تاریخ کو گلے لگانے کے نتائج

حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے یوم شہادت پر جو افسوسناک رویے سامنے آئے ہیں, اب بھی وقت ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان کو مخاطب کر کے ان کے خاتمے کی کوشش کی جائے. کسی بھی بڑی شخصیت سے اظہار محبت یا عقیدت چاہے نثر میں ہو یا شاعری میں اس میں مبالغہ ایک فطری امر ہے۔اسے بس اظہار محبت و عقیدت ہی سمجھنا چاہیے. ان سے عقائد اخذ کرنا یا فتووں کا مواد ڈھونڈ نکالنا کم عقلی کے مترادف ہے۔محبت و عقیدت کے پردے میں دوسری مقدس شخصیات کی اہانت اور اس بنا پر لوگوں سے نفرت اور تعصب کا رویہ البتہ ایک مرض ہے جس کے خاتمے کیلیے اجتماعی سطح پر انتہائی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
افسوس کہ ہم مریضوں کو لٹکانے کا شوق تو رکھتے ہیں مگر مرض کے خاتمے کی طرف ایک قدم بڑھانے کو تیار نہیں ہیں. یہ بھی حقیقت ہے کہ مرض صدیوں پرانا ہے اور تاریخ پر اندھا اعتماد اس کی وجہ ہے. میں پہلے بھی کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ تاریخ انہی ہاتھوں سے ہو کر ہم تک پہنچی ہے جن ہاتھوں سے بیت اللہ اور مسجد نبوی بھی محفوظ نہیں رہیں۔ ہمیں کلام اللہ اور تربیت رسول ص پہ اعتماد ہونا چاہیے. جن نفوس قدسیہ کی گواہی “رحماء بینھم “کے الفاظ میں اللہ تبارک و تعالٰی نے خود دی ہو ان پر مورخین کے لکھے کی وجہ سے بدگمانی ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی. تاریخ کو ایک طالبعلم اور ناقد کی حیثیت سے پڑھنا چاہیے۔اس پر عقائد کی بنیاد نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی محبت و نفرت کے جذبات پالنے چاہییں۔
ائمہ احادیث و رجال کی زندگیاں صرف ہوجانے کے باوجود احادیث کے ذخیرے میں یار لوگوں نے موضوع روایات داخل کردی ہیں تو تاریخ جس پہ اس پائے کا کوئی تحقیقی کام سرے سے ہوا ہی نہیں ہے اس میں کیا کچھ نہ ملایا گیا ہوگا. تاریخ کی ان غلط بیانیوں نے معلوم نہیں کتنی زندگیاں گل کی ہیں. جو ہو چکا سو ہو چکا. اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں. گزر چکی ہستیوں کا مواخذہ اسی ذات پہ چھوڑ دیجیے جس کے پاس وہ پہنچ چکی ہیں. ہمیں اپنے نفس کے تزکیے کی ضرورت ہے.
ہمارے ارباب اختیار کو چاہیے کہ نفرت اور تعصب کے ان اندھے جذبات کی بیخ کنی کیلیے تاریخ کی بجائے قرآن پر اعتماد کو تعلیم کے ذریعے نئی نسلوں میں پختہ کیا جائے. جتنے فرقے اور مسالک اس وقت واضح اکثریت میں نظر آتے ہیں سب کسی حکمران کی ذاتی پسند پر سرکاری سرپرستی میں ہی پروان چڑھے ہوئے ہیں. اگر نفرت و تعصب کے خاتمہ کا نیک کام سرکاری سرپرستی میں شروع کیا جائے تو معیوب نہیں سمجھنا چاہیے۔

Avatar
فاروق امام
پسماندہ کہلائے اور رکھے جانے والے علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک عام پاکستانی. ہر پاکستانی کی طرح ویلا مصروف اور نویلا " دانشگرد"

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *