• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

پاکستانیوں کے ساتھ وہی حادثہ ہوا جس کا ذکر  شوکت واسطی   نے اپنے اس شعر میں کیا ہے کہ

ع شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا

ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا۔۔۔

امریکی گلیمر ماڈل کو کو آسٹن کی جون ایلیا کے اشعار جیسی مختصر بکنی سے مسلح بغاوت پر آمادہ خطوط والی تصاویر نے فیفا کے ورلڈ کپ والے ایام میں سوشل میڈیا پر کچھ زیادہ ہی اودھم مچایا۔

کو کو آسٹن

عبایا ،حجاب کے ستاۓ ہوۓ،حریصانہ نگاہوں والے سادہ دل پاکستانی اپنے محدود مطالعے،باآسانی یقین پر آمادہ مزاج اور کم کم انگریزی کی بنیاد پر کوکو آسٹن کوکروشیا کی صدر کولنڈا گرابر کتارو وچ کے پیکر کے خطوط جان کر ورلڈ کپ فٹ بال کے مقابلوں میں کروشیا کی ٹیم کو سپورٹ کرتے رہے۔

پریزیڈنٹ کولنڈا گرابر کتارو وچ

اس غلط فہی کی وجہ سے صدر صاحبہ خود تو حضرت ذہین شاہ تاجی مرحوم کے الفاظ کی روشنی میں اپنی ٹیم کا مورال بڑھانے کے لیے خاک در جانا نہ بنی رہیں مگر کوکو آسٹن کے بے حیا بدن کےطلسم ہوش ربا کے چکر میں الجھے پاکستان کے اہل دل کی آنکھ کا سرمہ بن گئیں۔کہاں   پاکستان کی سیاست دان خواتین۔ دو چار ٹیکسٹائل ملوں کے تھان در تھان میں لپٹی، بھر دو جھولی میری کے مصداق اسمبلی سیٹ پر پڑی رشتہ دار ممبران بیبیاں ،کہاں یہ جوانیاں مان علمیت وقار اور شفقت مادری سے لبریز یہ پیکر تمکنت و خود اعتمادی بی بی کولنڈا کتاروچ ۔

کوکو شوہر ٹی آئس کے ہمراہ

ہماری بات یاد رکھیں یہ جلد ہی اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل بن جائیں گی۔ ہر میچ میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے سولہ سو میل کا چار گھنٹے کا سفر طے کر اکانومی کلاس میں بیٹھ کر زغرب کروشیا سے کازان اور ماسکو پہنچ جاتی تھیں،عام تماشائیوں میں بیٹھ کر میچ دیکھتی تھیں۔ایسا وہ کیوں کرتی تھیں یہ بعد میں مگر وہ کون ہیں یہ پہلے۔۔۔

وہ مشرقی یورپ کے کسی ملک کی پہلی خاتون صدر اور نیٹو کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل رہ چکی ہیں۔

انگریزی ہسپانوی اور پرتگالی زبان روانی سے بولتی ہیں اور اطالوی،فرینچ اور جرمن اس سے کہیں زیادہ سمجھتی ہیں جتنا ایک عام پاکستانی نماز اوراس میں پڑھی جانے والی سورۃ اور اس میں ادا کیے جانے والے چودہ لازمی ارکان کا مطلب سمجھتا ہے۔اپنے عہدے کے حساب سے وہ بھی ہماری ممنون حسین ہیں مگر اپنے گیلانی اور راجہ اشرف جیسے دم گفتگو گھنٹوں آں آں کرنے (جو الفاظ کی تلاش میں صوتی کنفیوژن کی علامت ہے)وزرائے اعظم پر صدر زرداری کی طرح بھاری ہیں۔ان کے شوہر بھی ہمارے امیر مقام جیسے ہیں مگر جب خاتون صدر امریکہ میں اپنے ملک کی سفیر تھیں ان کے شوہر کی ایک تصویر سرکاری کار استعمال کرتے لوگوں کے ہاتھ لگ گئی بس پھر کیا تھا سفیر صاحبہ نے سفری اخراجات کی جیب خاص سے ادائیگی کی۔

کولنڈاشوہر کے ہمراہ

صدرات کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے ان کے شوہر جوکہ  AD Plastik, میں کارپوریٹ سیکورٹی کے انچارج ہیں۔سندھیُ میں ایک لفظ ہے شل اس کے معنی ہیں اللہ نہُ کرے تو ہمُ بھی یہی کہتے ہیں کہ شل نہ کوئی کسی اپنے سے زیادہ پڑھی لکھی اور کامیاب عورت کا شوہر ہو۔۔ آپ کو کیا پتہ کہ پرنس فلپ جو ملکہ برطانیہ کے شوہر ہیں وہ کس طرح روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں

صدارت کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے

کولنڈا صاحبہ مختلف یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل ہیں۔فل برائیٹ اسکالر رہی ہیں اور بین الاقوامی تعلقات میں ڈاکٹریٹ کی سند رکھتی ہیں۔ چالیس لاکھ کی آبادی کا ملک ایک فٹ بال اور اپنی صدر کی  شخصیت کی وجہ سے دنیا بھر کی آنکھ کا تارہ بن گیا ہے۔یہ کھیل اور   لیڈر شپ کا کرشمہ ہے۔جس وقت ان کی ٹیم فائنل میں فرانس سے ہارگئی ۔ صدر صاحبہ نے لوگوں کے دل یوں جیت لیے کہ وہ برستی بارش میں بغیر چھتری کے مادرانہ شفقت سے فرانس کے کھلاڑیوں کو بھی گلے لگا کر مبارکباد دیتی تھیں مگر جب اپنے کپتان Modricکی باری آئی تو اس کے اشک اپنی انگلیوں سے خشک کرتے کرتے خود بھی اشک بار تھیں مگر ان کی تمکنت اور لباس سادہ کا اہتمام قابل دید تھا۔

پریذیڈنٹ اور کیپٹن

سعودی عرب اور ایران کروشیا اور یورگوائے جیسے ملک جہاں اس میچ میں اپنا سکہ جماتے تھے وہاں ہم اس معمولی تفاخر پر شادیانہ مسرت بجاتے تھے کہ ہمارا سیالکوٹ کا پندرہ سالہ احمد رضا برازیل اور کوسٹا ریکا کے میچ میں بائیس جون کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام پونے پانچ بجے coin toss کرے گا۔دل نے بہت گلہ کیا کہ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

احمد رضا

۔ایک اچھا لیڈر ہو اس کی شخصیت کا جادو ہو،اس کا کردار اور سوچ کی بلندی ہو تو دنیا آپ کو جاننے لگتی ہے۔سوچیے  جنوبی افریقہ کا نام سنتے ہی ایک نام سامنے آتا ہے۔نیلسن منڈیلا کا،وہ 1994 سے1999 تک وہاں کے صدر رہے

نیلسن منڈیلا

ان کے بعد اس سے زائد معیاد کے لیےThabo Mbeki موجودہ صدر Cyril Ramaphosa, تک یہ عہدہ کل پانچ افراد کے پاس رہا کیا آپ کو ان میں سے کسی صدر کا نام یاد ہے؟۔۔۔پاکستانیوں کو کرکٹ کی وجہ سے اس ملک کے باشندوں  کے باشندوں ہاشم املہ اور جونٹی روڈز کے نام یاد ہوں گے ہمیں اداکارہ چارلیز تھرون کا نام بھی یاد ہے وہ ہمیں اچھی لگتی ہے اداکار Sean Penn سے معاشقہ لڑایا تو ہم نےسمجھایا نہ کر اس کھلنڈرے اور عمران خان کا پیار ببول اور مل مل کے دوپٹے کی دوستی ہے ،نہ مانی۔ اس کے برعکس جنوبی افریقہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ان کی شخصیت کا جادو ایسا ہے کہ صرف ایک ہی نام گونجتا ہے نیلسن منڈیلا

چارلس تھیرون

آئیں ہم یہاں سے اپنا رخ وطن کی جانب موڑتے ہیں مگر کچھ دیر مشرق وسطی میں قیام کے بعد تپتی ہوئی جولائی کی دوپہر میں جب مشرق وسطیٰ کے ریگ زاروں میں چیل بھی انڈا چھوڑ دیتی ہے ہمارا پاکستانی محنت کش بھاری بھرکم بوجھ کمر پر لادے ان عمارتوں اور جائیداد کے محل سجارہا ہوتا ہے جو   اس کے اہل اقتدار نے مختلف ناجائز ذرائع سے متحدہ عرب عمارت منتقل کی ہوتی ہے۔اس کے عوض اسے چند درہم مل جاتے ہیں۔۔ڈھیلی میلی شلوار کرتے ،میلے پھٹے جوتوں میں مال آف امارات اور مال آف دوبئی میں بھٹکتے کچھ محسود اور وزیر نوجوان بھی ہوتے ہیں۔ہم انہیں تعلیم دینے سے قاصر ہیں۔

فرانس ایسا نہیں کرتا،اس کے ہاں مسلمانوں اور ان کے دین کے خلاف عوامی سطح پر بہت شور مچایا جاتا ہے۔وہ اپنے شدید تعصب کی وجہ سے کلچر اور رنگت پر بیرونی ممالک کے آئے ہوئے افراد کے غلبے سے  بہت پریشان ہیں۔اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔سن 2017 میں وہاں مسلمانوں کی تعداد جن میں مغربی اور شمالی افریقہ سے آئے ہوئے افراد کی اکثریت ہے  اس وجہ سے یہ تعداد پچاسی لاکھ کے قریب ہے جو فرانس کی آبادی کا   آٹھواں حصہ ہے۔اس تمام حقارت اور نفرت کے باجود فرانس کی ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم میں ساڑھے سات کھلاڑی مسلمان تھے۔ ہم نے آدھا انیس برس کے کی لیان ایم باپے(Kylian Mbappé) کو کہا ہے جن کی والدہ فائزہ لماری الجزائر کی مسلمان ہیں اور جن کی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں مستقبل کا پیلے کہا جاتا ہے۔آپ نے دیکھا کھیل میں قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت ان افراد کے لیے جن پر بہترتعلیم کے دروازے کسی وجہ سے ماضی میں بند رہے ہوں، وہ کس طرح ذاتی خوش حالی اور ملک کی شہرت کے فروغ کا باعث بنتے ہیں

کی لیان ایم باپے

ہمارے ایک مشہور بیٹسمین تھے ان کے Guts اورCheeky Runs کی تعریف سنی تو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر عبدالحفیظ کارادر اور سیکرٹری ڈاکٹر ظفر الطاف(یہ دونوں اپنے عہدوں کی تنخواہ نہیں لیتے تھے) ان کا کھیل دیکھنے میرپور خاص پہنچ گئے۔اس وقت وہ ڈھیلا سفید موٹاپاجامہ پہنے بیٹنگ کررہے تھے کہ سفید پتلون خریدنے کی سکت نہ تھی اور رنگین کپڑے پہننے کا رواج نہ تھا۔انہیں منتخب کیا، ان کو معاوضے کے طور پر ابتدا میں ایک فضائی ٹکٹ علیحدہ سے دیا جاتا تھا تاکہ ان کی تنگدستی ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں خود اعتمادی کے آڑے نہ آئے۔اہل معاملہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سن اسی کے بعد عمران خان،وسیم اکرم،اور وقار یونس کے علاوہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی اکثریت مالی طور پر بہت تنگ دست گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی مگر آپ نے دیکھا کہ ان کی کھیل کی صلاحیت نے انہیں شہرت اور مالی آسودگی کے کس درجے پر پہنچا دیا اور اب انگریزی محاورے میں There is no looking back.

ہمارے یہ قبائیلی علاقوں کے وزیر اور محسودپہاڑی کی چوٹی پر شیشے کی ایک چھوٹی سی بوتل رکھتے ہیں اور نیچے سے اپنی بندوق سے نشانہ لے کر اس کے پرخچے اڑا دیتے ہیں۔ویسے بھی یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کسی انگریز فوجی نے کہا تھا کہ یہ اسی وقت امن سے ہوتے ہیں جب یہ حالت جنگ میں ہوں۔

رائفل شوتنگ

ہماری ایک دوست کے پی کے کے قبائلی علاقے کے ایسے کالج کی استاد تھیں جہاں لڑکیاں پرس میں پستول لے کر آتی ہیں ،وہ ہنستے ہنستے بتاتی تھیں کہ جب وہ کرکٹ کھیلتی ہیں تو ان کی اسپن گیند بھی ہندوستانی فاسٹ بالر اشنات شرما سے تیز ہوتی ہے۔

کے پی کے میں کرکٹ
اشانت شرما

ان بچے بچیوں کی تربیت کریں اولمپک میں رائفل پستول اور شاٹ گن کے خواتین کے چھ اور   مردوں کے لیے نوگولڈ میڈل ہوتے ہیں۔ان کی قدرتی صلاحیتوں کو تربیت کے سانچے میں ڈھال کرانہیں وقار اور نام عطا کریں۔

گرلز کالج کی طالبہ

بہت دن پہلے ساتھ والے بنگلے میں ماسی صفوراں   گھر کا کام کیا کرتی تھی۔ محلے کے بچوں کو جانے کیسے پتہ لگ گیا   کہ ماسی صفوراں کو ہندوستانی ڈرامے اور فلمیں بہت پسند ہیں۔ جب اس نے سلمان خان کی فلم دبنگ دیکھی تو وہ اداکارہ سوناکشی سنہا کی بہت بڑی فین بن گئی تھی۔ اسی کے انداز بھی کاپی کرنے لگی تھی۔۔ ہندوستانی فلموں اور ڈراموں کے ہڑُکے کی وجہ سے بچے اسے ماسی صفواراں کی بجائے ماسی چپو رام کہہ کر چھیڑتے ہیں۔ماسی صفوراں کا قد پانچ فیٹ دس انچ ہے،کلائی پکڑ لے تو پولیس والے بھی نہیں چھڑاسکتے۔ اس کے سسر نے اس پر ایک دفعہ ہاتھ اٹھایا تو اس نے احمد پور شرقیہ کے اس ہتھ چھُٹ مرد کو ایسا جھٹکا دیا کہ اس کا   بازو جوڑ سے علیحدہ ہوگیا۔دنگا دلیری کی ماہر اس خاتون کی پاکستان میں کوئی قدر نہیں۔نہ ہی ہم نے وزن اٹھانے والے، نشانہ بازوں کو کسی شمار قطار میں رکھا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک جرمن کپتان اس وقت حیرت سے چیخ اٹھا جب اس نے اپنے بحری جہاز سے ایک پختون بوڑھے کو اپنی کمر پر بڑے سائز کا ریفریجرٹر نیچے لے جاتے ہوئے دیکھا۔

آپ نے یہ تفصیلات اگر غور سے پڑھی ہیں تو ہم نے اب تک وزن اٹھانے، نشانہ بازی اور کشتی کی بات کی ہے۔ان تینوں کھیلوں کے اولمپک مقابلوں میں بالترتیب پندرہ، اٹھارہ اور پندرہ گولڈ میڈل ہوتے ہیں یعنی کل ملا کر اڑتالیس۔ سونے کے ان  تمغوں کے لیے جب امریکہ اپنے کھلاڑیوں کی تربیت کررہا ہوتا ہے تو انہیں Motivation Gurus یہ سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ آپ چاندی کا تمغہ نہیں جیتتے بلکہ سونے کا تمغہ کھودیتے ہیں ،جب کہ ہم ہاکی کے ایک گولڈ میڈل کی ٹمٹاتی، شکستہ آرزو لیے بیس سے پچیس مردوں کو ادھر سے ادھر بھگا رہے ہوتے ہیں۔اس میں بھی جھنڈا لے کر دستے کے آگے چلنے سے لے کر توعابد شیر علی اور فردوس عاشق اعوان تک کے پسنددیدہ کھلاڑیوں کی شمولیت کے جھگڑے چل رہے ہوتے ہیں۔

افواج پاکستان کچھ عرصے تک تو اپنے جوانوں کو کھیلوں میں اس قدر اعلی معیار پر تیار کرتی تھیں کہ ان کا ایک ایتھلیٹ لانس نائیک غلام رازق 1958 اور 1966 میں دوڑنے گیا اور پھر ایشیائی مقابلوں میں سونے کا تمغہ لایا تھا۔ ان کے ہاں بھی کھلاڑیوں سے زیادہ چھوٹے موٹے اخراجات پورے کرنے کے لیے ادارے کے امیج اور وقار سے زیادہ شادی ہالوں پر زور ہے۔اگر آپ کو سی آئی اے کے دفتر جانے کا لین گلے میں موقع ملے تو میلوں گھنے جنگل میں کوئی سڑک پر بورڈ نہیں دکھائی دیتا اگر بغیر اجازت آۓ ہیں تو گرفتار ہوں گے ورنہ اچانک آپ کی رہنمائی کے لیے آپ کو روک لیں گے۔ہمارے اداروں کو شہر کے بیچوں بیچ شادیاں کرانے،دفاتر سجانے کا شوق ہے،انہیں کون سمجھائے کہ جو دکھائی نے دے وہی اصل طاقت ہے۔

اب ان کے ہاں بھی اس حوالے سے کوئی ترجیحات دکھائی نہیں دیتیں حالانکہ کم از کم سوا سو کے قریب سونے کے ایسے تمغے ہیں جو ان کی دسترس سے کچھ دور نہیں بشرطیکہ وہ اس پر توجہ دیں۔ان میں تیر اندازی،ایتھلیٹکس، والی بال،باکسنگ، سائیکلینگ،گھڑ سواری، جمناسٹکس، تلوار بازی اور اسی قبیل کے دوسرے کم خرچ کھیل شامل ہیں۔ان کے میدان بھی محفوظ ہیں جب کہ ہمارے شہریوں کے میدان تو جنوبی پنجاب کے مولوی صاحبان کی قبضے کی مسجدوں اور سیاسی پارٹی کے چائنا کٹنگ منصوبوں کی نذر ہوگئے ہیں۔

اس کے برعکس سوچیے  کہ ایسی ہی غربت کا مارا ملک ایتھوپیا تھا جس نے پہلی دفعہ 1956میں اولمپک مقابلوں میں شرکت کی اور لندن اولمپک تک جو اسی سال منعقد ہوئے وہ سونے کے اکیس اور کل ملا کر پینتالیس تمغے جیت چکا ہے۔ان کا پہلا ایتھلیٹ Abebe Bikila روم اولمپک میں سن 1960 ننگے پاؤں دوڑا تھا۔

ابیبی بکیلا

گولڈ میڈل جیتا تو کسی نے نشاندہی کی کہ اس کے پیر میں جوتے کیوں نہیں تو اس کا جواب سب ہی کو لاجواب کرگیا کہ”مجھے اپنے ننگے پیروں سے زیادہ ایتھوپیا کا وقار عزیز تھا“۔وہ محل سے دور ایک گاؤں میں رہتا تھا۔شہنشاہ ہیل سلاسی کے امپریل گارڈ کی ملازمت کے لیے ڈیوٹی پر وقت پر پہنچنے کے لیے ننگے پاؤں دوڑ کر آتا  تھا۔اس کی اولمپک میں شمولیت بھی حادثاتی تھی۔اولمپک کے دستے میں Wami Biratu نے جانا تھا۔ وہ عین وقت پر بیمار پڑگیا تو اسے جہاز میں سوار کرادیا گیا یوں وہ افریقہ کا پہلا سیاہ فام ایتھلیٹ بنا جس نے افریقہ کے دوسرے ایتھلیٹ کے لیے ایک قابل تقلید مثال قائم کی۔

کھیلوں کی اس زبوں حالی کی کئی وجوہات ہیں جن میں تین بہت اہم ہیں:
پہلی تو یہ کہ ہم Curative Health یعنی تندرستی براستہ علاج پر Preventive Health یعنی  علاج براستہ تندرستی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔اس وجہ سے کھیلوں کی سہولتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوچلی ہیں۔ آپ اس کا بھیانک نتیجہ یہ دیکھتے ہیں کہ اب ہماری نئی نسل کا سائز بتدریج سیل فون جتنا ہوتا جارہا ہے۔

دوسری یہ کہ کھیل کے میدانوں اور پارکوں پر پچھلے تیس برسوں میں مختلف حیلوں بہانوں سے قبضے جس میں مسجد کا پھیلتی  ہوئی تعمیر سے لے کر چائنا کٹنگ سبھی قسم کے حیلے بہانے شامل ہیں۔ طارق روڈ کا پارک اور جہانگیر پارک جہاں ایک مسجد قائم کرکے پارک کو ختم کردیا گیا اس کی منہ  بولتی مثال ہے۔

تیسری  سکولوں میں کھیلوں کی سہولت کا مفقود ہونا۔ سرکار نے نئے  سکول اور ہسپتال قائم کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔نجی شعبہ چھوٹے مکانا ت میں  سکول قائم کرکے دولت سمیٹ رہا ہے۔اس کی ساری توجہ یہ ہے کہ جیسے تیسے بچہ میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کرلے۔

کھیل کے میدانوں پر بالخصوص مساجد کے نام پر قبضے، سوچیے  تو ہم اس عظیم الشان نبی محمد مصطفےٰ ﷺ کی اُمت ہیں جنہوں نے مکہ سے ہجرت کے انتہائی تنگ دست ایام میں بھی مسجد نبوی کے لیے زمین کو پہلے خریدا۔یہ خالی زمین دو انصاری یتیم بھائیوں ساحل اور سہیل بن امر نجاری کی ملکیت تھی اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان سے متصل تھی۔ان دونوں بھائیوں اور
ان کے سرپرست معاذ بن عرفہؓ اس امر پر خوش دلی سے رضامند تھے کہ مدینہ میں پہلی مسجد ان کی مفت نذر کی ہوئی زمین پر تعمیر ہو۔یہ بڑی سعادت تھی، ایک صدقہ جاریہ تھا۔اس کے باوجود آپ نبی ﷺ نے یہ گوارا نہ کیا اور زمین کی اصل قیمت، آپ کے صدیقِ صادق حضرت ابوبکر ؓ نے ادا کی۔

ایک ہمارے مذہبی جوشیلے ہیں کہ ہر کھلے میدان پر شب خون مارتے ہیں ،پہلے مسجد بنتی ہے، بعد میں منتظمین کے گھر اس زمین پر بنتے ہیں اور قرابت داروں کے لیے دکانیں تعمیر ہوجاتی ہیں مگر اس کا کیا جائے کہ وہ من جو پرانا پاپی ہے برسوں میں بھی نمازی نہیں بن سکتا۔پاکستان میں صوم اور صلوۃ جیسی نجی جسمانی عبادت پر بہت زور ہے مگر سچ اور حق کی پاسداری،وعدے کے پاس،ہر لیول کی امانت داری،خوش اخلاقی، دوسرے کے حقوق کا احترام اور ہمارے نبی محمد ﷺ کا وہ کردار جو مکۃالمکرمۃ کے قیام کے 53 برس تک اور بعد کے دس برس تک ہر خاص و عام کے لیے باعث حیرت اور قابل تقلید تھا اس کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں یکسر نظر انداز کرکے یہ سوچ لیا کہ یہ عبادت ہمارے لیے  مارے لیے جنت میں  داخلے کا کثیر المقاصد ویزہ ہےُ سپریم کورٹ سے ہر برائی کی درستی  کی توقع تو بہت زیادتی ہوگی ،مگر سپریم کورٹ اگر اتنا کرلے کہ ہر ہائی کورٹ کا دو جج صاحبان، متعلقہ کمشنر اور ہوم سیکرٹری پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی بنادے جو سن 1970سے پہلے کے رفاعی پلاٹوں پر قبضے اور اس کے مختص مقاصد سے انحراف کا جائزہ لے کر انہیں ان کی سابقہ حیثیت پر بحال کردے۔ وہاں بعد میں کوئی اسکول بنا ہو یا ہسپتال، کوئی مسجد یا مدرسہ، کوئی تاج محل یا سرکاری محل اس کو عوام کے سامنے زمین دوز کردیا جائے اور پلاٹ کی سابقہ حیثیت کو بحال کردیا جائے۔اسی طرح ہر سرکاری اسکول میں کم از کم دو کھیلوں کی ایک ایک ٹیم ایسی ہو جس کو ایک مقامی صنعت کار کی سرپرستی ہو۔علاقے کی مارکیٹ کمیٹی پر لازم ہو کہ وہ اپنے علاقے میں ایک انڈور جمنازیم نہ صرف قائم کرے بلکہ ان تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں جو ان مارکیٹوں میں مال فروخت کرتی ہے وہ ان جمنازیم کے انتظامات کی ذمہ دار ہوں۔۔

فوج پر بھی لازم ہے کہ وہ ایک اسپورٹس بٹالین بنائے جہاں وہ کھلاڑی تربیت پائیں جو کم لاگت والے کھیل جن میں انفرادی کارکردگی کا اظہار باآسانی پرکھا جاسکے ان کو فروغ دے۔ان میں فیلڈ اینڈ ٹریک کے ایونٹس، مارشل آرٹس، وزن اٹھانا،مختلف انداز کی کشتی جن میں عورتوں مردوں کے کل ملا کر بارہ گولڈ میڈل دستیاب ہیں،گھڑ سواری جس میں دس سے بارہ میڈلز اور پیراکی جس میں اتنے ہی میڈلز بانٹے جاتے ہیں ان پر توجہ دے۔

کُشتی

دنیا بھر میں جب کوئی کھلاڑی تمغہ جیتتا ہے تو نہ صرف اس کے ملک کا ساری دنیا میں وقار بڑھ جاتا ہے۔اس ملک کا ایک مثبت امیج باہر کی دنیا میں پھیل جاتا ہے۔کھیل میں کھلاڑی کی کارکردگی ملک میں میرٹ کی موجودگی اور اس کی دیکھ بھال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک اپنے ان کھلاڑیوں کو جو گولڈ میڈل جیتتے ہیں نہ صرف خطیر مشاہرہ دیتے ہیں بلکہ انہیں لائف ٹائم پنشن بھی دی جاتی ہے۔آیئے پاکستان میں میرٹ کو فروغ اور غریب کو عزت دیں۔اس کو کھیل کے مواقع  دیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

SHOPPING

ممبران
گیمز۔
سری نام
ایتھوپیا کے دوڑ لگانے والے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *