• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • قصہ ایک درویش مولوی کا ۔۔اک نظر اپنے سماج پر بھی ڈالو /ظفرالاسلام سیفی

قصہ ایک درویش مولوی کا ۔۔اک نظر اپنے سماج پر بھی ڈالو /ظفرالاسلام سیفی

SHOPPING

وہ بہت خوش تھا،بلکہ بہت ہی زیادہ خوش۔۔۔ نہایت نورانی صورت،لکھنؤ کے گبرو جوان کی طرح گول مٹول وجود،شائستہ گفتگو،مجسم متانت،سر تا پا سنت سے ڈھکا ذہین وفطین نوجوان میرے سامنے بیٹھا پہلو سے پہلو یوں بدل رہا تھا جیسے خوشی سے اچھل رہا ہو، ارے آخر ہوا کیا ہے؟ میں نے پوچھا،مولانا دیکھو آخر مسجد مل ہی گئی نا۔۔ اپنے دل میں امنڈتے خوشیوں کے طوفان سے گویا چند لمحات  کی   اجازت لے کر گویا ہوا ہو۔۔ والد سے لے کر چھوٹے بھائی تک،اہلیہ سے لے کر خیر خواہی کے دم بھرنے والے ادنی رفیق تک سبھی ملازمت ملازمت،جاب جاب کی رٹ لگائے مسجد ودینی خدمت کے کسی مناسب بندوبست کے نہ ملنے کا کہے جا رہے تھے,سمجھایا بھی ہزاروں بارکہ ارے بابا ……… دیکھنے تو دو مگر کوئی مان کے نہیں دے رہا تھا……. لوپھر آج دیکھو نا ! میرے خدا نے فضل وکرم فرمایا اپنے لطف واحساں سے مسجد مل ہی گئی,. میں نے پوچھا. کیا طے ہوا حق الخدمت؟ دس ہزار مولانا۔۔  دس ہزار، میرے دو ہی بچے اور ایک اہلیہ ہی تو ہے۔ ا س پر مستزاد یہ کہ ایک کمرے پر مشتمل رہائش بھی تو اہل محلہ نے عنایت فرما دی!

بولے۔۔ ساتھ قبرستان ہے! جنات وغیرہ کا خطرہ بھی ہے مگر بچے میرے چھوٹے ہیں جنہیں قبرستان سے کوئی سروکار نہیں اور ہم میاں بیوی کی خیر ہے ، ایسا کچھ ہوا بھی تو سہہ لیں گے، پنج گانہ نمازوں،مسجد کی صفائی ستھرائی،پانی کے بندوبست سمیت جملہ انتظامی معاملات کے علاوہ بچوں کو ناظرہ پڑھانے اور خواتین کو اہلیہ کے بہشتی زیور پڑھانے کے سوا کوئی کام بھی تو نہیں، پھر ماشا اللہ اہل محلہ ہیں بھی اچھے، اولاً  آٹھ ہزار کہا۔ میری درخواست پر فوری ہر گھر پر تین صد مقرر کر کے دس ہزار فرما دیا۔۔اسے لگتا تھا بہت جلدی تھی مجھ سے مصافحہ کیا اور یوں رفو چکر ہوا جیسے نہ تھمنے والا خوشیوں کا طوفان بند توڑ گیا ہو۔ میرے اندر وحشت کی بجلی جیسے دوڑ گی ہو، کیا کیا کہہ گیا یہ جوان،کیا کر رہا ہے یہ سماج اور کیا کروں میں؟ اللہ اکبر۔۔کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔میرا دل کیا کسی دیوار کی اوٹ میں یا کسی بند کمرے میں چاک بہ گریباں ہوں،چیخوں چلاؤں یا نوحہ کناں ہو کر کسی دیوار سے ٹکر دے ماروں، واللہ! ضبط بے ضبط اور آنسو بندھن توڑے جارہے تھے، آخر مولوی ہی سے کیوں معاشرتی وسماجی مضحکے رچائے جاتے ہیں؟؟ کیا سمجھ رکھا ہے اس بے حس سماج نے اسے؟؟ کیا ذرہ بھر شرم بھی نہیں آتی یہ سب تماشے برپا کرتے ہوئے؟؟

شاید یہ سب  برداشت ہو جاتا اگر ایک دن شام کے آخری پہر ایک فائیوسٹار ہوٹل میں ایک رات پر ڈیڑھ لاکھ تک کا کرایہ دینے والوں کی نہ ختم ہونے والی لائن کو نہ دیکھتا،  بے لباس  عورت پر لاکھوں یک دم لٹانے والے بدکرداروں کو معاشرتی جسم کا عضو نہ پاتا، رسم ورواج کے نام پر دولت کی بہتی نہروں میں سماج کو بے شرمی سے نہاتے نہ دیکھتا، سڑک پر خراٹے بھرتی نت نئے ماڈل کی گاڑیوں اور آسمان سے باتیں کرتے بنگلوں ومحلات کو سماج کا منہ چڑھاتے نہ دیکھتا، اور دس ہزار پر اچھلتے اپنے اس سادہ خوبرو جوان کے اس حسین چہرے کو نہ دیکھتا جو سماج کے اس حقیر لقمے کو بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر سمجھ رہا تھا۔ ارے ہے کوئی؟؟؟ جو شرم دلا سکے اس سماج کو، درس حیا پڑھا  سکے دین کا مضحکہ اڑانے والے ان بے حسوں کو۔۔ بتلا سکے کہ علماء وائمہ کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟؟ سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں، گرمیوں کی تپتی حرارتوں،ماحول کی ترشیوں،معاشرتی نفرتوں،گھریلو الجھنوں،بین الاقوامی سازشوں کی صعوبتوں اور سختیوں کو سہہ سہہ کربھی ہردم مسکراتے ولہلہاتے چہروں والے ان مولویوں اور انکے مقام ومرتبہ کو کیا جانو تم؟؟۔۔۔ کیا کہا سماج پر بوجھ ہیں؟؟ روزانہ پبلک ٹوائلٹ کے دس  روپے سے بھی کم دے کر کچھ حیا اور شرم بھی تم میں ہے کہ اتراتے،احسان جتلاتے اور اکڑتے مچلتے ہو۔۔ سدھاریے اور سمجھائیے،دیکھیے اور دکھلائیے اپنے اس سماج کو وگرنہ اسے بنی اسرائیل بنتے دیر نہ لگے گی۔

SHOPPING

میں مغموم ہوں اور واللہ بہت مغموم ہوں کہ میرے لاچار مولوی کی نسل نو کا مستقبل کیا ہے؟؟ میرے ذہن کے گوشوں اور دل سے اٹھتی درد کی ٹیسوں سے نکلنے والی آوازیں نجانے کیوں مجھے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ مولویت سے جو ہو رہا ہے اور جو آئندہ ہوگا اس سب کے ذمہ دار تم تھے اور تم ہی ہوں گے!

SHOPPING

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *