التجائے دعا

اب یہ حادثہ غربت کے سر پڑے یا اس غربت کی وجہ نااہل حکمرانوں پر,ناقص انتظامات پر یا کرپشن کی نذر ہوئے بدبو دار سسٹم پر,کسی پارٹی پر یا شخصیت پر,عقل و شعور کی کمی پر یا بھوک پر,
الغرض جس کسی مرضی پر ہم سب ملکر بل پھاڑ لیں مگر کیا اس سے وہ قیمتی جانیں واپس لوٹ آئیں گی؟
کیا ایسے کرنے سے وقت بدل جائے گا؟جن کے پیارے جدا ہوئے ہیں ان کو چین آجائے گا؟نہیں نا؟ایسا کچھ نہیں ہوگا تو یار غم بانٹو فتنہ اور فساد نہیں۔
مومن ہو تو دل جوئی کرو نمک مت چھڑکوا ﷲ کا واسطہ ہے تمہیں۔رو نہیں سکتے کسی کے غم میں تو ٹھٹے بھی مت اڑاؤ۔
امت محمدی صلیﷲ علیہ والہ وسلم ہو تو ہجوم مت بنو۔
امت ہونے کا حق ادا کرو اور دعائے خیر اور دعائے مغفرت کثرت سے کرو۔اﷲ ہم سب پر رحم کرے اور حفظ و امان میں رکھے۔
اللہ ہمیں ایمان والی زندگی دے اور ایمان والی موت سے نوازے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *