ریتا بہادری کی زندگی پر ایک نظر۔۔۔ صفی سرحدی

بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ ریتا بہادری 62 سال کی عمر میں انتقال کرگئی۔ انکا جنم 4 نومبر 1955 کو لکھنو میں ایک بنگالی پس منظر رکھنے والے خاندان میں ہوا۔ انکی ماں چاند ریما بہادری خود بھی اداکارہ تھیں جنہوں نے 1962 سے 1984 سے تک فلم انڈسٹری میں کام کیا۔ ریتا بہادری نے اپنے  فلمی کیرئیر کا اغاز 1968 کی فلم تیری تلاش سے کیا۔ لیکن اداکاری میں نکھار لانے کیلئے انکی ماں نے انکا داخلہ پونا فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹیوٹ میں کروایا جہاں سے انہوں نے 1973 میں ایکٹنگ ڈپلومہ حاصل کیا۔ وہاں انکے ساتھ اداکار ادیتا پنچولی کی بیوی اداکارہ زرینہ وہاب بھی پڑھ رہی تھیں۔ اور تب ان دونوں میں سے کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ جس دن زرینہ وہاب اپنی سالگرہ منانے کی تیاری کر رہی ہوگی ٹھیک اسی دن اسکی سہیلی دنیا کو الوداع کہہ جائے گی ۔

ریتا بہادری نے پونا سے ایکٹنگ کا ڈپلومہ لینے کے بعد 1974 میں اپنی دوسری فلم کنیا کماری سائن کی جس میں انہوں نے کمل ھاسن کے ساتھ پاروتی کا کردار نبھایا۔ اور اگلے سال ایک اور فلم ڈمپل میں ویجے سنگھ اور بھارت بھوشن کے ساتھ ایک مختصر کردار میں کام کیا۔ پونا سے لوٹنے کے بعد ان میں اعتماد  آچکا تھا جو صحیح طور پر 1975 کی سپر ہٹ فلم جولی میں نظر آیا۔ اور یہی وہ فلم تھی جس سے انہیں باقاعدہ شناخت ملی اس فلم میں انہوں نے اُوشا بٹاچاریہ کا سپورٹنگ ایکٹریس کا کردار نبھایا تھا۔ اس فلم میں ان پر “یہ راتیں نئی پرانی آتے جاتے کہتی ہے کوئی کہانی” گانا بھی پکچرائز ہوا تھا جسے لتا نے اپنی سریلی آواز میں ریکارڈ کیا تھا اور اس گانے کی موسیقی راجیش روشن نے ترتیب دی تھیں۔

1977 میں ریتا بہادری راجیش کھنہ اور ممتاز کے ساتھ فلم آئینہ میں پورنا کے کردار میں نظر آئی اور اسی سال راجیشن کھنہ اور ونود مہرا کی فلم انورودھ میں وہ انجو کے کردار میں نظر آئی۔ اور بعد میں وہ 1979 کی فلم “ساون کو آنے دو” میں گیتانجلی بنی۔ اور 1982 میں وہ ششی کپور کے ساتھ فلم بے زبان میں میرابائی، 1983 میں امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ناستک میں شانتی، 1996 میں سنجے کپور کے ساتھ فلم راجا میں اریتا گریوال، اور 2000 میں فلم کیا کہنا میں چندراچور سنگھ کی ماں بنی نظر آئیں۔

ریتا بہادری نے اپنے  فلمی کیریئر میں 150 کے قریب فلموں میں کام کیا فلموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹی وی سکرین کا بھی رخ کیا تھا کیونکہ انہیں بطور لیڈ ہیروئن چانس نہیں دیا جارہا تھا لیکن ٹی وی  سکرین پر یہ انکے لیے ممکن تھا بڑی سکرین پر انکے سانولے رنگ کیوجہ سے انہیں سپورٹنگ ایکٹریس کے طور پر لیا جاتا رہا اور بعد میں بڑھتی عمر کے ساتھ انہیں کیریکٹر رول دیئے جانے لگے جس میں وہ زیادہ تر ماں یا پھر دادی کے کرداروں میں نظر آنے لگی۔ اس لیے انہوں نے بروقت ٹی وی کا رخ کیا انہوں نے قریباً 30 ڈرامہ سیریلز میں کام کیا جن میں چند یادگار سیریلز کے ناموں میں چُنوتی 1987 مجرم حاضر 1988 کلچر 1993 آسمان سے آگے 1994 زمین آسمان 1995 جنون 1997 سی ائی ڈی 2001 کاجل 2006 چھوٹی بہو 2008 نمکی مکھیا 2017 شامل ہیں۔

1993 میں گلزار کی یادگار کردار سیریز میں ریتا بہادری نے شارٹ ڈرامہ “کلچر” میں اداکارہ میتا وشیشٹ کی ماں اور اوم پوری کی بیوی کا کردار نبھایا تھا۔ اس مختصر دورانیے کے ڈرامے کا اختتام کافی دلسوز ہے جب ریتا بہادری کی بیٹی کا غریب عاشق انکی بیٹی کے سارے خطوط لاکر ریتا بہادری کے ہاتھ میں تھما کر چل پڑتا ہے کیونکہ اوم پوری نہیں چاہتا کہ اسکی ماڈرن بیٹی کی شادی ایک عام غریب لڑکے سے ہو۔ اختتام پر ریتا بہادری ایک بے بس ماں اور ایک بے بس بیوی کی ادھوری تصویر نظر آتی ہے۔ اسکے علاوہ چھوٹی بہو سیریل میں وہ دادی ماں کے کردار میں نظر آتی رہیں۔

ریتا بہادری کو 1979 کی فلم “ساون کو آنے دو” اور 1995 کی فلم راجا کیلئے بیسٹ  سپورٹنگ ایکٹریس کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ فلم ساون کو آنے دو میں انہوں نے اپنی سہیلی زرینہ وہاب کے ساتھ سپورٹنگ ایکٹریس کے طور پر کام کیا تھا۔
ریتا بہادری نے گجراتی فلموں میں بھی کام کیا حالانکہ وہ گجراتی تھی لیکن گجراتی زبان پر انہیں عبور حاصل تھا اس لیے وہاں بھی وہ ایک کامیاب اداکارہ کے طور پر شناخت بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
اپنی چالیس سالہ فلمی کیرئیر میں ریتا بہادری نے سبھی بڑے ادکاروں کے ساتھ کام کیا۔ لیکن زیادہ تر کام انیل کپور کے ساتھ تین فلموں میں کیا۔ فلم گھر ہو تو ایسا، بیٹا، اور وراثت، میں وہ انیل کپور کے ساتھ نظر آئی۔

ریتا بہادری نے تینوں خانز کے ساتھ بھی کام کیا۔ سلمان خان کے ساتھ وہ 1991 کی فلم”لو” میں سٹیلا پنٹو کے کردار میں نظر آئی۔ 1994 میں شاہ رخ خان کے ساتھ فلم “کبھی ہاں کبھی ناں” میں میری گونسالویس اور 1995 کی فلم “اتنک ہی اتنک” میں وہ عامر خان کے ساتھ ماں کے کردار میں نظر آئیں۔

ریتا بہادری کے حوالے سے میڈیا اور لوگوں میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی رہی کہ شاید وہ امیتابھ بچن کی بیوی جیا بہادری کی بہن ہے کیونکہ دونوں کے ناموں کے آخر میں بہادری لفظ آتا ہے۔ اور اس حوالے سے وہ پوری عمر میڈیا اور لوگوں کو وضاحتیں دیتے تھک جایا کرتی تھیں اور ایک  بار تو انہوں نے میڈیا کے ایک نمائندے کو اس سوال پر ڈانٹا بھی کہ کتنے سال ہوگئے ہیں بتاتے بتاتے کہ جیا بہادری کے ساتھ میرا کوئی کنیکشن نہیں ہے۔

اگر ریتا بہادری کے نجی جیون کیطرف رخ کیا جائے تو اداکار نوین نشچل کے ساتھ انکا افیئر رہا۔ لیکن ان سے انکی شادی نہیں ہوسکی بعد میں انہوں نے  راجیو ورما سے شادی کرلی۔ جس سے انکے دو بیٹے ہوئے۔ انکی بہن روما سینگوپتا بھی اداکارہ ہے اور انکے بھائی برون مکھرجی مشہور سینماٹوگرافر ہیں اور انکی بھانجی اندریانی مکھرجی مشہور کتھک ڈانسر ہے۔

ریتا بہادری کو ایک عرصے سے گردوں کی بیماری لاحق تھی لیکن وہ پھر بھی کام کرتی رہی انکا ماننا تھا کہ فارغ بیٹھنے سے بیماری زیادہ اثر انداز ہوتی ہے میں بیمار ضرور ہوں لیکن کمزور نہیں ہوں اس لیے مرتے دم تک کام کرونگی۔ یہی وجہ ہے کہ آخری دنوں میں جب روز انکا ڈائیلاسسز کیا جاتا تھا تب بھی وہ اسپتال سے سیدھے شوٹنگ پر پہنچ جایا کرتی تھیں۔ گردوں کی خرابی کے باعث انکے پاس زیادہ وقت نہیں تھا اس لیے پچھلے دس دنوں سے وہ باقاعدہ اسپتال میں داخل رہی جہاں انہیں وینٹی لیٹر پر بھی منتقل کیا گیا لیکن افسوس وہ جانبر نہیں ہوسکی۔

ریتا بہادری نے پوری عمر زندہ دلی سے گزاری اور مسلسل چھوٹی اور بڑی سکرین کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کے درمیان موجود رہی۔ انکا سادگی بھرا چہرا ماتھے پر ٹیکا بالوں میں سندور اور سلیقے سے سر کے درمیان سے کنگھی کیے ہوئے بال اور چہرے پر کبھی ہنسی تو کبھی معصومیت بھری اداسی، اور اس میں ممتا کی ایک مستقل جھلک، جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *