بین ا لنسل شادی (Interracial Marriage )

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ دنیا ایک عالمی گاؤں (global village) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے. تیز رفتار زرائع آمدورفت اور سوشل میڈیا کی سہولت نے دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود خلق خدا کو ایک دوسرے کے جتنا قریب کر دیا ہے ، تاریخ انسانی میں اس کی مثال موجود نہیں. ماضی کی نسبت زیادہ تعداد میں لوگ تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں اپنا آبائی وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں ایسے میں بین النسل شادی ایک حقیقت بن کر سامنے آئی ہے . حال ہی میں مجھے ایک معاملے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس بارے میں نے جو گزارشات پیش کیں ، ان کو سپرد قلم کر رہا ہوں.

واضح رہے اس مضمون کا مقصد نہ تو شرعی بحث ہے اور نہ ہی اس سے یہ ممقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ اپنے معاشرے میں شادی کرنا ، مختلف النسل شادی سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ عملی طور پر محتلف النسل شادی کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کا ادراک اور ان کا مجوزہ حل ہے. “بین النسل” شادی دو صورتوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، ایک ایسے گھرانے جن کے بچے پیدا ہی دوسرے ممالک میں ہوے اور بچپن و جوانی کی منازل اسی معاشرے میں طے کیں . دوسرے وہ لوگ ہیں جو انفرادی طور پر بسلسلہ تعلیم و روزگار دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں. اول الذکر صورت علیحدہ سے ایک تحریر کی متقاضی ہے اس مضمون میں صرف موخر الذکر پر ہی اکتفا کروں گا .

انفرادی حثیت میں بیرون ملک مقیم افراد کی بین النسل شادی کی عمومی وجہ ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے یا کام کرنے والے کسی فرد کا پسند آ جانا ہے اور یہ فطرت انسانی کی ضد نہیں ہے. مغربی معاشرے میں ظاہر ہے کہ اکثریت غیر مسلم ہے لیکن عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ غیر مسلم شادی سے پہلے مسلمان ہونے کی حامی بھر لیتا ہے یا اسے شادی کے لئے مسلمان کر لیا جاتا ہے.
اس سلسلے میں چند باتیں سمجھ لینا انتہائی ضروری ہیں.

1. پاکستانی معاشرے میں نکاح و شادی انفرادی سے زیادہ خاندانی اور اجتماعی حثیت رکھتی ہے . اس میں انفرادی فیصلوں کو آسانی سے قبول کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے لہذا ایسی صورت حال میں فیملی کو بہت آغاز میں اپنے ارادے سے آگاہ کر دینا انتہائی ضروری ہے، اس میں جتنا پس و پیش سے کام لیا جائے گا بعد میں اتنے ہی مسائل زیادہ ہونے کا امکان ہے. کیوں کہ بین النسل شادی کی کامیابی اپنے آپ میں ہی ایک بڑا چلینج ہے اس لئے دانش مندی یہی ہے کہ شادی کے بعد تک فیملی کو بےخبر رکھ کر اپنے لئے بیک وقت دو محاز نہ کھولے جائیں ورنہ دونوں محازوں پر شکست فاش کا قوی امکان ہے.

2. مرد و عورت میں جہاں جسمانی ساخت میں تفاوت ہے وہیں ان کے سوچنے ، بات کرنے ، رائے دینے اور جذبات کا اظہار کرنے کے انداز میں زمین آسمان کا فرق ہے. ایک ہی معاشرے و مذہب کے حامل مرد و زن کو شادی کے بعد ہم آہنگی پیدا کرنے میں بہت محنت و صبر سے کام لینا پڑتا ہے ، تب جا کر زندگی کا پہیہ چلتا ہے. اس لئے جہاں رنگ و نسل ، زبان،سماجی اقدار سب کچھ مختلف ہو ، محض زبان سے اسلام قبول کر لینے سے اپنے جیون ساتھی سے یہ توقع کرنا کہ “سب کچھ پلک جھپکنے میں بدل جائے گا” ، دیوانے کا خواب ہے. اس سلسلے میں بتدریج تبدیلی کا عمل (gradual transformation process) ہی کار آمد ہو سکتا ہے.، جو کئی مہینوں ،حتی کہ سالوں پر بھی محیط ہو سکتا ہے، اس صورت حال میں پہلے سے مسلمان پارٹنر کی دوہری ذمہ داری ہے کہ اس نے نو مسلم ہمسفر کے لئے مثال بھی بننا ہے کہ “مسلمان کیسا ہوتا ہے” ساتھ ہی ساتھ اسے انتہایی درجے کی ا علی ظرفی اور وسیع القلبی کا ثبوت دے کر سماجی تضادات کا مقابلہ کرتے ہوے شادی کے رشتے کو قایم بھی رکھنا ہے. فریق مقابل کو تبدیل کرنے کی جلدی نشیمن کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے. اس عمل کو ایسے ہی سمجھیں جس طرح ایک نو مولود کو کان میں اذان دےکرمسلمان سمجھا جاتا ہے اور اسے عملی طور پر مسلمان بننے میں کئی سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے. یہ بات پیش نظر رہے کہ جتنے آپ خود مسلمان ہوں گے اتنا ہی اپنے جیون ساتھی کو مسلمان بنا پائیں گے . جبراً کچھ بھی نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں،اپنے عمل سے مثال بنیں اور ایسا ماحول پیدا کریں کہ اپ کا ہمسفر خود اپنی مرضی سی (by chocie ) اپنے اندر تبدیلی لے کر آئے. اسس بات کا بھی خیال رہے کہ اپنے پارٹنر کو “پاکستانی” بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ خاص طور پر پاکستانی مردوں کے اندر کا سویا ہوا بنیاد پرست اور قدامت پسند پاکستانی مسلمان اکثر شادی کے بعد جاگ اٹھتا ہے . اگر ایسا ہو تو براہ کرم یہ سمجھ لیجئے کہ یہ اب غلط وقت پر بیدار ہو رہا ہے .یہ جب بھی تنگ کرنے کی کوشش کرے، اسے تھپکی دے کر سلا دیجئے.

3. اپنے غیر مسلم سسرال کے ساتھ آپ کا رویہ مثالی ہونا چاہیئے . ان کے “کافر” ہونے کی وجہ سے آپ کی طرف سے ان کے لئے نفرت کا اظہار نہیں ہونا چاہیئے. اپنا عمل ایسا بنائیے کہ وہ آپ کی تعریف پر مجبور ہو جائیں اور دل سے یہ تسلیم کریں کہ ایک مسلمان سی رشتہ قائم کر کے انہوں نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا.

4. آخر میں ان والدین سے ، جو اپنے بچوں کو بیرون ملک روانہ کرتے ہیں، میری گزارش ہے کہ خدارا اپنے بچوں کو اپنی نظروں سے دور کرنے سے پہلے ان سارے معاملات پر تفصیلی گفتگو کریں. پردیس کی زندگی بہت کٹھن ہے ، اگر آپ اپنے بچوں کا خود احساس نہیں کریں گے تو وہ ضرور وہاں اپنے لئے کوئی احساس کرنے والا ڈھونڈ نکالیں گے .

ڈاکٹر شفیق احسن بٹ
ڈاکٹر شفیق احسن بٹ
.تعارف : ڈاکٹر شفیق احسن بٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اور آئر لینڈ میں مقیم ہیں .انسانی رویّوں' نفسیات اور سماجی مسائل پر بات کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *