پاکستان زندہ باد۔عاصم اللہ بخش

کہتے ہیں جب اللہ تعالی نے حضرت عزرائیل کے ذمہ لوگوں کی جانیں قبض کرنے کا کام کیا تو انہوں نے عرض کی، لوگ تو مجھے بہت برا بھلا کہا کریں گے۔ اللہ تعالی نے فرمایا، میں نے ایسا بندوبست کر دیا ہے کہ لوگ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہؤا۔ سب ہی کبھی قسمت، کبھی بیماری اور کبھی کسی دوسرے شخص کو کوستے ہیں ۔۔ کوئی بھی عزرائیل علیہ السلام کا نام تک نہیں لیتا۔

کچھ اس سے ملتا جلتا کام پاکستانی سیاست کا بھی ہے۔ یہاں انتخابات میں شکست کسی کی نہیں ہوتی، بس “دھاندلی” ہو جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ سادہ سی بات ہے ، پی ٹی آئی 2018 کے عام انتخابات جیت گئی۔ انہیں اور ان کے حامیوں کو مبارکباد۔ یہ انتخابات کم از کم بھی ویسے ہی تھے جیسے پہلے بھی ہوتے رہے ، جن کے نتیجہ میں حکومتیں تشکیل بھی پائیں اور انہوں نے مدت بھی مکمل کی۔ ویسے بھی دھاندلی کے لیے جب تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیا جانے لگے تو اس دعوے کا وزن اور کم ہو جاتا ہے۔ یہ بات معترض سیاسی پارٹیوں کو بھی معلوم ہے ۔ لیکن یہ کارزارِ سیاست ہے ، اور سب کو اپنے اہداف کے حصول کی کوشش کا پورا حق حاصل ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اس وقت بنیادی مسئلہ صوبائی حکومتیں بنانے کا ہے۔ پیپلز پارٹی کے لیے اس ضمن میں خطرات کم ہو چکے ۔ شاید اب ان کے الزامات بھی یا تو زبانی جمع خرچ تک رہ جائیں گے اور یا پھر آل پارٹیز کانفرسوں میں تقاریر اور چائے پینے تک۔ مسلم لیگ ن البتہ ضرور اس پر شور جاری رکھے گی کیونکہ پنجاب میں حکومت سازی کے حوالہ سےاس کے حالات اتنے یقینی نہیں۔ پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا مسئلہ بری کارکردگی ہے اور ایم ایم اے کو بری کارکردگی کے ساتھ بلوچستان اسمبلی بھی نظر آ رہی ہے۔ و علی ہذا القیاس۔

ن لیگ کے خیال میں اسے زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، خاص کر پنجاب میں۔ اسے ووٹ دینے والوں کا بھی یہی اندازہ تھا ۔ لیکن پی ٹی آئی کا پیغام اس کے ووٹر تک زیادہ گیرائی سے پہنچا اور انہوں نے اس پر بھرپور طریقہ سے لبیک کہا۔

اب دیکھنا ہے پی ٹی آئی نئے پاکستان کے لیے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے کس قدر اور کتنا جلد عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اس کے ساتھ ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ہے کہ یہاں بہت بار بڑی انقلابی تبدیلیوں کی آمد کا راستہ شمال مغربی علاقہ رہا۔ اب پھر ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ دیکھتے ہیں اس کے اثرات پاکستان پر کیا مرتب ہوتے ہیں۔ دو باتیں تو فوری کہی جا سکتی ہیں ۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی فتح سے پختون قوم پرست سیاست کو کافی زک پہنچی ہے اور فیڈریشن کی سیاست نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کی ہے۔ پنجاب نے بھی تبدیلی کی اس لہر کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ۔۔۔۔۔ کم از کم کچھ عرصہ کے لیے پاکستانی عوام کو سول ملٹری تقسیم اور ا سے منسلک قضیوں سے سکون رہے گا۔ اس عرصۃ کو ضائع کرنے کے بجائے اگر سول اور ملٹری دونوں اپنے رویوں پر غور و فکر کرتے ہوئے گورننس میں بہتری اور آئین کی سر بلندی پر کاربند ہو سکیں تو ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو اور بھی بڑھاوا ملے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *