نیا پاکستان ،نئے پٹواری۔۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں پاکستان سے غربت کو ختم کر دوں گا، جیسے چین میں ہوا تھا . (عمران خان)

کیا انہوں نے بتایا ہے کہ آنجناب موجودہ چینی ماڈل یا اِس سے ذرا پہلے والے چینی ماڈل کی بات کر رہے ہیں؟

اگر وہ چین کے موجودہ ماڈل کی بات کر رہے ہیں تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے  کہ چین میں دنیا بھر میں سب سے وسیع ترین پرولتاریہ جدید چین کی تاریخ میں انتہائی اہم غربت کا سامنا کر رہا ہے.

اگر عمران خان سابقہ چینی ماڈل کی بات کر رہا ہے اُسے یہ بتانا چاہیے کہ پی ٹی آئی کی حکومت:

1. ریکو ڈیک کے ذخائر Antofagasta Minerals  اور مشہور یہودی کمپنی   Barrick Gold سے واپس لے گی – جہاں سے سونے اور تانبے کے 1000 بلین امریکی ڈالر ذرائع کا 75فیصد  یہ دو کمپنیاں لے رہی ہیں – جیسے ماؤ زے تنگ نے 1945 ء میں جاپان سے قدیم چین کا مشہور صنعتی علاقہ منچیریا واپس لے لیا تھا.

2. ایک طبقے (بورژوازی اور جاگیردار) کو اکھاڑ کر پھینک دیں گے اور بدلے میں چین کے نظام کی تقلید کرتے ہوئے پرولتاریہ آمریت قائم کریں گے. ماؤ زے تنگ کے کچھ الفاظ یہاں بیان کرنا چاہوں گا:
“انقلاب ایک رات گئے جاگنے  والے چھوکروں کا آؤٹ ڈور ایڈونچر نہیں ہے، نہ ہی ایک اخباری کالم، نہ ہی ایک صوفیانہ عمل ہے، اور نہ ہی کڑھائی کا ایک سیپ ہے، انقلاب کبھی پرسکوں نہیں ہوتا، تو آرام دہ اور نرم مزاج نہیں ہوتا، خوش فہم، بھائی چارے میں لپٹا ہوا نہیں ہوتا. انقلاب ایک بغاوت ہے، تشدد کا ایک فعل جس کے نتیجے میں ایک طبقے (امیر) کو یکسر ختم کرکے ایک دوسرے طبقے (غریب) کی آمریت قائم کی جاتی ہے”.

3. بورژوازی اور جاگیرداروں سے تمام دولت واپس چھین لی جائے گی جیسا کہ چین میں ایک بڑے پیمانے پر ماؤ پارٹی کے ہاتھوں منظم جلسوں میں قتل کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ غریبوں کسانوں کو غریب ہی رکھنا چاہتے تھے، جس کے نتیجے میں نمایاں طور پر اقتصادی بحران کا خاتمہ ہو گیا تھا.

4. کیا ملازم اپنے مالکوں کی مذمت کر سکتے ہیں، بیویاں   اپنے شوہروں کو دھمکی دے سکتی ہیں، اور کیا بچے اپنے والدین کے سماجی جبر سے آزاد ہو چکے ہیں؟ 1951 ء میں چین میں جب ماو نے امیر سرمایہ داروں اور سیاسی راہنماؤں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فساد پھیل گیا. (تحریک انصاف کی حکومت صرف شاہد خان، میاں  منشاء اور ملک ریاض سے چھٹکارا حاصل کرنے میں بھی ناکام ہو گی).

5. اقتدار کو مضبوط بنانے کے بعد پاکستانی معیشت مکمل تبدیل کرنے کے لئے ماؤ زے تنگ کی طرح پہلا پانچ سالہ منصوبے  (1953-1958) کا آغاز کریں گے جس کا مقصد عالمی طاقت بننے کے لئے زراعت پر پاکستانی انحصار کو ختم کر دیں گے. (جبکہ آج تک عمران خان نے صنعتی پالیسی پر 2 منٹ تک بھی بات نہیں کی ہے).

6. ان افراد کو جو سابقہ ادوار میں عوام کی قتل گری میں ملوث ہیں، پہ گرفت کریں گے جیسے ماؤ زے تنگ نے چین میں پانچ لاکھ  مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو قتل کیا تھا (جبکہ عمران خان طالبان کے استادوں کو 80 کروڑ روپے بھتہ دے چکے ہیں۔۔۔
7۔۔ آٹھ۔۔نو۔۔۔۔۔۔
نجانے کتنے  دوسرے نکات ہیں.

پیارے عمران خان، آپ بزدل/ کافی کمزور ہیں. آپ پاکستان میں ایک دن کے لیے بھی غربت کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک بھی قدم نہیں اٹھائیں گے. ٹرک کی بتی کے پیچھے زیادہ عرصہ آپ کو چھپنے نہیں دیں گے.

اب جب اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (IMF) کے پاس انگریزی میں لکھی ہوئی ای میلز  لیکر بھیک (bailout package) لینے جائے گا تو کارکنانِ پاکستان تحریک انصاف فوراً کہیں گے:

“ابھی سانس تو لینے دو، خزانہ خالی ہے، کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا”.

بھائی گالیاں بھی ای میلز کی طرح انگریزی میں ہوں تو  ذرا ٹیسٹ بدل جائے گا. ماں پین، کتا، کمینہ، بیغیرت، غدار، ملک دشمن وغیرہ بہت سن لیا ہے. آئی تھنک انگریزی گالہاں وِل بی بیٹر اِن نیو پاکستان.

عرض یہ ہے کہ گالیاں دینے سے پہلے یہ سوچ تو لو کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا. اسد عمر خود آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کو واحد آپشن کہہ رہا ہے. آپ کہہ رہے ہیں کہ مثبت سوچ کو اپناؤں. آپ کہہ رہے ہیں کہ اُن کو وقت دوں. بھائی انصافی راہنما حلف سے پہلے ہی چین، سعودی عرب اور آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلا کر پہنچ گئے ہیں، اپنا اولین وعدے سے ترجیحی بنیادوں پر انحراف کر رہے ہیں. الٹا ہمیں مثبت سوچنے کی ترغیب دی جاتی ہے. وہ پاکستانی معیشت کو کالی غاروں کی طرف لے جانے کے مشورے دے رہا ہے اور ہمیں انتظار فرمائیے کی نصیحت کر رہے ہیں. بیرونی قرضوں کے طعنے دے دے کر پندرہ سال سے کھپ ڈالنے والے عمران خان کی حکومت IMF اور چین سے قرضے لینے سمیت دو ماہ کے اندر اندر آلِ سعود سے امداد بھی وصول کرے گی.

اوپر سے جو فاشسٹ رویہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے اپنا رکھا ہے وہ بھی قابلِ دید ہے. نئے پاکستان کے نئے پٹواری تحریک انصاف کی یوتھ ہے (یاد رہے پاکستان تحریک انصاف میں یوتھ کی عمر ستر سال تک وسیع ہے).

نواز شریف کو سپریم کورٹ نے چور اور کرپٹ قرار دے کر نااہل کر دیا، بالکل ایسا ہی جہانگیر ترین کے ساتھ ہوا. مگر نئے پاکستان کے ممکنہ وزیراعظم عمران خان نے ترین کو رونقِ پہلو قرار دے رکھا ہے. ترین پورے پاکستان میں آزاد ممبران کو غیرجمہوری طریقے سے اپنے جہاز میں لاد لاد کر بنی گالہ پہنچا رہا ہے. ایک چور نامنظور جبکہ دوسرا چور منظورِ نظر!

یہ شب گزیدگی کی انتہا ہے، میں اِس کو شب کہوں گا
تم داغ داغ اجالا نما کو سفیدی کہو، میں کب کہوں گا!

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *