سرد ہاتھ

ملائکہ کے چہرے کا رنگ ہسپتال کے سفید بستر کی طرح سفید ہو چکا تھا. وہ اپنی سانسوں کا تسلسل ٹوٹتا محسوس کر رہی تھی. چہرے پر اک کرب تھا. مگر پھر بھی اس نے ریحان کو مسکرا کر دیکھنے کی کوشش کی جو اس کا سرد ہاتھ اپنے ہاتوں میں تھامے ہوئے تفکر سے اسے دیکھ رہا تھا۔

ملائکہ چند سال پیچھے کی دنیا میں چلی گئی
وہ اور ریحان ماہ کامل کی رات ندی کنارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے, پاؤں پانی میں ڈبوئے خاموش بیٹھے تھے”ریحان آج چاند کتنا پیارا ہے ناں” ملائکہ نے اسے دیکھ کر کہا,
ہاں مگر تم سے زیادہ نہیں۔۔۔ریحان نے اس کا گال چھوتے ہوئے جواب دیا۔
اور پانی کتنا ٹھنڈا ہے۔۔۔۔ ملائکہ نے پھر خاموشی کو توڑا,
ارے تمھارے ہاتھ بھی بہت ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سرد ہاتھوں والے بے وفا ہوتے ہیں۔۔۔ کہیں تم بے وفائی تو نہیں کرو گےناں؟۔۔۔۔۔ ملائکہ نے اس کے کندھے پر اپنا سر گرا دیا اور جواب کی منتظررہی۔۔
ملائکہ میں اور تم زندگی بھر کے ساتھی ہیں اور یہ سب فضول کہاوتیں ہوتی ہیں. ہمارا پیار سچا ہے . ریحان نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا۔۔۔
ملائکہ نے بس” ہوں” ہی کہا ۔۔۔ اسے یقین تھا شاید۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملائکہ۔۔۔ ریحان کی آواز پر وہ ماضی کی دنیا سے باہر آئی.
کیا سوچ رہی ہو؟ریحان نے پوچھا۔۔۔
تمہیں یاد ہے ریحان۔۔۔۔ ملائکہ گویا ہوئی۔
میں نے کہا تھا تمہارے ہاتھ سرد ہیں تم بے وفا ہو،تم نے کہا تھا یہ غلط بات ہے، پر تم غلط تھے۔۔۔۔ دیکھو آج میرے ہاتھ سرد ہیں اور تمھارے ہاتھ مجھے حرارت دے رہے ہیں
دیکھو میں نے کہا تھا سرد ہاتھوں والے بے وفا ہوتے ہیں۔
آج میں تم سے بے وفائی کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ ریحان مجھے معاف کرنا میں زندگی بھر ساتھ نہ نبھا سکی۔۔۔
اب کی بار ریحان کے ہاتھوں میں سرد ہاتھ تھا۔۔

Avatar
محسن چغتائی
جامعہ کشمیر میں قانون کا طالبعلم ہوں. مختصر کہانیوں کے زریعےمعاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں کو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں. لکھنا سیکھ رہا ہوں...

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *