جنت دوزخ ۔۔(فکشن) ۔۔قسط 1

پہلا منظر:
ایک بزرگ فرشتہ صاحب جو کہ جنت اور دوزخ کے مینیجر تعینات کیے گىٔے ہیں، جنت میں کچھ ماتحت فرشتوں کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے ہیں۔ حدِ نظر تک سبزہ ہی سبزہ ہے۔ انتہائی خوبصورت پھولوں، پودوں اور مخملیں گھاس کے قطعے میلوں تک پھیلے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیاں ہر موسم کے لذیذ ترین پھلوں سے لدی ہیں۔ جگہ جگہ شفاف پانی کے چشموں سے مترنم جھرنے بہہ رہے ہیں۔ پھلوں اور پھولوں کی مہک میں رچی ہوا کی سرسراہٹ، جھرنوں کا ترنم اور پرندوں کی چہچہاہٹ، مدھم سی موسیقی، جام اور شباب کی محفلیں نا قابل بیان حد تک دلکش سماں باندھ رہے ہیں۔ تاہم فضا ایک عجیب سی اداسی اور جمود سے کسی قدر بوجھل ہے۔ کچھ دیر سب خاموشی سے ٹہلتے رہتے ہیں۔ آخر مینیجر صاحب فرماتے ہیں۔ “یار کیا بوریت محسوس نہیں ہو رہی؟ ”
ایک فرشتہ: جی تھوڑی ہے تو۔
دوسرا فرشتہ: سچ پوچھیں تو ہم سب یکسانیت سے اس حد تک تنگ آچکے ہیں کہ ہماری بساط میں ہوتا تو کب کے خودکشی کر چُکے ہوتے۔ لاکھوں کروڑوں برس سے ہر وقت، ہر لمحہ، اٹھتے بیٹھے، چلتے پھرتے بس ایک ہی کام کوئی کب تک کرے، مطلب ہر فرشتہ صرف ایک ہی قسم کا کام کرتا ہے، یکسانیت تو ہو گی جناب۔
مینیجر: میں خدا کے حضور پیش ہو کر عرض کروں گا-
کچھ جنتی بھی یہ سن گن لے رہے تھے ، جھٹ بولے “جی جی ضرور کچھ الگ ہونا چاہىٔے جناب”-
مینیجر: بھئی ہم تمہاری بات نہیں کررہے، تمہیں تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوۓ ہیں یہاں آۓ ہوۓ۔
دوسرا فرشتہ: تو حضورکس کی بات کر رہے تھے؟
مینیجر: میاں ہم اپنی بات کر رہے ہیں۔
یہ سن کر چند اور فرشتے اور بہشتی بھی گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں۔
میکاىٔیل: آوٹ ڈور بار بی کیو ہو جائے؟
مینیجر: دفع کرو یارر – تھک گئے ہیں کھا کھا کے، کچھ ایسا سوچو جس سے وقت گزاری اچھی ہو۔
اسرافیل: مچھلی کے شکار پہ چلتے ہیں۔
مینجر: چل رہن دے- وڈا سیانا
اس کے بعد کوئی کچھ نہیں بولتا ۔ کچھ دیر بعد دوزخ اور جنت کی درمیانی کھڑکی کھلنے کا وقت ہو جاتا ہے، جیسے ہی کھڑکی کھلتی ہے۔ دوزخ کی طرف سے مارک زکر برگ ہاتھ ہلاتا ہوا نظر آتا ہے ” سر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں”
مینیجر: اوۓ تجھے اب کیا تکلیف ہے، چھتر وں کی کوئی کسر باقی ہےکیا؟
مارک: جناب میں نے آپ کی باتیں سن لی ہیں ۔ عرض ہے کہ دنیا میں، میں نے ایک بڑا زبردست ویب سایٔٹ چلا رکھا تھا “فیس بک”کے نام سے ، شاید آپ جانتے ہوں۔
مینیجر: ہاں ہاں اسی کی وجہ سے تو تمہیں چھتر پڑ رہے ہیں، دنیا جہان کا گند بھرا تھا اس کے اندر تم نے۔
مارک: مگر سر اچھی باتیں، نبیوں کی کہانیاں ، اور مذہبی باتیں بھی تو ہوتی تھیں اس میں۔
مینیجرفرشتہ: او کافر کے بچے، مجھے نہ سمجھا ، سب جانتا ہوں ، فیس بک کی نگرانی پر میری ہی ڈیوٹی تھی ، میری ہارڈ ڈسک میں پورا ریکارڈ ہے، سب انسانوں کے کرتوت دیکھے ہیں میں نے۔ اسی لیے تو بیشتر لوگ اب دوزخ میں ذلیل ہو رہے ہیں۔
مارک زکر : تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے فیس بک پر جو کچھ تھا وہ سب دیکھا ہے ؟ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں نا آپ، ہیں جی !
مینیجرکھانستے ہوۓ: اوۓ بس، اپنا دنیاوی دماغ یہاں نہ چلا یہ جنت دوزخ کا علاقہ ہے، تیری مادی دنیا نہیں۔
ایک ما تحت فرشتہ: مینیجر صاحب یہ کافر کا بچہ بڑی بڑ بڑ کر رہا ہے، آپ حکم کریں ، ابھی اس کی طبیعت صاف کر دیتا ہوں۔
مارک: اوہ جناب غلطی سے بس میرے منہ سے نکل گیا- رحم کریں سرکار ، پہلے ہی دو بار میرے خاکی جسم کی چمڑی شدید گرمی سے پگھل کے گری ہے اور آپ کے اہلکار، میرا مطلب فرشتوں نے دوبارہ بڑی مشکل سے واپس چڑھائی ہے۔ زمین پر تو میں اتنا گورا چٹا تھا یہاں کی گرمی سے کالا بھوت بن گیا ہوں۔
مینیجرفرشتے کو روکتے ہوئے: اوۓ ٹھہر جا ذرا – ہاں بھئى اپنا مارک زکر برگ ! وڈے سائنسدان یا بزنس مین صاحب ! جو کچھ بھی ہو تم! ذرا یہ بتاؤ کہ آخر کیا حل ہے تمہارے پاس ہماری یکسانیت کا؟
مارک: جناب کیوں نہ یہاں فیس بک چلا دی جائے؟ – بس آپ ذرا انٹرنیٹ اور وائی فائی کا انتظام کرا دیں ، باقی کا کام میرا
ایک بہشتی: جی جی جناب با لکل، بہت اچھا خیال ہے ماشااللہ ، میں کترینہ کا ڈانس دیکھنا چاہوں گا، دنیا میں تو میں نے اپنے آپ کو روکے رکھا تھا، مگر یہاں تو جائز ہے – کیوں جی ؟
دوسرا بہشتی : واہ واہ ایسا ہو جاۓ تو کیا ہی بات ہے ، جب سے مرا ہوں ، اپنا اسٹیٹس ہی اپ ڈیٹ نہیں کیا،
اسرافیل : انٹرنیٹ، وائی فا ئی ؟؟ اوہ بے غیرت آدمی، مرنے سے پہلے تو نے جو گند دنیا میں ڈال رکھا تھا اب یہاں بھی یہ شر اور بے حیائی پھیلانا چاہتا ہے؟ اوےَ جنت کا ماحول بھی خراب کرنا چاہتا ہےتو؟۔
مارک: ماحول خراب؟؟ کیا مطلب جناب ! میں نے تو مولوی صاحب سےسنا تھا کہ جنت میں بڑا مال ، اوہ میرا مطلب ہے وہ سب کچھ جائزہے جو دنیا میں منع تھا۔
مینیجر: او ہو جائزتو ہے مگر اس کا طریقہ کار وہ نہیں جو دنیا میں تھا۔
مارک: سر طریقہ کار جو بھی ہو آپ کو ایک انٹرنیٹ سرور کا انتظام بھی کرنا پڑے گا ، لیکن سرور ایک الیکٹرونکس ڈیوائس ہے جو کہ اس دوزخ کی سخت گرمی میں نہیں چلے گا۔ اس کےلیےایئرکنڈیشنر کا انتظام بھی کرنا پڑے گا۔
ایک بہشتی جو اے سی مکینک تھا: اوہ تیری ! پھر تو کیرئیر صاحب کو بھی دوزخ سے بلانا پڑے گا
مارک: کونسے صاحب ؟
مکینک: کیرىٔیر صاحب وہ ہیں جنھوں نے اے سی ایجاد کیا تھا اور ان کے اے سی پوری دنیا اور خصوصاً”اسلامی ممالک جو کہ نسبتاً”زیادہ گرم تھے، میں بہت چلا کرتے تھے بلکہ ہماری بڑی بڑی مسجدوں، مدرسوں، اور ہسپتالوں میں بھی ان کے اے سی چلتے تھے جو کہ نمازیوں اور مریضوں کو چلچلاتی دھوپ میں آرام پہنچاتے تھے- میں نے خود مکہ اور مدینہ کی مسجدوں میں کئی سالوں تک یہی کام کیا ہے۔
مارک: اچھا ہاں ہاں یاد آیا ، جناب کیرىٔیر صاحب کو تو انعام نہیں ملنا چاہیے تھا؟؟ الٹا وہ بھی دوزخ میں ہے، کمال ہے۔
ایک فرشتہ: ہاں کیونکہ ہمارے ایک مولوی صاحب نے فیس بک پر یہ فتویٰ” دے رکھا تھا کہ چاہے کوئی کافر کتنا بھی پرہیز گار، نیک اور انسانیت کی بھلائی کرنے والا ہو، وہ جاۓ گا جہنم “میں ہی۔
مارک: یار ایک تو تمہارے مولویوں نے میری فیس بک پر قیامت مچا رکھی تھی، میرے اوپر دن رات لعنتیں بھیجتے تھے، وہ بھی میری ہی بنائی فیس بک پر، بلکہ ایک دوسرے کو بھی صبح وشام گالیوں سے نوازتے اور کفر کے فتوے دیتے تھے۔ آفرین ہے بھئی- ویسے سارا ریکارڈ تو ہو گا ہی آپ کے پاس؟۔
مینیجر: اچھا چھوڑو، مولویوں کو وہ تو ہمارے اوپر بھی پتہ نہیں کہاں سے اور کیسی کیسی کہانیاں بناتے رہے ہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ فیس بک میں کیا کیا ہو گا؟- دیکھو کو ئی بونگی نہ مارنا۔ مجھے ابھی خدا سے بھی اجازت لینی ہے، آپشنز زبردست ہونی چاہىٔیں۔
مارک: جی بالکل، جناب ہم اس میں سائٹس اور فورمز کے مختلف عنوانات رکھیں گے – مثلاً جنت اور دوزخ کے روڈ میپس، حوروں کے ڈانسنگ کلب اور بار کی طرف جانے والے راستے، دودھ کی نہروں کی لسٹ، سومنگ پولز کی ٹائمنگز، فلموں کا چارٹ، حوروں کا لائیو شو- غیر شادی شدہ جنتیوں کی ڈیٹنگ لوکیشنز وغیرہ وغیرہ۔ بہشتی چاہیں تو اپنا گروپ بھی شروع کرسکتے ہیں۔ لیکن جناب میری ایک درخواست ہے مگر اس سے بھی پہلے ایک سوال ہے ، وہ یہ کہ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی۔
مینیجر: جلدی بولو کیونکہ جنت اور دوزخ کی درمیانی کھڑکی بند ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے ، اس کے بعد تمھیں پانجا لگے گا پھر تمھارے منہ میں ابلا ہوا گرم پانی ڈالا جاۓ گا ، تمھاری زبان چھ گز باہر لٹک جاۓ گی۔ اس کے بعد پتھر مارنے والی ٹیم آۓ گی جو تمھارے سر پر پتھر مارے گی ، تمھارا سر پاش پاش ہو جاۓ گا، پھر ہمارے سرجن فرشتوں کی ٹیم آۓ گی، وہ تمھارے سر کے ٹانکے لگاۓ گی تاکہ اسے دوبارہ توڑنے کے قابل بنایا جا سکے ، اس کے بعد ۔۔۔
مارک چیخا: اوہ خدا کا واسطہ ہے بس کردیں، میری جان تو قبض کر چکے ہیں، روز پھینٹی بھی لگاتے ہیں ، میری تو آپ نے پہلے ہی کتے والی کی ہوئی ہے اور کیا کیا کریں گے آپ؟ آپ نے تو جنگِ عظیم دوم کی یاد تازہ کر دی جب جاپانی افواج اسی طرح مخالف فوجیوں کو بھیانک ٹارچر دیا کرتی تھیں۔ آخر یہ ٹارچر دینا کہاں سے سیکھا ہے آپ نے ؟ آپ تو فرشتے ہیں ، اور میں نے سنا تھا کہ فرشتے بہت ہی معصوم اور بھولے بھالے ہوتے ہیں۔
مینیجر: اوۓ پاگل تو نے “موت کا منظر” کتاب نہیں پڑھی تھی ؟ مگر تونے تو اپنی ساری زندگی ئنس اور بزنس کو پروموٹ کرنے میں ضاىٔع کر دی ، بھگتو اب—- بہرحال تم جلدی جلدی اپنا پروگرام ترتیب دو ، میں ذرا دوسری جنت کا چکر لگا کر آتا ہوں۔
(مارک کو ایک فرشتے کے حوالے کر کے مینجر چلا جاتا ہے)
مارک دوسرے فرشتے سے : جناب یہ آپ کا مینیجر مجھے فرشتہ نہیں لگتا، کیونکہ فرشتہ تو بہت معصوم نہیں ہوتا؟ یہ تو بڑا اکھڑ مزاج ہے۔
فرشتہ: تم نے صحیح پہچانا ہے، اصل میں یہ فرشتہ نہیں بلکہ ایک جِن ہے ، اس نے ہزاروں سال خدا کی بے تحاشہ عبادت کی ہے ، دن رات سجدے میں پڑا رہتا تھا، تو خدا نے اس کی عبادت کے صلے میں اس کو فرشتوں کا مینیجر بنا دیا، لیکن چونکہ ہے تو ایک جن اس لیےاس کی اکھڑ مزاجی نہیں جاتی۔
مارک حیرانی سے : اچھا چلوٹھیک ہے، مان لیا کہ اس نے بہت عبادت کی ہو گی مگر اس نے انسانوں یا فرشتوں کی بھلائی کے لیے کیا کیا ہے؟ – جیسے مدر ٹریسا نے اپنی ساری زندگی انسانوں کی خدمت میں گزار دی تھی اور ہمارے سائنسدانوں نے بھی دن رات محنت کر کے انسانیت کی بھلائی کے لىٔے بے شمار کارنامے سر انجام انجام دیے تھے لیکن آپ کے مولویوں کے مطابق وہ سب دوزخ میں اپنے بے مثال کارناموں کی سزا بھگتیں گے۔
( ایک پاکستانی جہنمی جو عقب سے مارک کی باتیں سن رہا ہوتا ہے، آگ میں جھلسا ہوا منہ کھڑکی سے باہر نکالتا ہے )
پاکستانی : ارے پگلے تو کافروں کی بات کرتا ہے یہاں تو بڑے بڑے مسلمان بھی جہنم کی آگ میں جل رہے ہوں گے۔
دنیا میں میرے کچھ ایسے پسنددیدہ مولوی تھے جو مسلمانوں پر بھی کفر کے فتوے لگاتے رہتے تھے، مثلاً”عبدالستار ایدھی، جنید جمشید، سر سید احمد خان حتیٰ”کہ علامہ اقبال اور قائداعظم بھی ان کے فتووں کے نشانے پر تھے- ایک طویل فہرست ہے جناب۔
(ابھی یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ مینیجر صاحب واپس آتے ہیں)
مینیجر مارک سے: ہاں بھئی بولو ، تم کوئی درخواست کرنے والے تھے؟

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *