شیطان کی عید ۔۔۔۔ مبارک حسین انجم

  • نو محرم کی شام تھی اور بوریت سے بھر پور، بوجھل طبیعت کے ساتھ میں چھت پہ اکیلا لیٹا ہوا تھا کہ اچانک مجھ سے شیطان ملاقات کےلئے آ گیا۔ جی جی شیطان، وہی شیطان جسے ابلیس کہتے ہیں۔ میں مودی، اوباما یا اور کسی سیاستدان کا نہیں کہہ رہا، اصلی والا شیطان، حیران مت ہوں، شیطان مجھ سے ملنے اکثر آتا ہی رہتا ہے اور ہماری ان ملاقاتوں کا سسلہ شروع کیسے ہوا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے جو پھر کبھی سناؤں گاـ

    ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ شیطان مجھ سے ملنے آ گیا۔ بڑا فریش اور خوش تھا، اپنی طرف سے کافی تیار بھی ہوا تھا، مجھے بور دیکھ کہنےلگا، انجم یار کیوں منہ بسورے لیٹے ہوے ہو؟ چلو بازار گھومنے چلتے ہیں۔ آج میں تمہاری پارٹی کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی بات سن کر مجھے مذاق سوجھا اور میں نے پوچھا، کیوں بے کمینے! آج کیا تیری شادی کی سالگرہ ہے؟؟ کمینہ ہنس پڑا، کہنے لگا، شادی کے جھنجھٹ تم جیسے لوگ پالتے ہیں، میں اس ٹینشن سے مکمل آزاد ہوں۔ در اصل میری عید ہے نا، اور عید کی چھٹیوں کا کل آخری اور سب سے بڑا دن ھے۔

    مجھے حیرت ہوئی. یہ کیا؟؟ تم تو شیطان ہو اور عید تو ہوتا ہی مسمانوں کا مذہبی معاملہ اور اجتماعی خوشی کا دن۔۔۔ اور وہ تو ہوتی بھی اور دنوں میں ہے۔ یہ محرم میں تمہاری عید کیسے ہو سکتی ہے؟؟ شیطان ہنس پڑا، پھر کہنے لگا، پیارے انجم؛ ایک تو تم سوال بہت کرتے ہو۔ مجھے اتنی حجتیں کرنے والے لوگ ذرا نہیں پسند مگر تمہاری بات الگ ہے۔ ایک تو تم مجھے بچپن سے ہی بہت پسند ہو، دوسرا تم میری ٹکر کے ہو۔ ایک تم ہی تو ہو جو مجھے ٹکر کا جواب دے لیتے ہو اس لئےتم جو چاہو پوچھ لو بتاؤں گا۔

    میں نے اسے تھوڑا سا ڈانٹا اور کہا، کمینے تم اپنی مکاریاں کبھی نہیں بھولتے، تمہاری تعریف بھی شرمندہ ہی کرتی ہے، اسے چھوڑو اور یہ بتاؤ آج تمہاری چاند رات کس حساب سے ہے ؟  شیطان فوراً بولا ، نہیں آج چاند رات نہیں ہے، چاند رات میں محرم کا چاند نظر آنے پہ مناتا ہوں۔ یکم محرم سے میری عید کا دن سٹارٹ ہو جاتا ہے اور میری عید پورے دس دن رہتی ہے اور دس محرم کو شام کے وقت ختم ہو جاتی ہے۔

    مجھے اس کی بات کچھ سمجھ نہیں آئی اور میں نے پوچھا، یکم محرم کو تمہاری عید کس حساب سے ہے ؟ تو کہنے لگا، انجم تم تو جانتے ہی ہو کہ دنیا کی امتوں میں ایک ہی شخصیت ایسی گزری ہے جس سے میں ڈرتا تھا اور وہ تھے حضرت عمر ، یکم محرم کو انکی وفات ہوئی ، اس دن میں دنیا کے ہر ڈرسے ازاد ہو گیاـ اس لیے میں نے یکم کو عید کا دن منانا شروع کر دیا.

    پھر میں نے پوچھا،تو اسکے بعد یہ نو دن کس خوشی میں ؟ تو کہنے لگا، آہا… تمہیں کیابتاؤں،، یہ نو دن میں پہلے نہیں مناتا تھا پھر جب واقع کربلا پیش آیا تو یہ دس محرم کا دن مجھے اتنا پسند آیا کہ مجھے یہ دن بھی عید میں شامل کرنا پڑا،پہلےتو کچھ مدت تک میں صرف یکم اور دس محرم کو ہی عید منانے لگا، پھر رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ جو باقی کے نو دن ہیں ان میں بھی کچھ ایسا کیا جائے کہ عید ہی بن جائیں تو میری تو موجیں ہی ہو جائیں ـ یہ سوچ کر میں نے پلاننگ شروع کر دی اور پھر کچھ افراد تیار کئے جن کے ذریعہ میں نے صحابہ کرام کی گستاخیاں شروع کروائیں، پھر کچھ اور لوگ تیار کیے جنہیں میں نے اہلبیت کے خلاف بھڑکا دیاـ

    اب یہ دو طبقے تو پکے جہنمی ہو ہی گئے کیوں کہ یہ تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما گئے تھے کہ صحابہ کا گستاخ بھی جہنمی ہے اور اہلبیت کا گستاخ بھی، سو یہ سلسلہ تو چل نکلا مگر اس میں ایک قباحت تھی، یہ دونوں طبقات اس ایک گناہ کے علاوہ ان دنوں میں اور کوئی گناہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ انکا زیادہ تر وقت عبادت میں گرنے گزرتا تھا، اس سے مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں اس عبادت کی وجہ سے ان کا وہ گناہ بھی معاف ہی نہ ہو جائےاور میری ساری محنت ضائع ہو جائے … سو میں نے کچھ الگ سے پلان بنایا، ان لوگوں کے لئے نئی عبادت تیار کر کے پیش کر دی،ایک طبقے کو لگا دیا خود اذیتی پہ ،اور اسے انکو عبادت کے طور پہ سمجھا دیا، اب تو کمال ہی ہو گیا، کہ وہ لوگ باقی کی عبادات کو بھول کر مکمل ہی اس طرف آ گئے ـ اب یہ طبقہ تو پوری طرح سے میرے کنٹرول میں ہو گیا مگر دوسرے طبقات نہیں ہو رہے تھے، جو لوگ اہلبیت کے مخالف تھے انکی توہین کرتے تھے انکی مجھے کوئی ٹینشن نہیں تھی کہ وہ جو عبادت مرضی کر لیں انکو کوئی فائدہ نہیں،سب ہی اعمال ضائع ہیں مگر جو لوگ ایسا نہیں کر رہے تھے ان کی عبادات چھڑوانا میرے لئے مشکل تھیں، سو ان کے لئے میں نے یہ حل نکالا کہ انہیں ماتم والے طبقہ کے خلاف ہرزہ سرائی میں لگا دیا اور وہ بیچارے ساری عبادتوں کو بھول کر ان کی مخالفت پہ کامزن ہو گئے اور مزے کی بات یہ ہوئی کہ اس کو بھی وہ عبادت سمجھ کر ہی کرنے لگے ـ

    مجھے بہت مزہ آیا… میرا پلان کامیاب تھا، اب مجھے اسے وسعت دینی تھی جو میں نے اپنی کمپنی کی مدد سے آسانی سے دے ڈالی۔  اب یہ نو دن وہ دونوں طبقات یہی میری بتائ ہوئی عبادت دل کھول کے کرتے ہیں ، کچھ صحابہ پہ تنقید جی بھر کے کرتے ہیں اور اس طرح ان نو دنوں میں اتنے لوگ جہنمی بنتے ہیں کہ جتنے پورے باقی سال میں بھی نہیں بن پاتے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس دوران مجھے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا،مکمل چھٹی مناتا ہوں۔ باقی کے چھوٹے موٹے معاملات میری کمپنی سنبھال لیتی ہے اور میں مناتا ہوں دس دن کی عید۔ یہ ہے میری عید کی سٹوری ـ

    یہ کہہ کر وہ داد طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگا کہ شائد میں اسے داد دوں گا مگر میں تو سناٹے میں تھا، اور غصہ بھی بہت ہی زیادہ آ رہا تھا اس کمبخت پر، قریب تھا کہ میرا دماغ شل ہو جاتا یہ سب جان کر ، کہ اچانک ہی میرے دل میں ایک روشنی سی پھوٹی اور میں نے اس سے کہا، مانتا ہوں کمینے تو بہت بڑا فنکار ہے ، مگر یہ کیوں بھول جاتا ہےکہ اللہ بھی تو رحمان ہے، تیرے بچھائے سارے کھیل کھیل چکنے کے بعد بھی جس جس کو حق کا تدارک ہوتا ہے وہ توبہ کر لیتا ہے، اور رب کریم اسے معاف کر کے پھر سے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کر لیتا ہے اور یہی وجہ ہے کے تیرے دونوں طبقوں سے کہیں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ان سب علتوں سے پاک ہیں اور ان لوگوں کو بھی بچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تو جو مرضی کر لے، بندہ مومن کو رب ہمیشہ ہی تیرے مقابلے میں بہتر پلان اور بہتر سمجھ عطا کرتا ہے جو تیری ہر چال کو ناکام بنا کے چھوڑتا ہے ـ

    میری بات سن کر شیطان کا رنگ بدل گیا، اس نے کپڑے پھاڑ دیے اور بالوں کو پھر سے بکھیر کر منہ سے بدبودار جھاگ نکالتا ہوا دور اندھیروں کی طرف دوڑ پڑا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *