اور لاشیں مل گئیں!

غالباً سال 2012 میں افغانستان سے واپسی پہ بعینہ ایسا ہی واقعہ طور خم بارڈر پہ دیکھا جہاں پہاڑی راستے پہ کہیں اوپر آئل ٹینکر گرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں کی نسبت (جو اندھا دھند قیاس آرائیوں میں مصروف ہیں) میں اس قسم کا واقعے کا چشم دید گواہ ہوں۔ لوگ بوتلیں بالٹیاں وغیرہ بھرنے میں اس قدر مصروف تھے کہ ہمارا دس منٹ کا راستہ گھنٹے سے زیادہ پر محیط ہو گیا۔

یہ تو چلیں آئل ٹینکر تھا، کیا ہم سب جانتے نہیں کہ سڑک پہ کوئی معمولی سا واقعہ بھی درپیش آئے تو ہمارے درمیان تماش بینوں کی ایک بڑی تعداد سڑک پہ جم غفیر بنا کر کھڑی ہوجاتی ہے؟ امارات میں ایمبولنس اور پولیس کے لئے بنی ایمرجنسی لین پہ بیشک کتنا ہی دور دراز علاقہ کیوں نہ ہو، شاذ ہی کوئی چلتا نظر آتا ہے جبکہ ہمارا جہاں بس چلتا ہے ہم ایمرجنسی لین پہ الٹی طرف گاڑی چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس میں آپ حکومت کو کتنا دوش دیں گے اور اپنی عوام کو کتنا؟

عوام غریب ہے اس لیے پیٹرول بھر رہی تھی یہ کس قدر بوندی دلیل ہے۔ عوام غریب ہے تو کل اے ٹی ایم مشینیں لوٹنے کی اجازت دے دی جائے؟ عوام غریب ہے تو پلٹا ہوا آئل ٹینکر لوٹنا شروع کر دے یہ سوچے بغیر کہ ان کی وجہ سے جو لوگ رس میں پھنس رہے ہیں کسی حادثے پہ یہ انہیں بھی ساتھ لے ڈوبیں گے؟ بی بی سی رپورٹ کررہا ہے کہ موقع پہ موجود پولیس اہلکاروں نے ٹینکر کے قریب جانے سے منع کیا لیکن لوگوں نے نہ سنی۔ اب کیا کہیے؟ غربت کے نام پہ ہم سات خون تو معاف نہیں کر سکتے؟ آپ کو کیا لگتا ہے، کو پیٹرول بھر کے لے جایا جا رہا تھا وہ واپس مارکیٹ میں آجاتا؟ نہیں۔ کون خریدتا ہے زمین پہ پڑا پیٹرول؟ کیا یہ صرف حرص نہیں؟

ٹھیک ہے، آج حکومت وقت سے نفرت کرنا فیشن کا حصہ ہے لیکن کیا ہم اپنی عوام کو نہیں جانتے؟ کیا یہ الہامی الفاظ نہیں کہ جیسے عوام ہوں گے ہم ویسے ہی حکمران ان پہ مسلط کریں گے؟ پھر کسی حاکم کو کوسنے سے پہلے آپ ایک نظر اپنی جانب کیوں نہیں دیکھتے؟

چلیں حاکم وقت کو بھی کوستے ہیں پہلے عالمی طاقت امریکہ پہ نظر ڈالتے ہیں کہ وہاں برن سینٹرز کی کیا صورتحال ہے۔ امریکی ادارے امریکن برن ایسوسیشن کے مطابق امریکہ میں کل 123 برن سینٹر ہیں۔ امریکہ کا کل رقبہ 9.83 ملین مربع کلومیٹر ہے۔ یعنی اوسطاً ہر 76,000 مربع کلومیٹر کے لیے ایک سپیشلائزڈ برن سینٹر۔ آئیے مل کے پنجاب کو گالیاں دیتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ ہمیں اس حادثے پہ ہونے والے جانی نقصان کا افسوس نہیں۔ آگ کی موت پہ کون خوش ہوگا؟ لیکن گھٹیا تاریں ڈلوانے کے نتیجے میں شارٹ سرکٹ ہو جائے تو میں سب سے پہلے تو خود کو مجرم گردانوں گا۔ سستے کے چکر میں بعض من عوام الناس کیا کچھ کر جاتے ہیں اس کے لیے سرعام دیکھیے۔ یا تو آپ اپنی عوام کو نہ جانتے ہوں تب تو ٹھیک ہے، لیکن میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ آپ میں سے کئی وہ گدھ ہیں جنہیں سیاسی پوائینٹ سکورنگ کے لیے لاشیں چاہئے ہوتی ہیں۔ خوش ہو جائیے کہ آج لاشیں مل گئیں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *