سانحہ بہاولپور،غربت جہالت لالچ کا شاخسانہ ؟

شعور پیداکرنا غربت دور کرنا جہالت میں کمی لانا ، تعلیم کی سہولت بہم پہنچانا کس کی ذمہ داری ہے؟
امیر ترین ریاست بہاولپور پنجاب کا پسماندہ ترین خطہ کیسے بنا۔۔۔۔۔تختِ لاہور نے جنوبی پنجاب کوغربت محرومی جہالت افلاس کی آماجگاہ بنا دیا
اور حادثات سانحات کو غربت جہالت لالچ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے
چاہئیے تو یہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول ڈیفنس کی ٹیم بروقت پہنچتی اور تیل ذدہ علاقے کو سیل کر دیتیں
کسی کو اسطرف جانے کی اجازت نہ ہوتی
سول ڈیفنس کا تو تصور ہی ختم کر دیا گیا ہے
تعلیمی اداروں میں پہلے بچوں کو سول ڈیفنس ،این سی سی سکاوٹنگ کی تربیت دی جاتی تھی
آجکل یہ سب مفقود ہے
ہم مرنے والوں کو تو شعور کی کمی کا شکار جاہل لالچی کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔
حکومتی اداروں کی کوتاہیوں کا ذکر نہیں کر رہے
جنوبی پنجاب کے 500 مربع کلومیٹر میں نشتر ہسپتال ملتان کے علاوہ کیسی ہاسپٹل میں برن یونٹ موجود نہیں ۔۔۔ اگر بہاولپور میں برن یونٹ ہوتا تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتیں تھیں

قیام ِ پاکستان سے قبل بہاولپور امیر ترین ریاست تھی امیر بہاولپور نے قائد اعظم کو گاڑی فراہم کی
پاکستان کے خزانے میں 7 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی جس سےپاکستان میں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوئی
کراچی میں بہاولپور ریاست کی جائداد پاکستان کے لئیے وقف کر دی جہاں آجکل گورنر ہاؤس قائم ہے
پاکستان کی کرنسی کی ضمانت ریاست بہاولپور نے دی،
ریاست بہاولپور کی طرف سے لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کنگ ایڈورڈ کالج اسلامیہ کالج انجمن حمایت اسلام، ایچی سن کالج کو تعلیم کی مد میں لاکھوں روہے امداد دی جاتی
اسی طرح ہسپتالوں رفاہی اداروں کو بھی خطیر رقم فنڈ دیا جاتا تھا۔۔۔۔یہ سب ریکارڈ آج بھی ریاست بہاولپور کے سرکاری دستاویزات میں دیکھا جا سکتا ہے
انہی خدمات کی وجہ سے قائداعظم نے نواب بہاولپور کو محسنِ پاکستان کا خطاب دیا
آج پاکستان کی محسن دھرتی غربت افلاس جہالت اور شعور کی کمی کا شکار ہے
آج ملک کے دانشور ناک بھوں چڑھا کہ مرنے والوں کو لالچی غریب جاہل ہونے کا طعنہ دیتے ہیں” لالچ میں مارے گئیے کیڑے مکوڑوں کی طرح ”
بعد از مرگ انکی تذلیل و توہین کرتے ہیں
میرے وسیب کے وسائل تو تم کھا گئیے
صلے میں غربت محرومی افلاس
شرمندہ بھی ہمیں رسوا بھی ہمیں

“وہ جسکے چہرے پہ میری آنکھیں ہیں۔۔
اب وہی شخص مجھے طعنہ کم نگاہی دے

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *