بیگم جان ایک عہد ساز فلم یا محض ری میک

بیگم جان دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ۔۔۔’بیگم جان‘ خوفناک حد تک خوبصورت فلم ہے۔ ضرور دیکھیں!
اس پر دوستوں نے فلم کی تعریف میں کافی کمینٹس دیے مگر ایک کمینٹ جو مجھے انباکس میں انجنئیر چوہدری غلام عباس صاحب کی طرف سے ملا وہ بہت متاثر کن تھا۔ انجنئیر صاحب لکھتے ہیں کہ۔۔۔
’’ہمارا گاؤں بارڈر سے کوئی تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے . یہاں جموں والا بارڈر ہے . وہاں پر ایک رہٹ ہوتا تھا . جس کی بیل چلنے والی جگہ پاکستان میں اور پانی گرنے والی ہندوستان میں تھی .. اس زمانے میں بارڈر پر زیادہ تلخی نہیں ہوتی تھی تو میں نے اس کو تھوڑے سے فاصلے سے دیکھا ہوا ہے .. اس فلم میں “بیگم جان”کا کوٹھا دیکھ کر وہ رہٹ میری آنکھوں کے سامنے گھومتا رہا‘‘
ویسے تو یہ بات ایبسٹریکٹ ہی زیادہ خوبصورت ہے، مگر پھر بھی اگر میں اسکی تشریح اپنی سمجھ اور اپنے انداز میں کرنا چاہوں تو ایک بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی بھی ہندوستانی کاشتکار استعمال کر رہا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہندوستان بہتے آب رواں کی وجہ سے لہلا اور چہچہا رہا ہے، اور پاکستانی کسان ناکام ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے صرف کولہو کا بیل بن کر رہ گیا ہے۔
ہندوستانی معاشرے میں ریپ کے بے انتہا واقعات کے باوجود تخلیق کار ہماری نسبت بدرجہا آزاد ہے اور وہ ان موضوعات پر لکھ کر معاشرے میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ موضوعات، اظہار رائے اور فریڈم آف ایکسپریشن کی وجہ سے وہاں فلمی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے جو انکی معیشت میں ایک مضبوط ستون کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے جنون کا پانی مسلسل بہا کر معاشرے کو جوہڑ بننے سے بچانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں، مگر یہاں سینسر شپ معاشرتی گھٹن میں اضافے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ پابندیوں نے جنون کو مسلسل جکڑ رکھا ہے جس سے معاشرے میں تعفن پھیلا ہوا ہے۔
جہاں تک حقوق نسواں کی بات ہے تو عورت سے زیادتی وہاں بھی ہوتی ہے اور یہاں بھی، اور تناسب میں بھی شاید کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا کہ ہندوستان ہم سے تین چار گنا بڑا ملک ہے۔ اگر ہم معاشرے کو انتہا پسندی سے نکالنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں کم از کم معاشرتی برائیوں کے حوالے سے سینسر شپ ضرور ختم کرنا ہوگی۔ یقیناً اس ضمن میں ہمارے پاس موضوعات ان سے زیادہ ہیں۔ اگر آپ ماضی قریب کی بعض ہندوستانی فلموں کی کہانیوں پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ آج کل بہت سی کہانیاں ہمارے ہی معاشرے سے اٹھاتے ہیں اور کرداروں اور ناموں میں کچھ انیس بیس تبدیلیاں کر کے پیش نمائش کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔
ایک فلم جس میں شاید اکشے کمار ہیرو تھے، اس میں دکھایا گیا کہ ایک مسلمان دہشت گرد جہادی (جسکے پاس اصل ہندو آئی ڈی کارڈ بھی موجود ہے) پکڑا جاتا ہے وہ ہندو پنڈت بھیس میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا ہوتا ہے۔ عدالت کے کٹہرے میں اس سے سوال جواب ہوتے ہیں تو وہ بڑی چالاکی سے جواب دے کر خود کو مسلسل بچاتا جاتا ہے، کسی طور ثابت نہیں ہو پاتا کہ وہ مسلمان اور غیر ملکی ایجنٹ اور دہشت گرد ہے۔ لیکن پھر آخر میں کسی مذہبی فلمی بات پر خود کو مسلمان تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اب اس کردار میں آپ کلبھوشن یادو کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ انھوں نے بہت چالاکی سے کردار کی شناخت الٹا کر شاید را کی ٹپس پر ایک فلم بنا ڈالی جو غالباً کلبھوش کی گرفتاری سے بھی پہلے ریلیز ہوئی تھی۔ دنیا بھر میں ایجنسیاں ٹپس دے کر فلمیں بنواتی ہیں اور یہ کام سب سے زیادہ (کولڈ وار کے دنوں میں) ہالی ووڈ نے کیا جو اب تک جاری ہے۔
بہر حال بیگم جان ایسی فلم ہرگز نہیں محسوس ہوتی کہ جس میں کسی جانبداری یا بد دیانتی کا تاثر ملے۔ یہ بلا شبہ مہیش بھٹ کی تخلیقی صلاحیتوں اور ودیا بالن کی بے مثل اداکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فلم میں بہت کچھ افسانوی ہونے کے باوجود اسے پر کشش انداز میں حقیقت کے قریب رہتے فلمایا گیا ہے۔ سو جعلی کچھ نہیں لگتا مگر ہمارے ہاں اچھی بھلی حقیقی کہانیوں کو بھی ایسے فلمایا جاتا ہے کہ وہ بے جان اور جعلی محسوس ہوتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسے ٹرو سٹوری کہا جائے یا فکشن مگر فائن آرٹس کی اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ یہ فلم کچھ سوریل ازم اور کچھ باربی زون سکول کے پینٹرز کی کسی شاہکار پینٹنگ سی تھی۔
لیکن ذرا رُکیے، بات شاید ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ بیگم جان کی تعریف میں یہ سب لکھنے پر ایک دوست سے معلوم ہوا کہ یہ فلم ایک بنگالی فلم ’’راج کہانی یا کاہنی‘‘ کا ری میک ہے جو دو ہزار پندرہ میں ریلیز ہوئی تھی۔ یو ٹیوب پر راج کہانی کا نام ڈالتے ہی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ بیگم جان واقعی راج کہانی کا ری میک ہے۔ فلم شروع سے نہیں دیکھی تھی نہ آخر میں کریڈیٹ لائنز کو پڑھا تو نہیں جانتا کہ مہیش بھٹ سے بڑے دائریکٹر نے اصل کا کریڈیٹ مینشن کیا یا نہیں۔ اگر نہیں کیا تھا تو انکی تعریف میں لکھے تمام کلمات واپس اور اگر کیا بھی تھا تو اب وہ بات نہیں رہی جو پہلے محسوس کی۔ جی! اصل اصل ہی ہوتا ہے۔ اوریجنیلٹی کا کوئی ثانی ممکن نہیں، چاہے ٹینا ثانی مائی بھاگی کو تمام تر جدید لوازمات کیساتھ گائے۔ اصل کا ری میک سے موازنہ ہی غلط ہے۔ چھٹی ساتویں کلاس سے جگجیت سنگھ کو سننا شروع کر دیا تھا تو جانتا تھا کہ سلیم کوثر کی معروف غزل ’’میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے‘‘ پہلے جگجیت سنگھ نے اور بعد میں مہدی حسن خان صاحب اور نصرت فتح علی خان صاحب نے گائی تھی۔ جن لوگوں نے جگجیت سنگھ کا کافی پہلے گایا ورژن نہیں سنا تھا جب وہ میرے پاس آکر میرے موسیقی کےذوق کو چیلنج کرنے کے انداز میں مجھے یہ کہتے کہ ’’ یہ غزل سنو، ایسی غزل تونے پہلے نہ سنی ہوگی‘‘ تو بہت غصہ آتا۔
سچ پوچھیں تو جب یہ غزل دوبارہ دونوں عظیم گائکوں نے گائی تو ان سے چڑ سی ہونے لگی تھی۔ سوچتا تھا کیا انھیں اردو زبان میں لکھی جانے والی لاکھوں کروڑوں خوبصورت غزلوں میں ایک یہی غزل گانے کو ملی تھی؟ اپنی بے عزتی محسوس ہوتی تھی کہ ہمارے ملک کے موسیقی کے سب سے بڑے نام، جگجیت سنگھ کی خوبصورتی سے گائی غزل دوبارہ گا رہے ہیں۔ مقصود کیا تھا؟ اگر مقابلہ تھا تو معذرت کیساتھ دونوں عظیم گائیک یہ مقابلہ ہار چکے تھے (اسکے باوجود کہ انھوں نے اس غزل کو اپنے اپنے انداز میں ذرا مختلف دھنوں کیساتھ انتہائی مہارت اور خوبصورتی سے گایا تھا)۔ اور اگر یہ مقابلہ نہیں تھا تو اردو شاری میں یہ اکلوتی خوبصورت غزل ہرگز نہ تھی اور سرحد پار کے ایک مستند غزل گائیک کی خوبصورتی سے گائی غزل کو دوبارہ گانا ایک غیر اخلاقی اور چھوٹی حرکت تھی، جو انکے قد بُت کے برابر نہ تھی۔ میرے محبوب گائیکوں کے دفاع کے لیے میرے پاس آج بھی کوئی توجیح نہیں، مگر بیگم جان کے لیے ایک مارجن پھر بھی یوں رہتا ہے کہ یہ ایک قطعی مختلف زبان کی فلم کا ٹرانسلیٹڈ ری میک تھا، جو ہندی اُردو سینیما کے لیے بنایا گیا تھا۔
بنگالی نا سمجھ آنے کی وجہ سے میں یہاں ودیا بالن اور رِتُوپراناسین گپتا کی اداکاری کا مکمل موازنہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ یہ کوئی خاموش فلموں کا دور نہیں جس میں اداکاری کا تقابل محض ایکسپریشن سے ممکن ہو سکے۔ ودیا کے لیے مارجن کچھ اور اس طرح بھی بڑھ جاتا ہے کہ وہ محض ایک اداکارہ ہےجس نے خود یہ رول نہیں لکھا۔ اُس نے ایکٹنگ کے پیسے لیے اور پوری دیانتداری اور پروفیشنل ازم کیساتھ اپنے کردار کو نبھانے کی کوشش کی۔ بہر حال ری میک کے انکشاف کے بعد میں زیادہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ’’بیگم جان‘‘ اپنے اصل سے بہتر فلم ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ اگر آپکو بنگلہ نہیں آتی تو پھر بیگم جان ضرور دیکھ لیجیے۔ کاپی ہی سہی، ری میک ہی سہی، مگر فلم دیکھنے کا مزا ضرور آئے گا۔ بالکل ویسے ہی، جیسے بہت سے لوگوں نے جگجیت سنگھ سے ’’میں خیال ہوں کسی اور کا‘‘ پہلے نہیں سنی تھی تو اُنھیں خان صاحب نصرت فتح علی خان یا مہدی حسن خان صاحب کے گائے ورژن ہی زیادہ پسند آتے ہیں۔ شاید میں نے بھی جگجیت سنگھ کو پہلے نہ سنا ہوتا تو وہ مجھے بھی اچھے لگتے!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *