تبدیلی کا ڈھول

شاید پوری دنیا میں ہی سیاست ایک بے رحم کھیل ہو لیکن پاکستان میں رائج سیاست اتنی مکروہ ہے کہ بسا اوقات حقیقتاً اس سے کراہت محسوس ہوتی ہے۔ سیاستدان اپنا تھوکا اس بے شرمی، بے رحمی اور بغیر ہچکچائے، شرمائے اور کراہت محسوس کیے ہوئے چاٹتے ہیں کہ ابکائی سی آ جاتی ہے۔ صرف ایک تصویر ملاحظہ کیجئے۔
(تحریکِ انصاف میں شمولیت سے پہلے)
حامد میر: جی بابر اعوان صاحب
بابر اعوان: میں اس سے پہلے خان صاحب نے بہت جوش سے دو تین باتیں کیں کہ پہلے کلیئر کروا کے لائیں اور پہلے کلیئر کروا کے لائیں، پاکستان کی عدالتوں میں ہم بری ہو چکے ہیں۔ باقی دنیا کی عدالتوں میں جہاں جہاں ایک پراسیکیوشن کرنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ شرمندہ ہو کے اپنے کیسز واپس لے گئے اور گورنمنٹ آف پاکستان جس نے کہا تھا پارٹی بنتے ہوئے اس پہ ہمارے کسی اٹارنی جنرل نے جا کے کوئی بیان نہیں دیا، نہ ہمارا کوئی آدمی گیا، یہ کیس بنانے والے تھے جنہوں نے کیس واپس لیے، یہ وہ تھے جو سزا کے عمل میں شریک تھے، جن کو اپنا ہی بیان واپس لینا پڑا ، دوسری بات یہ ہے میں نے بہت restraint show کی لیکن خان صاحب نے جاتے ہوئے کہا ،دو دفعہ انہوں نے کہا جی کہ آپ کلیئر کر کے لائیں، تو آپ پہ جو اخلاقی الزامات ہیں وہ کلیئر ہوئے کہیں؟ paternity کا issue decide ہوا کسی جگہ ٹیرین والا؟ دیکھیں ناں یہ باتیں نہ چھیڑیں یہاں پہ اس لیے کہ آپ انصاف کی تحریک کے قائد بنے ہوئے ہیں اور خود آپ کی بے انصافی عالمی سطح پہ مشہور ہے، سو ان قصوں کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ
lets be positive, lets be futuristic, lets be optimistic
حامد میر: چلیں اب آپ انہیں جواب دینے دیں نا
بابر اعوان: نہیں آپ مجھے بات مکمل کرنے دیجئے
حامد میر: نہیں آپ انہیں جواب دینے دیں ، خان صاحب آپ ان کا جواب دے دیں جو بات انہوں نے ابھی کی
بابراعوان: آپ نے مجھے بات ہی نہیں کرنے دی
عمران خان: بابر صاحب کو ابھی آصف زرداری صاحب کا ٹیلی فون آیا ہے۔۔۔۔۔
بابر اعوان: یہ آپ نے tempering کی ہے بیچ میں۔
عمران خان: سن لیں بات, ایک منٹ سن لیں بات
بابر اعوان: time tempering کی ہے
عمران خان: اوئے حوصلہ، ان کو ابھی آصف زرداری صاحب کا ٹیلی فون آیا ہے جس پہ انہوں نے یہ کہا ہے۔۔۔۔
بابر اعوان: آپ کے نمبر پہ آیا ہے؟
عمران خان: بہرحال میں آصف زرداری کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں
بابر اعوان: میرے پاس فون ہی نہیں ہے
عمران خان: آصف زرداری میں تمہاری personal life کے اوپر بات نہیں کروں گا، آپ اگر فرشتے ہیں تو یہ بات کریں نہیں تو یہ جو آپ نے ان کو paternity suit کا بتایا ہے، میں آپ کی personal life میں وہ بات کررہا ہوں، اس غریب قوم۔۔۔۔۔
بابر اعوان: نہ ہی مجھے کسی نے بتایا ہے اور نہ ہی میں کوئی dictation لیتا ہوں
عمران خان: اس غریب قوم کا جو پیسہ لوٹا گیا ہے، میں اُس کی بات کر رہا ہوں، کہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور کوئی خودکشیاں کر رہے ہیں اور وہاں جناب penthouses میں رہ رہے ہیں اور۔۔۔۔۔
بابر اعوان: آپ نے کتنا ٹیکس دیا ہے یہ جو پہاڑ آپ نے پورا خریدا ہے ؟
عمران خاں: مجھے یہ بتا دیں کہ سرے محل۔۔۔۔۔
بابر اعوان: یہ جو راول ڈیم خراب کرنے والا پہاڑ ہے، اور ڈیڑھ کلومیٹر جو جنگل کا رقبہ ہے وہ کس نے قبضے میں لیا ہوا ہے؟
عمران خان: اف توبہ بابر۔۔۔
بابر اعوان: اور وہ آٹھ کلومیٹروہ پنجاب گورنمنٹ کے جنگل کے رقبے میں سے کون سڑک گزار کر لے کر گیا ہے؟ اب اس طرح کی۔۔۔
عمران خان: اللہ اس کو سچ بولنے کی طاقت دے بس
بابر اعوان : چھوڑیے نا جی
عمران خان:یہ اسلام کے اوپر اور درسِ قرآن پہ بات کرتا ہے یہ
بابر اعوان: آگے چلیے، جی آگے چلیے
عمران خان: اور اللہ اسے صرف سچ بولنے کی توفیق دے، اتنا جھوٹ بولتا ہے یہ۔۔۔
بابر اعوان: I ll be very humble, میں اس طرح نہیں کہوں گا، میرا یہ لہجہ نہیں ہو سکتا جو آپ کا ہے، آپ پریشان نہ ہوں نا، آپ بات چھیڑتے ہیں پھر جواب دیں
عمران خان: میں تو آپ کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی ذات کی خاطر یہ چھوٹی چھوٹی وزارتوں کے لیے ملک کا بیڑہ غرق نہ کریں
بابر اعوان: میں وزیر نہیں ہوں۔
عمران خان: ایک آدمی جس نے ملک کو لوٹا ہوا ہے اس کے اوپر بیٹھ کر اس کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں
بابر اعوان: court judgments کے بعد یہ کہنا بھی توہینِ عدالت ہے، ان کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ توہینِ عدالت کیا ہوتی ہے
عمران خان: میں تیار ہوں توہینِ عدالت کے لیے، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ سرے محل پارلیمنٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ہمارا نہیں ہے آج کیوں اس کا پیسہ کلیم کر رہے ہیں؟
بابر اعوان: آپ گورنمنٹ کی land پہ بنائے گئے محل کا جواب دے دیں ادھر اسلام آباد والے سارے جانتے ہیں۔
عمران خان: یہ دیکھیں، آپ پاور میں ہیں مجھے پراسیکیوٹ کریں
بابر اعوان: ہم اتنی importance نہیں دیں گے آپ کو
عمران خان: مجھ پہ کیس کریں
بابر اعوان: ہم اتنی importance نہیں دیں گے آپ کو، نہ آپ پارلیمنٹ میں ہیں اور نہ politics میں
عمران خان: جو چور ہوتا ہے اس کی سوچ بھی چوروں والی ہوتی ہے
بابر اعوان: نہ آپ پارلیمنٹ میں ہیں اور نہ politics میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریکِ انصاف میں شمولیت کے بعد:
ایک دوسرا اعلان بھی ہے لیکن وہ کرنے سے پہلے میں پاکستان کے لوگو، پاکستان کے نوجوانو آپ کو ایک perspective دینا چاہتا ہوں کہ ایک طرف ایک شخص ہے جو ساری زندگی stardom میں رہا، اور اس نے جو کمایا ایک گھر اس کا بن گیا ملک سے باہر ایک فلیٹ جسے کہتے ہیں، واپس آتا ہے ایک کسانوں جیسا گھر اور بن گیا، جو کمایا declare کر دیا، خان ایک صاف ستھرا آدمی ہے ، خوفناک حد تک سادہ طرز زندگی ہے جو کہ ہم مڈل کلاس والوں کا بھی اتنا سادہ طرزِ زندگی نہیں ہے، جوپاکستان کا مستقبل ہے اور ہمارا کپتان ہے اور پاکستان کا اگلا وزیرِ اعظم کپتان عمران خان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو گا ،بلا بلا بلا بلا۔۔۔۔۔۔
یہ صرف ایک تصویر ہے جس کی میں نے یہاں منظر کشی کی ہے، یہ پارٹیاں بدلنے والے فرد فرد کی کہانی ہے اور آج کل تو جابجا بکھری نظر آتی ہے۔ شمولیت سے پہلے جو ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے نہ جانے وہ درست تھے یا اب والی باتیں درست ہیں، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ان میں سے ایک بات ضرور بالضرور جھوٹ ہے، دونوں بھی جھوٹ ہو سکتی ہیں، لیکن کم از کم دونوں باتیں سچ نہیں ہو سکتیں لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ نہ ایک دوسرے سے کوئی معافی تلافی اور نہ ہی سرِ عام جھوٹ بولنے پر قوم سے کوئی معذرت ، بس یہی وہ تبدیلی ہے جو شاید اس قوم کا مقدر ہے اور وہ ہے پارٹیوں کی تبدیلی۔۔۔۔۔۔۔۔ پارٹیاں بدلتے رہیے اور تبدیلی کے ڈھول پیٹتے رہیے۔۔رہے نام اللہ کا!

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *