• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ظالماں! میرا ویزہ تے لادے۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

ظالماں! میرا ویزہ تے لادے۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

ہم سے جو ہوسکا، سو کر گزرے
اب تیرا امتحان ہے، پیارے!

ہمیں علم تھا کہ افسر عالی مقام رات کو اپنی بے راہ رو طبیعت کی وجہ سے بیگم کی ڈانٹ  کھا کر سوتے ہیں ،اس لیے صبح جلدی اٹھتے ہیں۔لینڈ لائن کا زمانہ تھا ،فون پر ان کا نمبر مچلنے لگا  تو حیرت ہوئی، ان کا نمبر ہمیں ایسے ہی یاد تھا جیسے  مالدار گھرانے میں موت میت کے طعام کی فاتحہ کے لیے بلائے جانے والے مولوی صاحبان کو مطلوبہ سورتیں اور آیات یاد ہوتی ہیں۔ہمیں گھر پر خود فون کیا۔ناشتے کی دعوت دی۔ہم نے بہت مہذب انداز میں ٹال دیا۔سامنے ایک ہدایت تھی کہ بڑے آدمیوں کی قربت سانپ اور بچھوؤں  کا ساتھ ہے۔یہ ہدایت گریز و اجتناب ہمیں ہماری آنٹی عطیہ موجود نے دی تھی۔وہ بہت بڑی صاحب کشف خاتون تھیں۔سائلین اپنے مسائل کا حل پوچھنے آتے تھے۔

tripako tours pakistan

ہماری آنٹی عطیہ موجود، کی جانب سے دی گئی   یہ ہدایت اجتناب سیدنا عثمان علی ہجویری سے منسوب ہے جنہیں   اہل پنجاب نے مال ومنال سے جوڑ کر داتا گنج بخش بنا دیا، اکثر سناتی تھیں ،اس پر عمل پیرا بھی رہتی تھیں۔ جنرل ایوب خان ہوں، بیگم ضیا الحق یا بلوچ سرداروں کی بیگمات ہوں یا بیگم نصرت بھٹو مجال ہے ان سے کبھی وہ مرعوب ہوئی ہوں۔ان کی کسی دعوت میں گئی ہوں۔ان کے آنے پر کوئی معمولی سا بھی اہتمام کیا ہو۔چائے سب کو ملتی تھی ۔درویشوں کی یہ صفت عالیہ ہے کہ مہمان کی خدمت کرو چائے سب کو ملتی تھی ۔۔گھر میں فتوحات بمعنی نذرانہ کے طور موصول شدہ اشیا تقسیم کے لئے ہوتیں ،مٹھائی پھل موجود ہوتے تو ہر مہمان کے سامنے رکھے جاتے ،امیر غریب کی تخصیص نہ تھی۔ ہم نے اسی لیے ان کے ساتھ ناشتے سے پرہیز کیا۔ ۔ہماری ہچکچاہٹ پر ریکھا جیسی محتاط شرماہٹ سے کہنے لگے اچھا پھر دس بجے دفتر آجاؤ ۔ ہم بھی لپک جھپک پہنچ گئے۔

تقویض کردہ کام  خالصتاً غیر سرکاری تھا بلکہ ذرا بے مروت ہوکر سوچیں توبالکل ہی نجی نوعیت کا ۔افسر عالی مقام بڑے تھے۔سب ہی کی عزت کرتے تھے۔ خود پرانے سی ایس پی اور مہاجر تھے۔شیریں گفتار ایسے کہ لگتا تھا کہ بدین کے تلخ گفتار بد مزاج ذوالفقار مرزا نے اپنی شوگر مل آصف زرداری سے چھپا کر ان کے گلے میں لگادی ہے۔ پاکستان کے ڈی ایم جی افسران کا گروپ بھارت کی تقلید میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا خرقہء ملامت اوڑھ کر بیٹھ گیا ہے۔ ان میں شامل سندھ کے مہاجر افسر ذوالفقار علی بھٹو کی سول سروس سے متعصبانہ چیرہ دستیوں کے بعد سے بہت محتاط ہوچلے ہیں۔مال اور مفاد کے معاملات میں ایسی احتیاط کرتے  ہیں کہ   مادہ مچھر کا بوسہ بھی لینا ہوگا تو باقاعدہ دانتوں کو برش کرنے اور  ماؤتھ واش سے کلیاں کرنے کا اہتمام کریں گے۔اس کے برعکس مقامی سندھی افسران نے سوچ رکھا ہے کہ دنیا میں ان کا محافظ وڈیرہ ہے اور دین میں پیر۔ سرکاری ملازمت بھی زمین داری ہے،ہاتھی بھی کھاؤ اور اس کے دانت اور چارہ بھی بیچ دو۔مرکز سے تعینات ہوکر آنے والے پنجابی افسران کا معاملہ دوسرا ہے۔اختلاف سے گریز کرتے ہیں۔اصول جائیں بھاڑ میں کہ ”اسی کیہڑا ایتھے سندھ وچ رہنا اے“۔ یہاں سے کھل کے پیسے بناؤ میلسی،پتوکی،ماموں کانجن میں زمینیں خریدو۔ ان کی پینڈو بیگمات دعوت میں سب کو کہیں گی ۔

Oh its not new money.We were rich from behind
(نہیں جی یہ نئی دولت نہیں ہم تو پیچھے سے مالدار تھے۔)

حالاں کہ ان میں اکثریت ان افسران کی تھی جو جامعات کے ہاسٹلز میں لنچ کے وقت شوربے کی پلیٹ میں Scuba Diving کرکے بوٹیاں ڈھونڈتے تھے،گھر میں مٹی کے چولہے ہوتے تھے اور  بے بے خالائیں باجیاں دہی اور بیسن سے نہاتی تھیں کہ لائف بوائے صابن مہنگا لگتا تھا اور منسلک مردوں میں اس کے قدر دان بھی مفقود تھے۔یہ افسر سندھ میں بہت مال والی پوسٹنگ میں رج کر مال کمانے کے  بعد اسلام آباد  ایک آدھ سال جگالی پوسٹنگ پکڑ کر کسی غیر اہم محکمے میں سیکریٹریٹ میں جاچھپتے ہیں ۔محاسبے کرنے والے اور خفیہ اداروں میں پنڈ اور رشتہ دار افسر شامل ہوتے ہیں ان سے جلد ہی سٹ پنجہ ہوجاتا ہے”او یار خیال کریں اپنا بندہ ہے“ کے منتر کی وجہ سے جان بچ جاتی ہے۔

افسر عالی مقام کے عین مقابل صوفے پر ایک نوجوان شلوار قمیص اور عمرے کی وجہ سے بالوں سے محروم بیٹھا تھا۔افسر صاحب نے تعارف کرایا کہ یہ ہمارے وزیر صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ میں جب پنجاب میں پوسٹڈ تھا تو وزیر صاحب نے کبھی فارم ہاؤس کے علاوہ کہیں اور ویک اینڈ نہیں گزارنے دیا ،ہماری فلموں سے لگاوٹ کو مد نظر رکھ کر سنانے لگے کہ وہ نرگس (انہیں والد صاحب سنیل دت یاد نہ رہے )کا لفنگا بیٹا بھی وہاں آکر رہا تھا۔ پاگل ہوگیا تھا۔مزید تٖصیلات سے انہوں نے گریز کیا اور ہم نے اندازہ لگایا کہ شراب و شباب،طعام اور دولت کی ریل پیل دیکھ کر اس کی آنکھیں کھل گئی ہوں گی۔

افسر صاحب نے بتایا کہ کام یہ ہے کہ وزیر زادے کو  برطانوی کوسلیٹ لے جاؤ۔ ویزہ درکار ہے ۔انشا اللہ اندر کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ باہر کے لیے میری ڈی آئی جی سے بات ہوگئی ہے اس نے ایس ایچ او سے سیٹ کرلیا ہے تمہیں لائن  میں نہیں لگنا پڑے گا۔وزیر صاحب نے اسلام آباد فارن آفس سے بھی فون کرادیا ہے۔

برطانوی کونسلیٹ

شیکسپئر کے ایک ڈرامے ہیلمیٹ میں اس کا کردار Marcellus ایک ایسا جملہ کہتا ہے جو شکسپئر کے مشہور جملوں میں شمار ہوتا ہے
Something is rotten in the state of Denmark.
(ریاست ڈنمارک میں کوئی چیز سڑ رہی ہے)
ہمیں بھی ایسا ہی کچھ لگا۔ ”میں ایتھے تے ڈھول کشمیر وے“ قسم کی گڑ بڑ، مرکزی وزیر،اسلام آباد، فارن آفس سے کراچی   کونسلیٹ  فون،وزیر صاحب خود بھی جنوبی پنجاب کے اس علاقے کے جو اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں۔ ہم نے بھی چوھدری شجاعت حسین کا شہرہ آفاق جملہ دل ہی دل میں دہرایا کہ سانوں کی مٹی پاؤ ۔ہمیں اس پرانے خاک آلود شلغم جیسے بیٹے کو دیکھ کر لگا کہ وزیر صاحب سے یہاں کراچی میں کسی کے آستانہء پرلطف پر جوانی میں کوئی بھول ہوئی ہے جس کا اب ازالہ ہورہا ہے۔ دفتر سے باہر آئے تو افسر باختیار کا پی۔اے بھی کم بخت فارملین(وہ کیمیائی محلول جس میں مردہ جانور محفوظ کیے جاتے ہیں) میں بجھا بچھو تھا۔ باہر نکل کر ایک ہی سانس میں تین راز سرگوشیوں میں بتا گیا کہ بڑے صاحب انڈر ٹرانسفر ہیں۔ یہ ساری مہربانی اس لیے ہے کہ وزیر صاحب کے زیر انتظام ایک ادارے میں افسر عالی مقام کے بھائی کا پرموشن ماؤنٹین  ڈیو ہے تیسرا اور مہلک ترین راز یہ تھا کہ کچھ بچوں میں پیدائش کے وقت بہترین والدین کا انتخاب کرنے کی One Time صلاحیت بہت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔وزیر زادے کو بھی اسی گروپ میں رکھیں۔ماں بیٹے نے باپ کا انتخاب بہت ٹھوک بجا کر کیا ہے۔

ہمیں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ عہدے سے دور ہونے والا افسر اور سیاست دان چاہے وہ زرداری صاحب کے سامنے کمانڈو جرنیل پرویز مشرف ہی کیوں نہ ہو چھپکلی کی کٹی ہوئی دم کی طرح  ہے۔ایسے ہی دو افسران اس وقت لاہور میں مقید ہیں۔ سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسین فواد کی طاقت کا تو یہ عالم تھا کہ وزیر تو چھوڑ داماد اوّل بھی اس کے سامنے بڑے گھروں کے سامنے کباڑی کا ٹھیلا لگتے تھے،دوسرے نے صاف پانی میں ایسا زہر گھولا کہ نہ پوچھیے ۔دوران حراست ان افسروں کے حوالے سے جو باتیں سامنے آتی ہیں ان میں اول الذکر سے منسوب یہ شکوہ ہے کہ مجھے سے ڈی ایم جی لینے میں بہت غلطی ہوئی بہتر تھا کسٹم یا انکم ٹیکس گروپ لیا ہوتا ۔ان دونوں گروپس یعنی کسٹم انکم ٹیکس والے افسر دوران ملازمت مادر پدر آزاد ہوکر مال  کماتے ہیں۔آج تک ان میں سے ایک بھی گرفتار نہیں ہوا۔ دوسرے کا یہ شکوہ کسی نے سنایا کہ وہ بھی پولیس میں چلا گیا ہوتا تو اچھا تھا،مشتاق سکھیرا آئی جی کو دیکھیں پندرہ بندے ماڈل ٹاؤن میں پھڑکائے۔

لشکر جھنگوی کے ملک اسحق اور اس کے  بیٹوں کو بھی اس کے زمانے میں مارا گیا اور خود مزے سے بینکنگ محتسب کے آئینی عہدے پر براجمان ہوکر بیٹھا ہے۔

ماڈل ٹاؤن

 

 

 

 

 

 

 

طے شدہ انصرام کے مطابق ہمیں ویزہ ہال میں پہنچنے میں کوئی مشکل نہ ہوئی۔چار عدد کھڑکیوں پر ویزہ عطا کرنے والوں کے پاس اردو انگریزی میں مدعا بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ پکڑے جانے پر کھل کر بے عزتی کی سہولت بھی میسر تھی۔

ویزہ حاصل کرنے کے لیے قطار

نیلے boat- neck بلاؤز میں ملبوس ایک گوری تو ایسی ہی تھی کہ لگتا تھا گھر سے کنری (تھرپارکر کا علاقہ جہاں کی مرچیں بہت عمدہ اور تیز ہوتی ہیں )کی مرچیں صافی کی پوری بوتل کے ساتھ گُٹھکا کر آئی ہے۔ویزے کا ہر متمنی کمپیوٹر کے چیندہ بلاوے پر چار و ناچار اس کے پاس حاملہ عورت جیسے بوجھل قدم اٹھاکر پہنچتا۔ تابڑ توڑ سوالات پر پہلے تو ہکلاتا ۔ہشیار بننے کی کوشش میں جھوٹ بولتا اور ویزہ کے انکار کا سن کر زیر لب ماں بہن ایک کرتا ہوا چل پڑتا۔ ہم تا دیر تھرڈ ایمپائیر بنے غلامان برطانیہ کی اس لترول کا جائزہ لیتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اللہ نظر بد سے بچائے۔ تلخ نوا نہ ہوتی یوں بد مزاج نہ ہوتی تو جواں سال نہ ہوتے ہوئے بھی دل فریب لگتی۔

وزیر زادے نے اعلان کیا کہ ہم اس کم بخت کے پاس نہیں جائیں گے۔بہت بے عزتی کرتی ہے۔ہم نے سمجھایا کہ اس میں اپنی مرضی سے زیادہ کمپیوٹر کے ذریعے مطلوبہ کھڑکی کا نمبر آنے کا د خل ہے تو وہ اس کے بلاوے کی بلا ٹالنے کے لیے آیت کریمہ کا ورد کرنے لگا۔اسے ویزہ کی دیالو ایک پاکستانی نژاد خاتون   کی کھڑکی پر زیادہ احساس تحفظ و شائستگی محسوس ہوئی ۔وہ بات بالکل اسپیکر ایاز صادق کی طرح ٹالتی تھی اور الیکشن کمیشن کی طرح رول دیتی تھی۔ ۔ابھی یہ شش و پنج جاری تھا  کہ ایک نوجوان سفید شلوار قمیص،پیروں میں اسفنج کی نیلی ہوائی چپل اور پاکستان کے ایک مشہور عالم دین کے نام پر اشرفی برانڈ آٹے کی خالی تھیلی جس میں ضروری کاغذات اُڑسے ہوئے تھے، ہاتھوں میں تھامے بلا کی خود اعتمادی سے داخل ہوا۔آپ اگر اللہ نہ کرے کبھی غریب رہے ہوں تو آپ کو بھی یہ چمتکار ضرور آتا ہوگا کہ بہت سے مرد آستین کے کف میلے ہونے سے بچانے کے لیے انہیں اوپر کی جانب موڑ لیتے ہیں۔اسے دیکھ کر وزیر زادے نے جو لفظ استعمال کیا وہ انگریز وں کے زمانے میں بنگال کی ایک چھوٹی ذات کے لیے استعمال ہوتا  تھا مگر سندھی میں انتہائی احمق کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔

وزیر زادے کا خیال تھا کہ یہ ویزہ دینے والیاں اس کا تو دھواں لگا قیمہ بنادیں گی۔ وہ نوجوان ہال میں داخل ہوکر اپنی جگہ ایسے رک گیا کہ جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ، نہ عجلت، نہ کوئی چنتا،سپاٹ چہرہ،دنیا کو بے اعتباری سے دیکھتی Geek (کمپیوٹر کے دھتی ماہر نوجوان) آنکھیں۔ ایک بڑی بی کو ویزہ دے کر فارغ ہوئی تو اس ظالم عورت کی نگاہ اس پر پڑگئی۔وہیں سے مسٹر سعید کا نعرہ مستانہء بلند کیا۔ اومانی بدو عورتوں کے چمڑے جیسے نقاب والی شیشے کی کھڑکی کھینچ کر پرے کی اور   تقریباً آدھی باہر کی جانب جھک گئی۔

اہل نظر نے تب پہلی دفعہ دیکھا کہ سلطنت برطانیہ کے کچھ حصے اب بھی ایسے ہیں جہاں سورج غروب نہیں ہوتے۔اپنا رس ملائی جیسا ٹھنڈا،اُجلا ہاتھ اس کی جانب بڑھا دیا۔ مسٹر سعید نے وہ ہاتھ یوں تھاما کہ جانو وہ کوئی ید بیضا نہ تھا بلکہ دھلائی کی پرانی رسید جو پرس میں سے کہیں اتفاقاً برآمدہوئی ہو ۔ کہنے لگی کہ ہم چار دن سے آپ کے منتظر تھے۔ یہ لیجئے اس بڑے لفافے میں تین اور چھوٹے لفافے ہیں۔ایک میں یونیورسٹی کے کاغذات، دوسرے میں ٹکٹ اور تیسرے میں سفری اخراجات ہیں۔ایک ٹوکن بھی ہے جو آپ کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ اگر آپ زمینی یا سمندری راستے سے ہمارے ملک میں داخل ہوں تو کسی سرحدی چوکی پر آپ کو مشکل نہیں پیش آئے گی۔آپ کے والدین اور اساتذہ آپ کے اس اسکالر شپ کے جیتنے پر یقیناًہم سے زیادہ خوش ہوں گے۔

مسٹر سعید نے کسی خصوصی جذبات کا اظہار کیے  بغیر سپاٹ لہجے میں صرف اتنا مختصر سا جواب دیا “Indeed they are.”جب سعید میاں نے واپسی کے قدم لیے تو وزیر کا بیٹا کہنے لگا کہ اللہ میاں کی قدرت دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوتی ہے کہ”وہ کیسے کیسے لوگوں پر بلاوجہ مہربان ہوجاتا ہے اور کیسے کیسے اعلیٰ خاندان کے بچوں کو ذلیل و رسوا کردیتا ہے“۔
اس دوران اسی بت سنگ دل کے سامنے پیش ہونے کی پکار سنائی دی تووزیر بچے نے میری  آستین ایسے کھینچ کر تھام لی جیسے چھوٹے بچے کسی غریب بستی کے کلینک میں بھوتنی جیسی نرس کے ہاتھ میں کولہوں پر گھونپی جانے والی سرنج دیکھ کر اپنی اپنی ماں کے دامن کو تھام لیتے ہیں۔ اس نے پہلے تو ہمارا پوچھا کہ”کون ہے رے تو؟ ہم نے انگوٹھے کے  اشارے اور اس خوف زدہ نوجوان رعنا کی طرف کیا اور شرارت کے لہجے میں انگریزی میں کہا کہOn His Majesty Service تو نرم سی  ، کومل مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کر کہنے لگی Poor you۔نوجوان کاپاسپورٹ دیکھ کر کمپیوٹر پر نگاہ ڈالی اور آخری صحفے پر پہنچ کر بغور دیکھا۔ وہاں ایک چھوٹی سی مہر کے درمیان میں مقام درخواست، نمبر، تاریخ اور Rejected لکھا تھا۔تاؤ کھاگئی کہنے لگی تم ہمیں اپنی طرح بے وقوف سمجھتے ہو۔دو ہفتے پہلے تمہارا کیس اسلام آباد میں پیش ہوا تھا۔اب کی دفعہ میں سامنے بڑی سی مہر لگا دیتی ہوں تاکہ تمہارا دماغ درست ہوجائے۔اس نے مہر نکالی تو ہم نے کہا Waitبین الاقوامی قانون کے حساب سے آپ اس پر صرف ویزہ لگا سکتی ہیں اور امیگریشن اتھارٹی برائے ریکارڈ و تصدیق دخول اور خروج کی مہر۔

یہ پاسپورٹ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ملکیت ہے۔دیگر ممالک کی دسترس کا دائرہ کار محدود ہے۔ان کے والد وزیر ہیں اگر آپ نے اس پر کوئی مہر لگائی تو ہم وزارت خارجہ کے ذریعے آپ کے فارن آفس سے اٹھائیں گے۔اس نے ہمیں گھور کر دیکھا اور پاسپورٹ کچھ کہے سنے بغیر مہر دراز میں رکھ کر لوٹا دیا۔ ساتھ ہی مائیک پر Next کا نعرہ گونجا۔ہم نے پوچھا کہ کیا اس سلسلے میں ہمارا ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملنا سود مند ہوگا تو کہنے لگی کہ”بغیر نمبر اور فیس کے آپ کا کیس انہی  کی مہربانی اورمداخلت پر Take -up ہوا ہے مگر وہ ہمارے ملک کی وزارت داخلہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔میں وزارت داخلہ کی ملازم ہوں اور وہ وزارت خارجہ کے۔ وہ کیا ہمارے وزیر اعظم بھی ہماری وزارت داخلہ کی منظوری کے بغیر ویزہ نہیں دے سکتے۔ ہمیں ایک ویزہ کلرک کی یہ جسارت اور  خود اعتمادی ہمیں بالکل ایسے ہی پانی پانی کرگئی جیسے قلندر کی بات علامہ اقبال کو گاہے گاہے کرتی رہتی تھی کہ ع
تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ تن تیرا نہ من
ہم تو خیر ملازمت کے ہاتوں قلندر کی بات سننے پر مجبور تھے۔یہ سمجھ نہیں آیا کہ علامہ اقبال کو بلاوجہ ایسے طعنے تشنے سننے کا ہُڑکا کیوں طاری ہوجاتا تھا۔ہمارا خیال ہے پانی پانی کرنے کا معاملہ ان دنوں سیالکوٹ میں قلت آب کی وجہ سے تھا کہ اسی سے کچھ نہانا دھونا ہوجاتا ہوگا۔۔

حصہ دوم
عشق کی داستان ہے پیارے
اپنی اپنی زبان ہے پیارے(جگر مراد آبادی)

مختلف ممالک میں بکھرے ہمارے اہل بیت کا اصرار تھا کہ ویزہ کی معیاد ختم ہوئی ہے تو اس کی تجدید کرالیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج کا کچھ پتہ نہیں کب اپنی پیاری میلانیا بیگم کو چھوڑ دے کب ویزہ پر سختیاں کردے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ

ایک زمانہ تھا جب ہم نے  ان کی ہمفرے فیلو شپ دنیا بھر میں مقابلے میں جیتی تھی۔انہوں نے کراچی میں ویزہ دیا تو افسر ہمیں سفارت خانے کے دروازے پر لینے بھی آیا تھا اور چھوڑنے بھی۔گھر سے گھرواپسی تک کا ہر خرچہ اور قیام کے اخرجات اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دیے تھے۔وہ ہمیں اور بھی اپنانا چاہتے تھے۔برازیل کے ایک پروگرام میں شریک کرکے ہمیں شہریت بھی دینا چاہتے تھے۔ہم اپنے ہی نہ ہوسکے تو امریکہ کے کیا ہوتے ۔

ہم نے بات مانی اور سو ہم ان کے آستانہء فیض پر تجدید ویزہ کے لیے پہنچ گئے۔ویزہ ہال میں متمنی افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔اردو میں سوال جواب کے لیے تیار درخواست گزار ایک طرف تو دوسری جانب انگریزی پر ہماری طرح نازاں افراد۔ہم سے پہلے مقتل میں ملیر کے نوجوان میر ابصار عالم جعفری کے جانے کی باری تھی۔
حضرت جعفری تنومند ایسے کہ پھنسی پھنسی زینب مارکیٹ سے خریدی ہوئی جعلی سیاہ ٹی شرٹ جس پر سلمہ ستاروں سے FCUK لکھا تھا یعنیFrench Connection UK-) زیب تن کیے ہوئے۔ ان کے پلے ہوئے ڈولے اور سینے کے مسلز پریانکا چوپڑہ کے بلاؤز کی طرح چسپاں ٹی شرٹ میں سے نمایاں طور پر چھلک رہے تھے۔
متجسس تھے کہ ہم انگریزی میں سوال جواب والی قطار میں شامل ہوں گے کہ اردو والی لائن میں لگیں گے۔ہم نے جواب دیا کہ ”توُ اپنی فکر کر،ناداں قیامت آنے والی ہے“ کہنے لگا کہ پچھلی بار اردو میں انٹرویو دیا تھا کوئی سڑیل پاکستانی تھا۔دوسرے ہی سوال پر ویزہ دینے سے انکاری ہوا اور حکم لگادیا کہ چھ ماہ بعد آنا۔اب کے تیاری کی ہے سالوں کو انگریزی کی مار ماروں گا۔
برابر کی لائین میں ایک ادھیڑ عمر کا جوڑا کھڑا تھا۔سانگھڑ کے کسی پنجابی چک سے آیا تھا۔مرد نے اعلان کیا کہ وہ پنجابی میں جواب دے گا۔ایسا لگتا تھا  جن کپڑوں میں سوئے تھے اسی میں اٹھ کر چلے آئے تھے اور خدشہ یہی تھا کہ ویزہ ملنے کے بعد امریکہ بھی اسی لباس میں  جاپہنچیں گے۔ان کے اعلان پرقونصسلیٹ کے بلا کے مستعد، خوش اطوار اور شریں کلام عملے میں کھلبلی مچی اور وہ کسی پنجابی مترجم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

ہم جب باہر بیٹھے تھے تو ہم کو بے ضرر اور بے طلب جان کر ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک حسن  بلا خیز ڈاکٹرنی ساتھ بیٹھ گئی ،حیرت ہوئی کہ وہ اسلام آباد کے قریبی مرکز کو چھوڑ کر کراچی کیوں آئی ہے۔  کریدنے پر علم ہوا کہ اسے کہیں سے یہ منترسمجھ میں آیا تھا کہ کراچی میں امریکہ کا ویزہ ملنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں بہت سختیاں ہیں۔ یہ بات اس لیے درست نہ تھی کہ ویزہ کی پالیسی ملک بھرکے لیے بہت یکساں ہوتی ہے۔اس میں شہر کی تخصیص نہیں ہوتی۔ ہم نے اسے باہر انتظار گاہ میں ہی بتادیا تھا کہ اسے ویزہ نہیں ملے گا۔ وہ انکار کی صورت میں اپنی فیس بچانے کے لیے اپنا کیس اسلام آباد بھجوانے کا کہے۔ دیر تک اپنی اسٹڈیم جیسی بڑی بڑی آنکھوں سے ہمیں ایک نگاہء بے اعتبار سے دیکھتی رہی گو فیس والے نقطے پر اس کے چہرے کے تاثرات میں رنگ اثبات شامل تھا۔
اردو میں انٹرویو کے لیے ایک گوری کو بٹھایا تھا ۔دوسری کھڑکیوں پر مصروفیت ہوتی تو وہ اگلے امیدوار سے انگریزی میں شروع ہوجاتی تھی۔
اس  خاتون کو اردو بولتے  سنا تو ہمیں اس کے لب و لہجے میں تجلیوں کی وہ ہما ہمی محسوس ہوئی جو کم از کم پاکستان میں تو کسی نجی اور سرکاری ارادے حتی کہ کراچی یونی ورسٹی کے شعبہء اردو کے اساتذہ، طلبا و طالبات کی گفتار میں بھی سنائی نہیں دیتی۔
گمان گزرا کہ آج اگر امراؤ جان زندہ ہوتی اور او لیول میں اردو کا پرچہ دے رہی ہوتی تو ٹیوشن لینے اسی کے پاس آتی۔مثلاً کھڑکی کے قریب درخواست گزار کو آتا دیکھ کر وہ کہتی تھی ”آئیے تشریف لائیے“ کاغذات اور کمپیوٹر پر ایک چھچھلتی(سرسراتی) نگاہ ڈال کر درخواست گزار کی فراہم کردہ تفصیلات کا ایک سمندر ذہن میں سمیٹ لیتی تھی۔ اس کے بعد ایک ادائے تغافل سے بہت کھنکھناتی  ہوئی آواز میں شعیب اختر والا باؤنسر مارتی کہ ”آپ امریکہ جانے کے کیوں خواہش مند ہیں“ جواب فراہم کردہ تفصیلات کے عین مطابق ہوتا تو وہ پوچھتی کہ ”وہاں آپ کے عزیز و اقارب بھی ہیں، قیام کہاں اور کتنے دن کا ہوگا؟“ ”تنہا کیوں جارہے ہیں اہل خانہ کیوں نہیں جارہے۔آپ  کی اہلیہ کیوں ساتھ نہیں جارہی ہیں“ بہت کم پاکستانی آخری سوال سن کر یہ کہنے کی ہمت کرسکتے تھے کہ میں اہل ہوں کسی اور کے، میری اہلیہ کوئی اور ہے۔مطمئن ہوتی تو ویزہ عطا کردیتی۔نہ ہوتی تو اپنے شیریں لبوں سے اتنی اپنائیت اور لگاؤ سے دوبارہ قسمت آزمائی کی تسلی دیتی۔انکار بار گراں نہیں لگتا  تھا ۔ اس کی اُ ردو سن کر خاکسار کو یہ احساس دامن گیر ہوا کہ اب اردو اور اسلام پاکستان سے ہجرت کرتے ہیں اور پیچھے مہاجر اور مسلمان رہے جاتے ہیں۔

قیوم نظر کا شعر یاد آگیا کہ ع
تم چلے جاؤ گے رہ جائیں گے سائے باقی
رات بھر اُن سے میرا خون خرابہ ہوگا
بہت بعد میں ہمارا ایک دوست ان کے سامنے سائے کی جگہ ان کا تخلص استعمال کرتا تو شعر کچھ یوں ہوجاتا کہ ع
تم چلے جاؤ گے رہ جائیں گے قیوم نظرباقی
رات بھر اُن سے میرا خون خرابہ ہوگا

پنجابی جوڑے سے مترجم کے توسط سے سوال ہوا کہ ”آپ کیوں امریکہ جانے کے خواہش مند ہیں“ جواب ملا ”پتر فوکے نے بلایا ہے“ اس نے اعتراض کیا کہ فوکا نام کی کوئی تفصیل ان کے پاس کمپیوٹر میں نہیں“۔ وضاحت کی گئی کہ”پتر کا نام محمد فاروق ہے مگر وہ اور سارا چک اسے فوکا ہی کہتا ہے“۔”آپ پہلے کبھی پاکستان سے باہر تشریف لے گئے ہیں“۔معصومہ نے پوچھا۔جواب ملا کہ ”اسی تے کراچی وی پہلی واری ویخیائی۔اینو آکھو کہ اوتھے سانگھڑ وچ وی  دفتر کھولن، اوتھوں وی بوہتی لوک امریکہ جاندے نیں (ہم نے تو کراچی بھی پہلی مرتبہ دیکھا ہے اس سے کہو کہ وہاں سانگھڑ میں بھی ایک دفتر کھولیں وہاں سے بھی بہت لوگ امریکہ جاتے ہیں)۔ان کا مطالبہ سن کر وہ زور سے ہنسی تو خاکسار کو لگا کہ آندھرا پردیس بھارت میں کسی نے بے احتیاطی سے پٹّو(ریشم) کا تھان کھول دیا ہے۔کہنے لگی “Why Not” وہاں فوکا صاحب کیا کام کرتے ہیں تو جواب ملا ”سانوں کی پتہ“
کدی ٹیکسی چلاندا  اے کدی ایس کریم ویچدا اے کوئی اک کم کرے تے بندہ یاد رکھے۔

پانچ سال کاویزہ تیسرے سوال پر منظور کرتے ہوئے کہنے لگی کہ”ان سے کہو کراچی دیکھ لیا ہے تو ہمارے امریکہ پر بھی ایک نظر ڈال لیں“۔اس غیر متوقع عنایت پر بوڑھا باپ اپنی لاتعلق شریک حیات کی طرف دیکھ کرکہنے لگا ”فوکا صحیح آکھدا ہے کہ اے امریکی لوکی جنتی نیں “(فوکا صحیح کہتا ہے یہ امریکی جنتی لوگ ہیں)۔معصومہ نے اس آخری جملے کا   مترجم سے ترجمے کا مطالبہ کیا تو وہ انگریزی پر اتر آیا کہنے لگا He says you will go to heaven۔وہ ہنس کر کہنے لگی Tell them I have no plans to die so soon(ان سے کہو کہ فوری طور پر میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں)۔وہ رخصت ہوئے۔اردو والے ختم ہوگئے۔

تیسرا حصہ
میں نہیں توُ،توُ نہیں میں ہوں
اب کچھ ایسا گمان ہے پیارے
کیا کہے حال ِ دل غریب جگرؔ
ٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے

اردو میں انٹرویو دینے والوں کی قطار ختم ہوئی تو میر ابصار عالم جعفری صاحب کو اس گوری کے سامنے اپنی انگریزی کے جواہر پارے بکھیرنے کے لیے پیش ہونا پڑا۔ ان کی مسرت دیدنی تھی۔ ان کی پچھلی دفعہ کی کلفت یکسر دور ہوگئی۔بہت پر امید ہوگئے۔
؁؁” Your name Sir ”
لہک مہک کر کہنے لگے ”میر ابصار عالم جعفری“
وہ کہنے لگی ”Pretty long name“ (امریکی محاورے میں خاصا طویل نام)
پاکستان اور برصغیرکے دیگر ممالک کے لوگوں کا ایک المیہ ہے کہ وہ پہلے اپنی زبان میں سوچتے ہیں۔اکثریت چونکہ ذہنی طور پر کاہل اور اوائل عمری سے ہی شارٹ کٹ ڈھونڈنے کی عادی ہوتی ہے لہذا اس کا ترجمہ کرتے وقت انگریزی میں اس کا قریب ترین متبادل لفظ ڈھونڈ کر سامنے والے کے منہ  پرکھینچ کرتھپڑ کی طرح رسید کردیتے ہیں۔
ہمارے یہ حضرت میر ابصار عالم جعفری سمجھے Pretty کا مطلب صرف وہی ہوتا ہے جو ملیر کے یرقان زدہ اسکولوں میں بتایا گیا ہے۔فی الفور وہ اس خوش گمانی میں مبتلا ہوئے کہ وہ ان کے نام میں حُسنِ پنہاں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔باچھیں کھل گئیں فرمانے لگے”yes very pretty. my mother keep it for me.“جعفری صاحب نے بھی یہ نام میری والدہ نے رکھا کے مفہوم کو گھسیٹ کر keep تک لے گئے۔بے چاری نے بمشکل ہنسی ضبط کی۔

وہ پوچھنے لگی کہ ”وہ امریکہ کیوں جانا چاہتے ہیں؟“
مختصر سا جواب عطا ہوا کہ ”Learn English“
وہاں سے فوراً دوسرا سوال داغ دیا گیا” What else you wish to learn?” (مزید وہاں اور کیا کچھ سیکھنے کا ارادہ ہے؟)
Computers also”میر ابصار عالم جعفری گویا ہوئے
اس کی نگاہ ناز نے فوراً کمپیوٹر اسکرین کا احاطہ کیا اور استفسار کیا گیا۔
” You study here in some university” آپ تو یہاں کسی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہیں
Yes one of the best university in the world حضرت نے اترا کر جواب دیا۔
کراچی میں اچانک دنیا کی بہترین یونی ورسٹی کی موجودگی کا سن کر اس کی موکا کافی کی رنگت والی آنکھیں کھڑکی سے باہر نکل آئیں۔(mocha coffee وہ کافی جس میں دودھ چاکلیٹ اور خاص قسم کے موکا کافی کے دانوں کا سفوف شامل ہوتا ہے)

موکا کافی

اس نے پوچھ لیا کہ وہ کون سی best university in the world ہے جس سے وہ،امریکہ اور گوگل سب ہی ناواقف ہیں۔
حضرت میر ابصار عالم جعفری اس ناواقفیت دوراں پر کچھ کبیدہ خاطر ہوئے۔ضلع شرقی میں کشمیر روڈ پر ایک ایسی نجی جامعہ کا نام لے دیا جو خطیر رقم کے عوض دنیا کے ٹھکرائے طالب علموں کو اپنی آغوش علمی میں سمیٹ لیتی تھی اور جعلی ڈگریاں دینے میں ملکہ رکھتی تھی جس کے ایم بی اے اور کمپویٹر پروگراموں کے ریکٹر اردو کے پی ایچ ڈی سرکاری کالج کے ایک سابق پروفیسر تھے۔
اب وہاں سے دوسرا باؤنسر آیا کہ وہ اتنی عمدہ جامعہ میں اپنا سلسلہء تدریس ادھورا چھوڑ کر امریکہ کیوں جانا  چاہتے ہیں۔ہم اس موقع  پر میر ابصار عالم جعفری کو شک کا فائدہ دیتے ہیں وہ غالباً یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہاں اساتذہ کا معیار ان کی قابلیت سے خاصا پست ہے۔ وہ یقیناً  پنے اساتذہ کی تحقیر نہ چاہتے تھے مگر وہی کم بخت شارٹ کٹ کی عادت آڑے آگئی اور کہنے لگے

Teachers are stupid
گوری کے چہرے پر تاثرات کا ایک ناخوشگوار کیفیت کا بادل امڈ آیا اور کہنے لگی “So your teacher are stupid here ”
جعفری صاحب نے اپنی طاقتور انگلیوں سے چٹکی کا اشارہ کیا اور فرمانے لگے کہ ” They have small knowledge, I have big knowledge. I want to make it bigger” (میرے اساتذہ کی علمیت کم ہے میری زیادہ ہے وہاں جاکر میں اپنی علمیت میں مزید اضافے کا خواہشمند ہوں.
اب اس سلسلہء سوال و جواب میں نازک موڑ آگیا اور وہ پوچھ بیٹھی کہ ان کی تعلیم کا خرچہ کون اٹھائے گا؟
جعفری صاحب نے انکشاف کیا کہ ان کے والد صاحب ایک مالدار ہستی ہیں۔
وہ پوچھ بیٹھی کہ”وہ کیا کرتے ہیں؟“
جواب ملا ” He is E.T.O”(وہ ای۔ٹی۔او ہیں)
“And what is an E.T.O?” گوری نے پوچھا کہ (ای۔ٹی۔او کیا ہوتا ہے؟)
یہ کم علمی ایک امریکی کی مناسبت سے جعفری صاحب کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ باپ کے عہدے کی اس بے توقیری پر تلملا کر رہ گئے باآواز بلند جتانے لگے:
“You don’t know what is an E.T.O. Excise and Taxation Officer”(جعفری صاحب جھنجلا کر کہنے لگے آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ ایک ای۔ٹی۔او کیا ہوتا ہے؟)
“And what is Excise?”گوری کہا ں دم لینے والی تھی پوچھ بیٹھی کہ(یہ ایکسائز کس بلا کو کہتے ہیں؟)
“Stop Drinking.”(شراب پینا بند کرو) غالباً وہ معصوم یہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ منشیات کی روک تھام کے ادارے میں سرکاری ملازم ہیں۔خاکسار کو حضرت کی انگریزی سن کر جگر مراد آبادی کا وہ شعر یاد آگیا کہ ع
کیا کہے حالِ دل،غریب جگرؔ
ٹوٹی پھوٹی زبان ہے، پیارے
کہنے لگی:

Sir you are telling me to stop drinking.”(آپ مجھے شراب پینے سے روک رہے ہیں۔
” No my father stop drinking(ترجمے کی رو سے اس کا مطلب وہی جو گوری نے اخذ کیا کہ میرے والد نے شراب پینا چھوڑ دی ہے)
“And he used to drink before”(ایک شرارتی مسکراہٹ سے کہنے لگی تو وہ پہلے جام گھُٹکایا کرتے تھے)
” No baba. He stops other people drinking drugs”(ارے نہیں بابا وہ دوسروں کومنشیات کے استعمال سے روکتے ہیں۔انگریزی میں ڈرگ کے لیے Do اور Take کے الفاظ مستعمل ہیں)
اب سوال ہوا کہ وہ یہ کام کیسے کرتے ہیں۔یہ میر ابصار عالم جعفری  کے لیے اپنے والد محترم کی کار کردگی کے  اظہار کرنے کا سنہری موقع  تھا۔
He catches them(وہ انہیں پکڑتے ہیں)
then(پھر)
He arrests them(وہ ان کی گرفتاری ڈالتے ہیں)
then
He talks to them(پھر وہ ان سے گفت و شنید کرتے ہیں)
He first catches them, then he arrests them and then he talks to them
(یہ گوری کے لیے ایک بہت انوکھا انکشاف تھا کہ یہاں پہلے ملزم کو منشیات کے مقدمے میں پکڑا جاتا ہے، پھر گرفتاری ڈالی جاتی ہے پھر گفت و شنید ہوتی ہے۔اس کے ذہن میں اس باب میں سارے حوالے امریکہ کے تھے)
” And what does he talks to them?” (وہ مزید متجسس ہوکر پوچھنے لگی کہ وہ ملزمان سے کیا گفت و شنید کرتے ہیں؟)
Pay me money or go to jail.Karachi jails very bad”“
(رقم ڈھیلی کرو ورنہ جیل جاؤ کراچی کی جیلیں بہت بری ہیں)
اس انکشاف پر گوری نے ان کی ویزہ کی درخواست مسترد کرنے کا اعلان کیا تو میر ابصار عالم تلملا اٹھے اور غصے سے اس کی طرف انگشت شہادت کھینچ کر کہنے لگے کہ ” You are like John Trump”
دوسری طرف سے ہنسی کا ایک فوارہ لہرا کر بلند ہوا اور وہ کہنے لگی ”جان نہیں سرکار ڈونلڈ“
جعفری کہنے لگے O you all same.You dont love Pakistan. You only make money here” ہم سمجھ گئے یہ آخری رقیق حملہ ویزہ فیس کے زیاں پر تھا۔
ابصار عالم جعفری نے اعلان کیا کہ وہ باہر انتظار گاہ میں منتظر ہوں گے۔وہیں جہاں وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی قاتل مسیحا بھی منتظر تھی۔
ہماری باری آئی لبوں پر کسی دعا کی بجائے ندا فاضلی کا یہ شعر تھا کہ ع
یوں اجالوں سے واسطہ رکھنا
شمع کے پاس ہی ہوا رکھنا

ہم پر ایک نگاہء پسنددیدگی ڈال کر گوری انگریزی میں معذرت کرتے ہوئے،منہ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی :
Sir let me laugh for a moment on Donald joke
ہم نے دھیما سا احتجاج کیا کہ
ظالما اس بے چارے کو ویزہ دے دیا ہوتا تو اپنی موکا کافی کی رنگت والی آنکھوں میں حیرت کا سمندر سمیٹ کر کہنے لگی
“? “Why Sir(وہ کیوں جناب)
” He is the only Pakistani who made you laugh”ہم نے کہا حضرت وہ واحد پاکستانی ہے جس نے آپ کے لبوں پر یہ مسکراہٹ بکھیری
” Sir you don’t know how happy we are here on that account here” جواب ملا ”آپ کو کیا پتہ کہ اس باب میں ہم یہاں کس قدر خوش رہتے ہیں۔“
And Sir Why do you want to go to USA.
(اور سرکار نے امریکہ جانے کی کیوں ٹھان رکھی ہے؟)
You know I learnt recently that Gigi Hadid is single again”“
(ہمیں خبر ملی ہے کہ وہ  گی گی حدید اب پھر سنگل ہوچلی ہے)

جی جی حدید

آپ کو علم نہ ہو تو ہم بتادیں کہ جی جی حدید کا شمارامریکہ کی ٹاپ ماڈلز میں ہوتا ہے۔ والدہ جرمن عیسائی ماڈل یولنڈا اور والد محمد حدید کا تعلق فلسطین سے ہے چھوٹی بہن بیلا بھی ماڈل ہے۔اُن کے تعلقات ہزاروں خواتین کے خوابوں کے شہزادے برطانوی شہری پاکستانی نژاد شہر ہ آفاق گلوکار اور ون ڈائیریکشن بینڈ کے ممبر زین جاوید ملک سے ان دنوں کچھ کشیدہ ہیں۔

جی جی حدید زین ملک کے ہمراہ

اس نے پانچ سال کے ویزہ کی مہر لگائی اور ہمارا پاسپورٹ منظوری کے ڈبے میں یہ کہہ کر ڈال دیا
Sure Sir America is land of equal opportunities.
چلنے لگے تو مسکراکر کہنے لگی:But let me warn you any man born after Zayn Malik is wastage of humanity ”
اک نگاہء پسنددیدگی و حیرت سے اس نے ہمیں دیکھا اور کہنے  لگی،یقینا ً کیوں نہیں امریکہ مساواتِ مواقع کی سرزمین ہے) لیکن میں آپ کو اتنا جتا دوں کہ زین ملک کے بعد جو بھی مرد پیدا ہوئے ہیں وہ انسانیت کا زیاں ہیں)
ہم نے اس رعایت سے کہ زین ملک پاکستانی نژاد ہیں اسے چھیڑا کہ “Even Pakistani men like him”(وہ مرد بھی جو اس کی طرح پاکستانی ہیں)
وہ ہمارے اس وار پر پینترہ بدل کر کہنے لگی
“We are super- power and we talk globally”

ہم ایک سپر پاور ہیں اور ہم بین الاقوامی سطح پر گفتگو کرتے ہیں۔

پانچ سال کا ویزہ ہمیں دیتے ہوئے کہنے لگی”Here you go sir for five years. Good luck for Gigi baby” آپ کو اللہ گی گی بے بی مبارک کرے۔

Advertisements
merkit.pk

باہر احاطے میں شادماں و فرحاں پنجابی جوڑا تھا۔دل گرفتہ میر ابصار عالم تھے اور وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی حسینہ تھی۔ ابصار عالم کے سوال پر ہم نے بتایا کہ انہوں نے ہمیں بھی ویزہ دینے سے انکار کیا۔جس پر اس کا شک اور بھی قوی ہوگیا کہ امریکہ کی افواج کا افغانستان میں سارا خرچہ اس ویزہ فیس کی لوٹ مار سے چلتا ہے۔
اجنبی و ہراساں ڈاکٹرنی پریشان تھی کہ وہ گھر کیسے جائے گی۔ہم نے آفر کی کہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔فون پر کسی سے بات کی تو مان گئے ہم نے اسے طارق روڈ پر ایک گلی میں اتار دیا مگر اسے بتادیا کہ ہمارا ویزہ منظور ہوگیا ہے۔ چہرے پر بے یقینی کے تاثرات سمیٹے کہنے لگی اس”رنبیر کپور جعفری کو کیوں جھوٹ بولا تھا؟“۔ ہم نے کہا اس معصوم کا دل رکھنے کے لیے۔
بڈھا جو سانگھڑ کا تھا جتا رہا تھا کہ وہ کئی دفعہ کراچی آیا ہے۔اس نے جھوٹ بولا۔یہ بھی بتارہا تھا کہ اب وہ یہاں سے سیدھا زینب مارکیٹ جائے گا اپنے اور بڑی بی کے لیے جینز ٹی شرٹ اور چمڑے کی سستی جیکٹ خریدے گا۔ہم نے زینب مارکیٹ طارق روڈ کے راستے میں آتی تھی وہاں ڈراپ کرنے کی پیشکش کی تو جھٹ سے مان گئے۔

زینب مارکیٹ
  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply