امیر کا پاکستان الگ، غریب کا پاکستان الگ

امیر کا پاکستان الگ، غریب کا پاکستان الگ
آصف وڑائچ
‏”یہ بےفائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ انسانوں کو (رسومات کا) حکم دیتے ہیں۔‏“‏ عیسیٰ مسیح (‏مرقس انجیل ۷:‏۷‏)‏
چونکہ یہودی انسانی حقوق کے متعلق احکامات کو پسِ پشت ڈال کر محض مذہبی رسومات پر چلنے کو ہی زیادہ اہمیت دیتے تھے، اِس وجہ سے عیسٰی علیہ السلام نے اُن کی عبادات کو بےفائدہ قرار دیا تھا۔
اپنے معاشرے کو مدِ نظر رکھ کر میں نے اس رویے کو نظم کی شکل میں پیش کیا ہے:‏
امیر کا پاکستان الگ، غریب کا پاکستان الگ
ایک کا ڈربہ دان الگ، دوجے کا عالیشان الگ
ایک روشن مکان الگ ، دوجے کا بیابان الگ
ایک کا ایمان الگ، دوجے کا شیطان الگ
ایک کا راگ تان الگ، دوجے کا دیوان الگ
ایک کی شان الگ ، دوجے کا فرمان الگ
ایک کی حدیث الگ، دوجے کا قرآن الگ
ایک کا سکون الگ، دوجے کا ہیجان الگ
ایک قیمتی انسان الگ، دوجی تڑپتی جان الگ
ایک کی ٹھنڈی موت الگ، دوجا قبرستان الگ
چور سب یک جان الگ، عوام سب پریشان الگ

ایک کا ہائپر سٹار الگ، دوجے کا بازار الگ
ایک کا روزگار الگ، دوجے کا بیوپار الگ
ایک بیٹی کا تیوہار الگ، دوجی کی ہے کار الگ
ایک بیٹا ساہوکار الگ، دوجے کا بے کار الگ
ایک سیاسی فنکار الگ، دوجے کی سرکار الگ
گنگو تیلی، کمہار الگ ، دوجا حاجی نثار الگ
ایک کا عیش و شکار الگ، دوجا ہے بے زار الگ
ایک کا ہسپتال الگ، دوجا ہے بیمار الگ
ایک حق دار الگ، دوجا سزاوار الگ
ایک نمبردار الگ، دوجا سدا نادار الگ
ایک کا ثواب الگ، دوجا گناہ گار الگ
ایک جانکار الگ، دوجا جاہل گنوار الگ
ایک مسجد دار الگ، دوجے کا مزار الگ
ایک ایماندار الگ، دوجا مولوی دیندار الگ
ایک کا ہے چاند الگ، دوجا روزہ دار الگ
سوچتا ہوں ایسے معاشرے میں
لوگ عبادت کے بعد کیا کرتے ہیں

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *