کپتان کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔۔روبینہ فیصل

مسٹر خان !! جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ؟
ہماری نسل اور ہم سے پہلے کی ایک نسل (جو آپ کی ہے )اور ایک ہم سے بعد کی نسل یہ تین نسلیں آپ سے محبت میں گرفتار رہی ہیں ۔ آپ کی شخصیت کے طلسم اور آپ کی سادگی اور خلوص کے ہم سب معترف ہیں ۔ اس میں ایک فی صد بھی شک نہیں ۔۔ اب اس سے آگے چلتے ہیں کیونکہ انسان کی ذات ایک بہت بڑا بھید ہے جسے خود انسان پا لے تو پا لے کوئی دوسرا کہاں پا سکتا ہے ؟ دوسرے انسان تو ظاہری شو شا کو دیکھ کر تالیاں بجاتے ، خوش ہو تے اور کسی کا برا وقت آئے تو اس پر تھوک کر ، پیروں تلے روند کر آگے چل پڑتے ہیں ۔ یہ تو آپ کو بھی پتہ ہی ہو گا ؟ نہیں؟ تو میں آپ کو یاد کرواتی ہوں ذولفقار علی بھٹو سے بات شروع کرتے ہیں ۔ ایک ایسا انسان جس کی شخصیت کا سحر آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔بھٹو ، جب جولائی 1977کو گرفتاری کے بعد تھوڑے عرصے کے لئے رہا ہو ئے تو پی پی پی کے سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں رہنماؤں نے انہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ، جانتے ہیں بھٹو نے کیا کہا : “اور اگر میں پاکستان میں ہی رہوں ۔ موت کی سزا پا جاؤں اور ایک یا دو سال بعد میری موت کے ذمہ داروں کے پرزے اڑ جائیں تو پھر کیسا رہے گا ؟ “۔۔۔ ذہین لوگوں کو عام لوگوں کی نسبت ذیادہ الہام اور وجدان ہو تے ہیں ۔دو سال بعد تو نہیں لیکن ۱۱ سال ملک کا خون نچوڑنے کے بعد ، “ذمہ دار ” ہواؤں میں پرزے بن کر اڑ گیا ۔

بھٹو صاحب کی ذہانت اور چھٹی حس پر کسی دشمن کو بھی شک نہیں ہو سکتا کیونکہ ایران کے رضا شاہ پہلوی نے جب امریکہ سے ٹھکرائے جانے کے بعد لندن میں ایک انٹرویو دیتے ہو ئے انتہائی دکھ سے کہا تھا کہ:” میں نہیں جا نتا کہ یکا یک کیا ہوا ، دوستوں نے دھوکہ دیا اور میں آج تک اس الجھن کو حل نہیں کر سکا کہ میرے ہاتھ سے سب کیسے نکل گیا ؟” بھٹو ایسی کیسی حیرانگی یا کرب کا شکا ر نہیں تھے ، انہیں پتہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے پنڈی کے چوک میں کھڑے ہو کر وہ چلا چلا کر سب کو بتاتے رہے تھے کہ ہاتھی ( امریکہ ) نے دل میں میرے لئے کینہ رکھ چھوڑا ہے وہ مجھے مار کے دم لے گا ۔ اس کے باوجود انہوں نے باقی بھگوڑے حکمرانوں کی طرح دوسرے ممالک میں پناہ نہیں لی بلکہ اپنی جان اپنے ہی ملک میں ان لوگوں کے درمیان دی جن کے ساتھ انہوں نے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ تو کیا تھا مگر اسے نبھا نہ سکے ۔وعدہ نہ نبھانے کا دکھ انہیں اپنی کال کوٹھری میں ضرور پچھتاوا بن کر ڈستا ہو گا کیونکہ بھٹو کی شخصیت وہ ہے جس نے پاکستان میں بلندی کی سب سے بڑی معراج بھی دیکھی اور پستی بھی اتنی ہی ذیادہ دیکھی ۔بھٹو قتل کا مجرم تھا یا نہیں ،مگر ان محبت بھرے دلوں کا مجرم ضرور تھا جن کے ساتھ اس نے بڑے بڑے وعدے کئے مگر صرف بھلانے کے لئے ۔۔ یہ خود پرست اور خود غرض لوگوں کا طریقہ واردات ہو تا ہے ۔ سادہ دلوں میں اپنی محبت ڈال کر اسے ایندھن کے طور پر استعمال کر کے انہی کو روندتے ہو ئے آگے بڑھتے جاتے ہیں ، مگرمحبت کر نے والے کئے جاتے ہیں اسی لئے سب پاکستانی خاص کر کے سندھی لوگ اپنے بھٹو بادشاہ کے لئے آنکھیں فرشِ راہ کئے رہے بلکہ آج تک اس کے نام پر کوئی بورڈ ہی لگا ہو تو اسے جا کر ووٹ دے آئیں گے۔

قیوم نظامی اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب میں اپنی فیملی کے ساتھ سندھ کے کسی علاقے میں جا رہا تھا کہ چند غریب لوگوں نے میری گاڑی پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا دیکھ کر گاڑی روکی اور بھٹو کی حمایت میں نعرے لگانے لگے میں نے کہا کس بھٹو کو یاد کر رہے ہو وہ تو قتل کے مقدمے میں کوٹھری میں بند ہے ۔ ایک بوڑھا بولا : ہمارے گاؤں کے نمبردار کے بیٹے نے دو خون کئے ہیں اور وہ دندناتا پھرتا ہے ،وہ تو پھر بھٹو بادشاہ ہے ، ایک قتل کروا بھی دیا تو کیا ہوا ۔ آپ کے پاؤں میں جو تی نہیں ہے ، بھٹو نے تم لوگوں کے ساتھ کیا وعدہ پو را نہیں کیا ،جواب تھا: بھٹو نے ہمیں عزت دی ورنہ پہلے نمبردار ہمیں جوتیوں میں بٹھاتا تھا ۔۔۔

خان صاحب !! یہ تھا بھٹو کے ساتھ لوگوں کا پیار اور ان کی ذات پر اعتماد ۔ پاکستانی عوام کا زیادہ تر حصہ جذباتی ،معصوم اور باوفا لوگوں پر مشتمل ہے ۔ اور ایک بہت مخصوص طبقہ ہے جس میں آپ کے بیورکریٹ ، جاگیردار ، صنعت کارسیاست دان لیڈر (غریب کارکن نہیں ) ،ملٹری ، میڈیا اور پھر ملا حضرات ۔۔۔یہ وہ ہیں جو ہر لیڈر کو ، جونکوں کی طرح چمٹ جا تے ہیں ۔ اور ہو تا کیا ہے عروج کے زمانے میں ہر لیڈر چاہے وہ بھٹو ہی کی طرح کا سمارٹ انسان کیوں نہ ہو ، ان کے جال میں پھنس کر محبت کرنے والوں سے بے وفائی کرتا ہے ۔ ۔ خالص محبت کا تو ویسے بھی کوئی مول نہیں ، اس کو ٹھکرا کر لوگ ضرورتوں کے سودے کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس انہیں دینے کو کچھ نہیں رہ جاتا تو یہ سوداگر بھاگ جاتے ہیں ، تب آپ کا ساتھ نبھاتے ہیں وہ سادہ دل کے خالی جھولی اور بھرے دلوں والے لوگ ۔۔

بھٹو جتنا بھی ذہین تھا ، بیورکریسی کی مکاریاں اوردوغلا پن اور مذہبی لیڈروں کی شعبدہ بازیوں نے اسے عام کارکن سے دور کر دیا ۔ موت کی کوٹھری میں بھٹو تنہا رہ گیا تھا۔ اس کی ایک بالکل سادہ سی وجہ ہے جو محترم خان صاحب آپ کو بھی سمجھنی پڑے گی اور ہر اس انسان کو جس کو خدا عزت ، رتبہ ، شہرت اور کوئی فرض دیتا ہے ۔ جب آپ کانٹے بوتے ہیں تو کانٹے ہی اگیں گے پھول نہیں ، تو جب آپ خود ایسے سانپ جیسے لوگوں کو اپنے قریب کر یں گے ، جو مفاد پرست اور خودغرض لوگ ہیں تو پھر آپ ان سے کیسے یہ امید رکھیں گے کہ وہ مشکل گھڑی میں کسی مخلص اور جانثار کی طرح آپ کا ساتھ نبھائیں گے، وہ تو مو قع ملتے ہیں ڈسیں گے اور منظر سے ایسے غائب ہو جائیں گے جیسے کبھی تھے ہی نہیں ۔ جب آپ عروج کے وقت اپنی پو زیشن کو بیچ کر لوگ کمائیں گے تو ایسے ہی لوگ آپ کے آخری وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے ، آپ کی گھٹڑی میں ہو نگے ۔ کیا تب آپ یہ پکار سکیں گے کہ کہا ں ہیں میرے وفادار ، مخلص اور سچے ، نظریاتی کارکن ؟ کوڑا کرکٹ اکھٹا کریں گے تو کوڑا ہی اکھٹا ہو گا ۔۔۔۔آج نواز شریف کو جس حال میں آپ دیکھ رہے ہیں، اسے دیکھ کر خوش ہو نے کی بجائے عبرت پکڑیں ۔ یہ بھی وہ ہیں جنہوں نے وفا اور محبت اپنی طاقت کی دھو نس پر یا کوئی لالچ یا مراعات دے کر خریدی تھی ۔ خود بھی کھوکھلے تھے ، تجارت بھی کھوکھلے پن کی ہی کی ۔

بھٹو کے آخری دنوں میں جو کارکن اس کی خاطر جیلوں میں گئے وہ وہی نظریاتی محبت کر نے والے لوگ تھے ۔ جنہیں بھٹو نے اقتدار اور طاقت کے نشے میں بے شک بھلا بھی دیا تھا ، مگر اس کے  نام لیوا وہی سادہ دل لوگ تھے ،کوئی سول سرونٹ ،نہ کوئی ملٹری کا دوست اور نہ کوئی جاگیر دار سیاستدان ۔۔ وہ جو جے رحیم کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہو ئے بھٹو کی ایف ایس ایف نے جیپ میں ڈالا تھا اور شیخ رشید ( یہ کلچے چھولے والے نہیں ، جنہیں آپ نے اپنے پہلو میں سجا کر بٹھا یا ہو تا ہے بلکہ وہ عظیم سوشلسٹ جس کی قدر بھٹو نے بھی نہ کی )، ایسے لوگوں کو جب ٹھکرایا اور ان کا دل توڑا جا تا ہے تو وہ بددعا نہ بھی دیں ، ان کی خاموش آہ عرش تک ضرورجا تی ہے ۔ اور پھانسی چاہے اسے کسی کو قتل کر نے کے جرم میں ہو ئی ہو مگر یقین جانئے خدا کے انصاف کے نرالے طریقے ہیں نہ جانے کیوں دل کہتا ہے کہ بھٹو کو پھانسی اپنے ابتدائی دنوں کے ساتھیوں اور عوام کے ساتھ جھوٹے وعدوں کے کارما کے نتیجے میں اس کا نصیب ہو ئی ۔ جسمانی موت کی طرح بے وفائی اور جھوٹے وعدے کی سزا بھی موت ہی ہو تی ہے اگر کوئی سمجھے تو ۔نوا ز شریف بھی اپنے وقت میں کیا کیا ظلم نہیں ڈھاتا ، اگر یہ لوگ سویلین آمر نہ بنیں تو فوجی آمروں کو سیاست میں کودنے کی جرات نہ ہو ۔ ہماری ملکی سیاست کا المیہ ہی یہی ہے ، سیاست دان جموریت کے آڑ میں آمر بن جاتے ہیں ، چاہے ان کی پارٹی کے معاملات ہوں یا پارلیمنٹ کے ، اور فوج سیاست کی جان نہیں چھوڑتی ۔۔ دونوں کی یہ ٹیکنکل پرابلم دور ہو جائے تو یہ آئے روز کی الزام تراشیوں ، سازشوں اور مکاریوں سے جان چھٹ جا ئے اور کم از کم “سیاست” سیاست دانوں کے ہاتھ آجائے اور فوج صرف سرحدوں کی حفاظت ہی کر لے تو ملک بار بار ٹوٹنے سے بچ جائے ۔ دونوں جنگوں کا ذکر کر کے فوج کو ان کی نا اہلی یاد کروائی تو ایک طوفان مچ جائے گا مگر اس کے لئے ایک علیحدہ مضمون لکھ رہی ہوں ۔۔ میں نے پروپگینڈا کے خلاف چپ رہنا کب سیکھا ہے ؟طوفان مچتے ہیں تو مچیں ۔۔ ہم عوام ہی کب تک جہالت کے طوفان میں بہتے رہیں گے ؟

خان صاحب!! عوام کے جذبات اور معصوم کارکن کے خون پسینے سے کھیلنا آسان ضرور ہے مگر اس کا حساب خدا کے ہاں بہت مشکل ہے ۔ یہ بہت بھاری بوجھ ہے ، نہیں اٹھا سکتے تو ابھی سے بیک اپ کر جائیں ۔ جھوٹے وعدوں کا بوجھ آسان نہیں ہو تا اس کی پکڑ بہت سخت ہو تی ہے اور یہ بات آپ کو اس لئے بتانا ضروری ہے کہ آپ کی باتوں میں بھی بہت سے ایسے خواب ہیں جو اس معصوم عوام کو گمراہ کر تے ہیں ۔ بات اتنی ہی کرو جو نبھا سکو ۔۔ میں جانتی ہوںیہ سیاست نہیں ہے مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ ایک روایتی سیاست دان بھی نہیں ہیں ۔تبدیلی کے نام پر یہ رواج کیوں نہیں ڈال دیتے کہ ایک لیڈر وہی بات اپنے سے محبت کر نے والوں کے ساتھ کرے جسے وہ نبھانے کی طاقت بھی رکھتا ہو اور نبھا کر دکھائے اور جو نہیں نبھا سکتا وہ لیڈر تو کیا ایک مرد بھی نہیں ہے ۔ عوام کو حق دیا جائے کہ وہ اسے نامردانگی کا سرٹیفیکٹ پکڑا کر کسی حکیم کے پاس بھیج دیں ایسے کمزوروں کو اپنی زندگی کا اختیار کیوں دینا؟ آج نواز شریف مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کے پیچھے نہ خوشامدی افسر کھڑے ہیں اور نہ اس کے وہ دوست، رشتے دار جن کو وہ نوازتا رہا ہے اور یہ اس کے ساتھ ایک دفعہ نہیں بار بار ہو ا ہے ۔

“ڈرا ان کو ایک قریب آنے والے مصیبت کے دن سے ( یوم الازفہ)اور جب غم سے کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگااور نہ کوئی سفارشی، جس کا کہا مانا جائے( سورۃ ۴۰،آیت ۱۸)۔۔۔پس ایسا نہیں کہ اندھی ہو جاتی ہیں آنکھیں ، لیکن اندھے ہو جاتے ہیں دل جو بیچ سینوں کے ہو تے ہیں ۔ ”
اور ہمارے لیڈراور دوسرا مراعات یافتہ طبقہ بھول جاتا ہے کہ بکریاں چرواہے کے لئے نہیں بلکہ چرواہا بکریوں کی خدمت کے لئے ہے(شیخ سعدی)۔

عوام کی خدمت کرنا ، ان کی بہتری کے لئے کام کر نا یہ منصب ہے ایک سیاست دان کا ، ایک سرکاری افسر کا ، ایک پو لیس والے کا ، ایک میڈیا والے کا اور ایک فوجی کا ۔۔ مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے یہ سب مل کر عوام کو نوچ کھسوٹ رہے ہیں اور سیدھی سادی عوام کبھی انہیں بادشاہ ، سرکار ، جناب ، میاں صاحب ، چوہدری صاحب جیسے ناموں سے پکارتی ہے ۔
خان صاحب !! لوگ ، اس وقت آپ کو ایک بہت بڑا لیڈر مان رہے ہو نگے لیکن مجھے آپ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح محسوس ہو رہے ہیں جس کے ہاتھ میں اس کا پسندیدہ کھلونا آنے ہی والا ہے یعنی کہ وزرات عظمی ۔۔ لفظ عظمی کو بھی نجانے آپ کو ئی عورت سمجھ کر پر جوش ہو رہے ہو نگے ورنہ کیا آپ نہیں جانتے کہ پاکستان کی سیاست سنڈیوں بھرا ایک کباب ہے ۔ آپ کے بارے مجھے یہ شک تو نہیں کہ آپ عہدے کے ساتھ لگی شہرت ، دولت یا طاقت کا اختیار چاہتے ہیں یا آپ کو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر نے کے لئے کوئی جھوٹے نعرے ، کھوکھلے دعوے یا مصنوعی جال پھینکے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بھٹو کی طرح ایک چیز آپ کے بھی اندر قدرت ہی کی طرف سے ہے کہ لوگ آپ کی طرف خود بخود کھنچے آتے ہیں اور جو نفرت کرتے ہیں وہ بھی بلاوجہ ہی کرتے ہیں ۔۔ یہ خوبی بھٹو میں بھی تھی۔۔ ۔

آپ ایک سچے انسان ہیں لیکن جس طرح آپ نے اپنے ساتھ جڑے وفادار لوگوں کو مطلب پرستوں کی وجہ سے دھتکارا ہے ، اس کی میں خود بھی گواہ ہوں ۔۔ اس بات سے ڈریں اور ہو سکے تو ان سچے اور مخلص لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔۔ اگر آپ نے بھی اپنے گرد کھوٹے سکے اکھٹے کر لئے تو پاکستان کے حالات میں جہاں ایک وقت کسی کی گڈی آسمان سے باتیں کر رہی ہو تی ہے تو دوسرے وقت زمین پرلوگوں کی ٹھوکروں پر ہو تی ہے ۔۔ ایسے وقت میں یہ مطلبی لوگ نہیں سچے نظریاتی لوگ ہی کام آتے ہیں ۔ سمجھدار لوگ اچھے وقتوں میں برے وقت کا سہارا اکھٹا کرنا نہیں بھولتے ۔۔۔ بھٹو اور نواز شریف والی غلطی نہ دہرایں۔ کیونکہ یہ پاکستان ہے اور آپ ایک سیاسی لیڈر ۔۔جس بلندی پر آپ پہنچے ہیں ، جلد یا بدیرنیچے تو آنا ہی آنا ہے ۔۔ یہ پاکستان کی تقدیر نہیں یہ پاکستان پرپھیلا ہوا ایک کالا سایہ ہے جس سے آپ بچ نہیں سکتے ۔ آج یہ کالا سایہ آپ کو چمکانے میں لگا ہوا ہے کل آپ کے چہرے پر کالک ملی جا رہی ہو گی ۔ یہ میری پیشن گوئی نہیں ہے یہ میرا اس ملک کی تاریخ کا باریک بینی سے کیا گیا مطالعہ اور حالات کو آنکھیں کھول کر کیا گیا مشاہدہ ہے ، جس کی وجہ سے مجھے آپ کا مستقبل نواز شریف سے یا کسی بھی منتخب لیڈر سے مختلف نظر نہیں آرہا ۔ کیو نکہ آپ بھی انسان ہیں بھٹو کی طرح آپ پر کسی قسم کی فنانشل کر پشن نہ بھی ثابت ہو سکی تو اور بہت سی باتیں ہیں ، جو گناہ بن کر ، آپ کے برے وقت میں آپ کے منہ پر ماری جائیں گی ۔۔

اور مزے کی بات ہے یہی سیاست دان جو جمہوریت کو مضبوط کر نے کی باتیں کرتے ہیں ۔۔ انہی سیاست دانوں نے خفیہ ہاتھ سے مل کر آپ کا بینڈ بجانا ہے، آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہو ئی عدالتوں نے آپ پر کوئی بھی گناہ ثابت کر دینا ہے ، یہی مولوی آپ کے خلاف فتوے بلکہ آپ کے کیس میں پھونکیں مار رہے ہو نگے ، یہی میڈیا آپ کی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بڑے سے بڑے جرم میں تبدیل کر کے دکھا رہا ہو گا ۔۔ اور آپ کا دھڑن تختہ ہو جائے گا ۔اورقسم سے خان صاحب آپ اور آپ کے مصاحبین اسی طرح کے ڈائیلاگ بول رہے ہو نگے جس طرح کے آج مسلم لیگ نون والے بول رہے ہیں، آپ چیخ رہے ہو نگے جمہوریت کو چلنے تو دو ، نون والے اور پی پی پی والے یہی جواب دے رہے ہو نگے جو آج آپ اور آپ کے جیالے دے رہے ہیں ۔ آپ کے چہرے پر جو تکبر ، جو اعتماد ہے ، وہ آپ کا ہے ہی نہیں ۔۔ آپ وہ عمران خان ہیں ہی نہیں جو نظریات کی سیاست کرنے پاکستان میں آئے تھے ۔ اتنے سال یہاں انوسٹ کرنے کے بعد جس دن آپ نے اسی آسیب تلے دھرنا دیا تھا ، میں سمجھ گئی تھی کہ آپ پر بھی اسی آسیب کا سایہ ہو گیا ہے ،جس کا ذکر ڈرتے ڈرتے منیر نیازی نے بھی شعر میں کر دیاہے:
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر نے ہے اور سفر آہستہ آہستہ

خان صاحب کیا آپ کو ایک لمحے کے لئے بھی احساس نہیں ہو رہا کہ آپ جس تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے ، وہ اس دن ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی ، جس دن آپ نواز شریف کی حکومت کے خلاف دھرنہ دینے اسلام آباد جا بیٹھے تھے ۔ ۔کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ بھی ملک کے سفر کو آہستہ کر نے والا ایک پرزہ بن کر رہ گئے ہیں ؟
آپ نے پڑھا ہو گا کہ قائد اعظم کے بعد خواجہ ناظم الدین ایک بنگالی ، گورنر جنرل تھے ، انہیں ایک سول سرونٹ غلام محمد نے اسمبلی توڑ کر ہٹا دیا اور ان کی جگہ لے لی تھی اور پھر اسکندر مرز۔۔ ڈیفنس سیکرٹری ، فنانس منسٹر ۔۔چوہدری محمد علی ،ایوب خان ، ان سب نے کہا محمد علی بوگرہ ، جو واشٹنگٹن میں سفیر تھے اور وزیرِ اعظم بنا دئے گئے تھے ، کہ انہیں مہلت دی جائے ۔ توغلام محمد نے فالج ذدہ منہ سے تھوک اڑاتے ہو ئے دو کاغذ ایوب خان کے حوالے کئے تھے کہ نیا آئین تین مہینہ میں بنایا جائے اور ساتھ ہی ایوب خان کو ڈیفنس منسٹڑ بنا دیا گیا ۔ بیوروکریسی نے ملٹری کے سپرد قائد اعظم کا جمہوری خواب کیا اور پہلی دفعہ کسی ملٹری مین کو سیاسی عہدہ مل گیا ۔ سکندر مرزا وزیرِ داخلہ بن گئے تھے ۔ پھراس کے بعد کیا ہوا،غلام محمد کی جگہ اسکندر مرزا اور بوگرہ کو واپس واشنگٹن بھیج دیا گیا ۔ چوہدری محمد علی جو فنانس منسٹڑ تھے انہیں وزیر اعظم بنا دیا گیا ۔ جنرل ایوب ڈیفنس منسٹڑ ہی رہے،( جب وہ انڈین آرمی میں تھے تو سوچتے تھے کہ کیا کبھی وہ بر گیڈیئر کے عہدے تک بھی پہنچ پائیں گے اور بعد میں وہ چیف ماشل لاء ڈکٹیٹر بنے اور کیا کیا نہیں بنے ۔)آرمی چیف اور کیبنٹ کے مختار کل بنا دئے گئے ۔ پھر شہید سہروردی آئے ،انہوں نے ری پبلکن سے چلا کے پوچھا مجھے آپ لوگوں کی سپورٹ ہے بھی کہ نہیں ؟پھر ٹیکنو کریٹ ،آئی آئی چندیگڑ آئے ، ۲ مہینے میں فارغ ۔۔۔پھر وزیر اعظم فیروز خان نون ۔۔۔نئی نسل کو ان تماشوں کے بارے میں بتایا کریں آخر اتنا کچھ تو بتاتے رہتے ہیں ۔خیران سب کھیل تماشوں کے بعد اکتوبر 1958میں پہلا مارشل لا لگ گیا ۔۔ اورملک کا پہلا الیکشن ہو نے سے پہلے ہی پہلا آئین بنا اور ٹوٹ بھی گیا اور جھولی میں آپڑا ماشل لا ء ۔۔پوسٹ کلونیل نے یہ آسیب ہمیں تحفے میں دیا تھا یا ہماری جنیٹکس نے ؟

1953 -1958تک میوزیکل چئیر کی گیم جاری رہی ۔۔۔۔سیاسی رقابتیں ، سول سرونٹ کی حکومت پر کنٹرول رکھنے کی قدرتی خواہشیں ۔۔جنرل شیر علی پٹوڈی فارغ ،جنرل موسی کو اس کی جگہ آرمی چیف بنا دیا اورایوب خان نے کہا : “آرمی۔۔ وفادار ، فرض شناس ،محبِ وطن اور سول اتھارٹی کے آگے جواب دہ ہے ۔”مگر یہ آخری لائن کبھی بھی عملی شکل میں ہمارے سامنے نہیں آسکی ۔اور محب وطن ہو نے کا اعزا اپنے علاوہ ، فوج نے کسی کے پاس رہنے نہ دیا ۔
حالانکہ فوج نے سول حکومت کی پہلی نافرمانی ، قائد اعظم کے زمانے میں ہی کر دی تھی ۔ اکتوبر 1947میں جب انڈین آرمی نے کشمیر پر حملہ کر دیا تو جناح لاہور آئے اور، فوج کو کشمیر میں داخل ہو نے کا حکم دیا ، فوج کے چیف جنرل گریسی نے حکم ماننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کشمیر کے مہاراجہ انے اپنی مر ضی سے انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیا ہے ۔ ۔۔اسی لئے بعد میں قائد اعظم نے کوئٹہ سٹاف کالج کے آفیسرز سے خطاب کرتے ہو ئے اس بات پر زور دیا کہ فوج ، سیاسی حکومت کے حکم کی تابع ہو تی ہے ۔ ۔۔مگر یہ بات کس نے سنی ؟ قائد اعظم کے ہر فرمان کی طرح یہ فرمان بھی فریم کے اندر یا حلف میں زندہ رہ گیا ہے ۔

1940-1947تک عام لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور دوسری طرف مسلمان سول سرونٹ اور انڈین آرمی میں مسلمان آفیسرز ، تیل کی دھار دیکھ رہے تھے ۔ وہ اپنی وفاداریاں بالکل پاکستان کے ساتھ ظاہر نہیں کر رہے تھے ۔ اور جب روانگی کی ویگن تیار ہو گئی تو بھاگ کر آخری لمحات میں اس پر چڑھ کر نہ صرف بیٹھ گئے بلکہ خون اور پسینہ بہانے والے عام لوگوں کو اس ویگن سے دھکے مار مار کر گرانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔ اور آج تک یہی کر رہے ہیں ۔
بات صرف معاشی ترقی وہ بھی امریکی امداد اور اس کے بدلے ملک کا کیا کیا حصہ گروی رکھ دیا جاتا ہے ،ایسی ترقی ، ایوب دور میں بھی ہو ئی تھی ۔ لیکن جانتے ہیں فاطمہ جناح اپنے ناتواں وجود کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لئے پو رے ملک میں دورے کرتی پھر رہی تھیں ۔80000 لوگوں کو ووٹ کا حق دے کر بنیادی جمہوریت اور بعد میں اسکندر مرزا کی کنڑولڈ جمہوریت ۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ابھی تک اتنے سال گذرنے کے بعد ، بھٹو کی پھانسی لگ جانے کے بعد ، ضیاالحق کی بدترین آمریت کے دور کے بعد بے نظیر اور نواز شریف کی میوزیکل چئیر کے بعد ، پھر سے مشرف کا مارشل لا ء ، زرادری کی جمہوریت کھپے، نواز شریف کی پھر سے باری ، ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں اسکندر مرزا کی کنڑولڈ جمہوریت اور ایوب خان کی بنیادی جمہوریت تھی ۔

خان صاحب !! زیادہ مت پڑھیں ، کیونکہ پڑھنے کی عادت تو ہمارے میں ہے نہیں بس پرانے زمانے کے کچھ باضمیر صحافیوں کے کالم کبھی کبھار دیکھ لیا کریں۔۔ جنہیں پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جن صحافیوں نے آمریت کے خلاف آوازیں اٹھا کر اپنی پیٹھوں پر کوڑے کھائے تھے ان کی اولادیں آج اتنی سمجھدار ہو گئی ہیں جتنا مفتی محمودکا بچہ فضل الر حمن ہو چکا ہے ۔۔ کسی باضمیر بہادر صحافی کا بے ضمیر اور لوٹا لفافہ بچہ دیکھ کر انسان سوچتا ہے شکر ہے باپ ایسی اولاد کے کرتوت دیکھنے سے پہلے ہی دنیا سے چلا گیا ۔۔
خان صاحب !! میں کہہ یہ رہی تھی اس دور کے کالموں سے ہی اندازہ لگا لیں کہ اس وقت بھی سب سیاست دان آپس میں ایسے ہی گھتم گھتا تھے ۔ خان صاحب آپ یہ تو جانتے ہی ہو نگے کہ ایوب خان ،پہلا مارشل لا ڈکیٹیٹر،اپنے گھر سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے بعد ہی گیا تھا ۔ جب ایسٹ اور ویسٹ ، لیفٹ اور رائٹ سب مل گئے تھے ۔ یہ طبقاتی فرق ، تعصب کی لہر ، زبان کے مسئلے ، ناانصافی ۔۔سب کے باوجود سب ایک جگہ اکھٹے ہو کر اس آمر کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے ۔ فاطمہ جناح وزیر اعظم کے لئے اپوزیشن کی سب جماعتوں کی مشترکہ چوائس تھیں ، ۔ انہیں غدارکہہ دیا گیا ۔۔ سوچیں جب قائد اعظم کی بہن کو یہ کہا جا سکتا ہے تو کس کو کب کیا نہیں کہا جا سکتا ۔۔خان صاحب آپ فرشتے نہیں ہیں ۔ کل کو آپ یہودی کے ایجنٹ بن کر اسلامی ریاست کے جوتوں کی نوک پر بھی ہو سکتے ہیں ۔ آج نواز ، زرادری کی مالی کرپشن میں عدالتیں میدان میں اتر آئی ہیں توآپ کی کرپشن میں شرعی عدالتیں نافذ ہو تے دیر نہیں لگے گی۔۔ زنا کی سزا سنگساری ، یہ فتوی سارے مولوی دیں گے ، یہودیوں کا ایجنٹ کہہ کر جس دن پہلا پتھر کسی مولوی کی طرف سے آپ کے سر پر آپڑ اتو سمجھ جائیے گا کہ یہ مولوی نہیں وہی” آسیب” ہے جو آپ سے پہلے آنے والے آپ ہی کی طرح کے کرشماتی لیڈروں کو کھا گیا ہے ۔۔۔

پاکستان کی سالمیت یا اسلام خطرے میں ۔۔ ان دو نعروں سے بچ کر رہیں ۔۔ مگر کیسے بچ سکتے ہیں اور کتنا کو بچیں گے؟ ۔۔ اس لئے جس راہ پر چل کر آپ نے لیڈری چمکانے کا فیصلہ کیا ہے اس کی منزل وہ نہیں جس کا آپ خواب دیکھ اور لوگوں کو دکھا رہے ہیں۔
میں جانتی ہوں یہ فیصلہ آپ نے تھک ہا ر کر کیا ہے ورنہ آپ نے تو چند سال پہلے خود ہی بتایا تھا کہ ، اسٹیبلیشمنٹ پتلیاں نچواتی ہے ۔۔ مبارک ہو ، آپ نے پتلی تماشے کا حصہ بننے کا فیصلہ انتہائی جوش اور ہوش میں کیا ہے اوراسلام آپ پو رے کا پورا گھر اٹھا کر لے آئے ہیں ۔ اور اب ” انہیں “کسی مولوی کے فتوی کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔۔آپ کا تو کام گھر میں تمام ہو جائے گا ۔ ماشاللہ فتوؤں کی ذاتی فیکٹری آپ گھر میں ہی لگا چکے ہی ۔ بلکہ آپ تو اب فتوے ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں ۔ ۔۔
ملٹری بھی فواد چوہدری اور شیخ رشیدکی شکل میں آپ کی شہہ رگ سے بھی ز  یادہ قریب ہے۔پیر پگاڑا تو برملا کہتے تھے کہ میں جی ایچ کیو کا بندہ ہوں ۔۔آج کل کے حضرات نہ بھی کہیں تو کھلی آنکھوں سے سب نظر آجاتا ہے لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ ہم جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں ۔ اور آپ نے جب دھرنہ دیا تھا ، تب ہی پتہ چل گیا تھا کہ آپ نے بھی جان بوجھ کر آنکھیں بند کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنے آپ کو اس طاقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو چاہے تو خدا بنا دے چاہے تو شیطان ۔۔

خان صاحب یاد رکھیں یہ بھنگ والے لڈو ہیں ۔۔ آپ کھا تو بہت شوق سے رہے ہیں ۔۔ ہر کوئی بڑے شوق سے کھا تا ہو گا ۔۔ مگر یہ رسک ذہن میں رکھیں کہ یہ بھنگ لڑ بھی جاتی ہے ۔۔ اور معدہ الٹ دیتی ہے ۔۔ تب کی تیاری ہے ؟
انسانی جبلت ہے کہ وہ عبرت نہیں پکڑتا جب تک خود ان حالات سے نہیں گذرتا ۔۔مثال کے طور پر کسی “بے وفا مرد” کی” دوسری عورت” ، جب اس کی” پہلی” کو دھوکہ دے رہی ہو تی ہے تو بھول جاتی ہے کہ یہ مرد کل کو کسی “تیسری” کی خاطر اس کے ساتھ بھی یہی سلو ک کر ے گا ۔۔ اس وقت اسے ہو ش آتی ہے جب وہ” وقت” آچکا ہو تا ہے لیکن تب کچھ نہیں ہو سکتا ہو تا تب تو بس پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں رہتا
۔ خان صاحب اگر آپ اپنے گرد غور سے دیکھیں تو آپ بھی تین میمز( یہ انگریزی کی میم کی جمع نہیں، آپ شرمانے ہی نہ لگ جائیں ، یہ اردو والے حرف میم کی جمع ہے ) میں پھنسے کھڑے ہیں۔ ۔۔باقیوں سے مختلف انجام کی امید نہ رکھیں اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو کیوں سوچتے ہیں آپ میں کو ن سے سر خاب کے پر لگے ہیں ؟ کہ آپ ان تین ایمز ، ملٹری ، میڈیا اور ملانی ( باقیوں کو ملا ،نے مروایا تھا ، آپ کے کیس میں آپ کی عورت والی کمزور ی کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک ملانی آپ پر مسلط کر دی گئی ہے ) ۔۔سے بچ کر کچھ کر سکتے ہیں ؟
ملٹری کی طرح ملا بھی ایک خطرناک آسیب ہے ۔اس کی کہانی بھی سن لیجئے :

پاکستان بننے سے پہلے مولانا مودودی نیوٹرل تھے ، مگر انہیں قائد اور ان کے ساتھیوں کی زبان اور کپڑوں پر اعتراض رہتا تھا ۔ کہ اس حلیے کے ساتھ مسلمانوں کی ریاست کی بات کر تے ہیں ؟ ہیں جی ؟ مولونا حسین احمد مدنی ، جمعیت العلماء ہند ، نے تو قائد کو” کافر اعظم” کہا تھا ۔ ۔۔سب مولوی حضرات آخری دم تک شور مچاتے ،پاکستان کے خلاف فتوی دیتے رہے اور جب سب ہو گیا تو آکر پاکستان کے ختنے کر کے اسے سلام قبول کروانے کے درپے ہو گئے ۔ ایک مولونا آزاد ہی تھے جو وہیں رہ گئے مگر جب بھی کوئی انسانیت پر آفت ٹوٹی وہ اپنے منبر سے چلائے دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ نہ کرو ۔۔۔خان صاحب تھوڑا اور آگے کھسک آئیں،ایوب کے دور کے نعروں کو یاد کریں تو گونج ملے گی : “سوشلزم مردہ باد اور اسلام زندہ باد۔”مطلب تھا روس اور چائنا دفعہ دور اور امریکہ زندہ باد ۔۔ بغداد پیکٹ اور سیٹومیں شامل ہو کر کمیونزم کے خلاف باقاعدہ جہاد ہی کا تو اعلان تھا ۔ سوشلسٹ کو غدار کہہ کر جیل میں بند کر دیا جاتا تھا ۔۔ لفٹ اور رائٹ کی ایسی تقسیم کر دای کہ وہ آپس میں ہی جھگڑتے رہے ۔1954 میںآپ کے ملک کا پہلے آئین بننے سے پہلے آپ کو امریکہ کی پہلی امداد مل بھی چکی تھی ۔فوج امداد لیتی اور ساتھ میں ملا کو بانٹتی ہے اور پھر دونوں مل کر آواز اٹھانے والوں کو غداری اور کفر کے فتوے دیتے ہیں اور اب پاکستان کا میڈیا ان کی ہاں میں ہاں ملانے کا معاوضہ کماتا اور اربوں کھربوں میں سب کھیلتے ہیں ۔۔

ایک بات خان صاحب آپ کے جیالوں کے لئے ،کہ فوج کا ملکی بجٹ میں تین چوتھائی حصہ تو ہو تا ہی تھا جو باہر سے دفاعی امداد کے نام پر رقم آتی تھی ، وہ بھی اتنی ہو تی تھی کہ ایک دفعہ کسی امریکی سیکرٹری کو یہ کہنا پڑا کہ جتنی دفاعی فنڈ کے نام پر ہم پاکستان کی امداد کرتے ہیں ، اس حساب سے تو ان کے اپنے مالیاتی بجٹ میں دفاع کا خرچہ ہو نا ہی نہیں چاہیے ۔۔ خیر تب بھی سوشلزم کو کفر کے ساتھ جوڑ کر اسلام کو زندہ کیا گیا ۔۔ سوشلزم جو مساوات اور قدرتی وسائل پر تمام انسانوں کے مساوی حقوق کی بات کرتا ہے ، سوچا جائے تو اسلام کی مساوات اور انصاف کی تعلیمات کے قریب ہے ، اسے روس کا کفر اور اسلام کے خلاف سازش قرار دے دیا گیا ۔ایک سیکنڈ سے پہلے اسلام خطرے میں آچکا تھا ۔ شاعروں ادیبوں تک کو معاف نہ کیا جاتا اس دور میں لوگوں نے گھروں میں پڑی اپنے نوجوان بچوں کی ذاتی ڈائریاں تک جلا دیں ، جن میں سے کچھ اس قسم کے کفر کی مہک بھی اٹھنے کا اندیشہ ہو تا ۔۔ایوب صاحب آئے بلیک مارکیٹنگ اور سمگلنگ کی روک تھام کے لئے تھے ، غریب بچارے تب بھی خوش ہو ئے کہ نجات دہندہ آگیا ہے ، لیکن جاتے ہو ئے بائیس خاندانوں والا پاکستان چھوڑ کر گئے اور آنے کے بعدہی عقل کل بن گئے ، جیسا وعدہ ان سے جنرل غلام محمد نے تھوک کی پچکاریوں کے درمیان غیر مبہم الفاظ میں کیا تھا(ماشاللہ سے ان سے بولا بھی ٹھیک سے نہیں جا تا تھا ۔)،کیسے کیسے مسخرے پاکستان کی تجرباتی لیبارٹری میں بیٹھ کر تجربے کر گئے ہیں ۔۔

خان صاحب کبھی ہو سکے تو اپنے لاکھوں کروڑوں کے مجمعے کو موجودہ مخالفین کو گالیاں دینے کی بجائے یا چلیں وہ کام بھی کر لیں مگر اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ کے ان بھیا نک کرداروں سے بھی ملوا دیا کریں ۔۔ اگر آپ خود ان سب سے مل چکے ہوں ۔۔ شہید سہروردی جیسے لیڈر بھی ہمارے درمیان تھے جن سے نہ ہم نے وفا سیکھی ، نہ سیاسی تدبر اور نہ شعور ۔۔۔ خیر وقت ، جگہ ،سب میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں یہ سب رونے ایک ہی دفعہ رو دوں ۔ اور نہ جانے آپ یا آپ کے جیالے اس خط کو کبھی پڑھ بھی پائیں گے یا نہیں ۔۔ مگر لکھنا ، کہنا اور جو سچ مجھے تاریخ میں ملتا ہے اسے اپنے قاری تک کم از کم پہنچانا میرا فرض ہے ۔۔۔۔کیونکہ نہ مجھے عمران خان کے خلاف بولنے پر نواز شریف سے لفافہ لینے کا الزام لکھ سکتا ہے اور نہ نواز شریف اور باقی سیاست دانوں کی کرپشن پر انگلی اٹھانے سے پی ٹی آئی کی نادان نادیہ کا لیبل لگ سکتا ہے ۔۔ نہ میں فوج کی حقیقت لکھنے پر غدار کہلائی جا سکتی ہوں اور نہ ملا کی اصلیت کھولنے پر توہینِ مذہب کا پر چہ کٹ سکتا ہے ۔ اور نہ پاکستان میں بیٹھا جانبدار اور ون سائیڈیڈ میڈیا میرا کچھ بگاڑ سکتا ہے ۔۔ کیونکہ جو انسان کسی لالچ ، دھونس ، دھمکی میں نہیں آتا ، اور وہ ان چیزوں سے بالاتر ہو چکا ہو تا ہے وہ بے خوف بھی ہو جاتا ہے ۔لالچ مجھے ہے نہیں ۔ دھونس اور دھمکی ، کینڈا میں موجود ہو نے کی وجہ سے میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اس لئے میں اس وقت پاکستان میں بیٹھے ہو ئے ان ایماندار اور فر ض شناس لکھاریوں کے دل کی زبان بھی بن سکتی ہوں ، جو میری طرح کسی آزاد ملک میں سکون سے نہیں بیٹھے ہو ئے ۔

خیر خان صاحب ! جب بھٹو صاحب آئے توانہیں بھی اس ملائیت کی وجہ سے شراب پر پابندی اور جمعے کی چھٹی اور ایک خاص فرقے کو کافر قرار دینا پڑا ، یعنی جو چیزیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی انہیں وہ کر نا پڑیں ۔ خان صاحب !!آپ تو اب خود ملانی والے ہیں، جو ایک خواب کی بشارت کے زور پر آپ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں اور اسی خواب کی تعبیر کے بدلے آپ وزیر اعظم بننے ہی والے ہیں تو آپ سے ذیادہ کون خوابوں کی فضیلت کو سمجھتا ہو گا ۔1977میں ایک علامہ صاحب کو خواب آتا ہے کہ صرف ایک خاص فرقہ ہی پاکستان کو بچا سکتا ہے اور پھر اس خواب کی وجہ سے پاکستان میں فرقہ پرستی کا وہ جن باہر نکلا جس کا دھواں آج تک آنکھوں میں ایسے بھرا پڑا ہے کہ انسانیت کا چہرہ دھندلا گیا ہے ۔

پیرنی صاحبہ سے آپ کی شادی پر میں خاموش رہی ، ایک لفظ نہیں منہ سے نکلا کیونکہ یہ کہنے کو اسلام اور قانون کے مطابق چیز ہے ، لیکن سماج پر اس کے کیا اثرات ہیں ، ہم لوگ ابھی اتنے میچور نہیں ہو ئے کہ ایسی باتوں پر زیا دہ گہرائی سے سوچیں ، ایسے فیصلوں کے بچوں پر ، صرف آپ کے یا ان کے نہیں ،پو ری قوم کے بچوں پر کیا اثرات ہو نگے ۔ بچے ہمارا مستقبل ہو تے ہیں ۔ وہ ہمارے باغ کے پھول ہو تے ہیں اگر ہم انہیں قدموں میں روند کر اپنی ذات کے لئے ایسے فیصلے کرتے ہیں تو چاہے اس کی اجازت مذہب بھی دیتا ہو ، قانون بھی دیتا ہو ، لیکن میرے نزدیک انسانیت کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ،اس شادی سے آپ ایک ایسی لیگیسی اپنے پیچھے چھوڑ جائیں گے جو غیر اخلاقی تو نہیں مگر غیر انسانی ضرور ہے، سوئیے کہ اس کے بعد کسی بھی عمر کی شادی شدہ عورت کو خواب میں بشارت آسکتی ہے کہ وہ کسی بھی بڑے ملکی فائدے کے لئے کسی بھی من چاہے شخص کی خاطر طلا ق لے سکتی ہے ۔آپ کی شادی کے بعد کچھ منچلی عورتیں ایک ہی مرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے فرسودہ سسٹم پر غور و غوض کر رہی ہیں مانا کہ ساری دنیا کے غیر مردوں کا مشن پاکستان کی خدمت کر نے جیسا بڑا نہ ہو۔۔ مگر چھوٹے چھوٹے خواب تو ہو سکتے ہیں ؟ جیسے کہ پاکستان کے لئے کتاب لکھنا ، سکول بنانا، یتیم خانہ بنوانا ۔۔ کسی بھی وقت کوئی بھی عورت کوئی سا بھی خواب دیکھ کر اپنے شوہر ، بچوں اور گھر کو الوادع کہہ کر کسی بڑے چھوٹے مقصد کی تکمیل کے لئے کسی بھی صاحبِ خواب مرد سے نکاح کر سکتی ہے ۔ ایسی روایت ڈال کر ، آپ نے مذہب کے نام پر پہلے ہی ہلٹر بازی مچا دی ہے ۔ دوسری طرف پیروں کے مزاروں پر جا کر چومنا یا سجدہ ریز ہو جانا ، میرے جیسے دماغی لوگ جو” وجدان یا انٹیوشن ،کی حد تک تو ، کسی کے قائل ہو سکتے ہیں لیکن زندوں کو چھوڑ کر مردوں کو  کو چومنے یا خدا کو چھوڑ کر قبروں کو سجدہ کر نے کی کسی تو جیح کو نہیں سمجھ سکتے ۔

پہلے آپ نے جماعت اسلامی کی گود میں بھی بیٹھنے کی کوشش کی تھی وہاں سے بچے تو ملانی کی گود میں آگرے پلیز اپنے آپ کو پھونکوں ، ضعیف العتقادی ، تعویذوں ، انگوٹھیوں کے جال سے بچائیں ۔۔ خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھا منے کا حکم اسی لئے ہے کہ انسان جب سب سے ذیادہ مایوس ہو جاتا ہے تب ہی وہ ایسے کاموں کی طرف مائل ہو تا ہے ۔ آپ کے ایسے اقدام آپ کو ایک کمزور مسلمان ثابت کر رہے ہیں ۔ یاد رکھئے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں “مسلمانیت کی یہ کمزوری “کل کو آپ کے لئے پھانسی کا پھندہ بھی بن سکتی ہے ۔ یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ ایک “فرقے “کو کبھی آپ لوگ “کافر” کہہ کر” انسانیت اور پاکستانیت” کی فہرست سے نکالتے ہیں اور کبھی” انسانیت اور قومیت” کی بات کر نے لگ جاتے ہیں۔۔ آپ ان دونوں کے فرق کو جانتے تو ہو نگے ؟ خیر پاکستان میں غدار اور کافر بنتے دیر نہیں لگتی ۔۔ آپ کون سا دودھ کے دھلے ہیں ۔۔

بھٹو کے بعد ضیالحق صاحب تشریف لائے ۔ اب امریکہ کو افغانستان میں روس کے خلاف مجاہدوں کی کھیپ چاہیے تھی ۔ فوج نے دھڑا دھڑ امداد لینی شروع کی ، اور ملا نے اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر حسبِ معمول مسجد کے منبروں سے اسلام تازہ کیا ، اور جہاد کی فضلیتیں بیان ہو نے لگیں ۔ معصوم دل کے نوجوان افغان جہاد کی بھینٹ چڑھا دئے گئے ۔ مائیں اپنے بچوں کو روتی رہیں اور فوج ایک ہیرو بن کر لوگوں کے دلوں پر راج کر تی رہی ، ملا لوگوں میں جنت کی بشارتیں بانٹ کر خود کے لئے پجارو اور بڑے بڑے محلوں کی جنتیں خریدتے رہے ۔ کراچی میں مجاہدین کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم بھی بنا دی گئی ۔ اور مشرف کے زمانے میں یہی مجاہدین ایک دفعہ پھر سے ملا کے فتوی کے زور پر دہشت گرد قرار دئے جانے لگے ۔ کافر روس کو شکست دینے کے بعد مولوی جہاد کا جذبہ ان جنگلی طالبان سے واپس لینا بھول گئے ، نہ فوج کا حکم تھا اور نہ امریکہ کا ، تو وہ جنگلی پودے ، اپنا پیٹ پالنے کے لئے اسی جہاد کے راستے پر گامزن رہے۔اب جس نے بھی ان کی کمان تھام لی ، اسامہ آیا تو اس کے آگے اپنا جہاد بیچ دیا ۔۔ خود امریکہ پر آن پڑی تو عراق اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ جس طرح جنرل نیازی نے فوج کے بہادر جوانوں کو شرمساری کے لمحات عطا کئے تھے ، اسی طرح مشرف نے امریکہ کے آگے جھک کر اور اپنی زمین ان کو بیچ کر نہ صرف خود اپنے منہ پر کالک تھوپی بلکہ پاک فوج کے جوانوں کو لوگوں کی نظروں میں گرا ڈالا ۔وزیرستان ، امریکہ کے ڈرونز کی ذد میں رہنے لگا ۔۔
اور وہی ملا جو کل تک جہاد کی فضلیتیں بیان کر رہے تھے ۔ جہاد کو دہشت گردی کہنے لگے اور ان کو سزائے موت دینے کے حق میں فتوی دینے لگے ۔۔ اس زمانے میں نجانے کتنے معصوم جوان اندھے ڈرونز کی بھینٹ چڑھتے رہے اور اسے کولیٹرل ڈیمیج کہہ کر بس ایک ہلکا سا افسوس کر لیا جاتا تھا ۔۔ میڈیا خاموش ، ملٹری خاموش ، ملا کے فتوے جاری ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان !!یہ ٹرائیکا توڑ سکتے ہیں آپ ؟

اوہ ہاں ایک بات تو میں بھول ہی گئی کہ پاکستان پر تین ایم کے ساتھ ایک ایس بھی لگا ہوا ہے یعنی پاکستان کا مخفف ہم ایم ایم ایم ایس کر سکتے ہیں ۔” ایس” وہ والا نہیں جب بھٹو نے جو اندر سے ایک سوشلسٹ تھا مگر جسے اسلام کے لالے پڑ چکے تھے ، نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا یا تو کہا گیا اس سوشلزم کا” ایس” کیپٹل نہیں بلکہ سمال والا ہے ۔۔ یعنی چھوٹے “ایس “سے سوشلزم ۔یہ” ایس” ہے سول سروس کا ۔۔۔ اور 1940-1947تک عام لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور دوسری طرف مسلمان سول سرونٹس اور انڈین آرمی میں مسلمان آفیسرز ، تیل کی دھار دیکھ رہے تھے ۔ اور جب روانگی کی ویگن تیار ہو گئی تو بھاگ کر آخری لمحات میں اس پر چڑھ بیٹھے ، اور پھر جد و جہد کر نے والوں کے خون اور پیسے کو فراموش کر کے پاکستان پر اپنی اجارہ داری قائم کر نے کے چکر میں پڑ گئے اور بدقسمتی سے یہ وہ سکے تھے جن پر قائد اعظم اعتبار کرتے تھے ، نہ جانے کیوں قائد کو سیاسی سکوں پر ایسا اعتماد نہیں تھا ، یا شائد ان کی نفیس طبعیت سیاست دانوں کی انہی اوچھی حرکتوں ایک دوسرے کے خلاف کینہ رکھنا ، لڑنے جھگڑنا، مکر و فریب سے اوب کر انہوں نے سول سرونٹس کو ان پر نظر رکھنے کو کہا تھا ۔۔ اور انہوں نے ایسی نظر رکھی کہ آج تک یہ پاکستان کا ملک ہے اور دوسری ان کی نظر ، جو اس سے ہٹتی ہی نہیں ۔ ان کے الائنس اور جی حضوری کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ۔ یا ایک بات اور بھی ہو سکتی ہے کہ قائد اعظم کو بھی چونکہ انکار سننے کی عادت نہیں تھی ، اور خوشامد اور دوغلے پن میں ایک سول سروس کا بھلا کون مقابلہ کر سکتا ہے ، ایک سول سرونٹ دوسرے سے شکل و صورت میں تو مختلف ہو سکتا ہے مگر ان سب کی میڈ میں دوغلہ پن اور جی
حضوری ایسی کوٹ کوٹ کر بھری ہو تی ہے شائد قائد جیسا مدبر اور سمجھدار انسان ان کے جھانسے میں آگیاتھا۔ ان سرکاری افسروں کی سوچ ان کے مفاد ات سے آگے نہیں جاتی ۔ توشروع میں ہی یہ ملک سول سرونٹس کے ہتھے چڑھ گیا ۔ جو وفاداریاں بدلنے کے ماہر تھے ، ایک کے بعد دوسری حکومت گرتی گئی ۔۔ ۔۔۔اور پہلے مارشل لاء کا اخلاقی جواز سیاست دانوں کی انہی نا عاقبت اندیشیوں ، سول سرونٹس کی سازشوں کے جال ، آرمی کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے ممکن ہوا اور ججوں کے نظریے ضرورت نے اسے قانونی جواز بھی پیش کر دیا تھا ۔۔۔

خان صاحب !! ایک خط میں اس سےزیادہ میں شور نہیں مچا سکتی ۔۔ امید ہے آپ سمجھ جائیں گے کہ آپ کو وہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیئے جو بے نظیر ، نواز شریف،زرداری اور ان سے پہلے بھٹو صاحب کر چکے ہیں ۔ جس طرح کرپشن کے ریکارڈ سیاست دان توڑتے ہیں بالکل اسی طرح فوج کے اعلی عہدے دار بہتی گنگا میں ہاتھ ڈبوئے بیٹھے ہیں ۔شریف ہو یا بھٹو خاندان ہو جس طرح ان کے آمرانہ رویے اور کر پشن نامنظور ہے بالکل اسی طرح فوج کے اعلی عہدے داروں کا تکبر ، سیولین کو آج تک بلڈی ہی سمجھنا ، عوام کی دولت پر عیش کرنا ، یہ سب بھی اتنا ہی ناقابلِ قبول ہے ۔۔ لوگ کہتے ہیں یہ ملک فوج کی وجہ سے بچا ہوا ہے میں کہتی ہوں یہ ملک ہم نے جتنا گنوایا ہے وہ فوج کی اعلی کمان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے گنوایا ہے ۔ایوب خان کا یہ بیج کہ محب وطن صرف فوج ہے ۔۔ خان صاحب اس گمان کواپنے کارکنون کے ذہن سے نکال دیں ورنہ کل کو آپ کو بھی بلڈی سیولین کہہ کر غدار یا کافر کا فتوی مل جائے گا ۔۔ اور یہ بھولے بھالے عوام محب وطنی اور اسلام کے پیچھے گردنیں کاٹنے کو تیار پھرتے ہیں ۔۔ نہ انہوں نے پاکستان کا آگے لے جانے کے لئے کوئی عملی کام کر نے کا سوچنا ہے اور نہ کسی سیاست دان یا فوج نے ۔۔ نہ ملا نے نہ سول سرونٹ نے ، نہ میڈیا نے نہ کسی جاگیردار نے ۔۔ بھٹو کی طرح لوگ آپ کو عوام کی آواز سمجھ رہے ہیں ۔۔ ان کے لئے ترقیاتی منصوبے بنانے سے پہلے ان کی ذہنی نشو ونما کا تو انتظام کریں ۔۔ ورنہ ترقیاتی کام تو ایوب خان بھی کر گیا تھا اور سب ہی کچھ نہ کچھ کر جاتے ہیں ۔۔کرپٹ سے کرپٹ حکمران بھی کرجاتے ہیں ۔۔

اپنے چاہنے والوں کی سوچ میں تبدیلی لے آئیں گے تو میں مانوں گی کہ خان صاحب کا تبدیلی کا نعرہ سچ تھا ۔ خان صاحب اس ایم کے ٹرائیکا کو ایس سمیت توڑکر مجھے خود مختار بن کر دکھائیں تو میں بھی اتنے ہی جوش سے وہ سارے ترانے گاؤں گی جو آج کل آپ کے جلسوں میں بڑے جوش و خروش سے بج رہے ہیں ۔۔ترانوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو گرمانے کا کام بہت پرانا ہے ۔جھوٹی شونزم نہیں سچا کام دکھا جائیں ۔۔۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔
ورنہ وظیفے کی پھونکوں سے یہ چراغ نہ بجھائے جائیں گے نہ نئے چراغ جلائیں جائیں گے ۔۔۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”کپتان کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔۔روبینہ فیصل

  1. میڈم آپ نے تاریخ پاکستان کی الجھی ہوئی حقیقتوں کا پردہ کچھ اس طرح وا کیا کہ ہر ہر موڑ پر دل کو خون کے آنسوں رونےپر مجبور کردیا۔سب کچھ سمجھنے اور ادراک کے باوجود یہ بات سمجھنے سے قاری عاجز ہے کہ عمران خان آپ کے لئے آئڈیل ہے یا اپنی بات کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئے اسے استعارے کے طور پر لے رہی ہیں ۔اگر آپ اسے ایک آئیڈیل اور پاکستان کی آخری امید سمجھ رہی ہیں تو میڈم براہ کرم ریویو فرمائیں اور اگر صرف ایک استعارہ اور مثال کے طور پر ہے تو بالکل بجا اور مناسب ہے۔باقی آپ نے باربار موصوف کا موزنہ بھٹو سے کیا ہے توحیرانی ہوئی کہ جس شخص کے متعلق آپ نے خود فرمایا ہے کہ اس کی مستقبل بینی اتنی تیز تھی کہ جسے یہ بھی پتا تھا کہ مجھے قتل بھی کر دیا جائے گا اور میرے قاتلوں کو بھی ہاتھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور ادھر یہ حالت ہے کہ اپنی عائلی زندگیاں گزارنے کے لئے کیسے کیسے فیصلے کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *