رمضان : ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

میرا ایک دوست ہے جس کا نام تو کچھ اور ہے لیکن لوگ شاہی کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اس کا یہ نام کیسے پڑا وہ ایک الگ کہانی ہے ابھی جس بات کا ذکر کرنا ہے وہ اس کی تین خصوصیات ہیں جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ پہلی اس کے ٹھنڈے لطیفے جنہیں سنانے کے بعد صرف وہ ہنستا ہے، دوسری اس کی ہنسی جس کو بیان کرنے کے الفاظ میرے پاس نہیں بس آپ یہ سمجھ لیں کے دمہ کی آخری اسٹیج پر مریض کو جب بستر مرگ پر آخری دورہ پڑتا ہے تو اس سے ملتی جلتی آواز نکلتی ہے، یعنی آپ اندازہ لگائیں کہ اگر چار پانچ لوگوں کی محفل میں وہ ہنسنا شروع کرے تو جو لوگ مانوس ہیں فوراً سمجھ لیں گے کہ یہ شاہی ہے لیکن نئے افراد اپنے پیروں، کونوں کھدروں وغیرہ میں دیکھیں گے کہ یہ کونسا نیا جانور آگیا اور حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی جب پتا چلے گا کہ انسان ایسی آواز میں ہنس بھی سکتا ہے ۔ اس کی تیسری اور آخری خصوصیت یہ ہے کے اسے یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ایک دانش ور ہے اور کتابوں سے بہت پتے کی باتیں نکال کر لاتا ہے، ویسے وہ ایک پڑھا لکھا انسان ہے اور ایک یورپین ملک میں ویب ڈویلپر کا کام کرتا ہے ، مطالعہ کا بھی شوقین ہے، بہت سے مشہور رائٹرز کو پڑھتا ہے لیکن مجال کرے کہ کبھی کوئی کام کی بات کرے۔

مثال کے طور پر ایک روز وہ میرے پاس آیا اور بولا۔ علی! میں کئی مہینوں سے اس بات پر ریسرچ کر رہا ہوں کہ وہ کونسا طریقہ ہے جس سے غیر اخلاقی لفظ اخلاقی ہو جائیں، بظاہر یہ ایک بیکار ریسرچ تھی مگر میں نے اس کا دل رکھنے کو پوچھا” تو بھائی کوئی کامیابی ملی، تو فوراً بولا”ہاں ملی نا، تم یہ بتاؤ وہ کونسا غیر اخلاقی لفظ ہے جس سے پہلے اگر ایک سبزی کا نام لگا دیا جائے تو وہ اخلاقی ہو جاتا ہے”میں خاموش رہا تو خود ہی فرمانے لگے وہ لفظ ہے”گشتی” اور اگر اس سے پہلے ایک سبزی یعنی”مٹر” کا اضافہ ہو جائے تو ہم اسے کہیں بھی بول اور لکھ سکیں گے۔ یہ کہہ کر وہ اپنی مخصوص ہنسی ہنسنے لگا، اور میں ۔ میں نہیں ہنسا، ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔ شاہی! تمہیں شاید یقین نہ آئے کہ اس دنیا میں بعض دانشور صرف اس وجہ سے زندہ ہیں کہ وہ میرے دوست ہیں ۔

اب آپ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ سب آپ کو کیوں بتا رہا ہوں تو اس کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ کہ آپ حضرات کو انٹرٹین کرنا تھا دوسری اور اہم وجہ یہ کہ رمضان میں عصر کے بعد میں جم میں ایکسرسائز میں مصروف تھا اور وہاں ایک پروگرام چل رہا تھا جس پر ایک معروف اینکر کچھ مولانا حضرات کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ اور بحث چل رہی تھی ” اللہ کہاں موجود ہے” ۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ وہ ہر جگہ ہے جبکہ دوسرے کا کہنا تھا کہ وہ عرش پر ہے ۔ اسی لا حاصل بحث کو سنتے 15 منٹ گزر گئے ۔ لیکن نتیجہ صفر ہی رہا۔پھر ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں اسی پروگرام میں بحث چل رہی تھی کہ گیارہویں کی نیاز جائز ہے یہ نہیں ۔ پہلے صاحب نے اسے حرام قرار دیا جبکہ کچھ بحث اور دلائل کے بعد دوسرے صاحب نے یہ کہہ کر معاملہ ہی ختم کر دیا کہ جو حلال کے ہیں وہ حلال سمجھیں اور جو حرام کے ہیں وہ حرام سمجھیں ۔ یہ سب سے بھاری دلیل تھی ج سکے بعد بحث کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔

اب آپ غور کریں کہ اس دنیا کے خالق، رب کائنات نے اس دنیا اور اپنی سب سے بہترین تخلیق”انسان”کی ہدایت کے لیے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا اور اپنا پیغام قرآن کریم کی صورت میں عطا کیا۔ جس کی روشنی میں چل کرعرب کے چرواہے نہ صرف روم و فارس کے مالک بنے بلکہ انہیں زندگی گزارنے کی وہ سمت دکھائی جس سے وہ خطے آج تک نہیں نکل پائے۔ جس پیغام نے نیم وحشی قبائل کو ایک قوم میں بدل دیا۔ آج ایک شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ اس کتاب کو احادیث کو، فقہ، فلسفہ، منطق اور نجانے کیا کچھ پڑھتا ہے اور پندرہ، بیس، پچیس سال پڑھتا رہتا ہے ۔ پھر اس سے سوال کیا کئے جاتے ہیں۔

چھپکلی کو مارنے کا کتنا ثواب ہے۔
رکوع سے پہلے اور بعد رفعیدین کیا جائے کہ نہیں؟
داڑھی کی مقدار تو بتا دیں ۔
وہ انگوٹھے چومنے والا مسئلہ واضح کردیں۔
پائنچے ٹخنے سے اوپر رکھیں یا نہیں ۔
اور وہ جواب میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے یہ سب نہ پوچھو، یہ پوچھو کہ کیوں پارہ چنار میں ایک مسلمان اللہ کا نام لے کر اپنے آپ کو اڑا لیتا ہے اور مرنے والے بھی اسی اللہ کا کلمہ پڑھ کر مرتے ہیں۔جس دین میں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ناحق قتل ہے وہاں فیکٹری کے دروازہ بند کر کے سینکڑوں محنت کشوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ کیوں اسلام کی علمبرداری کا دعو ی کر کے ایسا غیر اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔علامہ اقبال اپنی مشہور نظم ابلیس کی مجلس شوری میں ابلیس کا اندیشہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ہرنفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
ہم نے کائنات کا احتساب کیا کرنا تھا گیارہویں کی دیگ کا احتساب شروع کر دیا،میں ان سامعین میں شامل ہوتا تو یہ سوال ضرور پوچھتا کہ جس دین نے بادشاہوں اور غلاموں کو ایک صف میں کھڑا کر کے برابری کا درس دیا اس دین کے ٹھیکیداروں کے سامنے مجھے کیوں ٹاٹ پر بیٹھ کر اسکول پاس کرنا پڑا جبکہ اسی شہر میں لوگ ایئر کنڈیشن کلاسوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔

نوٹ : شاہی اس کالم میں تمہارا ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں اور تمہیں ہمیشہ یاد رکھتا ہوں سو برا نہ ماننا بلکہ اسے پازیٹو لینا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *