بینکاری نظام یا استحصالی نظام؟ (آخری)

خیر یو بی ایل کے کار لیزنگ ایجنٹ یا آفیسر کے جھوٹ بولنے کے بعد ہمارا اعتبار اُٹھ گیا اور ہم نے عسکری بینک سے رجوع کرنے کا سوچا۔ عسکری بینک رابطہ کیا تو کہا گیا کہ آپکو گاڑی زیادہ سے زیادہ ایک سے دوہفتے میں مل جائے گی تاہم پہلے وہاں بھی وہی یو بی ایل والا جھوٹ سننے کو ملا کہ پچاس فیصد سے ڈاون پیمنٹ لینا بینک کی پالیسی کے خلاف ہے (کیوں نہیں ہو سکتی؟ کوئی پتہ نہیں) لیکن پھر جب اپنا تجربہ بتایا تو وہ بھی مان گئے۔ عسکری بینک کے چناو کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بعض رفقا کے نزدیک یہ زیادہ بہتر شرائط پر کار لوننگ کر رہا ہے۔ تاہم رفقا کے مشورے کے علاوہ اسے ترجیح دینے کی دو اور وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ بیگم کا پرانا اکاونٹ وہیں تھا اور دوسرا بیگم کا ننھیال جو پاکستان کا ایک معروف اور قابل احترام فوجی خاندان ہے۔ خیر شدید گرمی میں عسکری بینک پہنچے تو بتایا گیا کہ انکا اکاونٹ ڈورمینٹ ہو چکا ہے اور اسے ری ایکٹویٹ کروانے کے لیے پہلے بینک میں ایک ہزار روپے جمع کروانے ہونگے وہ بھلے آپ فوراً واپس نکلوا لیجیے گا۔ کیونکہ گاڑی کسی دوسری برانچ سے لینا تھی جہاں ہماری واقفیت تھی۔
سو جلدی سے پیسے جمع کروائے اور ساتھ ہی چیک بھی لکھ دیا کہ ہزار روپے واپس نکال دیں۔ جب کیشئیر سے پیسے نکالنے کو کہا تو بولا آپکا اکاونٹ کافی عرصہ سے ڈورمینٹ تھا اور اس میں سے سات سو روپے سروس چارجز وغیرہ کے کاٹ لیے گئے ہیں۔ یعنی اگر ہم تین سال پرانے اکاونٹ کو نہ چھیڑتے تو بہتر تھا۔ یہ بینک والوں کا ہی مشورہ تھا کہ ہم پرانا اکاونٹ ہی ری ایکٹیویٹ کروا لیں۔ خیر دوبارہ اے ٹی ایم سے دو ہزار نکالے اور تین سو جو بچے تھے وہ حاصل کیے۔ یہ تمام فارمیلیٹیز پوری کرنے کے تیسرے روز کے بعد عسکری بینک کی کار لیزنگ والے بندے کا فون آیا کہ آپ کو ایک بار ہماری برانچ آنا پڑے گا، آپکا نیا اکاونٹ کھولنا ہے۔ پوچھا کہ نیا کیوں کھولنا پڑے گا؟ جواب ملا اس اکاونٹ پر بینک کار لیزنگ نہیں کرتا۔ یہ سن کر میں بھنا گیا اور کہا کہ جب آپ پرانا اکاونٹ ری ایکٹیویٹ کروا رہے تھے تب کیا آپکو یہ بات معلوم نہ تھی، میں انھیں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ آپ پرانے اکاونٹ کو چھوڑیں، مدت ہوئی وہ استعمال نہیں ہوا، آپ نیا اکاونٹ کھول لیں۔ خیر اس بات کا اسکے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ یہ بھی پاکستانی بینکنگ سسٹم کا عجیب تماشہ ہے کہ آپ نے اگر ایک بار کرنٹ اکاونٹ اوپن کروا لیا تو اسے سیونگ میں تبدیل نہیں کر سکتے اور اگر سیونگ اکاونٹ کھلوا لیا تو اسے کرنٹ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
بہر حال ہم اس پر بھی چپ رہے، اور آخر کر بھی کیا سکتے تھے، ایک تو سرمایہ داری نظام کا بینک اوپر سے اس پر وقار کا ٹھپہ۔ کار لیزنگ والے بینک ایجنٹ کا فون آیا کہ ہمارے پاس موبائل اکاونٹ کی سہولت ہے، آپکے گھر کے قریب جو بھی عسکری بینک کی برانچ ہے وہیں اکاونٹ کھول دیتے ہیں۔ چنانچہ بیگم کو لے کر قریبی بینک پہنچا اور وہ ایجنٹ بھی ساتھ ہو لیا۔ بینک پہنچ کر یاد نہیں کتنی جگہوں پر دستخط کیے، انگوٹھے لگائے اور نیا اکاونٹ اوپن کیا اور اسکے بعد پھر کار لیزنگ والے کاغذات پر جانے کتنی جگہوں پر سائن کروائے گئے اور انگوٹھے لگوائے گئے۔ نظام کی بد دیانتی آپکو ہر جگہ محسوس ہوتی ہے۔
اس پوسٹ ماڈرن دور میں جب دس انگلیوں کے نشان والا کمپیوٹر آئزڈ شناختی کارڈ موجود ہے، اکاونٹ کیساتھ بائیو میٹرک تصدیق ہو چکی تو کاغذات پر اتنی بار انگوٹھا لگوانے اور سائن کروانے کے عمل کو بد دیانتی اور پالیسی سازوں کے ذہنی شعوری طور پر کنگلے پن کے سوا کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اسکے علاوہ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز وغیرہ کو دانستہ طور پر اتنا لمبا رکھا جاتا ہے کہ ننانوے فیصد لوگ اسے بن پڑھے سائن کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مطلب سیدھی سیدھی چار پانچ مختصر جملوں کی شرائط ہوں جنھیں ہر کوئی پڑھ کر سائن کرے۔ یقیناً یہ بھی بینکوں کی بد دیانتی، چالاکی اور مکاری ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کا عہدہ بہت قابل احترام سمجھا جاتا ہے، مگر مجھے اسکے قابل احترام ہونے کی آج تک اسکے علاوہ کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی کہ قائد کی تصویر والے نوٹ کیساتھ اسکے دستخط ہوتے ہیں۔ میری نظر میں گورنر سٹیٹ بینک کی کوئی اہمیت اور عزت نہیں کیونکہ یہ صرف ریاست اور سرمایہ دار کے مفادات کو سروو کرنے کے لیے ہے۔ اس کا عوامی مفادات سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ورنہ نظام میں اتنی دو نمبریاں کبھی دکھائی نہ دیتیں۔
خیر جب درجنوں جگہوں پر سائن ہو چکے اور اس پراسیس کے بعد انتظار اور فون کر کے پتہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ایک بار پھر کاغذات میں کچھ غلطی نکل آئی۔ بیگم جو نجی سکول میں سینئیر مسٹریس ہے اسکی سیلری سلپ پر انکے والد کا نام نکل آیا جبکہ شناختی کارڈ میرے نام سے بنا ہوا ہے۔ ظاہر ہے یہ پہلی غلطی ہماری طرف سے تھی تو اسے درست کروانا بھی ضروری تھا۔ سو اسکو درست کروایا تو بینک سے پھر فون آیا کہ آپ نے یو بی ایل کے اکاونٹ سے تین چیکس سائن کر کے دیں، کیونکہ آپکا سیلری اکاونٹ یو بی ایل میں ہے تو گارنٹی کے لیے یہ چیک ضروری ہیں ورنہ اگر آپکی دوسری قسط شارٹ ہوگی تو بینک آپکی گاڑی اٹھا کر لے جائے گا۔
مطلب بارہ لاکھ سے اوپر رقم وصولنے کے بعد بینک آپکی اٹھارہ لاکھ کی گاڑی چار لاکھ میں ضبط کرنے کا مجاز ہوگا۔ واہ رے سامراجی اتحصالی نظام، تجھے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بہر حال پکچر ابھی باقی تھی تو تمام کاغذات مکمل کر لینے کے بعد پہلی قسط جمع کروانے کو کہا گیا۔ گاڑی ملی نہیں قسط پہلے جمع ہونی شروع ہوگئی۔ جب وہ بھی کروا چکے اور مزید دو ہفتے گزر گئے تو ڈلیوری کی بابت دریافت کیا اور شکوہ کیا کہ اب تو سب کچھ ہو چکا اب کیوں اتنی دیر؟ تو فرمایا گیا کہ ہم نے تو پراسیس شروع ہونے کے بعد کا وقت دیا تھا؟ جبکہ ایسی کوئی بات ابتدائی معلومات حاصل کرتے واضع نہیں کی جاتی۔ پھر فراڈ، پھر جھوٹ، پھر دھوکہ۔ شکار کون؟ ایک عام شہری جو ستر فیصد پیمنٹ بھی کر رہا ہے اور بینک کو چار لاکھ پر ایک لاکھ دس ہزار سود بھی دے رہا ہے۔
اس تمام مشق کو شروع ہوئے آج تقریباً ڈیڑھ ماہ ہو چکے۔ کاغذات مکمل ہیں مگر اب شو روم پر گاڑی دستیاب نہیں۔ باوجود اسکے کہ ہم اون منی کا غیر قانونی ایک لاکھ چالیس ہزار بھی دینے کو تیار ہیں۔ بینک والوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ اون منی پے کریں گے تو گاڑی آپکو ہم لے کر دیں گے۔ اب یہ بھی کتنی بڑی چار سو بیسی ہو رہی ہے کہ بینک کار فائنانسنگ کر رہا ہے، مگر گاڑی اون منی کے غیر قانونی دھندے کے ذریعے دلواتا ہے، اپنی باری نہ کوئی ضامن نہ ضمانت۔ مطلب دونوں طرف سے لٹے جاو۔ ایک طرف فالتو میں ایک لاکھ چالیس ہزار اون منی دو اور دوسری طرف بینک کو سود کے طور پر ایک لاکھ دس ہزار دو۔ سرکار کا رجسٹریشن پر غنڈہ ٹیکس الگ اور وہ جو سرکار کار مینوفیکچرنگ کمپنیز سے وصولتی ہے وہ الگ، گاڑی خریدنے پر ایک لاکھ ( جو ٹیکس فائلر کی صورت پچاس ہزار ہے) ٹیکس الگ اور ٹوکنز کی مد میں مسلسل ٹیکس الگ۔
بلاشبہ اس سب کا جواب مزید جواب بد عنوانی ہی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کا ہر دوسرا بندہ کرپشن میں ملوث ہے اور ہر ادارہ کرپٹ ہے، ورنہ حق حلال کی کمائی یا والدین کھو کر ملے وراثتی اثاثوں کے بدلے تو ان ڈکیتیوں پر وہی تکلیف محسوس ہوگی جو ہم لوگ محسوس کر رہے ہیں۔ ابھی شو رومز پر غیر قانونی اون منی کے باوجود کوئی گاڑی نہیں۔ بینک پہلی قسط وصول چکا، اسکی کمائی اب شروع ہے، بینک ملازم ایک اور گاہک کو اپنے دام میں پھنسا کر اپنی نوکری بہتر کر چکا ہے۔ جب بینک کے ایجنٹ سے پوچھا کہ تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ گاڑی تم خود لے کر دو گے تو جواب ملا کہ میں نے تو شو روم کی بیحاف پر وعدہ کیا تھا۔ تُو بھلا شو روم کا سالا لگتا تھا جو بینک میں بیٹھ کر انکے بیحاف پر وعدے کر رہا تھا؟ یہ بات تب کیوں نہ بولی کہ میں شو روم کے بیحاف پر وعدہ کر رہا ہوں اور جب تک انکے پاس آپکی ڈیمانڈ کے مطابق نیوی گیشن والی گاڑی (جسکے اضافی پچپن ہزار ہم بینک کو پہلے ہی ادا کر چکے ہیں) میسر نہ ہوئی آپکو گاڑی نہیں ملے گی؟
انگریز سامراج چلا گیا پر اپنی نشانیاں چھوڑ گیا۔ آج سمجھ آتی ہے کہ ہندو بنیے کے ساہوکاری نظام کو کیوں اتنا بدنام کیا گیا۔ اگر بینک گاڑی لے کر دینے کی ضمانت نہیں دے سکتا تو یہ کارلیزنگ کس چکر میں کہلاتی ہے اور بینک اور سود پر پیسے دینے والے میں کیا فرق بچتا ہے؟ اس ساری ذلت کے بعد پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر بڑی، جدید عمارتوں اور ٹیکنالوجی کو نکال دیا جائے یا پھر ہندو بنیے اور سودی پٹھان کے نظام میں اگر کچھ جدت اور بہتری کیساتھ ریاستی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروا دیا جائے تو وہ کم از کم ان پاکستانی بینکوں سے تو بہتر ہی ثابت ہونگے۔ درجنون جگہوں پر انگوٹھے، دستخط، خواری، جان بوجھ کر لکھی گئی لمبی اور غیر ضروری پھنساوُ شرائط جنکے جواب میں کسٹمر کو کوئی قانونی تحٖفظ نہیں، گاڑی ملی نہیں قسطیں شروع، اس سے زیادہ بدمعاش نظام کیا ہوسکتا ہے بھلا؟

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”بینکاری نظام یا استحصالی نظام؟ (آخری)

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *