قابل تحسین کوشش رہی آپ کی اور مکالمہ کی ھمیشہ خوش رہیں آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *