شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔سلیم فاروقی

آج ایک دوست نے یہ سوال کرکے کہ حالیہ انتخابات کے بارے میں کیا خیال ہے ،یہ شفاف تھے یا نہیں؟ بھرے ہوئے دل میں جیسے سوئی چبھو دی ہو۔ اور دل میں بھرا تما م غبار ایک دم سے باہر آگیا۔ ان کو جو جواب دیا وہ ضروری ترمیم و تدوین کے بعد یہاں پیش ہے۔ . حالیہ انتخابات شفاف تو یقیناً تھے۔ جو کچھ ہوا سب نے دیکھا، پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے، لیکن ہم اس کو شفاف اور منصفانہ کہنے پر بضد ہیں۔ یہ ٹھیک ہے صبح آٹھ سے چھ بجے تک پولنگ اسٹیشنز میں بغیر کسی مداخلت کے عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے۔ کہیں سے کسی دھونس دھاندلی کی اطلاع نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے سیاسی گروپ اتنے سدھر گئے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی بلکہ پہلی بار پولنگ اسٹیشن میں فوج موجود تھی اور اگر ان کی موجودگی میں کوئی ایسا کرتا تو وہ صحیح معنوں میں فوج چیلنج کرنے کے مترادف ہوتا۔ اور اتنی جرات یقیناً کسی سیاسی گروپ میں نہیں ہے کہ وہ ایسا ایڈوینچر کرسکے۔

 جو کچھ ہوا پولنگ ختم ہونے کے بعد ہوا۔ میں آپ کا یہ دعویٰ مان لیتا ہوں کہ کسی پولنگ ایجنٹ کو زبردستی نہیں نکالا گیا، حالانکہ یہ شکایت متعدد پولنگ ایجنٹس کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن پولنگ ختم ہوجانے کے بعد پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 نہ دینا، خواہ کوئی بدنیتی نہ ہو اتنی بڑی بے ضابطگی ہے کہ اس پر صحیح معنوں میں پورا انتخاب ہی کالعدم ہوجانا چاہیے  اور ذمہ داروں سے ضمنی انتخاب کا خرچ وصول کرنا چاہیے۔ . پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپر نکل جانے کے بعد ریٹرننگ آفیسر کا فارم 45 دینے کی آفر بالکل ایسے ہی ہے جیسے  مریض کو فوت ہوجانے کے بعد پانی پینے کی پیشکش کی جائے۔ الیکشن کمیشن یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتا ہے کہ پولنگ ایجنٹ بغیر نتیجہ لیے اپنی مرضی سے  پولنگ اسٹیشن چھوڑ گئے۔ جناب یہ کارِسرکار ہے کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے، پریزائیڈنگ آفیسر نے پولنگ ایجنٹ سے بغیر نتیجہ لیے پولنگ اسٹیشن اپنی مرض سے چھوڑنے کی تحریر کیوں نہ لی؟ . رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم نہیں ناکام ہوا بلکہ ناکام الیکشن کمیشن ہوا۔ اس سسٹم پر سوال تو پندرہ دن پہلے سے ہی اٹھنا شروع ہوگئے تھے جب الیکشن کمیشن نے حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ خوانی کرنے کی کوشش کی۔

اس خوش فہمی پر پورا پلان بنا لیا دیہی علاقے کے پرائمری اسکول ٹیچر نہ صرف اپنا اپنا موبائل فون لے کر آئیں گے بلکہ ان کا فون اس قابل بھی ہوگا کہ نہ صرف وہ ان کی ایپ کو سنبھال لے گا بلکہ وہ اساتذہ اس میں اتنے ماہر بھی ہوں گے کہ اس کو آرام سے چلا بھی لیں گے، حالانکہ ان اساتذہ کے پاس عموماً سادہ فون ہیں بلکہ وہ ان میں بھی اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ اگر کوئی نیا نمبر محفوظ کرنا ہو تو کسی نوجوان کی مدد لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ . ان حالات میں الیکشن کمیشن کا کوئی پلان بی نہ ہونا تو مرے پر درے والی بات ہے، الیکشن کمیشن نے کسی غیرمعمولی حالت میں رزلٹ کو الیکشن کمیشن تک پہنچوانے کا متبادل کیا انتظام کیا ہوا تھا؟ کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔

. ریزلٹ لے جانے کے بعد پولنگ اسٹاف ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں جس طرح ذلیل ہوا اس پر ماتم کرنا بھی ہلکا لفظ ہی ہے۔ پریزائیڈنگ آفیسرز وہاں پہنچنے کے بعد بھی آٹھ سے دس گھنٹے تک ذلیل ہوتے رہے تب جاکر ان کا نمبر آتا تو وہ کمپیوٹر پر ڈیٹا انٹری کروانے کے بعد ہی فارغ ہوپاتے۔ الیکشن کمیشن نے ڈیٹا انٹری کے لیے  خاطرخواہ تعداد میں عملے کا انتظام کیوں نہیں کیا تھا؟ . اتنے سارے سوالات اور شکوک کے بعد بھی اگر الیکشن کمیشن منصفانہ انتخابات کا دعویٰ کر رہا ہے تو ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ” شرم تم کو مگر نہیں آتی”۔۔۔۔۔

. محترم چیف الیکشن  کمشنر صاحب کے لیے ان تمام ہوش رُبا “کامیابیوں” کے لیے صائب مشورہ یہ ہے کہ وہ ایک عدد تیس بور کا پستول صدرپاکستان کی کنپٹی پر رکھ کر اپنے ادارے کے لیے تمغہ حسن کارکردگی وصول کرلیں، ان شاء اللہ افاقہ ہوگا۔ بلکہ اگر ہوسکے تو کوئی تگڑم لڑا کر امن کا نوبل انعام حاصل کرلیں تو اس سے بڑھ کر ملک و قوم کی کیا خدمت ہوگی۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *