امریکہ و بھارت کا دوستانہ

عالمی دہشت گرد امریکہ نے اپنے ایک دہشت گرد دوست بھارت کی خوشی کے لیے اور پاکستان پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں چل رہی تحریک آزادی کے مایہ ناز سپوت اور بزرگ عسکری رہنما سید محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین جو کہ کشمیر میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ ہیں کو عالمی دہشت گردی کی لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک کڑی کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے راز چھپے ہوئے ہیں۔ عالمی تناظر میں دیکھیں تو جہاں بھی تحریکات اسلامی کام کر رہی ہیں انہیں براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے دوسرے راستے اختیار کر کے سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت اپنے شکنجے میں لایا جارہا ہے۔
مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک کو دبانے کے پیچھے کن کا ہاتھ تھا؟ یہ سب پر عیاں ہو چکا ہے۔ جو لوگ جانتے ہیں کہ ان کا راج تاج امریکہ کی سرسرستی کے بغیر نہیں چل سکتا وہ مسلم ممالک ہونے کے باوجود اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ کرسیوں کی محبت نے انہیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ اسلام کے نام پر اپنوں کا ساتھ دینے کے بجائے غیروں کے آلہ کار اور مددگار بن رہے ہیں۔شام، عراق، افغانستان، لیبیا، قطراور اسی طرح بے شمار ایسے مسلم ممالک ہیں جن کے بارے میں ،مسلم ممالک خاص کر عرب ممالک کے ہاتھوں کام کرایا جارہا ہے۔ کام مسلمانوں کے ہاتھوں کرایا جا رہا ہے لیکن کام کرانے والے وہ ہیں جو نہ کبھی مسلمانوں کے دوست رہے ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔ جن میں سے ایک بڑا ملک عالمی پولیس مین کا کردار ادا کرنے والا امریکہ بہادر ہے۔ جو دوست بن کر کمر میں چھری گھونپ دیتا ہے۔ اور پھر پتا بھی نہیں چلتا کہ چھرا آخر گھونپا کس نے؟
مقبوضہ کشمیر میں مقامی عسکریت پسند جماعت حزب المجاہدین اور اس جیسی بے شمار مجاہد تنظیمیں جو کام کر رہی ہیں جن کا ایک متحدہ پلیٹ فارم بنام متحدہ جہاد کونسل کے نام سے مشہور ہے، امریکہ بہادر اپنے ایک دہشت گرد دوست بھارت کو خوش کرنے کے لیے اور وہ کام کرنے کے لیے جو آج تک نہ کر سکے یعنی پاکستان کو دہشت گردوں کی حمایت کرنے والا ملک قرار دے کر دہشت گرد ملک قرار دینا ۔چنانچہ جموں وکشمیر میں فی الوقت جہادی تنظیمیں کام کر رہی ہیں انہوں نے جب اپنے وقت پر جمہوری طور سے ہی کام کا آغاز کیا تھا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آخر کار انہیں دوسرا راستہ یعنی عسکریت اختیار کرنی پڑی۔ جمہوری راستہ بند دکھنے کے بعد جب انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا تو انہیں کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن آج تک نہ ہی کچلا جا سکا ہے اور نہ ہی اس تحریک آزادی کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے۔
آزادی کی اس مقامی جدوجہد کو اگر دہشت گردی کہا جا ئے تو دنیا کے بے شمار ممالک میں ایسی دہشت گردی ہو رہی ہے۔ بلکہ خود بھارت نے بھی اپنے وقت پر انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اسی دہشت گردی کا سہارا لیا تھا۔ اگر یہ مقبوضہ کشمیر میں چل رہی تحریک آزادی دہشت گردی ہے تو دنیا کے کونے میں کونے میں چل رہی آزادی کی دیگر تحریکوں کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں کیوں نہیں لایا جا رہا ہے۔
دراصل یہ کچھ اور نہیں صرف دو دہشت گرد ممالک کی دوستی ہے جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی دوستی میں جو خلل کا باعث بنے وہ دہشت گرد۔ جو امریکہ کی چودھراہٹ کو للکارے وہ دہشت گرد۔ جو اسرائیل کو بری نظر سے دیکھے وہ دہشت گرد۔ لیکن جو مسلم ممالک کو گھیرے میں لے کر اپنے قبضے میں لانے کی کوشش کرے وہ دہشت گرد کیوں نہیں۔ افغانستان میں امریکہ بہادر نے جو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو قبروں میں پہنچا دیا لیکن پھر دہشت گردوں کی لسٹ میں وہ شامل نہیں۔ شام میں آج جو ہو رہا ہے اس کے پیچھے کن بڑی طاقتوں کا ہاتھ ہے یہ سب پر عیاں ہو چکا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں جو کشمیریوں کو شہید کر دیا، جن میں چھوٹے بچے، بوڑھے اور جوان مرد اور عورتیں شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود بھارت کو دہشت گردوں کی لسٹ میں نہیں لایا گیا۔ عراق، فلسطین، سوڈان، مصر اور دیگر کئی مسلم ممالک میں جو یورپین ممالک کی دہشت گردی ہو رہی ہے انہیں دہشت گردی کی لسٹ میں کیوں شمار نہیں کیا جاتا۔
صاف اور واضح ہے کہ ہر ایک کو دہشت گردی کی لسٹ میں نہیں لایا جا سکتا، صرف اس کو اس لسٹ میں شمار کیا جائے گا جو اپنے لیے نقصان کا باعث دکھے۔ کل تک پاکستان کے پاس مفادات تھے سو وہ حاصل ہونے کے بعد اب ان پر بڑی نظریں ڈالی جا رہی ہیں اور انہیں دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔ فی الوقت جو مفادات کی اس دنیا میں جی رہے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ ہو چکا ہو گا کہ عالمی طاقتیں اپنے اور غیر نہیں دیکھتے بلکہ وہ صرف مفادات دیکھتے ہیں۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کون ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور کون ہمارے لیے چیلنج۔ ورنہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ دوست نہیں ہو سکتے لیکن مفادات کی اس جنگاہ میں آج دیکھتے ہیں یہود ہنود اور نصاری ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ دو طبقے ایک دوسرے کے خون کے دشمن رہے ہیں۔ آج ہاتھوں میں ہاتھ ملا کر کام کر رہے ہیں آخر کیوں؟ بس یہی چیز نظر آرہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پاس اپنے مفادات رکھتے ہیں۔
مفادات کی اس جنگ اور دوستی میں زیادہ وقت نہیں گزرے گے۔ یہ خودغرضی والا معاملہ ہے اور اس معاملے سے متصف قوموں کا عروج زیادہ دیر نہ ہی ٹکا ہے اور نہ ہی ٹک سکتا ہے۔ ان کا زوال آخر کار ہونا ہے، البتہ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی زوال کا وجہ کون بنے گا۔
مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی چلی ہے اور چل رہی ہے اور چلتی رہے گی، کیوں کہ یہاں کے لوگ اس تحریک کے لیے اپنے نوجوانوں کا تازہ تازہ لہو قربان کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ تحریک اپنی منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گی۔ البتہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ اس تحریک کو کسی طرح سے زک پہنچے وہ صرف اپنی فکر، کریں کیوں کہ ان کا غرور ختم ہونے والا ہے اور وہ زمین بوس ہونے والے ہیں کیوں کہ انہوں نے ایک ایسا غیر فطری طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ حقدار کو انصاف کے بجائے حق سے محروم کرنے کے درپے ہیں اور جب یہ سوچ کسی طبقہ میں پیدا ہو جائے تو بظاہر ترقی پذیر ہونے کے وہ زوال پذیر ہو کر رہے گا۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *