کراچی کی کروٹ بدلتی سیاست ۔۔۔۔محمد ارشد قریشی

کراچی میں سیاست ہر  تیس چالیس  سال بعد کروٹ ضرور لیتی ہے  اور اس مرتبہ کراچی کی سیاست پھر کروٹ لینے کو تیار ہے ۔ کراچی کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں بہت سی حیران کن تبدیلیاں مسلسل دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ ماضی کے کئی عام انتخابات اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں  پاکستان کی تیسری بڑی اور سندھ کی دوسری بڑی جب کہ سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم جو کئی سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گذررہی ہے اور وہ سلسلہ اب تک تھم کے نہیں دیا۔بانی ایم  کیو ایم سے علیحدگی اور پھر کئی گروپوں میں بٹنا پھر اکھٹے ہوجانا  پاک سرزمین   پارٹی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کا اعلان کرنا   اور پھر علیحدگی اختیار کرنا یہ وہ چیزیں ہیں جس نے  نہ صرف اس تنظیم کو بری طرح متاثر کیا بلکہ کارکنوں کے لیئے بھی  ذہنی کوفت اور پریشانی کا باعث بنی  رہیں ۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی انتخابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں  جب کہ  ماضی میں اسی شہر میں ایم کیو ایم  کی  سیاسی گہما گہمی عروج پہ نظر آتی تھیں ۔جناح گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے میں انتخابات میں حصہ لینے والوں کا تعارف کرایا جاتا تھا اور اس کے بعد تمام شہر میں انتخابی مہم زور پکڑ جاتی تھی ۔  ماضی کی بنسبت اس مرتبہ صورت حال بالکل برعکس ہے ۔ ایم کیوایم  پاکستان  کے رہنما  کی جانب سے اس کی وجہ ان کے جھنڈوں، بینروں اور اشتہارات کا شہر سے اتارا جانا ہے یا پھر اس کا ذمہ دار پاک سرزمین پارٹی  اور سندھ حکمت کو بھی ٹھرایا جارہا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ایک بڑی وجہ فنڈ کا نہ ہونا  بھی  ہے ۔ا یم کیوایم  لندن سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے پاس کوئی فنڈ نہیں رہا    اور نا ہی ایم کیو ایم پاکستان نے کوئی چندہ مہم   شروع کی  جب کہ ماضی کے برعکس  ایم کیو ایم  لندن سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم  پاکستان نے اپنے ہمدردوں کو  زکوۃ  ، فطرہ اور قربانی کی کھالیں  دوسری فلاحی تنظیموں کو دینے کا مشورہ دیا اور شاید یہی بڑی وجہ ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم شروع نہیں کرسکے ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پچھلے انتخابات میں ایم کیو ایم کو زیادہ    انتخابی مہم پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی  اور ان کو اپنے ووٹ بینک پر مکمل اعتماد ہوتا تھا  جب کہ   آنے والے انتخابات میں جو کہ ایم کیوایم پاکستان کے پہلے انتخابات ہیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اس کے سامنے   ہمیشہ کی طرح روایتی سیاسی حریف نہیں ہیں  بلکہ پاکستان تحریک انصاف مزید طاقت بن کر سامنا کرنے کو تیار ہے جب کہ پاک سرزمین پارٹی  بھی کہیں  میدان خالی چھوڑنے کو تیار نہیں پہلی دفعہ تحریک لبیک پاکستان بھی ایک   طاقت بن کے سامنے آئی ہے  ۔ جب کہ  شہر کے کئی مسائل پہ جن میں شناختی  کارڈ کے حصول میں پریشانیاں، کے الیکٹرک  کی جانب سے بے تحاشہ لوڈشیڈنگ یا زائد بلنگ، گذشتہ سالوں میں شہر میں شدید بارشوں میں الخدمت کی جانب سے شہریوں کو مفت بس سروس کی فراہمی  جیسے معاملات پر جماعت اسلامی کے امیدواروں  کی کاوشیں بھی شہریوں کے ذہنوں میں ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان،  تحریک انصاف، پاک سرزمین پارٹی، مسلم لیگ نون سمیت کئی جماعتیں کراچی کو فتح کرنے کا دعویٰ تو کررہی ہیں لیکن ان کی انتخابی مہم گلی محلوں کے بجائے سوشل میڈیا  پر زور  و شور سے نظر آرہی ہے، کراچی میں کئی کچی آبادیاں موجود ہیں جہاں گلی محلوں میں انتخابی مہم زیادہ پر اثر ثابت ہوتی ہے یوں کہہ لیں جو گلی محلوں میں  جاکر انتخابی مہم چلائے گا اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہونگے ،اب تک کی صورتحال میں ایسا کرتی کوئی تنظیم نظر آرہی ہے تو وہ تحریک لبیک پاکستان ہے جس کی مقبولیت میں اضافہ اسلام آباد دھرنے  کے بعد ہوا اور یہ پہلی  بار انتخابات کے لیے سیاسی میدان میں اتری ہے۔  ہر نئے دن کے ساتھ سیاسی منظر بدلتا ہے  دیکھنا  ہوگا کہ کراچی کے لوگ کس کے سر پہ تاج  رکھتے ہیں ۔ کراچی کے لوگوں کے لیئے ایک بات بہت مشہور ہے  کراچی کا ووٹر سب کے جلسے میں جاتا ہے  دیکھتا ہے غور کرتا ہے اور سوچتا ہے  پھر فیصلہ پولنگ بوتھ کے اندر پہنچ کر ہی کرتا ہے ، دیکھنا  ہوگا کہ اب کراچی کا ووٹر کیا فیصلہ کرتا ہے ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اور میم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ،ہم سماج ڈیجیٹل میڈیا گروپ کے سربراہ اور پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کےنائب صدر ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply