فائزہ افتخار کا آنگن ۔۔۔۔۔رضوان ظفر گورمانی

 میں نے نوے کی دہائی کے پہلے سال آنکھ کھولی. میں اور میرے ہمجولی پاکستان کی اس نسل میں سے ہیں جن کو بچولا کہا جا سکتا ہے. ہم نے ٹیکنالوجی کے بنا زندگی کو انجوائے کیا اور اب ٹیکنالوجی سے بھرپور زندگی بھی انجوائے کر رہے ہیں .ہم سے پہلے والے جدید ٹیکنالوجی سے نابلد تو خیر نہ ہوں مگر ماہر بھی نہیں. جدید ٹیکنالوجی دسترس میں ہونے کے باعث انہوں نے حسب ضرورت ٹیکنالوجی کو اپنایا اور ہماری بعد آنے والی نسل پی ٹی وی کے سنہرے دور اور گاؤں کی سادہ طرز زندگی سے ناواقف ہیں . نوے کی دہائی کا بچپن بہت خوب صورت تھا. آج کی نسل تصور کر سکتی ہے کہ واک مین ٹیپ ریکارڈر ڈیک و میوزک سسٹم عیاشی تصور ہوا کرتا تھا. پسند کے گانے آڈیو کیسٹ پر ریکارڈ ہوتے اور ریپیٹ کے لیے ریورس کا بٹن دبا کر منٹوں انتظار کرنا پڑتا یا پھر کیسٹ میں پین وغیرہ پھنسا کر ہاتھوں سے ریوائینڈ کیا جاتا . سینما اور موویز سال سال بھر بعد میسر ہوتی .تب بچوں کا زیادہ وقت کمپیوٹر لیپ ٹاپ ٹیب سمارٹ فون ویڈیو گیمز سوشل میڈیا کی بجائے گلی ڈنڈا کرکٹ اور اس قسم کی دوسری جسمانی کھیل کھیلتے گزرتا تھا. انٹرٹینمنٹ کا واحد ذریعہ صرف اور صرف ٹی وی تھا جو گاؤں میں بھی خال خال میسر تھا .چونکہ ہمارے بچپن میں بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی کے بعد رنگین ٹی وی دور بس شروع ہی ہوا تھا. ریمورٹ کنٹرول تو ویسے بھی ہر ٹی وی سپورٹ نہیں کرتا تھا آٹو سلیپ اور گیمز بھی بہت بعد کے ماڈلز میں متعارف کروائی گئیں تھیں .چوائس کے نام پر دو ہی چینل میسر تھے پی ٹی وی اور پی ٹی وی ورلڈ.۔۔بعد الذکر چینل ویسے بھی ہم بچوں کے لیے بوریت بھرا تھا کیونکہ سیاست و نیوز ہماری عمر کے بچوں کا  مسئلہ نہیں ہوا کرتا تھا. ریمورٹ کی کمی کا احساس تب ہوتا جب نیند کے غلبہ پاتے ہی آپ کو اٹھ کر ٹی وی کے قریب جا کر اسے بند کرنا پڑتا تھا۔

لے دے کر پی ٹی وی ہی ہماری کل کائنات تھا جنید جمشید سجاد علی شہزاد رائے ابرارالحق حمیرا ارشد شازیہ خشک ہارون فاخر اور جواد احمد کے گانے ہمارا کریز ہوتے تھے .جن کی ویڈیو اتوار کو نشر ہونے والے پروگرام سنڈے برنچ میں دیکھنے کو ملتی تھیں یا پھر کبھی کبھار چھ والے انگریزی بلیٹن کے بعد بونس میں پی ٹی وی اک آدھ گانا چلا دیتا .چھ والے بلیٹن سے قبل کشمیری عوام پر ہونے مظالم کے مناظر پر مشتمل جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم یا خان صاحب کی حمد کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے روزانہ کی بنیاد پر چلتا تھا ..صبح سات بجے والےکارٹون کے بعد سکول جانا ہوتا تھا سکول سے واپسی پر قیلولہ ہوتا. سہ پہر میں وضو کر کے گاؤں کی مسجد کا رخ کرتے وہاں حافظ صاحب ہمیں دینی تعلیم دیا کرتے تھے .پھر آکر ہوم ورک کرتے شام کو چھ بجے والے انگریزی بلیٹن کے بعد ہماری طلسماتی دنیا کا آغاز ہوتا .ٹی وی باہر نکالا جاتا ازسر نو انٹینا کی سمت درست کی جاتی اور ہم سب بہن بھائی ٹی وی کے سامنے ٹک کر بیٹھ جاتے .پھر نو والا خبرنامہ ہمارے لیے اک طرف تو بوریت کا تو دوسری طرف سونے کا پیغام لاتا. شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ آدھے گھنٹہ کے خبرنامے کے بعد طارق عزیز شو یا ہفتے کی رات ریسلنگ دیکھنے کے لیے ہم جاگے ہوں.

تب شام کے ڈرامے ہماری کمزوری ہوا کرتے تھے عینک والا جن ،دھواں ،حقیقت ،ففٹی ففٹی ،شاشلک، دل لگی، راہیں، الفا براو چارلی، شام سے  پہلے، بیٹی، بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت درجنوں ڈرامے ایسے ہیں جو ہمارے ذہنوں پر نقش ہیں .پوری دنیا میں ہمارے ڈراموں کا راج تھا یہ ڈرامے پورا خاندان بہو بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتا تھا. پھر اک دور ایسا آیا کہ ہمارے ڈراموں پر انڈیا کی چھاپ دکھائی دی اور ڈرامے مقصدیت سے خالی ہو گئے. وہ سبق آموز معیاری ڈرامے وہ صاف ستھرا مزاح سب خواب ہو گیا. کمرشلائز ہوتی ڈرامہ انڈسٹری میں محبت پر مذہب کا تڑکا لگایا گیا .سماج ثقافت روایات جیسے موضوعات کی جگہ طلاق حلالہ کورٹ میرج اور تفریح کی جگہ ڈپریشن نے لے لی .ہمارا پاکستانی ڈرامے سے اعتبار اٹھ گیا .دیگر عوام نے بھارت کے ساس بہو سیریل سے لے کر ترکی کے درآمد شدہ ڈرامے تک آزمائے مگر ہم میں اتنا حوصلہ نہیں تھا .سو ہم نے ڈراموں سے ناطہ توڑ لیا ۔

اک عرصے کے بعد فائزہ افتخار کے لکھے گئے آنگن نامی اک ڈرامے کی توصیف سنی جانے دل میں کیا سوجھی کہ دیکھنے کی ٹھان لی پہلی قسط سے لے کر آخری قسط تک اس ڈرامے نے اک پل کے لیے بھی مایوس نہیں کیا. آج جب عصر حاضر کے ڈرامے ڈرامہ نگاری کے اصول و ضوابط کے منافی چل رہے ہیں. جب ڈراموں کا مرکزی نکتہ توڑنا مایوسی اور سازش دھوکہ اور رشتوں کے تقدس کی پامالی رہ گیا ہے .جہاں مزاح کا نیا روپ نسل پرستی قومیت مسلک یا علاقہ پر طنز بن چکا ہو .کہیں پٹھانوں پر لطیفے بنائے جارہے ہیں تو کہیں سندھی و سرائیکیوں کی سادہ لوحی کو رگیدا جا رہا ہے. مسلک و حلیہ کی بھد اڑانا معمول ہو وہاں قاسم علی کی ڈائریکشن میں فائزہ افتخار کا تحریر کردہ ڈرامہ آنگن ہوا کا تازہ جھونکا بن کر سامنے آیا ہے. ڈرامہ سیریل آنگن میں نہ صرف سچوئشنل کامیڈی بلکہ فی البدیہہ جملوں سے محفل کو زعفران بنانا فائزہ افتخار کا ہی کمال ہے .رشتوں میں مان محبت اور کٹھا میٹھا پن لیے یہ ڈرامہ آج کی نسل کو اک اصلاحی پیغام احسن طریقے سے پہنچانے میں کامیاب ہوا ہے .قوی خان نور الحسن ثمینہ احمد ارسہ غزل زینب قیوم وسیم عباس حسن احمد عفت عمر مسرور پارس عظمیٰ حسن اور منشا پاشا سمیت ہر چھوٹے بڑے اداکار نے ایسی پرفامنس پیش کی ہے کہ مدتوں انہیں کرداروں سے جانے جائیں گے .خصوصاً ثمینہ احمد قوی خان نور الحسن وسیم عباس اور مسرور پارس نے اس ڈرامے میں جان ڈال دی

میں امید کرتا ہوں کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری آنگن جیسے مزید ڈرامے بنا کر اپنی اصل کی طرف لوٹ کر کھویا ہوا وہی پرانا مقام ضرور حاصل کرے گی اور میری نسل کے روٹھے ہوئے ناظرین دعا کرتے ہیں کہ ڈرامہ سیریل آنگن پر بس نہیں ہو گی بلکہ یہ آغاز ہو گا اس تسلسل کا جو ہمیں ڈراموں کے ہمارے سنہری دور میں واپس لے جا سکے.

Avatar
رضوان گورمانی
سرائیکی وسیب سے ایک توانا اور نوجوان آواز، کالم نگار روزنامہ خبریں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *