دودھ کا دودھ

.
بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دودھ مکمل غذا ہے۔ تب دودھ بھینس دیتی تھی، اب گوالا دیتا ہے، سو اب یہ مکمل غذا ہی نہیں مکمل وظیفہ حیات ہے۔۔گوالے کا، اور گوالا وہ مخلوق ہے کہ جس کے متعلق کسی دانا نے فرمایا تھا کہ!”یااللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے گوالے بنائے ورنہ بھینسیں انسانوں کو پالنا پڑتیں”.اور بھینس کے متعلق تو آپ اچھی طرح سے جانتے ہونگے کہ کالے رنگ کا ایک گول مٹول ، سست سا جانور ہوتا ہے جو دودھ اور گوبر دینے کے کام آتا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب بھینسوں کی تعداد اور انسانوں کی تعداد میں توازن ہوتا تھا تب سب انسانوں کو خالص دودھ ملتا تھا پھر بھینسوں کی نااہلی اور سستی اور انسانوں کی لگن کی وجہ سے یہ توازن بگڑ گیا۔ اس موقع پر گوالوں کی خدا ترسی اور ذہانت کام آئی اور انہوں نے طلب اور رسد کا فرق دودھ میں پانی ملا کر پورا کرنا شروع کیا تاکہ دستیاب دودھ کی انسانوں میں منصفانہ تقسیم جاری رہ سکے۔
کچھ دانشمند بھینسوں کی اس سست روی پر ان سے نالاں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ جتنا زور بھینس گوبر دینے پر دیتی ہے اس سے آدھا زور بھی بچے دینے پر لگاتی تو آج ہر طرف خالص دودھ کی فراوانی ہوتی۔ جب کہ بھینسوں کا خیال ہے کہ یہ ان کی نااہلی نہیں گوالوں کی حماقت ہے جو انہیں ہر وقت دور دور کھونٹے سے باندھ کر رکھتے ہیں ۔بلکہ وہ تو الٹا احتجاج کرتی ہیں کہ یا تو ان کوبھی کھلاچھوڑا جائے یا پھر انسانوں کو بھی دور دور باندھ کر رکھا جائے۔ کہ مسابقت کی فضا میں ایک جیسا “کاروباری ماحول” ضروری ہوتا ہے ۔
بہرحال وجہ کچھ بھی رہی ہو دودھ کی طلب اور رسد کا فرق قریب ایک دہائی قبل اس قدر بڑھ گیا تھا کہ اگر محض پانی ملا کر اس فرق کو مٹانے کی کوشش کی جاتی تو دودھ “دودھیا”نہیں رہتا بلکہ “پانیا”ہو جاتا تھا .اور ہماری “جاہل”عوام دودھیا دودھ پر اصرار کرتی ۔ بہت بڑی آزمائش بارِ دیگر بیچارے رحم دل اور خدا ترس گوالے کے کندھوں پر پھر سے آن پڑی تھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح سخت جان اور بھینس صفت گوالے نے یہ چیلنج بھی قبول کر لیا۔ تب اس نے کئی سالوں کی شبانہ روز جانگسل محنت سے ،سرف ایکسل، یوریا، فارملین اور کھانا پکانے کے تیل جیسی “بے ضر”اشیاء سے اپنا دودھ تیار کرلیا۔ اب جتنا دودھ محترمہ بھینس برضا و رغبت عنایت کرتی ہے،اس کی مہربانی باقی حسبِ ضرورت دودھ محترم گوالا اپنا اس میں شامل کر لیتا ہے۔ اور یوں اس بہترین “ٹیم ورک” سے ہر آدمی تک دودھ کی ارزاں رسائی ممکن ہے کیونکہ جتنے میں بیچارہ گوالا آپ کے گھر تک دودھ پہنچاتا ہے اتنے میں تو یقین جانیں بھینس کو گھر نہیں پڑتا۔
دوسرا اس”سرف ایکسل”والے دودھ کا فائدہ یہ ہوا کہ جتنے ہم لوگ باہر سے صاف ہیں “اندر”سے بھی اتنے ہی صاف ہورہے ہیں ۔ یہاں پر اپنے پُرکھوں کی دوراندیشی اور دودھ فہمی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔جنہوں نے ایک صدی یا شاید اس سے بھی قبل یہ محاورہ متعارف کروادیا تھا “دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو” ۔متحیر ہوں کہ ان کو تب پتہ تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ دودھ میں اتنا سرف ایکسل ہوگا کہ اس سے باآسانی نہایا جا سکے گا بلکہ بوقتِ مشکل کپڑے بھی دھوئے جا سکیں گے۔
گوالے کے دودھ کے علاوہ ایک ڈبے کا دودھ بھی ہوتا ہے۔ یہ دودھ بڑی بڑی کمپنیاں دیتی ہیں ۔ان کی گارنٹی ہے کہ ایک بار اگر دودھ ڈبے میں بھر دیا جائے تو مہینوں اس میں کوئی خرابی نہیں ہوتی البتہ ڈبے میں بھرنے سے پہلی کی خرابیوں کی کوئی گارنٹی نہیں ۔قدرت نے انسانوں بھلائی کیلیے دودھ میں تقریباً آٹھ فیصد بالائی رکھی ہے ۔جبکہ کمپنی والوں کا خیال ہے کہ انسانوں کی بھلائی اس میں ہے کہ انکو ساڑھے تین فیصد بالائی والا دودھ دیا جائے،لہٰذا باقی ماندہ بالائی نکال کر علیحدہ سے انہیں انسانوں کو انکی کی بھلائی کیلئے مہنگے داموں فروخت کر دی جاتی ہے ۔اس عمل میں کچھ ان کی اپنی بھلائی بھی ہو جاتی ہے ۔کچھ کمپنیاں گوالوں کی طرز کا نقلی دودھ بھی فروخت کرتی ہیں البتہ ان کی مہربانی کہ وہ یہ “ٹی وہاٹنیر” کے نام سے بیچتی ہیں۔اور سرف ایکسل کی جگہ کچھ بہترایملسیفائرز استعمال کرتی ہیں ۔
پاکستان دنیا میں بھینسوں کے دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔اور گوالوں کے حساب سے شاید پہلے نمبر پر ۔ پانچویں نمبر پر دودھ پیدا کرنے کے باوجود ہماری ضروریات کا پورا نہ ہوپانا اس کا امر کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں فی کس دودھ کا استعمال بہت زیادہ ہے ۔اور ہماری اس حبِ دودھ کی بڑی وجہ تو شاید یہ کہ ہمارا معاشرہ مردغالب معاشرہ (male dominated society ) اور مردوں کی دودھ سے رغبت دیرینہ ہے۔اور دوسری بڑی وجہ شاید دودھ والی چائے کا بکثرت استعمال ہے۔ دودھ والی چائے کا استعمال پاکستان اور بھارت کے سوا دنیا بھر میں اور کہیں نہیں ہے ۔ایران، عرب امارات، سعودیہ، چین، ملیشیا اور تھائی لینڈ ہر جگہ بنا دودھ کے چائے پی جاتی ہے ۔
دودھ واقعی مکمل غذا اور اللہ کریم کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔اس میں لحمیات، چکنائی، وٹامنز اور منرلز بطور خاص کیلشیم کی بڑی مقدار ہوتی ہے ۔گمانِ فاضل ہے اگر ہم دودھ والی چائے کا استعمال موقوف کردیں تو شاید ہم سب کوپھر سے بھینس کا دودھ میسر آنا شروع ہو جائے ۔بصورتِ دیگر گوالوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور جدید سائنسی علوم کے استعمال سے بھینسوں اور دودھ کی پیداوار بڑھا کر اس مسئلہ کو بطریق احسن حل کیا جا سکتا ہے ۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *