سوشل میڈیا اور ہماری ازلوں کی چخ چخ۔۔۔آصف وڑائچ

برصغیر کے پنڈتوں اور مولویوں نے جو مذہبی منافرت کے بیج بوئے تھے اور پھر ان کی آبیاری کی تھی آج ان سے پھوٹنے والی زہریلی بیلیں ہمیں چاروں جانب سے اژدھوں کی طرح لپیٹے ہوئے ہیں اور اس سے مزید  پھنیر ناگ نکل نکل کر اپنے منحوس پھن پھیلاۓ پھنکار رہے ہیں جو زندہ انسان تو کیا مرے ہوؤں کو بھی ڈس رہے ہیں۔ ان  دو مونہے سانپوں نے ہمارے ایک فیسبکی دوست کی معصوم میت کو بھی ڈسنے کی مذموم کوشش کی جو چند روز پہلے ہم سے بچھڑا ہے۔

آجکل سوشل ویب سائٹس پر منافرت پھیلانے کی مثالیں عام ہیں. مذاہب اور عقائد  سے منسلک تعصبات کو معاشرے میں راسخ کرنے اور اسکی بنیاد پر انسانوں کی درجہ بندی  کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں تعصبات کا دائرہ وسیع اور حد درجہ پیچیدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ لوگ فرقہ بندی، صوبائیت، لسانیت اور سیاسی دھڑے بندیوں کی صورت میں مزید گروہ در گروہ تقسیم ہوتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ وطیرہ ماضی میں بھی عام تھا لیکن سوشل میڈیا آنے کے بعد بیمار ذہن لوگ اس نفرت کی آگ کو پھیلانے میں پیش پیش ہیں. بے حسی اور کم ظرفی کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی زی روح اس جہان فانی سے کوچ بھی کر جائے تو یہ نابغے اس کی لاش کو بھی مذہبی و لسانی منافرت کی دھونی دینے سے باز نہیں آتے۔

بچوں کی اموات سے گرد آلود منظر نامہ۔۔۔اسد مفتی

دیکھیے صاحب ! اختلاف رائے رکھنا کوئی جرم نہیں کہ فریقین آپس میں ذاتی عناد اور نفرت کو پروان چڑھاتے پھریں. اس سے قبل بھی میں یہ قضیہ کئی بار دہرا چکا ہوں کہ اس دنیا میں  پیدا ہونے والا ہر شخص کوئی نہ کوئی مذہب یا مکتبہ فکر رکھتا ہے. کیونکہ جس مذہب یا ماحول میں وہ پلتا ہے وہ اس کے اندر رچ بس جاتا ہے  اور ساری زندگی وہ انہی نظریات کو لے کر چلتا اور لا شعوری طور پر ان کا دفاع کرتا ہے حتیٰ کہ منوں مٹی تلے جا کر سو جاتا ہے۔

تاہم ہر انسان اپنے پسندیدہ مذہب، عقیدے یا نظریے پر چلنے میں کلی طور پر آزاد ہے. اپنی زندگی کی ترجیحات کو اپنے نظریات کے مطابق ترتیب دینے کا حق رکھتا ہے۔ جب وہ اپنے نظریات کے تحت کسی دوسرے کو غلط جانتے ہوۓ تنقید کرنا اپنا حق سمجھتا ہے تو پھر اسے مقابل کا یہی حق تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے. بسا اوقات طرفین کی جانب سے اپنے اپنے حق کا غلط استعمال بد مزگی بھی پیدا کر دیتا ہے. آپ کسی کے آگے اپنا نکتہ نظر دلیل کے ذریعے تو پیش کر سکتے ہیں لیکن اپنا مؤقف زبردستی اس کے دماغ میں ٹھونس نہیں سکتے کیونکہ جب دل ہی نہ مانے تو تمام عقلی دلائل بے سود ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ گزرتے وقت کے ساتھ انسان کے نظریات بھی بدلتے رہتے ہیں. آج اگر آپ کوئی مخصوص نظریہ رکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ دس سال بعد آپ اس نظریے سے 180 ڈگری زاویے پر مڑ چکے ہوں چنانچہ آج اگر کوئی کٹر مذہبی ہے تو ممکن ہے کل وہ لبرل ہو چکا ہو، آج اگر کوئی کمیونسٹ ہے تو کل وہ جمہوریت کا دلدادہ ہو سکتا ہے، آج اگر کوئی شیعہ ہے تو کل وہ سنی بن سکتا ہے اور آج کا سنی مستقبل میں شیعہ بن سکتا ہے. الغرض کوئی شخص کسی بھی نطریے یا عقیدے کا ہو  اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تیزی سے بدلتی اس دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں لہذا غصہ اور نفرت پال کر نہ ہی اپنے دماغ کو کشٹ دیجیے  اور نہ زبان گندی کیجیے  کیونکہ اس سے آپکے مخالف کا کچھ بگڑے یا نہیں لیکن آپ کا اپنا نقصان ضرور ہو سکتا ہے کیونکہ شدت پسندی وہ بلا ہے جو سب سے پہلے اپنے پھیلانے والے کو کھاتی ہے۔

جا آوئے بھٹی۔۔۔۔سلیم مرزا

ہمارے ہاں اکثریت کسی نہ کسی خاص مذہب، فرقے یا کمیونٹی مثلاً  شیعہ، اہلسنت، اہلحدیث، دیوبند، اسماعیلی، بوہری ،احمدی وغیرہ  کا حصہ ہوتی ہے یا حصہ بن جاتی ہے. عام لوگوں میں ان کمیونٹیز کے معتقدین ہوتے ہیں یا مستفیدین اور یا پھر ان کمیونٹیز کو چلانے والے وارثین۔ لیکن ہم میں سے زیرک اور مضبوط اعصاب کا حامل شخص ان سب کمیونٹیز کو ایک ہی نظر سے دیکھتا، سمجھتا اور پرکھتا ہے. وہ غیر اہم مباحث میں اپنا اور دوسروں کا وقت برباد نہیں کرتا اور نہ ہی کسی مخصوص فرقے یا نظریے کے ساتھ جونک کی طرح چمٹتا ہے. بلکہ ہر نیا دن اس کے لیے ایک نئی جہت لاتا ہے اور اسے ایک نئی سیکھ ملتی ہے. وہ چیزوں کو محض سامنے سے نہیں دیکھتا بلکہ اسکی نظر کینوس کے پیچھے بھی ہوتی ہے۔ دانشمند شخص کی سوچ گروہی تعصبات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوتی ہے. وہ کسی فرد کے متعلق راۓ قائم کرتے وقت اس کے ذاتی اوصاف دیکھتا ہے نہ کہ اسکے مذہبی و سیاسی افکار۔ وہ کسی مخصوص قبیلے یا مذہبی جتھے کے ترتیب شدہ عنوان پہ زندگی نہیں گزارتا بلکہ گرد و نواح کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنی ترجیحات طے کرتا ہے۔

اپنے بچوں کے کانوں میں مذہبی و سیاسی موشگافیاں ڈالنے سے قبل ان میں سوچنے کی صلاحیت کو اجاگر کیجیے ، چیزوں کو پرکھنے کے سلیقے اور دانشمند بننے کے مراحل بتائیے تاکہ کل وہ کسی بے سمت ہجوم میں اندھوں کی طرح شامل ہونے کے بجائے ذہانت و متانت کی روشنی میں درست راستہ تلاش کر سکیں۔ ان کی تربیت اس انداز سے کیجیے کہ وہ بات کرتے وقت گفتگو کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں. انہیں یہ ہنر سکھائیے     کہ کسی موضوع پر غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے مؤقف کی وضاحت کیسے کی جاتی ہے. اختلاف رائے کی صورت میں اپنا نکتہ نظر کیسے بیان کیا جاتا ہے. منطق اور دلیل کہاں دئیے جائیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں. بحث یا مناظرے سے بچتے ہوۓ مکالمے کا انداز اختیار کر کے مختلف فیہ نظریے کا احترام کیا ہوتا ہے. انہیں بتائیے کہ طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کو لفظوں کا پیرہن دے کر آپ کسی کو غلط تو چھوڑیے صحیح بات پر بھی قائل نہیں کر سکتے۔

انہیں بتائیے کہ آپ کو خندہ پیشانی سے محض اپنی رائے رکھنی ہے اور بس ۔۔۔ اپنی بات رکھتے ہوئے سامنے والے کی ذات کو نشانہ نہیں بنانا. اگر کوئی آپ کی رائے قبول نہیں کرتا تو یہ قرین قیاس ہے اور بہت عام سی بات ہے اس میں گالم گلوچ کرنا یا جذبات کی رو  میں بہنا لا یعنی اور لا حاصل ہے۔

لو جہاد۔۔۔۔۔عمران حیدر

بالفرض اگر آپ کی رائے اور دلیل غلط بھی ثابت ہو جائے تو اسے بھی بالکل نارمل لیجیے اور اسے اپنی عزت یا انا کا مسئلہ مت سمجھئے بلکہ اگر آپ کو اپنی رائے سے رجوع بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ ہرگز باعث خفت نہیں بلکہ آپ کے علم کے ساتھ مخلص رہنے کی علامت ہے. مکالمے کے دوران اگر آپ کسی منطق یا دلیل کے نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے تو بحث برائے بحث کے بجائے خاموشی اختیار کیجیے  یہاں تک کہ آپ اس اختلافی نکتے پر سیر حاصل تحقیق نہیں کر لیتے۔

انہیں بتائیے کہ برداشت اور اعلیٰ ظرفی ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے زریعے ایک دوسرے کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں. یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *