عبدالعزیز کی مونچھ کہانی۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان /قسط اوّل

اقبال دیوان کی کتاب ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ سے لی گئی ایک کہانی!
کراچی کے جرائم سے جڑی دنیا سے وابستہ کچھ میمن کردارجواردو فکشن میں اتنی چمت کار کے ساتھ پہلے جلوہ گر نہیں ہوئے،ان کی ہمدردی ،رواداری اور علاقے و زبان کے تعصب سے پرے انسانی اقدار کا پاس قابل رشک و تکریم ہے۔
قارئین کی دل چسپی کے لیے یہ طویل کہانی تین اقساط میں شائع کی جائے گی۔کراچی سے باہر کے قارئین کے لیے ماحول آشنائی کے طور پر تصاویر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا،سرورق

اپنے پرائے سب ہی اُسے عزیز تانبا کے نام سے پکارتے تھے گو اس کا اصل نام عبدالعزیزپٹیل تھا۔میمنوں میں اسطرح نام دینا معیوب نہ سمجھا جاتا تھا۔کمال کی بات یہ تھی کہ مخاطب کیا جانے والا شخص بھی اس بگڑے ہوئے نام کو اپنی پہچان سمجھ کر ہنسی خوشی اپنا لیتا تھا۔اسی لئے اس کے جگری یار،حاجی جگاری(جواری) کریم مسوٹا( مسوٹا بمعنی میلا  صفائی  کا کپڑا)،ایوب، ابّومٹکا کے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔

حاجی جس کا نام محمد عثمان تھا، کم عمری میں حج کرنے کی وجہ سے حاجی اور بعد میں جوئے کی بک چلانے کی وجہ سے حاجی جگاری کہلاتا تھا۔ کریم جس کا کریانے کا بڑا کام تھا اپنے ہر وقت کے میلے کچیلے داغدار لباس اور حلیے کی وجہ سے کریم مسوٹا اور ایوب جس کا پیٹ پیدائش کے وقت ہی مینوفیکچرنگ ڈی فیکٹ کی وجہ سے ہمیشہ سے کچھ نکلا ہوا تھا،ابو مٹکا کہلاتا تھا۔

حاجی جگاری کی جوئے سے اور الٹے سیدھے دو نمبر دھندوں میں پیسے کمانے  کے لگاؤ کی ابتدا اسکول کے زمانے سے ہوگئی تھی۔ نو آباد جو لیاری کے ایک ملی جلی آبادی والا علاقہ ہے وہاں اپنے اسکول کے ٹیچروں سے جہاں وہ زیر تعلیم تھا اس کی بہت عمدہ چھنتی تھی۔ سالانہ امتحان ہوجاتے تو وہ کلاس کے لڑکوں سے پاس کرانے کے لئے دس دس روپے جمع کرتا۔کچھ کے نتائج وہ استادوں کے لئے کریلن کی قمیص کا کپڑا یا سوفینی پتلون کا پیس، بہم کرکے نبھا لیتا تھا۔ یہ کپڑے ان دنوں بہت مقبول تھے، استری کی حاجت سے بے نیاز، جلد دھل کر خشک ہوجانے والے۔ بمشکل تین چار لڑکے پوری کلاس میں فیل ہوتے تھے جن کی رقم یہ ایمانداری سے لوٹا دیتا تھا۔ یوں اس کی سالانہ انکم دوسو روپے، صرف امتحانوں کے نتائج کی وجہ سے بن جاتی۔

جوئے کامعاملہ اس وقت درپیش آیا جب اسے بتایا گیا کہ کوئی بزنس مین،  بونس کے تاش کی پوری گڈی  جو ان دنوں پانچ روپے کے ملتے تھے کسٹم سے نیلام میں خریدتا تھا۔

بونس

کسٹم آفیسر جو اس نیلام پر متعین تھا اس نے بتایا کہ ہر دفعہ سنگاپور سے منگوائی گئی یہ لاٹ جو Distress Cargo میں شامل ہوتی ایک ہی میمن سیٹھ خریدتا تھا۔یہ پوری لاٹ اسے فی پیکٹ اس زمانے میں پچیس پیسے میں پڑتی تھی۔حاجی نے سیٹھ کی اس دل چسپی کا کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ ہر پیکٹ سے ایک پتہ غائب ہوتا ہے۔یوں تاش کے پتوں کایہ پورا پیکٹ دوسروں کے لئے بے کار ہوتا ہے۔ حاجی کے شیطانی ذہن نے سوچا کہ ہوسکتا ہے یہ پتہ وہی سیٹھ پہلے سے غائب کردیتا ہو جس نے سنگاپور سے یہ لاٹ منگوائی ہو اور وہاں بیٹھ کر ہر پیکٹ سے ایک پتہ نکال لیا ہو۔بعد میں اپنے کسی ایجنٹ سے یہ لاٹ یہاں نیلام میں خرید کرالیتا ہو اور غائب کیا ہوا پتہ ہر پیکٹ میں دوبارہ شامل کرکے بڑا منافع کمالیتا ہو۔ اگلی دفعہ یہ مرحلہ آیا تو حاجی نے  بڑی خاموشی سے اپنے لڑکوں کی ڈیوٹی لگا کر کسٹم افسر سے مل ملا کر ایک پتہ اور غائب کرادیا۔نیلام کے وقت اب ہر پیکٹ میں باون کی جگہ کل پچاس پتے تھے۔ایک پتہ تو امپورٹر کے پاس اور دوسرا حاجی جگاری کے پاس۔امپورٹر نے جب یہ لاٹ خریدی اور پتے گنے تو معلوم ہوا کہ وہ لٹ گیا ہے۔ حاجی نے اسے تلاش کیا۔پتہ لوٹانے کا ایک روپیہ لیا جس میں پچاس پیسے اس کے اور پچاس کسٹم کے افسر کے تھے۔ اسے کل پانچ ہزار روپے نقد ملے۔ یہ 1972 کا سال تھا اور سونے کی قیمت ان دنوں پانچ سو روپے کے لگ بھگ تھی اور حاجی کی عمر بمشکل سترہ برس۔

اس کے بچپن کا دوست،عبدالعزیزپٹیل جس کے باپ نے تانبے کی دلالی میں خوب پیسہ کمایا، اپنے باپ کے کاروبار کی وجہ سے عزیز تانبا کہلاتا تھا۔گو کہ وہ اب ہر طرح کی دھات کا کاروبار کرتا تھا۔بالخصوص لوہے کا وہ بڑا گُّنی کباڑی تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ لوہا ایک ایسی دھات ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتی۔اسکے لئے اس نے قرآن کریم کی سورۃالحدید کی یہ آیت یاد کر رکھی تھی کہ “ہم نے لوہے کو انسانوں کی فلاح کے لئے تخلیق کیا اس میں بڑی   طاقت ہے اور انسانوں کے لئے بے شمار فائدے بھی” ۔۔۔وہ کہا کرتا تھا کہ محبت،نیکی اور لوہا کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔

حاجی جگاری سے آپ جب بھی ان کے اس گوترے(خاندانی گروپ) کے ناموں کے بارے میں پوچھتے تو وہ مسکراکر کہتا تھا،”اڑے ہم میمن لوگ سوچ سمجھ کر سب سے آخر میں مسلمان ہوئے۔ہمارے گلے پر اسلام قبول کرنے کے لئے کسی نے کوئی کھنجر(خنجر) نہیں رکھا۔ کوئی مارا ماری نہیں کی۔ پر بولو تو(یہ اس کا تکیہ کلام تھا) آکھر میں مسلمان ہونے کا ہم کو ایک پرابلم ہوا۔ شروع میں تو یہ سب لوگ ہم کو مومن بولتے تھے اور سب کو پتہ بھی تھا کہ ہم پہلے ہندو تھے۔ مگر جب ہم لوگ جیادہ مسلمان ہوئے تو اس سے ہماری پہچان مشکل ہوگئی تھی “۔ وہ اپنی تاریخ بتاتے ہوئے کچھ جذباتی سا ہوجاتا تھا۔ جواری ہونے کے ناطے وہ جلد فیصلے کرنے والا آدمی تھا۔

اسکے جوئے کے دھندے سے جڑے دوستوں میں سندھی، پنجابی اور مہاجر سب ہی طرح کے لوگ شامل تھے،بالخصوص اہل پنجاب کو کراچی کے ان میمن حضرات سے زیادہ واسطہ نہ پڑا تھا، لہذا وہ سوالات تواتر سے اور بازی کے نتائج آنے تک کرتے ہی چلے جاتے تھے۔ ایسے موقعوں پر بالو کچن کنگ ہوتا، مہمانداری کا ذمہ اسی کا ہوتا۔
اس دوران حاجی جگاری کا نیشنل جیوگرافک پروگرام جاری رہتا وہ انہیں سمجھاتا کہ” ابھی ہمارے بڑے مسلمان تو ہوگئے، مومن بھی کہلانے لگے مگر اس سے اپن لوگ کی پہچان مشکل ہوگئی۔ کوئی بانٹوے کا تھا تو کوئی راجکوٹ کا تو کوئی پوربندر کا (ہندوستانی گجرات کے وہ چھوٹے چھوٹے مراکز جہاں سے اکثر میمنوں کا تعلق تھا)۔ اس واسطے ہمارے لئے سیّد،صدیقی،عثمانی، زیدی، نقوی،جعفری ، فاروقی، بٹ، چوہدری، لغاری، گیلانی چانڈیا، جام بننے کا تو کوئی چانس باقی نہیں بچا۔

ہم لوگ نے اس کا یہ علاج ڈھونڈا کہ بھئی جس کا جو بھی علاقہ ہے اس کا نام بنا لو یا جو دھندہ پانی ہمارا ہے، اس کا نام آخر میں اپنی پہچان کے لئے لگا لو تو ہمارے میں آپ کو رنگون والا، برما والا،مانڈوی والا یا کانچ والا، صابن والا، موتی والا،سنارا،کھانڈ(چینی)والا اور بار دانے(پٹسن کی بوری) والا تیلی اور ایدھی (کام چور،سست) آپ کو ملیں گے۔پھر آپ جیسے کچھ حرامی دوست مل گئے تو میں جگاری بن گیا، کریم مسوٹا بن گیا، ایوب مٹکا اور اپنے عزیز بھائی تانبا بن گئے”۔نام دینے کی یہ جگاڑ(ترکیب) ہم نے ہندوؤں سے سیکھی تھی۔
اب تم لوگ کے لاہور میں، اکبر بادشاہ کا گورنر ہوتا تھا حسین خان ٹکڑیہ۔ بہت اچھا آدمی تھا۔آج کل کے جعلی ڈگری والے پالی ٹیشن جیسا نہیں تھا۔تم لوگ کو پتہ ہے اس کو  ٹکڑیہ کیوں بولتے تھے۔یہ نیک لوگوں کی بہت عجت(عزت) کرتا تھا۔ وہ ان بزرگ لوگوں سے ملتا، تو بولتا تھا کہ من خان ِ مفلس و غلامِ با ساماں،(میں آپ کی تابع داری میں ایک مفلس سردار اور ایک دولت مند غلام ہوں)۔ ایک دن اس کے دربار میں ایک بزرگ آگئے بہت بڑی ڈاڑھی، رعب بھی بہت چہرے پر۔
یہ کھڑا ہوگیا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔جب اس کو پتہ چلا کہ یہ بڈھا تو ہندو ہے۔ تو اس نے حکم دیا کہ ہندو لوگ اپنے لباس پر ایک رنگین کپڑے کا ٹکڑا کندھے کے پاس لگائیں گے۔اسی وجہ سے ہندوؤں نے اس کا نام حسین خان ٹکڑیہ رکھ دیا۔ ابھی یہ جو دوبئی میں ایک بہت مالدار ہندو سیٹھ ہے،جس کے پاس سارے مڈل ایسٹ کی سونی کی ایجنسی ہے۔اس کے بڑے حیدرآباد سندھ میں چھابڑی لگاتے تھے اس لئے اس کا نام مانو لال چھابڑیا ہے۔ایسے ہی انگلینڈ میں ایک بہت بڑا لارڈ ہے اس کا نام نونت ڈھولکیا ہے کیوں کے اس کے بڑے پہلے ڈھولک بجاتے تھے۔نام میں کچھ نہیں رکھا اب تو اپنے کریم  مسوٹے کو شاہ رکھ کھان [شاہ رخ]بولو گے   تو کیا کاجول اس کے پاس چلی آئے گی۔

دوست جو حرامی، حلالی سب ہی قسم کے تھے اس کی اس وضاحت کو وکی پیڈیا(انٹرنیٹ کا مشہور انسائیکلوپیڈیا) کا بیان سمجھ کر دل و جان سے تسلیم کرلیتے تھے۔کوئی پوچھتا کہ “تم یہ میمن لوگ گجرات کیسے پہنچ گئے؟”۔ تو وہ چڑ کر کہتا تھا کہ” جیسے تم سید اور فاروقی لوگ اچھلتے کودتے،واہ واہ،آداب، تسلیم ابا حضور، اماں قبلہ کرتے کرتے، بھوپال اور مراد آباد پہنچے”۔چونکہ پوچھنے والے زیادہ تر پنجابی ہوتے تھے وہ اس کے اس طنز کا بالکل برا نہیں مناتے تھے۔ حاجی اپنا پروگرام جاری رکھتے ہوئے کہتا کہ” ہم پہلے لوہانے تھے، ٹھٹھہ میں بستے تھے پھر بھج کے راجہ نے ہم کو ادھر اپنے پاس آکر اس کی پارٹنر شپ میں کاروبار کرنے کو کہا۔جیسے جنرل جیا الحق نے تم لوگ کے لوہار نواز کو اپنا منسٹر بنایا تھا۔
ہم نے راجہ کو بہت سمجھایا کہ تم لوگ کے شاستروں (مقدس کتابوں) میں لکھے لا (لکھا ہوا)ہے کہ “جس کا راجہ بیوپاری ہوتا ہے اس کی جنتا بھکاری ہوتی ہے”۔ راج نیتی (کاروبارِ حکومت) میں راجہ کے لئے کاروبار کرنا جائز نہیں، یہ ویشیاؤں کا کام ہے (ہندو ذات پات کے نظام میں تیسرے درجے کی ذات)۔ بھگوان نے آپ کو راجہ بنایا ہے تو راجہ بن کر  رہو پر سالا وہ نہیں مانا۔ہم لوگوں کے پیچھے ج( پیچھے ہی) پڑا رہا کہ ایک شوگر مل ڈالنی ہے،ایک ٹیکسٹائل مل بھی اور اسٹاک ایکس چینج بھی میری سسرال والوں کے نام سے ہو ،پچاس فیصد شئیرز کے ساتھ اور ایک فرٹلائزر مل بھی میرے کو میرے علاقے میں رہنے کے بدلے میں ڈال کر دو۔ میرے سوئس اکاؤنٹ میں ہر کاروبار اور سرکاری ٹینڈر کا دس فیصد کمیشن بھی جما کراؤ،آئی ایم مہاراجہ ٹین پرسنٹ۔ہم لوگ نے بولا اس  متھا کوٹ [بحث ]کرنے کا فائدہ نہیں  ، اچھا ہے کہ راج نیتی(سیاست) سے دور ہی رہو۔ 

حاجی جُگاری کو یہ بات اُن پنجابی جواریوں اور کاروباری حضرات کو سمجھاتے وقت  پتہ نہ تھا کہ وہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ102 (1) (a) کی نادانستگی میں تشریح کررہا ہے جس کی رُو سے کوئی ممبر پارلیمنیٹ دورانِ ممبر شپOffice of Profit نہیں رکھ سکتا۔اس کی زد میں آن کر امیتابھ بچن کی بیوی جیا بچن کو انہوں نے اس لئے ممبر راجیہ سبھا ہونے سے روک دیا تھا کہ وہ اتر پردیش فلم ڈیویلپمنٹ بورڈ کی چئیر پرسن تھیں۔یہی وہ ضابطہ تھا جس کی وجہ سے سونیا گاندھی سمیت ان کے چالیس ممبران کواسمبلی سے استعفیٰ دینا پڑا تھا کیوں کہ وہ یعنی سونیا گاندھی منتخب ہوتے وقت نیشنل ایڈوائزری کاؤنسل کی چیئر پرسن تھیں۔جہاں سے انہیں ماہانہ مشاہرہ ملا کرتا تھا)۔ ہم لوگ پھر بولے کہ بھئی اس راجہ سے متھا کوٹ کرنے کا فائدہ نہیں۔ ٹھٹھہ چھوڑ ہی دیا ہے تو آگے بڑھو، ہم لوگ پھر آگے بمبئی، گجرات اور ساؤتھ افریقہ،برما چلے گئے”۔

اس پر کسی سوال کا انتظار کئے بغیر وہ کہتا تھا “یہ سندھ پہلے اتنا بڑا تھا کہ بمبئی بھی اس میں لگتا تھا۔تو نے ویلیم میری ویدر کا نام سنا ہے کہ کھالی(خالی) رنجیت سنگھ پرج (پر ہی) بھاؤ لگا کر بیٹھے ہو”۔ جب وہ پنجابی مہمان نفی میں سر ہلا کر اپنی ناواقفیت کا اظہار کرتا تو حاجی کہتا کہ” وہ تو نے میری ویدر ٹاور تو دیکھا ہے نا، وہ میری ممانی کے پرنانا نے بنایا تھا۔سالا ایسا بمباٹ(دبنگ) گورنر تھا کہ کراچی میں بیٹھ کے بولتا تھا کہ سندھ میں جیکب آباد تک کوئی چوہا بھی ہماری مرجی (مرضی) کے بغیر نہیں ہل سکتا۔تب ان لوگ کے پاس نہ موبائیل فون تھا،نہ سالے یہ کلوز سرکٹ کیمرے،نہ پولیس موبائل،نہ کلاشنکوف،نہ     ا پن کا انٹیلی جنس بیورو، نہ آج کل کے ڈرون جہاز کہ اودھر امریکہ والی چپ فٹ کرو ادھر گھوٹکی میں میجائل مارو۔ گولی اندر تو حرامی لوگ جالندھر کے شمشان گھاٹ میں۔یہ کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر کیا رعب تھا۔ اس بیانیے میں گو ولیم میری وید کے حوالے سے مقام اور عہدے کی بڑی غلطی تھی مگر حاجی جگاری کوئی آرنلڈ ٹوائن بی تو نہ تھا کہ اس کے بیان کی صداقت کو تحقیق کی ہانڈی میں بھونا جاتا۔۔

ٹوائن بی کی کتاب

یہ سردار لوگ جو آج پاکستان میں بہت ٹھیکڑے(میمنی زبان میں اودھم مچانا، کود پھاند کرنا) مارتے ہیں۔ جب سبّی دربار ہوتا تو ادھر کا ایس ڈی ایم یا ڈپٹی کمشنر اس کی صدارت کرتا تھا۔سالے کا ایسا رعب تھا کہ پنڈال تک اپنی بگھی میں بیٹھ کر آتا تھا۔ جب وہاں پہنچتا تو تم لوگ جو یہ گندی بات کرتے ہو کہ گھوڑے کھول دیئے۔تو سردار لوگ اس کی بگھی سے گھوڑے علیحدہ کردیتے تھے۔ وہ سالا گریڈ سترہ اٹھارہ کا نواب کا بچہ بگّھی میں ہی بیٹھا رہتا تھا اور یہ سردار لوگ اس کی بگھی کو کھینچ کر اسٹیج تک لے جاتے تھے۔ اسکی گھوڑا گاڑی کھینچنا ان لوگوں کے لئے بوت (بہت) عجّت (عزّت) اور مان کی بات تھی۔ یہ گھوڑے لوگ قالین پر گندگی نہ کریں اس لئے وہ لوگ ان کو بگھی سے علیحدہ کردیتے تھے۔ اس زمانے میں مایئک وغیرہ تو ہوتا نہیں تھا لہذا عوام کو یہ بتانے کے لئے کہ مائی باپ آگیا ہے۔نعرے لگا کر شور مچاتے تھے کہ سنبھل جاؤ چمن والو، آئے دن بہار کے۔ گھوڑے کھول دیئے ہیں۔اس پر کوئی نہ کوئی یہ ضرور جتاتا تھا کہ” اب تو یہ سردار لوگ سرکار کو کیسے آنکھیں دکھاتے ہیں “۔

اس وقت فیصل آباد سے آئے ہوئے تین کاروباری حضرات کی نظریں ستر انچ کے ٹی وی اسکرین پر لگی تھیں کیوں کہ انہوں نے پاکستان کی ٹیم پر خطیر رقم لگائی تھی۔کپتان بھی ان کے علاقے کا تھا اور وہ یہ خوش گمانی قائم کئے بیٹھے تھے کہ ہندو سے ہندوستان میں شکست کھانا یہ ان کے جذبہ ہائے حب الوطنی اور جہاد کی،تضحیکِ عظیم ہے۔

بکیوں کے کاروبار کا وقت

ان بے چاروں کو یہ علم نہ تھا کہ میچ بنا ہوا ہے۔دو میچ ہندوستان ہار چکا تھا اور اب وہ پاکستان سے Clean Sweep (مکمل صفایا)کی امیدلگائے بیٹھے تھے اور دل ہی دل میں حساب لگا رہے تھے کہ کراچی کے سودے میں انہیں جو گھاٹا ہوا ہے وہ اس ایک جوئے کی بازی کی جیت سے بڑے فائدے میں بدل لیں گے۔ون ڈے کا میچ تھا اور کراچی کا شیرِ پختون، آفریدی بلا گھماتا ہوا بوم بوم کے نعروں کی گونج میں کریز پر آن پہنچا تھا۔ اس کے آتے ہی نیا بھاؤ کھل گیا تھا جس پر تینوں نے ایک لاکھ روپیہ اور پاکستان پر لگا دیا تھا۔ آخری پانچ اوور باقی تھے اور وہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ملت کا پاسباں، وہ آفریدی ہمارا،ان آخری پانچ اووروں میں ہندوستانی ٹیم کے بھوکے نکال دے گا (حاجی کی زبان میں پرخچے اڑا نا)
حاجی جگاری کے پتایا ہاؤس پر میچ کے اختتام پر جشن برپا کرنے کے لئے لڑکیاں مجرے کے لئے پہنچ چکی تھیں اور اپنے عبائے اتار کر چولی گھاگرے میں منتقل ہونے کے لئے اور اپنی لپ اسٹکوں پر لپ گلوس لگانے میں مصروف تھیں۔

حاجی ان کی میچ کی ٹینشن کم کرنے کے لئے انہیں بتانے لگا کہ” ہماری ممانی کے  پر نانا ولیم میری ویدر کو ایک دفعہ بہت غصہ آگیا۔دو سندھی جو اس کے   گارڈز تھے ان کو جب واک کررہا تھا کسی بلوچ قبیلے کے لوگوں نے پرسنل دسمنی پر جان سے ماردیا۔اس جوان کے بچے نے سندھیوں کو بولا چلو میرے ساتھ، اب تم پنجابی اور مہاجر لوگ ہر وقت ٹیں ٹیں کرتے رہتے ہو اور جو یہ سمجھتے ہو کہ سندھی لڑ نہیں سکتے تو یہ تمہارا گلط(غلط)کھیال (خیال) وہ لوگ گئے۔ ان لوگ کے آٹھ سو آدمی مارڈالے،بارہ سو کو پکڑ کر لائے۔ان کا مال بھی بہت لوٹا۔
راستے میں سے چار گاؤں سے عورتیں بھی ان لوگ نے اٹھا لیں۔مال تو اس نے مقامی لوگوں کو بانٹ دیا۔میری ممانی کا پر نانا اپن لوگ کی طرح  بہت عیاش تھا۔.عورتوں کو کراچی اٹھا لایا۔اس کی آنکھیں قنچے جیسی تھیں اب تم لوگ کو لیاری میں کوئی قنچے جیسی آنکھوں والی  عورت دکھائی دے، تو بدمعاشی مت کرنا وہ ہم لوگ کی بغیر شادی کی رشتہ دار ہے۔ تم کچھ بھی سمجھو ہم ان لوگ کی بہت عجت(عزت) کرتے ہیں “۔اس پر ایک پنجابی کہنے لگا کہ” آنکھیں تو رانی مکرجی کی،کاجول کی اور ایشوریا رائے کی بھی قنچوں جیسی ہیں “۔اس کی یہ بات سن کر حاجی کہنے لگا “کیا پتہ ان لوگ کے بڑے بھی لیاری سے ہندوستان چلے گئے ہوں،سلمہ آغا کی نانی بھی تو افغانستان سے لکھنوء اور پھر آپ لوگ کے لاہور آگئی تھی۔پہلے یہ پاسپورٹ ویزے کی پنچات تو تھی نہیں۔ جدھر چاہو، رہو”۔

سلمٰی آغا

خوشاب سے آئے ہوئے ملک صاحب اور گجر خان والے کھوکھر صاحب اس پر حیرت سے پوچھتے اچھا تو سلمہ آغا صاحبہ کی نانی افغانستان کی ہیں؟ اس پر مزید تحقیق اور سوالات سے بچنے کے لئے وہ کہتا ابھی تم لوگ میرے کو گور(غور) سے دیکھو۔وہ فلم مگل(مغل)ِ آجم(آعظم) میں جو جودھا بائی تھی۔ اس کی شکل میرے سے کتنی ملتی ہے۔اس دوران   عامر سہیل بھی آؤٹ ہوگئے۔ملک صاحب اور کھوکھر صاحب کو شک سا ہوا کہ میچ اسٹڈیم کے باہر بیٹھے کچھ کھلاڑی کھیل رہے ہیں،کیوں کہ مئے نوشی کی رفتار میں ایک دم ایک بریک سا لگ گیا تھا اور ملک صاحب نے عامر کے یوں آؤٹ ہونے سے زچ ہوکر گلبرگ، کراچی سے آئی ہوئی رخشندہ کو اپنی گود سے اتار دیا تھا اور کمر تھام کر اپنے ساتھ، قریب ہی بٹھالیا تھا۔

جودھا بائی

حاجی جگاری جس کی معلومات اس میچ کے بارے میں براہ راست ممبئی سے جڑی ہوئی تھیں اس لیے کہ یہ سارا نظام، کراچی کی تمام بکیں وہیں سے چلائی جاتی تھیں۔اس میں پاکستان کے بڑے مقتدر سیاسی افراد اور خود مشہور کھلاڑی بھی شامل ہوتے تھے۔ کہنے لگا کہ” لگتا ہے اپنے ملک صاحب کو بلیک لیبل نہیں چڑھ رہی”۔وہ اٹھا اور Bushmill کی 1608 وہسکی اٹھا لایا اور کہنے لگا “یہ کینیڈا کی وہسکی ٹرائی کرو ملک صاحب۔آپ کی رخشندہ کی طرح یہ بھی اٹھرہ سال کی ہے”۔
حاجی جگاری کا بیان جاری تھا “تو میں آپ کو بتارہا تھا کہ یہ آپ لوگ کی، جو میرا ؔ ہے، اس کے بڑے بھی اولان بطور سے آئے تھے۔ یہ ہمارے کو بسنت پر ملی تھی “۔اولان بطور کا نام ان دونوں پنجابی مہمانوں کے لئے اجنبی تھا۔
ان کی حیرت کا اثر کم کرنے کیلئے رخشندہ کہنے لگی “حاجی صاحب آپ کی میرا سے ملاقات کیسے ہوئی”؟؟
“وہ ہمارا ایک میمن دوست ہے سمیم(شمیم) نسیم ممی۔اس کی لاہور میں بسنت پارٹی تھی۔ اب میرے کو پوچھو کہ اس کو ہم لوگ سمیم(شمیم) نسیم ممّی کیوں بولتے ہیں؟ ان کے سوال کا انتظار کیے  بغیر ہی اس نے کہا اس نے ہمارے اسکول کے ڈرامے میں دو لڑکیوں سمیم(شمیم) اور نسیم کا رول اکیلے ہی کیا تھا، بڑا سیٹھ بن گیا مگر اس کی گوت(شناخت) یہ سمیم(شمیم) نسیم ہی رہی۔سب کا کھیال(خیال) بہت رکھتا ہے۔اس لئے اُس کو ہم لوگ ممّی بولتے ہیں باقی لوگ اس کو پھوپھی بولتے ہیں “۔

پھر اس ملاقات کا کیا ہوا؟ ہمیشہ کی بے تاب رخشندہ نے پوچھا۔
میں تو میرا کو دیکھ کر،دیکھتا ہی رہ گیا۔ کیا اشٹائل تھا قسم سے۔ میں نے بولا “میراؔ جی میرے کو لگتا ہے آپ کی پر نانی کی ہمارے پر دادا سے ملتان میں ملاقات ضرور ہوئی ہے۔وہ میری بات سن کر بہت ہنسی۔ میرا ؔہنستی بہت اچھا ہے، مگر لوگ اس کی انگریجی کا مجاق بنا کر بے چاری کو رلانے پر لگے رہتے ہیں “حاجی نے میرا کا مقدمہ خود سے لڑتے ہوئے کہا۔

فلمسٹار میرا

اس پر خوشاب والے ملک صاحب پوچھنے لگے کہ “یہ اولان بطور کیا ہے”؟
“یہ تم پنجابی لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ تم کو بس کھالی (خالی) ساڈا لاہور، ساڈا سیالکوٹ،مامے دا مانچسٹر تے پھاپھو جی دا چکاگو(شکاگو) یاد ہے تم کو آگے کی کوئی کھبر(خبر) نہیں۔اولان بطور، مگنولیا(منگولیا) کا کیپیٹل ہے”۔حاجی نے طنز کیا۔
وہ بے تابیوں کی ماری رخشندہ کو اولان بطور، مگنولیا(منگولیا)سے زیادہ میرا ؔ  کی باتوں میں دل چسپی تھی۔وہ پوچھنے لگی کہ” آپ کو کیسے پتا لگا حاجی صاحب کہ میرا کا تعلق بھی منگولوں سے ہے”؟
حاجی کہنے لگا” یہ انگریج(انگریز) اور عرب لوگ بولتے ہیں کہ انسان میں سات پشتوں تک ڈی۔این۔اے کا اثر آتا ہے۔یہ میراؔ بھی ہلاکو خان جیسی انگلس(انگلش) بولتی ہے۔اب یہ ہلاکو خان کیا کرتا تھا کہ ملتان میں ہم لوگ سے جنگ چل رہی ہے۔آدمی پر آدمی مر رہا کہ یہ دن کے ساڑھے گیارہ بجے اعلان کرتا تھا ڈئیر Enemies وی میٹ آفٹر دی باتھ روم بریک۔ہمارے بڑے بولتے تھے سالے منگول اور ملتان کے لوگوں میں کوئی ایٹی کیٹ نہیں دن میں گیارہ بجے کون ٹائلیٹ جاتا ہے۔

اب اس کے اس اعلان سے ہم راجپوت لوگ کی مصیبت ہوجاتی تھی۔راجپوت کی تلوار ایک دفعہ نیام سے باہر آجائے تو بہت مشکل سے واپس نیام میں جاتی ہے۔تو ہم لوگ کیا کرتے ہم لوگ اپنی لیڈیز جنگ میں بھیگی(ساتھ) لاتے تھے۔ ہم لوگ پھر ان کے ساتھ اس باتھ روم بریک میں اصلی تلواروں سے ڈانڈیا راس رمتے (کھیلتے) تھے”۔

اس پر احساس برتری کی ماری کراچی کے گلبرگ(کراچی کی مڈل کلاس مہاجر آبادی) کی وہ مہاجر، رخشندہ ایک لطیف طنزیہ لہجے میں  پوچھنے لگی “اچھا تو آپ لوگ جنگیں بھی کرتے تھے اور اصلی تلواروں سے ڈانڈیا راس (Stick Dance) بھی کرتے تھے”۔

ڈانڈیا راس

حاجی جگاری اس کے اس لطیف طنز کو سمجھ تو گیا مگر ایک سلیقے سے خوشاب والے ملک صاحب سے پوچھنے لگا “ملک صاحب آپ کو یہ رخشندہ بہت پسند ہے ہر دفعہ فرمائش کرکے اسی کو بلاتے ہو تو آپ نے کیا او لیول کا اردو کا پرچہ دینا ہے”؟؟

اس پر ملک صاحب اس کا دفاع کرتے ہوئے کہنے لگے۔یہ شعر بہت اچھے سناتی ہیں۔
“تو اس کو بولو ہم کو بھی ایک جور(زور) کا سعر(شعر) مارے”۔ حاجی نے فرمائش کی۔
“تنہائی میں “۔رخشندہ نے شعر سنانے کے حوالے سے اپنی شرط عائد کی۔
“تو ملک صاحب اور کھوکر بھائی دوسرے کمرے میں چلے جاتے ہیں “۔ حاجی نے تجویز پیش کی
“سنادیجئے نا۔” ملک صاحب نے اس کو گلے لگاتے ہوئے اصرار کیا۔
رخشندہ نے استاد داغ دہلوی کے دو اشعار سنائے ع
وہ قتل کرکے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا۔۔

حاجی نے یہ شعر سن کر واہ واہ کرتے ہوئے اسے دو ہزار روپے کے نئے نوٹ پیش کئے تو وہ شوخی سے کہنے لگی اتنے اچھے اشعار اور اتنے بڑے سیٹھ کی جیب سے بس دو ہزار روپے ہی نکلے”
اس کی یہ بات سن کر حاجی کہنے لگا ” اڑے اتنے پیسے تو اوریجنل ساعر(شاعر) کو بھی پوری چوپڑی(دیوان) لکھنے پر نہیں ملے تھے”۔
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ شاہد آفریدی،کامران اکمل اور سہیل تنویر بھی دس رن کے اندر آوٹ ہوگئے اور اس کے بعد باقی دو کھلاڑی بھی آؤٹ ہوکر میچ ہار گئے اور جواری اپنی رقم،ان کا گھاؤ ہلکا کرنے کے لیے  حاجی نے کہا” مٹی پاؤ سیریز تو اپن کے پاکستان کے پاس ہے نا”۔

عدنان کو اس کے ایک افسر نے بتایا کہ افسروں کے ایک گروپ کی ملاقات نواب محمد اکبر خان بگٹی سے ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ” یہ سّبی دربار، جس میں اب، آپ کا صدر مملکت اصرار کر کے شریک ہوتا ہے اس کی بمشکل ڈپٹی کمشنر یا اس زمانے میں علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر صدارت کرتا تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے اگر میرے والد صاحب چوپال یا مجلس میں بیٹھے ہوں اور علاقے کا پٹواری یہ بلاوا دینے آجائے کہ ان کو تحصیلدار صاحب نے یاد کیا ہے تو ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اگر چوپال کے دروازے پر ان کی اپنی جوتی نہ ملے تو وہ کسی بھی مہمان کی جوتی پہن کر اس سے ملنے کے لئے بھاگتے تھے اور اب یہ عالم ہے کہ میری مرضی ہے کہ میں صدرِپاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی فون کال ریٹرن کروں یا نہ کروں۔یہ بات انہوں نے سن 1974کے آغاز میں کہی تھی”۔

یہ حاجی کے لئے انہیں نیچا دکھانے کا ایک سنہری موقع ہوتا ،وہ مسکراکر جتلاتا تھا کہ” اب پاکستان میں ایسے لوگ بڑے بن گئے ہیں جن لوگ کو انگریزوں کے زمانے میں سرکار کا عہدہ نہیں دیتے تھے۔یہ انگریز لوگ کتے،گھوڑے اور انسان کی نسل دیکھ کر اس سے کام لیتے تھے”۔ ہندو لوگ اسی لئے بولتے تھے کہ جس کا کاج(کام) اسی کو ساجھے، ابھی سوچو کہ تم اپنے کریم مسوٹے کو سپریم کورٹ کا جج لگادو یا اسمبلی کا اسپیکر بنا دو تو کیا ہوگا یہ ہر وقت دھندے کی سوچے گا۔ کس کا بھاؤ گرگیا کس کمپنی کا  شئیر اوپر چڑھ گیا۔ عوام کا تو اس کو کوئی کھیال ج (خیال ہی) نہیں ہوگا۔ ایسے موقعوں پر وہ اپنا پسندیدہ جوک، وہسکی کا گلاس تھام کر صوفے پر پیر سمیٹ کر بیٹھتے ہوئے، ضرور سناتا تھا۔

کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد،ایک میمن کی اور کھجوری خاص (دہلی کا ایک علاقہ)کے کنجڑے کی دوستی ہوگئی۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے کے بعد،پہلے تو یہ عید گاہ میدان میں رہتے تھے مگر قسمت نے دونوں کا ہاتھ، ساتھ ساتھ پکڑا اور دونوں ہی بہت مالدار ہو کر ناظم آباد میں پاس پاس بنگلے بنا کر رہنے لگے۔دونوں میں دوستی تو بہت تھی۔مگرآپس میں  دولت کی ریِس اور اپنی برتری ثابت کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بڑا شدید حسد بھی تھا۔

اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ امروہے کا ایک پینٹر جو ہجرت کے بعد یہاں آن کر قلاش ہوگیا تھا۔اپنا رشتہ، ساداتِ امروہہ سے جوڑتا تھا۔اوکاڑہ کا ناہنجار مہاجر زمیندار راحیل بخاری جس کی ان امروہہ کے سیدوں میں میں کافی جان پہچان اور رشتہ داریاں تھیں۔ وہ خود بھی ہندوستان سے ہجرت کردہ مہاجرین میں سے تھا۔ ان میں سے کچھ کو سادات، کچھ کو جماداتِ امروہہ ا ور وہاں کے کچھ بوڑھے تنقید پسند بڈھوں کو جمادات اور بخاراتِ امروہہ اور ان کی کچھ خوب صورت خواتین کو ثمراتِ امروہہ کہتاتھا۔
را حیل بخاری چونکہ خود سیّد تھا لہذا اس کے لئے یہ تسلیم کرنا آسان نہ تھا کہ ہندوستان میں اتنی کثرت سے سیّد پائے جاتے ہوں۔چونکہ خود ازدواجی بندھنوں سے جان چھڑانے میں ید طولیٰ رکھتا تھا لہذا دوستوں کی محفل میں جب کسی کے سیّد ہونے کی بات چلتی تو وہ کہا کرتا تھا کہ سیّد ہونے کا Litmus Test یہ ہے کہ اس پر آگ اور بیوی کا اثر نہ ہو۔

اس کی بیوی والی بات سے تو اکثر ملنے والے واقف تھے البتہ آگ والی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ جلتی ہوئی دیا سلائی منہ میں ڈال لیتا تھا۔عدنان اس کی اس حرکت پر ہر دفعہ یہ ہی کہتا تھا کہ جس کی زبان تین بیویوں کو نو مرتبہ طلاق! طلاق!!طلاق!!! کہنے سے نہ جلی اس کی زبان، پاکستان کی بنی ہوئی غیر معیاری، جلتی ہوئی دیا سلائی سے کیا جلے گی۔
یہ پینٹر بے چارہ ایک تصویر فروخت کرنے پہلے میمن کے گھر پہنچ گیا،اس کی طبیعت میں غربت اور قلاشی کے باوجود Ego بھی بہت تھی ساتھ ہی اسے اپنے فن پر ناز بھی بہت تھا۔ اس کے فن پارے میں ایک تصویر ایک مغرور جرنیل کی تھی۔ فوجی وردی میں ملبوس تمغوں سے سجا ایک پیکرِ طمطراق و تکبر، میمن کو تصویر پسند تو بہت آئی مگر چونکہ اس نے کوئی سودا زندگی بھر بھاؤ تاؤ کے بغیر نہیں کیا تھا، لہذا پینٹر جس نے ان سستے دنوں میں بھی اس پورٹریٹ کے ہزار روپے مانگے تھے اس بات پر رضامند نہ ہوا کہ اس کی آخری بولی 990روپے پر اپنی پینٹنگ فروخت کرے۔ سودا ناکام رہا اور وہ پینٹر تصویر بغل میں دبائے جب میمن کے گھر سے باہر نکلا تو اتفاقاً اسے کنجڑے کے سالے نے دیکھ لیا۔
سالے نے اپنے سلامو کنجڑے بہنوئی کے گھر سے کچھ دیر پہلے ہی اس پینٹر کو لپک لیا۔ ہاشو گولڈن کے گھر،آمد کا مقصد پوچھ کر اس کی سودے میں ناکامی کی داستان اور اسکی آمد کی اطلاع اپنے بہنوئی صاحب کو دی۔ یہ بہنوئی صاحب اب حکومت کے ٹھیکوں سے خاصے مالدار ہو چلے تھے۔پینٹر صاحب آئے توسلامو کنجڑا جسے اب سب سیٹھ سلامت خان برکاتی پکارنے لگے تھے۔ اس نے پینٹنگ دیکھ کر اس سے صرف ایک سوال پوچھا کہ سیٹھ ہاشو گولڈن نے اس پورٹریٹ کی کیا قیمت لگائی تھی۔امروہے کا پینٹر ضرورت مند تھا پر بے ایمان کسی طور نہ تھا۔اس نے سچ سچ بتادیا کہ اس نے ہزار روپے مانگے تھے اور سیٹھ صاحب سے سودا اس لئے نہ ہوپایا کہ انہوں نے قیمت دس روپے کم دینا چاہی تھی۔

سلامو نے اپنی واسکٹ سے سو روپوں کے نوٹ کی کراری نئی گڈی نکالی اور گن کر دس نوٹ یہ کہہ کر اسے دے دئیے کہ فن کی قدر ہر شخص نہیں کرسکتا۔سالا سونے کا اسمگلرکیاجانے آپ کے آرٹ کی قدر(آپ کو یہ جان کر بہت حیرت ہوگی کہ پاکستان میں 500روپے کا نوٹ پہلی دفعہ سن1986ء میں اور ہزار روپے کا نوٹ اس کے ٹھیک ایک سال بعد ضیا الحق کے دور میں اس عبارت کے ساتھ کہ رزقِ حلال عین عبادت ہے، لوگوں کی جیب میں آیا تھا۔)
سلامو کو،گو اس بنگلے میں اب رہتے ہوئے سال بھر سے اوپر کا عرصہ گزرا تھا مگر کہیں سے اس نے سن لیا کہ لوگ جب نیا گھر بنواتے یا خریدتے ہیں تو ایک پارٹی کرتے ہیں جسے House Warming Party کہتے ہیں۔ سو اس نے بھی وہ تقریب سجا لی اور دعوت میں ہاشوگولڈن کو بھی بلایا۔
اس زمانے کی مشہور وہسکی Vat-69 کا پہلا پیگ ابھی ختم بھی نہ ہوا تھا کہ اچانک ہاشو گولڈن کی کی نظر ڈرائینگ روم کی اس دیوار پر پڑی جہاں امروہے کے آرٹسٹ کا بنایا ہوا،کسی فوجی جرنیل کا پورٹریٹ اپنی پوری آب و تاب سے ایک سنہری فریم میں جگمگا رہا تھا۔ سلامو کنجڑے نے اس پر تازہ موتیئے کے پھولوں کا ایک گجرا بھی ڈالا ہوا تھا۔اسے افسوس ہوا کہ کہ اس نے دس روپے کی خاطر کیا عمدہ ڈیکوریشن پیس چھوڑ دیا۔مگر اس نے پھر بھی احتیاطاً سلامو سے پوچھ لیا کہ “یہ کس کی فوٹو ہے”؟


سلامو کے لئے یہ سیٹھ سلامت خان برکاتی بننے کا نادر موقع تھا۔اس کے دل میں فتح کی ایک کمینی خوشی تھرکنے لگی۔وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا اور شرکاء محفل کی جانب دیکھ کر اترا کر کہنے لگا۔” ہاشو بھائی! یہ ہمارے دادا حضور کی تصویر ہے وہ انگریز فوج میں پہلے مسلمان جرنیل تھے جنہیں جیتے جی،وکٹوریہ کراس, ملکہ وکٹوریہ کے ہاتھ سے ملا تھا رانی وکٹوریہ کی بڑی خواہش تھی کہ ہمارے دادا ان سے بیاہ رچاتے مگر دادا حضور کی ایک ہی شرط تھی کہ پہلے مسلمان ہوجاؤ “۔
“اچھا یہ تو آپ کے دادا حضور ہیں۔بس دس روپے کی کھوٹ رہ گئی ورنہ یہ ہمارے دادا حضور ہوتے”۔ہاشم گولڈن نے بے چارگی سے جواب دیا۔
جاری ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *