قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف کے تقاضے….قیصر عباس فاطمی

قدیم تہذیبیں بالادستوں کے قانون کے آگے سر تسلیم خم کر لیا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ افلاطون جیسے لوگ بھی اس بات کے قائل تھے کہ اقتدار کا حق “چند” لوگوں کے پاس ہے یا سرے سے ہی ایک فلسفی حکمران ہی “قوانین” صادر کر سکتاہے۔ اگرچہ اسی دور میں ارسطو نے اس اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام کو قرار دیا یعنی قانون کی حکمرانی۔ بہرحال اس فلسفیانہ بحث کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ اور صرف اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قانون کی بالادستی ہوتی کیا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں اور کن حالات میں پیش آئی ؟ اور اس کے ثمرات کیا ہوتے ہوں گے جن سے تیسری دنیا کے لوگ ابھی تک مستفید نہیں ہو پارہے۔

“زندگی” ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اور زندگی “فیصلہ” کرنے کی “آزادی” سے عبارت ہے۔ یہ فیصلے دو طرح سے ہوتے ہیں۔ انسان کا اپنی زات سے متعلق کوئی فیصلہ جس کا کسی دوسرے انسان پر کوئی اثر نہ ہو، اور انسان کے وہ فیصلے جو اس کی اپنی زات سمیت دوسرے انسانوں کو بھی متاثر کریں۔ دوسری طرح کے فیصلوں کی وجہ سے ہی “معاہدہ عمرانی” طے پایا۔ تا کہ ایک “فیصلہ ساز” نظام کی تشکیل ہو جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ یعنی کسی ایک انسان کے فیصلے باقی انسانوں پر مسلط نہ ہو سکیں ، اور جو “مشترکہ” فیصلہ ہو اس کی گرفت سے کوئی بچ نہ پائے۔

یہ نظریہ کمزور انسانوں کا دوست نظریہ ہے۔ ان کا محافظ نظریہ ہے۔ ان کی فلاح اور اور بقاء کا نظریہ ہے۔ جب تک انسان اپنی فلاح و بقاء کے لیے ماوراء فطرت طاقتوں اور پھر ان کے نمائندوں پر تقیہ کیے رہا تب تک تہذیب انسانی کو وہ شرف حاصل نہ ہوا جو انسانوں پرانسانوں کے زریعے انسانوں کی حکمرانی سے ملا۔۔ ہزاروں سال انسانوں کے  استحصال اور تحقیر کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کو کسی بھی وجہ سے اتنا معتبر سمجھ بیٹھے کہ انہیں حکمرانی کا حق تحفتاً اور عقیدتاً سونپ دیتے رہے۔ مگر یہ بھانڈا پھوٹا اور انسان اپنی قدر و منزلت سے آگاہ ہوا، شخصیت پرستی کے اس واہمے سے جان چھڑائی اور سب انسانوں کو ایک ہی صف میں شمار کرنے لگا۔

اب فرد کی بالادستی کی جگہ قانون کی بالادستی ہوئی۔ اگرچہ یہ سب یکدم تو نہیں ہوا۔ مگر جن قوموں نے اس سفر کو جتنا جلدی طے کیا وہ آج انسانی تہذیب کے اتنے ہی بلند مقام پر ہیں۔ اور اس کے برعکس جو قومیں ابھی تک شخصیت پرستی اور اوہام پرستی کی بنیاد پر یہ بات نہیں سمجھ پا رہی کہ قانون سب پر یکساں حاوی ہے اور قانون کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، وہ غیر ترقی یافتہ ہونے کہ ساتھ ساتھ غیر مہذب بھی ہیں۔ کیونکہ ایک متوازن معاشرے کی تشکیل تبھی ممکن ہے جب افراد معاشرہ کے لیے یکساں نظام موجود ہو۔

قانون کمزور انسان کی دفاعی خواہش ہے۔ اورطاقتور کی خواہشوں میں رکاوٹ۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں قانون کی حکمرانی ہے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس معاشرے میں ایک عام انسان کس حد تک محفوظ ہے؟ اس کا معیار زندگی کیا ہے؟ اوراس کی ضروریات زندگی کس حد تک پوری ہو رہی ہیں؟ وہ طاقتور کے غضب سے محفوظ ہے یا نہیں؟

انسان کا زندہ رہنا اس کا بنیادی حق ہے عدل و انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کے حق کو محفوظ کیا جائے۔ اور اگر عام انسان گلیوں اور چوک چوراہوں پر مار دیے جائیں، بہت سوں کی خبر ہی نہ ملے اور جن کی خبر ملے ان کے لیے باقی انسانوں کو سوشل میڈیا پر دوہائیاں دینی پڑھییں، تو یہ نہ قانون کی حکمرانی ہے نہ عدل و انصاف کا طریقہ۔ اگر ہم کسی ریاست کے باشندے ہیں، اور اسی کی حدود میں رہتے ہوئے لُٹ جانے، مر جانے اور کسی بھی جسمانی و زہنی نقصان کے پہنچا دیے جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں تو سمجھ جانا چاہیے کہ ہم “آزاد” نہیں۔ ہم پر اکیسویں صدی افسوس کر رہی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *