میرے نسیم صاحب۔۔۔محمد اقبال دیوان

نسیم صاحب میرے پیراکی کے استاد تھے۔کینٹ ریلوے اسٹیشن کراچی کے نزدیک ہالز انسٹیوٹ کے ریلوے کلب میں مجھے اور دیگر افراد کو بے حد معمولی معاوضے پر پیراکی سکھاتے تھے ۔۔ ریلوے کا یہ شاہانہ کلب جنرل مشرف کے دور میں کسی پرائیوٹ پارٹی کو ایک نجی ہیلتھ کلب SHAPESکے  حوالے کر  دیا گیا۔اب بھی یہ اس کاروباری ادارے کی تجوری بھرے جارہا ہے۔

کراچی کینٹ اسٹیشن سے ملحق انگریزوں کا قائم کردہ یہ کلب بھی کراچی میں تعمیر ہونے والی دیگر عمارات کی ماننداپنے طرز تعمیر میں گوتھک اور بہت کشادہ بنایا گیا تھا ۔سندھ ہائی کورٹ کی عمارت کو چھوڑ کر انگریزوں نے کراچی میں جتنی بھی عمارات تعمیر کرائیں ان میں ایک بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ وہ کشادگی، پختگی اور شان و شوکت میں ایک جداگانہ سنجیدگی کی مظہر ہوں َ۔. آج کل یہاں اداسیوں اور بد انتظامی کے ڈیرے ہیں ۔ان تمام کا ڈیزائن بہر طور برطانوی گوتھک طرز کا ہے۔ اداس مٹیالے کھردرے پتھر  سے بنی ہوئی ان عمارات میں مقامی کلچر کی کوئی جھلک نہ دکھائی دے۔کراچی کی مشہور ترین عمارتیں یعنی ا یمپریس مارکیٹ، سندھ ہائی کورٹ کی عمارت،ڈی جے کالج۔ این ای ڈی انجئنئرنگ کالج، جہانگیر کوٹھاری پریڈ، میری ویدر ٹاور، سندھ کلب، کراچی جم خانہ، بوٹ کلب، سینٹ پیٹرک کیتھڈرل، کراچی جیل، ڈینسو ہال،خالق دینا ہال، کے ایم سی کی ایم اے جناح روڈ والی عمارت سندھ مدرسہ، چیف کمشنر ہاؤس جو بعد میں گورنر جنرل ہاؤس اور اب گورنر ہاؤس کہلاتا ہے۔ سبھی اس کی آج بھی گواہی دیتی ہیں۔

ہالز انسٹی ٹیوٹ ریلوے کلب جہاں شیپ نامی نجی کلب قائم کیا گیا

پہلی عمارت ان حاکمین دور اندیش نے نپئر بیریکس بنائی، یہ ان دنوں ہیڈ کوارٹر پانچ کور کا مرکزی دفترہے۔ اس کا نام بدل کر اب لیاقت بیریکس رکھ دیا گیا ہے کیوں کہ اسے سندھ کی فتح کے بعد 1847 میں نواب بہادر چارلس نیئپرء بادشاہ سندھ نے تعمیر کرایا تھا ۔میٹروپوٹل ہوٹل سے آگے مقامی باشندوں کے لیے ائیرپورٹ تک کا علاقہ Out of Bounds تھا انہیں آگے آنے کی اجازت نہ تھی۔

نیپیر بیریکس جسے اب لیاقت بیرکس کہتے ہیں

فوجی سربراہ ہونے اور دہلی کے مہاجر ہونے کے ناطے ہمارا خیال تھا جنرل پرویز مشرف تاریخ کا بہتر اداراک رکھتے ہوں گے ۔قومی ورثوں کو ذاتی دوستیوں اور شب کے ہم سفروں پر ترجیح دیں گے۔ایسا نہ ہوا ۔۔

پاکستان کے اہلیان اقتدار کا پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے وجود سے جونک بن کر بہت سے ناکام رشتہ دار دوست اور کاسہء لیس چپکے ہوتے ہیں ۔ یہ سب سرکار کا مال ان کی سرپرستی میں بے رحمی سے لوٹنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ فوج کا سربراہ جب میدان سیاست میں قدم رکھتا ہے تو وہ ایک حادثاتی بادشاہ ہوتا ہے ۔ وہ چونکہ بنیادی طور پرسرکاری ملازم ہوتا ہے لہذا ذاتی طور پر بہت کنفیوژڈ اور ڈرا ڈرا ہوتا ہے ۔ کام چلاؤ انگریزی کے باوجود اس کا ارد گرد کی پھیلی ہوئی دنیا کا مطالعہ محدود، غیر فوجی افراد سے نمٹنے کا تجربہ کم کم،اور وسائل کی بھرمار اور فیصلہ کی آزادی کے حساب سے اس کی بینائی اس قدر طاقت کے باوجود افریقی گینڈے جتنی ہوتی ہے، وہ پندرہ فیٹ کے فاصلے سے تیس میل کی  سپیڈ پر چارج کرتے ہوئے بھی درخت اور انسان میں فرق نہیں محسوس کرسکتا۔ ان    سربراہان میں  سے   سابق فوجی صدور کاسجائزہ لیں تو ان کے  پیچھے کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک پورا نظام ہوتا ہے۔اسلحہ بردار یونٹس اور خفیہ اداروں کی قانون سے بڑھ کر طاقت ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذاتی پسند نا پسند عہدے کی طاقت اورعسکری ادارے کی Immunity کو بے دریغ بلا امتیاز ہر شعبہء ہائے زندگی پر مسلط کرتے ہیں Public Goods vs Private Choiceکا بنیادی فرق مٹا دیتے ہیں۔وہ یہ جان  کر  کہ مشکل سے اقتدار کا موقع  ملا ہے کون سا دوبارہ  ملنا ہے۔کون سا سویلین ادارہ ہے جو ہم سے سوال کی جرات کرے۔ اس وجہ سے اپنے دور اقتدار میں کھل کر کھیلتے ہیں۔ ان کے رخصت ہوجانے کے بعد وہ ماتحت جو ان کی جگہ سربراہ بنے ہوتے ہیں وہ مصلحت اور مروت کے شیرے میں لتھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے سابق افسروں کے محاسبے کا سوچ کر ان کی بھی وہی حالت ہوتی ہے جو ابتدائی ایام میں چند ڈشوں کا خیال آتے ہی پہلی دفعہ کی حاملہ خاتون کی ہوتی ہے۔۔ قے پر قے!نوجوان زچہ کی طبیعت سنبھل کر ہی نہیں دیتی۔

ایسے ہی عالم میں عسکری مشیر انہیں بند کمرے میں بے راہ روی اور کرپشن کے عریاں شواہد سامنے آنے پر یہ راگ مالکونس سناتے ہیں کہ سابقہ فوجی افسران کا محاسبہ کریں  گے ان کو ہتھکڑیاں لگائیں گے۔انہیں سپاہی اللہ دتا اور سب انسپکٹر میدا گجر ہتھکڑی لگا کر پولیس موبائل سے اتارے گا تو میڈیا میں یہ مناظر دیکھ کر جونیئر رینکس میں بددلی پھیلے گی۔ وردی کی بے عزتی ہوگی۔
او سر یہ رسوائی اور ذلت بلڈی سویلین کے لیے اوکے ہے،  not for our own officers۔ اس وجہ سے کئی فوجی سربراہان جو صدر مملکت کے عہدے پر بزور بندوق متمکن ہوۓ بڑے شکستہ معاشی پس ماندہ گھرانوں کے چشم و چراغ تھے جنہوں نے خود بھی بہت لوٹ مار کی اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں نے بھی دونوں ہاتوں سے دولت سمیٹ ی،ان کے کسی بڑے سے سوال کرنا ان سے مال واپس نکلوانا قومی ادارے کی توہین ہے۔وہ یہ سبق بھول جاتے ہیں کہ چوری سے ادارے سے وابستہ کچھ لوگ ضرور مالدار ہوتے ہیں مگر پورا ادارہ ہر مرحلے پربے توقیر اور بے دلیل ہوجاتا ہے۔

سو جنرل پرویز مشرف کے سنہرے دور میں پی ٹی سی ایل اور کراچی الیکٹرک یو بی ایل اور حبیب بینک کی طرح کراچی کے کینٹ اسٹیشن کے قریب ریلوے کا ہال انسٹیٹیوٹ سرکاری تحویل سے محروم ہو گیا۔ لاہور کے شیپ والوں کے حوالے ہوگیا۔اتنی عمدہ سرکاری عمارت   لاہور کے ایک پرائیوٹ ہیلتھ کلب کو یوں کوڑیوں کے مول منتقل ہوجانے کا ریلوے کے بڑے افسران کو بہت قلق تھا۔
نسیم صاحب کا تعلق بہار شریف کے قصبے مدھوبانی سے تھا۔وہاں سے والدین نے مشرقی پاکستان اور پھر سقوط کے بعد مغربی پاکستان کی راہ لی۔ نسیم صاحب لائنر ایریا میں کہیں رہتے تھے۔پیراکی کی مہارت انہوں نے مشرقی پاکستان میں حاصل کی انہیں پورٹ ٹرسٹ میں چھوٹی موٹی نوکری مل بھی گئی تھی مگر چونکہ طبیعت ہمہ وقت زود رنج اور خود داری سے لدی پھندی رہتی تھی۔ملازمت سے کچھ ناخوش ہی رہتے تھے۔

امریکہ کی پین اسٹیٹ یونی ورسٹی میں ہماری سوئمنگ کی استاد ان کی اولمپک ٹیم کی کوچ چیکی نیلسن تھی۔اسی نے پہلے تو ہمارا داخلہ سوئمنگ فار بگنرز میں کیا جب اسے لگا کہ ہم ڈوب مرنے سے بہت ڈرتے ہیں تو وہ ہمیں نکال کر وہاں سے Adaptive Swimming کی کلاس میں لے گئی۔ ہم نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو کہنے لگی۔خوف بھی ایک تعلیم ہے۔اسے ہم شعوری طور پر پروان چڑھاتے ہیں۔پانی میں ڈوب جانے کا خوف ایک Acquired Fearہے۔جس طرح اسے تم نے رفتہ رفتہ اپنے آپ پر طاری کیا ہے، اسی طرح اسے بتدریج Un-learn بھی کرنا ہوگا۔آؤ تمہیں میں ساتھ کے کمرے میں لے جاؤں گی۔جو لڑکی یا لڑکا تمہیں پہلی نظر  میں اچھی لگے اس کا نمبر نوٹ کرلو۔

یونیورسٹی کا پول اور ساتھی طالبعلم

زیادہ سوچنا نہیں۔یہ لڑکی یا لڑکا جو یونی ورسٹی کا ہی طالب علم ہے۔اپنی فیس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ورک اسٹڈی پروگرام کے تحت اپنی پڑھائی کے دوران فالتو گھنٹوں میں ملازمت کرتا ہے۔ہماری جامعہ میں   تمام کام طالب علم ہی کرتے ہیں۔ چاہے وہ ریس کے گھوڑوں کی ٹریننگ اور دیکھ بھال ہو، چاہے آئس کریم بنانا چاہے، ٹوائلٹس کی صفائی یا بس سروس یا مالی کا کام۔ یہ طالب علم یونی ورسٹی کی جانب سے تمہارے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ مقرر ہوجائے گا۔ سوئمنگ پول کی عمارت میں داخل ہونے سے شاور لے کر گھر واپس جانے تک تمہاری حفاظت اور تربیت میں معاونت اس کی ہی ذمہ داری ہوگی۔
ہم نے پوچھا مکالمے سے زیادہ نگاہ اول پر کیوں زور ہے؟ کہنے لگی۔ آنکھ جھوٹ نہیں بولتی۔نفسیاتی طور پر Blink Decision پہلی نگاہ کا فیصلہ ہی سب سے بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ شعور اور لاشعور کا Sum -Total ہوتا ہے۔

ہم نے اور دوسرے ساتھیوں نے ایسا ہی کیا۔ پانچ نمبر والی ڈورتھی اپنے شعور اور لاشعوری ادراک کا سم ٹوٹل لگی توچیکی نے ایک دھیمی سی مسکراہٹ سے کہا You have a good eye۔وہ ہمارے طالب علموں والے نٹنی کمیونٹی سینٹر پر بھی اکثر آتی تھی۔مزاجاً بالکل ستار ایدھی صاحب کا زنانہ ایڈیشن تھی۔ نگاہوں اور مزاج کی نرمی ایسی کہ آپ کو لگے کہ کسی نے آپ کو ڈھاکہ ململ کے تھان میں لپیٹ دیا  ہو۔  قیام پاکستان کے بعد تک ڈھاکہ ململ کی بنُّت ایسی نرم اور شاندار سمجھی جاتی تھی کہ پورا تھان آپ ایک انگوٹھی سے گزار سکتے تھے۔
کلاس کے آغاز میں ا ستانی جی نے اعلان کیا کہ سوئمنگ کاسٹیوم پہن کر بھی آج کوئی پانی میں نہیں جائے گا سوائے میرے۔

میری باتیں غور سے سنو
سب سے پہلے اپنے بدن کو دیکھو۔صرف اپنے بدن کو۔ڈورتھی، کولین، جوزف یا ٹامس کے بدن کو نہیں۔۔۔۔۔میرے بدن کو بھی نہیں دیکھنا،ویسے میرا بدن بھی دیکھنے میں برا نہیں۔اپنا بدن دیکھو اور پول کو دیکھو۔۔۔
پھر سچ بتاؤ کہ دونوں میں سے کونسا بدن بڑا ہے تمہارا یا سوئمنگ پول کا۔۔۔۔
تو پہلاسبق یہ ہے کہ چھوٹے بدن کو یعنی تمہارے بدن کو پانی کے بڑے بدن سے الجھنا یا لڑنا نہیں چاہیے۔اس کے ساتھ بالکل ایسے ہی رہو جس طرح امریکہ کے ساتھ، میکسکو، پورٹوریکو اور کینیڈا رہتے ہیں۔اس پر ایسے لیٹو جیسے واٹر بیڈ پر لیٹا جاتا ہے۔ جب پانی میں ہو تو اس میں اسی سکون سے رہو جیسے عبادت گاہ میں ہوتے ہو۔
یہ سبق نمبر ایک ہے دوسرا سبق پانی کے اندر سانس باہر نکالو(Exhale) پانی کے باہر سانس اندر لو(Inhale)۔انگریزی زبان میں بہت غلطیاں ہیں ایک بڑی غلطی Death by Drowning(ڈوب کر مرنے کی ہے)۔پانی بہت پاکیزہ وجود ہے۔ کائنات نے اسے پاکیزگی کا سب سے بہترین ذریعہ بنایا ہے۔وہ بھی جو روح کو پاکیزہ بناتا ہے اسے پہلے بدن کو پانی سے پاکیزہ بنانا ہوتا ہے۔وہ تو کسی مردہ کو اپنے اندر رکھتا ہی نہیں، مردہ ہے تو چاہے وہ وہیل مچھلی جتنا قوی ہیکل  ہی کیوں نہ ہو، پانی اسے کنارے پر لا پھینکے گا۔ قدرت نے پھیپھڑوں کی صورت میں تمہارے بدن میں ایک لائف جیکٹ رکھ دی ہے جب تک اس میں آکسیجن رہے گی تم تیرتے رہوگے آکسیجن کی جگہ تم نے ہنگامہ آرائی کے دوران پانی پھیپھڑوں میں سمیٹ لیا تو سمجھ لو مرگئے۔

چیکی کے بتائے اسباق سیکھ کر تین ماہ ہوئے تو کورس ختم ہوگیا۔اس نے کہا تم میرے ساتھ ایک سال اور رہتے تو میں تمہیں مقابلے میں فلوریڈا میں اورکا وہیلز اور شارک کے ساتھ تیراتی۔

اورکا وہیل

ہم نے کہا آپ ہمارا مقابلہ اتنی بڑی مچھلیوں سے کرانا چاہتی ہیں تو کہنے لگی Size is a matter of perspective (سائز تو نقطہء نظر کی بات ہے)کچھ مرد بھی گولڈ فش کی طرح تیر سکتے ہیں پاکستان جاکر تیراکی جاری رکھنا۔ تمہیں صرف تین ماہ اور تربیت کی ضرورت ہے۔
اسی سلسلہ نظامیہ میں تربیت کی ہوس تھی۔ ٹوٹے سلسلے کو جوڑنا تھا کہ نسیم صاحب سے ہماری سے ملاقات ہوئی وہ وہاں ریلوے کلب کی جانب سے سوئمنگ پول پر متعین تھے۔
یہ کہنا تو درست نہ ہوگا کہ وہ پینتالیس سال کی عمر میں ذرا آنبونسی سے اولمپک میں اودھم مچانے والے امریکی پیراک مائیکل فیلف لگتے تھے مگر ان کا تراشا ہوا بدن،چال میں سیاہ فام رے پرز Rappers والا مستانہ لوچ جیسے امریکہ کا مقتول ریپر ٹوپک شکور  ہو ، مزاج کا دھیما پن، صوفیانہ بے نیازی اور طالب علموں پر جان نچھاور کرنے والے اوصاف کی وجہ سے وہ اپنے شاگردوں میں بہت مقبول تھے۔

ریپر ٹوپک شکور
مائیکل فیلف

مارچ کا مہینہ شروع ہوتا تو وہ بہت خوش ہوتے۔ دوپہر سے رات گئے وہ کلب کے پول پر اور دن میں وہ چند ایک بیگمات کو پرائیوٹ ٹیویشنز دینے چلے جاتے تھے۔ اصل میں ان کو کچھ بہتر مشاہرہ انہی  گھریلو سو ئمنگ پول والوں سے ملتا تھا ۔ ڈیفنس کے وسیع و عریض رقبے میں بروقت آمد و رفت کا سہارا ایک پرانی یاماہا ۔80 موٹر سائیکل تھی۔مارچ سے اکتوبر تک   اس آمدنی سے ہی ان کا گزارا ہوتا تھا۔ایک بیوی، بیٹا اور بیٹی تھے۔بچے پڑھتے تھے،باقی پانچ ماہ وہ کیا کرتے تھے۔۔۔کچھ نہیں!ہم نے ان کے بدن پر ایک سرخ رنگ کی ٹی شرٹ اور چیک کی ایک شرٹ، ایک سیاہ پتلون اور بلیو جینز کے علاوہ کوئی پانچواں کپڑا نہیں دیکھا۔

موٹر سائیکل خراب ہوجائے تو ہم ہی بنواکر دیتے تھے۔ جہاں سے سہولت ہو۔ لیاقت آباد میں ہماری بہت دہشت تھی۔ علاقے میں کئی ایسے افراد ہوتے تھے جو قربت شاہ، امن کمییٹوں میں شامل اور علاقے میں معتبر سمجھے جانے کی لالچ میں اس طرح کی خدمات بطریق احسن سرانجام دیتے تھے۔ایسا جب کبھی مرحلہ ہوتا اور ان کی موٹر سائیکل بن جاتی تو نسیم صاحب سر جھکا کر بہت خجالت سے کہا کرتے تھے۔سر میں آپ کو بہت تنگ کرتا ہوں اللہ نے چاہا آئندہ اس کا موقع نہیں دوں گا۔ میں انہیں تسلی دیتا کہ وہ میرے استاد ہیں۔ بڑے اور طاقتور آدمیوں کا ساتھ سانپ اور بچھوؤں کا ساتھ ہے۔ان کم بختوں  کو پیار میں کبھی کبھی پنجابی زبان کے حساب سے چونڈی وڈھنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ یہ ہوس کے مارے جوتیوں سمیت دیدوں میں گھس آتے ہیں۔ہماری ہرزہ سرائی سن کر نسیم صاحب سر کھجاتے ہوئے کہتے آپ آدمی بہت اچھے ہیں مگر میری سمجھ میں آپ کی باتیں نہیں آتیں۔

ایک دن بطور ایس۔ ڈی۔ ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے ہمراہ  اپنی عدالت یعنی سٹی کورٹ میں انکوائری کرتے تھے) انکوائر ی کا نشانہ کراچی کے ایک بڑے رہزن ڈی ایس پی تھے۔کسی ایسے خرانٹ سیاست دان سے سینگ لڑا بیٹھے تھے جو اُن کی نوکری اور جان دونوں ہی کے  درپے تھا۔ ان کی آمد سے پہلے مجھے میرے مشفق و مہرباں آئی جی افضل شگری صاحب کا فون آگیا تھا۔ وہ مجھے سمجھا رہے تھے کہ  جس سیاست دان نے یہ سارا اودھم مچا کر وزیر اعظم سے انکوائری  آرڈر کرائی ہے۔ وہ علاقے میں اپنی دہشت قائم رکھنا چاہتا ہے۔ تمہارا نام اس بڑی میٹنگ میں چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری نے بطور انکوائری افسر تجویز کیا تھا۔شگری صاحب بہت ایماندار، کشادہ دل اور نپے تلے نقطۂ نظر رکھنے والے افسروں میں شمار ہوتے تھے میرے مربی اور گرو ڈاکٹر ظفر الطاف اکثر کہتے تھے کہ شگری اچھا آدمی تھا پولیس میں ضائع ہوگیا۔عدالت کھلنے سے بھی پہلے یہ ہی ڈی ایس پی برگ خفیف بنے میرے ریڈر کے پاس بیٹھے تھے۔ہماری ستم آشنا طبعیت کی شہرت انہیں اپنے بہنوئی افسر سے مل چکی تھی جو ہمارے پاس کبھی ماتحت ایس ایچ او رہا تھا۔

اس اثناء میں ہمارا نائب قاصد جسے عدالتی نظام میں نائیک کہا جاتا ہے کمرے میں لجاتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ایک صاحب ہیں نسیم نام بتاتے ہیں بہت پریشان لگتے ہیں۔ جلدملنا چاہتے ہیں۔ہم نے بلوالیا۔
استاد محترم اندر آئے تو حلیہ بیرنگ تھا گال ایک طرف سے سوجھا ہوا تھا۔ آنکھ بھی کچھ بند سی ہوئی تھی۔بتارہے تھے کہ سولجر بازار کے علاقے میں تین لڑکوں نے پستول کا دستہ مار کر ان سے موٹر سائیکل چھین لی ہے۔ چہرہ اسی لیے سوجھا ہوا ہے۔ کل سے وہ کافی تھانوں کا چکر لگا چکے ہیں۔کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔
سٹی کورٹ میں نظارت کا محکمہ ان دنوں ہمارے دوست نادر عقیل انصاری کے پاس تھا۔ اس محکمہ میں پولیس کی جانب سے برآمد کردہ مال مسروقہ و گم شدہ رکھا جاتا تھا۔مقدموں کے فیصلے  پاکستان میں کس نے دیکھے ہیں۔ یہاں جمع شدہ مال میں سے حاصل کی ہوئی موٹر سائیکل یا کار پر ہاتھ صاف کرکے سستے داموں کاروں اور موٹر سائیکلوں کا مالک بننا بہت آسان تھا۔
نظارت میں مال مسروقہ کی بازیابی کے حوالے سے چند برسوں سے لوٹ مچی ہوئی تھی۔کوئی چوری کی گاڑی لے اڑتا تھا تو کوئی موٹر بائیک۔ ہر بڑے آدمی کو کم داموں اپنے ملازمین کے لیے موٹر سائیکل کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے یہی آسان راستہ دکھائی دیتاتھا۔حلوائی کی دکان پر دادا کی فاتحہ دلانا یوں بھی ہمارا محبوب مشغلہء ہے۔آٹھ سو، نو سو روپے کے عوض ملازم موٹر سائیکل کا مالک بن جاتا تھا۔سپر داری کے لیے ضابطہ فوجداری کا قانون 516-A بلا دریغ استعمال ہوتا تھا۔نظارت اور عدالت کو یہ لکھ کر دینا پڑتا تھا کہ مطلوبہ کار یا سواری درخواست دہندہ کو سپردگی نامے پر دے دی جائے۔ٖفیصلے کی صورت میں عدالت کا حکم ہر حال میں لاگو ہوگا۔عدالت کو حکم دینے کی کب جلدی تھی کہ اب ہوتی۔یوں چوری کا مال قانونی طور پر باپ کا مال بن جاتا تھا۔

نادر کو چند دن پہلے ہی صدر غلام اسحق صاحب کے پرنسپل سیکرٹری فضل الرحمان کا خود فون آیا تھا کہ میرے دو عدد رشتہ داروں کو سستی قیمت پر موٹر سائیکل درکار ہیں۔انکار ہوا تو بہت ناراض ہوئے۔انصاری صاحب کو تبدیل کراکے اپنے رشتہ داروں کی دل جوئی کی۔ موٹر سائیکلیں دلوا کر ہی دم لیا تھا۔ بات ٹھنڈی ہوئی تو ڈی سی صاحب نے یہ کھاتہ پھر ایماندار پرانے افسر کے سپرد کردیا۔
ایک پرانی یاماہا موٹر بائیک جس کی قیمت بمشکل پانچ ہزار ہوگی اس کے لیے ہمارے استاد بہت پریشان تھے۔وہ کہہ رہے تھے مارچ ختم ہورہا ہے۔ میری ٹیوشنوں کا کیا ہوگا۔ میرا اور بچوں کا گزارا کیسے ہوگا۔مجھے میری سائیکل تلاش کروادیں۔
پیش کار چشتی نے بالآخر تجویز دی کہ وہ ڈی ایس پی صاحب کے ساتھ پانچ سو پچپن چلے جائیں (صدر میں سی آئی اے  کارسوائے زمانہ دفتر)۔ہمارے جذبات اور استاد  کی دل جوئی کی خاطر ڈی ایس پی صاحب نے دو گھنٹے تک وائرلیس پر موٹر سائیکل کی گمشدگی اور بازیابی کے بارے میں مختلف تھانوں کا ناک میں دم کیے رکھا مگر کامیابی نہ ہوئی۔

مسئلے کے فوری حل کے لیے تین عدد بہترین موٹر سائیکلیں انہوں نے سپاہیوں کے ساتھ ہماری کورٹ بھجوائیں  کہ اپنی سواری کی دستیابی تک نسیم صاحب جو پسند کریں وہ ان میں سے رکھ لیں۔ یہ سب کی سب نسیم صاحب کی موٹر سائیکل سے ہزار گنا نئی اور اچھی تھیں۔ ایک تو ایسا لگتا تھا بمشکل دو ماہ پرانی تھی۔ ڈی ایس پی کا بندہء خاص ہم دونوں کو قائل کرنے کے لیے بتانے لگا کہ ڈکیتی کرتے ہوئے ڈاکو کے پاس سے ملی تھی۔ اس کی جعلی نمبر پلیٹ تھی۔ ڈاکو بھی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ دوسری موٹر سائیکل سی آئی اے کا کوئی سپاہی چلا رہا تھا۔نسیم صاحب کے محتاط رویوں کو پیش نظر رکھ  کر سپاہی کو بہلا پھسلا کر انہوں نے اسے بھی روانہ کردیا تھا۔وہ اسے رکھ لیتے تو سی آئی اے کے مال خانے سے سپاہی کو دوسری عمدہ موٹر سائیکل عطا کردی جاتی۔ تیسری موٹر سائیکل ایک چھوٹے سے منشیات فروش کی تھی جو چھاپے کے وقت چھوڑ کر بھاگ گیا تھا تینوں کو  ہم نے قانونی موشگافیوں کے حساب سے SAFE جان کر بہت ضد کی کہ نسیم صاحب رکھ لیں۔ ڈاکو مرچکا تھا۔موٹر سائیکل اسی کی تھی۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔نظارت کے بارے میں ہم سے تفصیلی معلومات حاصل کرتے رہے۔

ان کے چہرے پر مال مسروقہ اور اس کی بندر بانٹ کے حوالے سے    ناخوشگوار تاثرات آئے۔ فرمانے لگے ”صاحب یہ تو میرے جیسے غریبوں کا مال ہوا جو میں اور دوسرے کھارہے ہیں۔نہیں صاحب میں چوری کا یا گم شدہ مال   نہیں لوں گا۔موٹر سائیکل شیطانی چرخہ ہے زندگی موت کا کیا بھروسہ اس کو چلاتے ہوئے موت آجائے تو میں اللہ کے پاس چوری کی سواری پر سوار ہوکر نہیں جاؤں گا۔ آپ کوشش کرکے میری موٹر سائیکل ڈھونڈ دیں۔

دو  ہفتے بعد کہیں سے  اطلاع آئی تو میں اور میرا پیش کار بھاگم بھاگ جناح ہسپتال کے مردہ خانے میں پہنچے مردہ خانے کے باہر کوئی نہ تھا ۔ذرا دیر میں کوئی جمعدار سرکاری گاڑی دیکھ کر آگیا، ہاتھ میں  چائے کا گلاس پکڑے اور تھیلی میں کیک پیس لیے ۔کوئی عزیز بھی پہنچا ہوا تھا۔لاش کے حصول میں دشواری تھی۔ہم نے میڈیکو لیگل افسر کو لاش دینے کا کہا اور اپنی  ذمہ داری پر یہ لاش ضروری کارروائی کے بعد حوالے کرادی۔وہی عزیز بتارہا تھا کہ گیارہ بجے  محلے کے کسی لڑکے ساتھ وہ گھر سے اسی کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر نکلے تھے۔ ڈیفنس میں  کسی نے ٹیوشن کے معاملات طے کرنے کے لیے بلایا تھا کہ کالا پل کے قریب منی بس نے ٹکر ماردی۔ اس غریب کاموٹر سائیکل اور وہ خود تو بالکل محفوظ رہے البتہ پچھلی نشست پر براجمان نسیم صاحب کو منی بس کے دروازے سے لگا لوہے کا مضبوط ڈنڈا سر کے پیچھے اس زور سے لگا کہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔

مردہ خانہ کی تازہ دھلی سنگ مرمر کی سلیب پر ان کا تراشا ہوا بدن ایک چادر سے ڈھانپا ہوا رکھا تھا اور چہرہ ایسا ہی جیسا نفس مطمئنہ کا ہوتا ہے۔ مجھے گمان ہے اور میری دعا بھی ہے کہ ان کی روح بھی اپنے اعلی اوصاف کے باعث جنت الفردوس میں رضائے الہی سے چال میں سیاہ فام رے پرز Rappers والے مستانہ لوچ، کندھے پر صوفیانہ بے نیازی کا اسٹریو لادے جب داخل ہو تو درباں فرشتہ رضوان انہیں دیکھے اور کہے Ma Buddy ya finally made it۔(میرے دوست تم آخر کا رپہنچ ہی گئے)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *