کیا آپ کا بچہ بھی کند ذہن ہے ؟؟؟؟

مجھے یاد ہے ۔ میں بہت چھوٹا ہوتا تھا ,تب والد صاحب مجھے پتلی تماشہ دکھانے لیجاتے تھے ۔ تماشے کے بعد سیٹ کے پیچھے لیجا کر ٹیم سے ملواتے تھے ۔ اس ڈرامے کی کیسٹ خرید کر دیتے جو میں گھر آ کر سنتا تھا ۔ وہ اکثرمجھے کہانیوں کی کیسٹ لا کر دیتے اور میں ٹیپ پر بچوں کی وہ کہانیاں سنا کرتا تھا ۔ سال میں ایک بار شہر میں لکی ایرانی سرکس لگا کرتا تھا ۔ ابا جی کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں وہ مجھے سرکس ضرور دکھاتے ۔ وہاں موجودجوکرز سے ملواتے ۔ مجھے یاد ہوتا تھا کہ پچھلے سال سرکس کے پاس کتنے ٹیڈی گھوڑے تھے اور اس سال کتنے ہیں ۔ کون سا آئیٹم اس سال نیا ہے ۔ میں نے اپنا نصاب بھی اسی طرح پڑھا تھا ۔ معاشرتی علوم میں بادشاہی مسجد کا ذکر تھا ۔ اگلے دن ابا جی بادشاہی مسجد دکھانے لے گئے ۔ مینار پاکستان کا ذکر آیا تو مینار پاکستان دکھانے لے گئے ۔ نور جہاں کی کہانی پڑھنے سے پہلے میں اس کا مقبرہ دیکھ چکا تھا ۔ عجائب گھر اکثر جایا کرتا اور نوٹس لیا کرتا تھا ۔

مجھے نایاب سکے اور ٹکٹیں جمع کرنے کا شوق ابا جی کی بدولت ہوا ۔ وہ ٹکٹیں اور سکے لا کر دیا کرتے تھے ۔ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ چڑیا گھر میں شیر کے کتنے بچے ہیں اور کون سا نیا جانور آیا ہے ۔ اقبال پارک میں کون سا نیا جھولا لگایا گیا ہے ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہم نے ٹرین پر کہیں جانا تھا تو ابا جی کچھ پہلے مجھے وہاں لے گئے ۔ وہاں پہلے انہوں نے گارڈ کا کمرہ دکھایا ، اس سے ملوایا، پھر انجن ڈرائیور سے ملوایا اور اسے کہا کہ بچے نے انجن دیکھنا ہے ۔ مجھے انجن دکھایا ۔ آپ نے اپنے بچے کو کبھی گارڈ روم یا انجن دکھایا ہے ؟ کیا کبھی خود بھی دیکھنے گئے ؟ میں نے بچپن میں دیکھا کہ گارڈ کس طرح جھنڈی لہراتا ہے تو ٹرین چلتی ہے ۔ ابا جی ہر موقع پر اسی طرح میرے جنرل نالج میں اضافہ کرتے تھے ۔ میں کتاب میں لکھی کوئی بات تو بھول سکتا تھا لیکن خود جو تجربات کئے وہ میرا ننھا سا دماغ کیسے بھول سکتا تھا ۔

میں امتحان میں یہی سب لکھ کر آتا تھا جس کے مجھے اچھے نمبر ملتے تھے ۔ ابتدائی کلاسوں میں تو انہوں نے میرے سکول میں بھی کہہ رکھا تھا کہ اگر اس کے کسی سوال کا جواب عملی طور پر درست ہو تو اسے درست قرار دیا جائے ۔ میں اسے رٹے باز کی بجائے مشاہداتی علم سکھانا چاہتا ہوں کیونکہ زندگی رٹوں کے ساتھ نہیں چلتی ۔ میرا مشاہداتی علم اس نوعیت تک تھا کہ پہلی کلاس میں مرغی کیا کھاتی ہے ؟کے جواب میں روٹی ، چائے کی پتی ، رانی کھیت کی گولیاں اور مچھلی کے کیپسول لکھ آیا تھا ۔ ایک بار صرف روٹی لکھا تو مس مسکراتے ہوئے کہنے لگیں کیا اب مرغیوں نے مچھلی کے کیپسول کھانے بند کر دیئے ؟ میں نے کہا، جی مرغی ٹھیک ہو جائے تو کیپسول نہیں کھاتی، جیسے ہم ٹھیک ہو جائیں تو دوائی نہیں کھاتے ۔

میں ابا جی کے ساتھ جا کر تاریخی عمارتوں کی لوح پڑھا کرتا تھا اور وہ معلومات مجھے یاد رہتی تھیں ۔ میں نے پڑھنا بعد میں سیکھا تھا پہلے کہانیاں سننی شروع کی تھیں ۔ پہلی کلاس میں جانے سے پہلے میرے نام پر گھر میں بچوں کا باغ اور بچوں کی دنیا آیا کرتے تھے اور ماں جی اس میں سے کہانیاں سنایا کرتی تھیں ۔ ماں جی بتاتی ہیں جب میں چند ماہ کا تھا تب بھی مجھے سلانے کے بعد گھر کے کام کرنے سے پہلے ٹی وی یا ریڈیو چلا دیا جاتا تھا کیونکہ خاموشی سے مجھے تنہائی کا احساس ہوتا تھا اور میں جاگ جاتا تھا یعنی میں نے لاشعوری طور پر بھی کہانیاں سنی ہیں ۔ میں نے اپنے بچپن میں بچوں سے متعلقہ ہر کھیل تماشہ دیکھا ۔ شہر کے تاریخی مقامات کی بھرپور سیر کی ۔ کوئی ایسا سوال جو میرے ذہن میں ہوتا اور اس کی عملی مثال کا مشاہدہ ممکن ہوتا تو ابا جی مجھے دکھانے لے جاتے تھے ۔

آج جب دوست شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے بچے کند ذہن ہیں ۔ انہیں لٹریچر سے دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ سکول کا سبق تک یاد نہیں کر پاتے تو میں سوال کرتا ہوں ۔ آپ اپنے بچے کو کتنی بار بادشاہی مسجداور شاہی قلعہ دکھانے لے گئے ہیں ؟ کیا آپ کے بچے نے قطب الدین ایبک اور نور جہاں کا مزار دیکھاہے ؟ کیا آپ اپنے بچے کے ساتھ الحمرا میں لگنے والا پتلی تماشہ اورزکوٹا جن کا اسٹیج شو دیکھنے گئے ہیں ۔ آپ کتنی بار عجائب گھر اور چڑیا گھر لے کر گئے ہیں ۔ آپ کے بچے نے لکی ایرانی سرکس یا فرزند سرکس دیکھا ہے ؟ وہ کتنے فنکاروں سے ملا ہے ؟ وہ شہر کے کتنے باغات میں گیا ہے ؟ چلیں بچے کو چھوڑیں کیا آپ بھی کبھی ٹرین کے گارڈ روم اور انجن دیکھنے گئے ہیں ؟

جوا ب میں اکثر دوست کہتے ہیں کہ اتنا وقت کہاں ہوتا ہے یار، تو میں کہتا ہوں ۔ پھر قصور آپ کے بچے کا نہیں آپ کا ہے ۔ آپ اسے پریکٹیکل اور مشاہدے کے بنا نصاب پڑھانا چاہتے ہیں جو اس کےدماغ پر سے گزر جاتا ہے ۔ آپ چاہتے ہیں وہ نہ کوئی کہانی سنے اور نہ کوئی سٹوری بک پڑھے لیکن اس کا دماغ پھر بھی تیز ہو جائے ؟ اپنے بچے کی کند ذہنی کے ذمہ دار آپ خود ہیں کیونکہ آپ نے اس کا ذہن محدود کر رکھا ہے ۔ میرے ابا جی دو دو ملازمتیں کرتے تھے لیکن مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ ان کے پاس میرے لئے وقت نہیں ہے ۔ انہیں بیماری میں چھٹی نہ ملے یہ الگ بات ہے لیکن مجھے لکی ایرانی سرکس دکھانے کے لئے انہیں چھٹی کی ضرورت ہو تو یہ ممکن نہ تھا وہ چھٹی نہ لیں ۔ تب یہ اپنا حق لگتا تھا ، اب قرض لگتا ہے ۔ ایسا بھاری قرض جو محسوس تو ہو سکتا ہے لیکن ادا کرنا ممکن نہیں!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *