اماں کی جدائی

ماں کتنا خوبصورت اور شر یں لفظ ہے کتنا پرسکون اور اطمینان سے بھرپور ، کتنا تحفظ بھرا، اس لفظ کی خوبصورتی اور کشش کا اندازہ وہی لگا سکتا ہےجس نے ماں کی محبت اور چاہت کے مزے لیے ہوں۔ ماں جیسی بلند ہستی اللہ کی قدرت کے کرشموں میں ایک انوکھی تخلیق ہے اور اس کی عطاء کردہ نعمتوں میں ایک عظیم نعمت ہے ۔ ماں کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ تب ہی ہوتا ہے جب وہ دنیا کے رنج و غم سے بہت دور خاموش اور سنسان بستی میں منوں مٹی جا سوتی ہے۔اس عظیم نعمت کی قدر اس کے بچھڑ جانے کے بعد زیادہ ہوتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے اس کی پیدائش سے اب تک جتنی نعمتیں میسر تھیں وہ سب واپس لے لی گئیں ۔

15 جون 2011ء کو میری اماں لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی کے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں شفٹ ہوتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھ کر کہتی ہیں کہ آج بہت دن بعد آسمان دیکھا ہے اور کچھ گھنٹو ں بعد ان کی روح آسمان کی بلندیوں کی جانب پرواز کر جاتی ہے ، اماں کے سیدھے ہاتھ میں اپنا ہاتھ د ئیے ان کے سرہانے کھڑا تھا کبھی ان کے ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوتی تو کبھی ڈھیلی۔۔۔ مجھے احساس ہوچکا تھا کہ وقت جدائی آگیا ، آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ ٹوٹ کر مسلسل اماں کے ہاتھوں پر بکھر رہی تھی، ایک لمحے کو ماں کی آنکھ کھلی ایک مدھم سی ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا، ارشی ۔۔۔۔۔۔ اور ہاتھوں کی گرفت بالکل ڈھیلی ہوگئی میں نے اماں کے کان کے قریب جاکر بمشکل الفاظ ادا کیئے” اماں اللہ حافظ”اور اماں اپنے رب سے جا ملیں۔

“اے نفس مطمنہ چل تو اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی ہو”۔
اماں کو ہم سے جدا ہوئے آج 06 سال بیت چکے ہیں لیکن یوں لگتا ہے ابھی کہیں سے اماں کی آواز آئے گی ۔۔۔
ماں باپ نے خود مشکلات میں زندگی گزارلیکن ہمیں اچھی تعلیم دلوائی اور بہترین تربیت کی ۔ الحمدللہ اماں نے اپنی زندگی میں ہماری تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھا۔ آج ہم جو کچھ یا جس مقام پر ہیں اماں کی دعاؤں اور تربیت اور والد کی محنت کے نتیجہ سے ہی ہیں۔اماں میرے لیے دعاؤں کی مشین تھیں ۔ میں جب بھی کسی خاص کام کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتا تو ان کے ہاتھ بلند ہو جاتے، سجدے لمبے ہو جاتے اور میرے کام ہوجاتے تھے اکثر وہ کام جنہیں میں ناممکن سمجھتا تھا ۔ہماری ابتدائی طرز زندگی بہت کٹھن تھی اور ان کٹھن حالات میں بھی ہمارے والدین نے ہماری خواہشات پوری کیں کبھی ہمیں احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ہماری خواہشات کو پورا کرنے لیئے ماں باپ نے نہ جانے اپنی کون کون سی خواہشات کا گلہ گھونٹا ہوگا ۔

مجھے بچپن کے کئی واقعات یاد ہیں جس میں سے ایک بہت دل دہلا دینے والا واقعہ ہے ۔۔ گھر میں بہت اچھا کھانا بنا تھا لیکن شاید اماں کو احساس ہوگیا تھا کہ کھانا زیادہ نہیں کہ ہم تمام گھر والے کھالیں اماں نے کھانا دینے سے پہلے ہی کہنا شروع کردیا کہ آج طبیعت بہت خراب محسوس ہورہی ہے کچھ کھانے کو دل نہیں چاہ رہا ، تم لوگ کھانا کھا لو میں سوتی ہوں ہم کھانا کھاچکے اور سب سو گئے ۔۔۔کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو برتنوں کے شور کی آواز آئی۔۔ دیکھا تو اماں پتیلی میں روٹی رگڑ رکڑ کر اس طرح کھا رہی تھیں جسے شدید بھوک لگی ہو۔ ایسی نا جانے کتنی راتیں میری اماں نے ہمیں پیٹ بھر کر کھلانے کے لیئے دیکھیں ہوں گی ۔

میں اکثر لوگوں سے سنا کرتا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا صدمہ کم ہو جاتا ہے۔ وقت بڑا مرہم ہوتا ہے لیکن ا ماں کی جدائی کا صدمہ چھ سال گزرنے کے بعد بھی میرے دل میں اسی طرح تازہ ہے جیسے اماں کو دفنائے چند منٹ ہی گذرے ہوں ۔ اماں کے انتقال کے بعد والد حیات تھے جن کے پاس بیٹھ کر اماں کی یادیں اور اماں کی باتیں کرتے تھے کچھ غم مندمل ہوجاتا تھایہ سلسلہ بھی اماں کے انتقال کے بعد 06 سال جاری رہا اور والد صاحب بھی اسی سال فروری میں ہم سے جدا ہوگئے اور زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا والد کے انتقال پر ایک میرے بہت عزیز میرے محسن میرے بزرگ نے مجھ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ والدین اولاد کے لیے ساری زندگی دعا کرتے ہیں ، تمہارے لیے یہ سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے، اب ان کو تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے۔

میں اپنے والدین کی وفات کے بعد آج خود کو بہت ہی تنہا محسوس کرتا ہوں گو کہ میرے قریب بہت سے محبت کرنے والے رشتے موجود ہیں لیکن ماں باپ کی محبت کا نعم البدل کوئی نہیں ۔ حالت بیماری میں اماں کا پیشانی پر ہاتھ رکھ دینا ہی محسوس ہوتا تھا کہ آب حیات پی لیا ہو! اب جب کہ محبت ، شفقت، پیار اور دعاؤں کا وہ باب مجھ پر ہمیشہ کے لیئے بند ہوگیا ہے اور مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ میرے گرد اماں کی دعاؤں کا مضبوط حفاظتی حصار ٹوٹ چکا ہے اور اب بہت محتاط ہو کر چلتا ہوں ، اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اپنے والدین کے ساتھ سب سے کم برس میرے ہی گذرے ۔ آج بھی شاید ہی کوئی دن ان کی یادوں کے بغیر گذرتا ہو۔ اللہ تعالی انہیں اپنی جوار رحمت میں عالی مقام عطاء فرمائے اور ہماری بہترین تربیت اور پرورش کرنے پر انہیں اجر عظیم عطاء فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین

ارشد قریشی
ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اورم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے انفارمیشن سیکریٹری ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر اور چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کے پروگرام مانیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *