سویلین بالادستی۔۔۔۔ضیا الرحمان چیمہ

SHOPPING

 ہر محب وطن شہری سویلین بالا دستی کا آرزو مند ہے – کیا یہ ممکن ہے راتوں رات کوئی خمینی, کوئی اردوگان, کوئی لی کوآن یو آ کر ملک کی تقدیر بدل دے ؟ نواز شریف نے بڑا خوش کن نعرہ دیا ہے, ووٹ کو عزت دو! کیا سچ مچ اس کے دل میں عوام کی محبت بیدار ہو گئی ہے یا لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے ؟ اگر میاں صاحب کے اندر واقعی کوئی انقلابی جاگ گیا ہوتا تو وہ سب سے پہلے قوم سے 30سال اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حکومت کرنے پر کھلے الفاظ میں معافی مانگتے – چار وزرأاعظم کو گھر بجھوانے کے جرم پر شرمندہ ہوتے- دنیا بھر میں اپنے خاندانی اثاثے لوگوں کے سامنے لے آتے اور آدھے ملک سنوارو, قرض اتارو میں دے دیتے- پاناما اسکینڈل منظر عام پر آنے سے پہلے ادارے مستحکم کرتے, ان کے سربراہ میرٹ پر لگاتے – چارٹر آف ڈیموکریسی میں جو احتساب کا ادارہ بنانے کا وعدہ کیا تھا وہ باقی جماعتوں کے مشورے سے بناتے- پچھلے آٹھ الیکشن جو سب کے سب دھاندلی کی دھند میں لپٹے تھے ان کی غلطیوں سے سیکھ کر مل جل کر نیا الیکشن کا نظام وضع کرتے – اعلان کرتے ن-لیگ کو گراس روٹ لیول تک منظم کروں گا اور جماعت کے اندر جمہوریت ہو گی, جس کی جتنی خدمات ہوں گی وہ اتنا جماعت میں اعلی عہدےپر فائز ہوگا, جماعت کا اگلا سربراہ میرے خاندان سے نہیں ہو گا بلکہ سب سے باصلاحیت شخص جماعتی ووٹ کے ذریعے اس عہدے پر پہنچے گا – تو ایک حقیقی انقلابی جماعت کے ہاتھوں, حقیقی جمہوری انقلاب کی بنیاد پڑ جاتی – لوٹے خواہ کسی بھی جماعت سے آئے تھے سب کو بیک جنبش قلم ن-لیگ سے نکال دیتے تو ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا –

SHOPPING

رستم کی کہانیاں سن کر کوئی رستم نہیں بن جاتا, روزگار, چھت, تعلیم, صحت اور امن وامان پر لیڈر پیسے خرچ نہ کرے تو عوام ٹینکوں کے نیچے نہیں لیٹتے – مارکوس اور زین العابدین کے نقش قدم پر چل کر آپ قوم کی قیادت نہیں کر سکتے, پنجاب کے لوگ ہوا کا رخ جلد پہچان لیتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونے میں دیر نہیں لگاتے – یہ نوشتہ دیوار ہے اور 25 جولائی کو اس کا بھر پور اظہار ہوگا, نیا اور تازہ دم گھوڑا میدان میں کھڑا ہے – آپ اپنے بیانیے سے اپنے چھوٹے بھائی کو قائل نہیں کر سکے جو اقتدار کے فوائد سمیٹنے میں ہمیشہ آپ کے ساتھ تھا تو عام آدمی اتنی جلدی آپ کا بیانیہ کیسے جان سکتا ہے جس کے حصّے میں ہمیشہ محرومیاں آئی ہیں – شہباز شریف ,پاکستان بھر سے 25ہزار کا لاؤلشکر لے کر گورنر ہاؤس کے آس پاس پہنچا ہی تھا کہ آپ کا جہاز اڈیالہ کے لئے اڑان بھر چکا تھا – جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے

SHOPPING

Avatar
ضیاءالرحمن چیمہ
ٹوبہ ٹیک سنگھ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *