مولانا فضل الرحمان اور گوادر کی موسیقی

بعض فیس بکی دانش وروں نے اس بات پر آسمان سر پر اٹھا رکھاہےکہ مولانافضل الرحمن نے گوادر پورٹ کی اس آپر یشنل تقر یب میں شرکت کیوں کی جس میں چینی اور پاکستانی فنکاراوں نے اپنی پرفامنس کامظاہرہ کیا؟

سرسری طورپر دیکھا جائے تو یہ اعتراض وزنی معلوم ہوتاہے، لیکن علم اور شعور کی نگاہ سے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ معترضین کی کم علمی اور سطحی سوچ کى عكاسى کرتاہے۔ یہ بات ان معترضین کو بھی معلوم ہوگی کہ مولانا اس تقر یب میں پاکستانی اور چینی موسیقی کے سروں سے محظوظ ہونے نہیں گئے تھے بلکہ ایک اہم نوعیت کے قومی منصوبے کی آپریشنل تقریب میں شرکت کرنے اور ایک قومی سیاست دان کی حیثیت سے قوم کی خوشی کے ان لمحات میں شریک ہوکر ملک دشمن قوتوں کو یہ پیغام دینےگئے تھےکہ اس عظیم پروجیکٹ کو پاکستاں کی تمام سنجیدہ سیاسی قیادت کی حمایت حاصل ہے اور اس حوالے سے عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے، لہذا دشمنوں کی سازشیں اسے ناکام نہیں بنا سکتیں۔ اس تقر یب میں فنکاراوں کی پرفامنس کی حیثیت ثانوی تھی، یہ کوئی شو بز اور رقص و سرور کی محفل نہیں تھی جس سے لطف اٹھانے کے لئے مولانا ڈیرہ اسماعیل خان سے سفرکرکے وہاں پہنچے تھے۔ کیا کوئی شخص بس میں اس لئے بیٹھتا ہے کہ بے ہنگم موسیقی سے لطف اندوز ہو؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ بس میں بیٹھنے والے مسافر کا مقصد اپنی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے لیکن اسے گاڑی میں گونجنے والی موسیقی کو بادل ناخواستہ برداشت کرنا پڑتا ہے، خصوصا اس وقت جب وہ اسے بند کرانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ فقہی مسئلہ بھی یہی ہے کہ ایسے موقع پر نہی عن المنکر کے نام پر ہنگامہ بپا نہ کیا جائے۔ ہم نے بہت سے ایسے علماء کو بھی ایسے اخبارات خر یدتے اور پڑھتے دیکھا ہے جو تصویروں اور شو بزکےصفحات پرمشتمل ہوتے ہیں، حالانکہ وہ موجودہ تصویر کی حرمت کے قائل بھی ہیں اور خود اس سے اجتناب بھی کرتے ہیں۔ کیا ان کے بارے میں یہ کہاجائےگا کہ وہ محض تصویرين اور شوبز کا پیج دیکھنے کی نیت سے اخبار خر یدتے ہیں؟ کوئی بھی ذی شعور شخص ایسا نہیں سوچ سکتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اعتبار مقصد کا ہوتا ہے اور اخبار خریدنے کا مقصد اس میں موجود معلومات اور خبر وں سے آگاہی حاصل کرنا ہوتاہے، تصویریں تو ضمنی چیز یں ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی بھی جید مفتی باتصویر اخبار خریدنے کو حرام نہیں کہہ سکتا۔
ہاں جس کو مقصود اور غیر مقصود کا معمولی فرق بھی معلوم نہ وہ وہ ایسے بے سر و پا فتوے جھاڑ سکتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *